Baaghi TV

Category: کراچی

  • جعلی وردی میں شہریوں کو اغوا کرنے والا گینگ گرفتار

    جعلی وردی میں شہریوں کو اغوا کرنے والا گینگ گرفتار

    شہر قائد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی پولیس یونیفارم میں شہریوں کو اغوا کرنے والے گینگ کو گرفتار کرلیا۔

    مطابق کراچی کے ضلع ایسٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی پولیس یونیفارم میں شہریوں کو اغوا کرنے والے گینگ کو گرفتار کرلیا، ملزمان خود کو کسٹم، پولیس ودیگر ایجنسیوں کے اہلکار ظاہر کرتے تھے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کا گینگ 6 ملزمان پر مشتمل ہے، 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا اور ایک فرار ہوگیا، گرفتار ملزمان میں عثمان اکبر، ایازعلی بہادر، وسیم اور عمران شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ زمان ٹاؤن سے تھانے سے تعلق رکھنے والا ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان دکانوں کے سامان ودیگر سامان بھی لوٹ کر فرار ہوجاتے تھے، ملزمان اغوا کرکے لوٹ مار بھی کرتے تھے، ملزمان کے قبضے سے جعلی وردیاں برآمد کرلی گئیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان تھانہ مبینہ ٹاؤن، گلشن اقبال اور گلستان جوہر میں واردات کرچکے ہیں، ملزمان نیو ٹاؤن تھانے ودیگر تھانہ جات میں متعدد وارداتیں کرچکے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے اسلحہ، گاڑی اور موبائل فونز بھی برآمد کرلیے گئے ہیں، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ،مسافروں کو امیگریشن کیلئے شدید مشکلات درپیش

    جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ،مسافروں کو امیگریشن کیلئے شدید مشکلات درپیش

    جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن عملہ مسافروں کی کاغذی کارروائی میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ افرادی قوت کی کمی بتائی جا رہی ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر تعینات کرنے کیلئے ایف آئی اے کو امیگریشن عملے کی کمی کا سامنا ہے۔

    دس میں سے صرف 4 کاؤنٹرز پر عملہ تعینات ہے،عملے کی کمی کی وجہ سے کاؤنٹرز خالی پڑے ہیں، جس کے باعث بیرون ملک جانے والے مسافروں کی امیگریشن کے لئے کاؤنٹرز پر لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بزرگ اور ویل چئیرز پر بیٹھے مسافروں کو امیگریشن کرانے کیلئے شدید مشکلات درپیش ہیں ناتجربہ کارعملے کی وجہ سے مسافروں کی امیگریشن میں کافی وقت لگ رہا ہے۔

    اس کے علاوہ اس وجہ سے پروازوں کی روانگی میں تاخیر کا معاملہ بھی سامنے آرہا ہے، ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹرز پر مسافروں کی لمبی قطاریں لگنے سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے تعینات ہونے والا عملہ مسافروں کی امیگریشن کرنے میں دس منٹ سے زائد کا وقت لے رہا ہے جبکہ ایک مسافر کی امیگریشن پر زیادہ سے زیادہ دو منٹ کا وقت لگتا ہے، مسافروں کا ڈیٹا درج کرنے میں بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

  • سوشل میڈیا پر ندا یاسر شو میں شرکت کرنے والے نوجوان کا ویڈیو بیان سامنے آگیا

    سوشل میڈیا پر ندا یاسر شو میں شرکت کرنے والے نوجوان کا ویڈیو بیان سامنے آگیا

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ندا یاسر کے شو میں شرکت کرنے والے نوجوان کا ویڈیو بیان سامنے آگیا۔ 

    سوشل میڈیا پر گزشتہ دو روز سے نجی ٹی وی کی مارننگ شو ہوسٹ اور اداکارہ ندا یاسر کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں وہ نوجوان طلبا سے ان کی ایجاد کردہ فارمولا ون کار سے متعلق گفتگو کررہی ہیں تاہم اپنی کم معلومات کی وجہ سے وہ غیر ضروری سوالات پوچھ لیتی ہیں جس کے باعث صارفین سوشل میڈیا پر ان کی خوب درگت بنارہے ہیں۔
    دوسری جانب ندا یاسر کی ویڈیو پر ان کا شوہر یاسر نواز بھی ان کا مذاق اڑا رہے ہیں جب کہ ندا یاسر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسی پروگرام میں موجود طالب علم کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے جس میں وہ اپنی ویڈیو سے متعلق حقیقت بتارہے ہیں ۔
    ویڈیو میں شارق وقار کا کہنا تھا کہ ندا یاسر کی وائرل ویڈیو میں، میں بھی موجود ہوں اور پاکستان میں فارمولا الیکٹرک کار پر صرف میں اور میری ٹیم کام کررہی ہے جب کہ وائرل ویڈیو 5 سال پرانی ہے اور یہ بات درست ہے کہ میزبان نے ہمیں بلانے سے پہلے اپنا ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

  • کراچی میں پولیس اہلکار درندہ بن گیا

    کراچی میں پولیس اہلکار درندہ بن گیا

      کراچی میں پولیس اہلکار درندہ بن گیا۔

    پولیس اہلکار نے ٹک ٹاکر کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایک اور ٹک ٹاکر زیادتی کا شکار ہو گئی۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ عثمان ویڈیو والا فون سے بلیک میل کر رہا ہے۔ملزم مجھے گھر پر  فائرنگ اور  قتل  کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔اعلیٰ افسران سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

    ٹک ٹاکر نے یہ بھی بتایا کہ اہلکاروں کے سامنے مجھ پر تشدد کیا گیا۔ملزم مجھے تھانے لے کر گیا اور وہاں پر زیادتی کی،ڈرانے کے لیے گھر کے باہر 12 فائر کیے۔وہ چاہتا تھا کہ میں ڈر کر خاموش ہو جاؤں۔خاتون کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  • پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    تفصیلات کے مطابق ادارے کے باقی ماندہ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے9 سے 10 ارب روپے ادا کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی میں واقع  پاکستان  اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ اس بات کا انکشاف  سینیٹ  کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس میں ہوا۔
    سینیٹر فیصل سبزواری کی زیر صدارت  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کے باقی ملازمین کو بھی گھر بھیجنے کی تیاری کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے9 سے 10 ارب روپے ادا کر کے گھر بھیج دیا جائے گا۔

    حکام وزارت صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 6 سال سے حکومت ملازمین کو تنخواہ دے رہی ہے تاہم اب مزید ایسا کرنا ممکن نہیں۔
    وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے اسٹیل کی قیمتوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹیل کی قیمت 1 لاکھ 78 ہزار فی ٹن ہے، اسٹیل کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہورہی ہے۔ اسکریپ اسٹیل کی قیمت 250 ڈالرز فی میٹرک ٹن تھی اب اسٹیل کی قیمت 510 فی میٹرک ٹن ہے۔ پلوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کیلئے سریا اسکریپ اسٹیل سے بنتا ہے، سالانہ 5 ملین ٹن اسکریپ اسٹیل درآمد کی جارہی ہے، اسٹیل کی مقامی پیدوار 7 سے 8 ملین ٹن ہے۔

    حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کی  پاکستان اسٹیل ملز کے باقی ملازمین کو بھی گھر بھیجنے کی تیاری ہے، ان ملازمین کو اربوں روپے ادا کیے جائیں گے، گولڈن ہینڈ شیک کے تحت ہر ملازم کو 10 لاکھ سے زائد ملیں گے۔ ادارے کی بحالی کے حوالے سے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیل مل کو فعال کرنے کیلئے 165 ارب روپے کی سرمایہ کاری چاہیے، بین الاقوامی شراکت دار ڈھونڈنے کیلئے 45 میں سے 15 دن گزر گئے ہیں۔
    اسٹیل کوپ کے نام سے ایک کمپنی بنائی گئی ہے اس کمپنی کے اثاثہ جات میں اسٹیل ملز کی 1228 ایکڑ زمین ہے، کمپنی کو وفاق کی ملکیت دیدیا گیا ہے، تمام بقایا جات پاکستان اسٹیل ملز کے ذمے ہیں حکومت کو اسٹیل ملز کو بیچنے کیلئے کوئی مشکل نہیں۔

    یہاں واضح رہے کہ وفاقی حکومت اس سے قبل بھی پاکستان اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کی مد میں اربوں روپے دے کر ملازمت سے فارغ کر چکی ہے ۔

  • شہر قائد میں ڈاکوؤں کی جانب سے ڈیلیوری بوائے کو لوٹنے کا ایک اور انوکھا واقعہ

    شہر قائد میں ڈاکوؤں کی جانب سے ڈیلیوری بوائے کو لوٹنے کا ایک اور انوکھا واقعہ

     شہر قائد میں ڈاکوؤں کی جانب سے ڈیلیوری بوائے کو لوٹنے کا ایک اور انوکھا واقعہ

    ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے بعد ڈیلیوری بوائے کو اس کا لوٹا سامان واپس لوٹا دیا اور گلے لگا تسلی بھی دی جس کی ویڈیو ویڈیو وائرل ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں ڈاکوؤں کی جانب سے ڈیلیوری بوائے کے ساتھ ‘رحم دلی’ کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ایک فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں لوٹ مار کے بعد ڈیلیوری بوائے کو اس کا لوٹا سامان واپس کیا جا رہا ہے، اور ڈاکو نے ستم رسیدہ لڑکے کو تسلی کے لیے گلے بھی لگایا۔یہ واقعہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے الفلاح سوسائٹی میں پیش آیا، جس میں ڈاکو کو ‘بڑے دل’ کا مظاہرہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    الفلاح سوسائٹی میں موٹر سائیکل سوار ڈاکو شہری کو لوٹنے آئے تو شہری نے اپنی مجبوریاں بیان کر ڈالیں، ‘رحم دل’ ڈکیت نے شہری کو سامان بھی واپس کر دیا اور تھپکیاں بھی دیتا رہا۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں شہری کو مجبوریاں بیان کرتے اور ڈاکو کو اسے تھپکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے، موٹر سائیکل پر سوار دونوں ڈاکو شہری کی مجبوریاں سن کر خالی ہاتھ لوٹ گئے۔یاد رہے کہ اس سے قبل جون 2020 میں بھی ایک ڈیلیوری کمپنی کے رائڈر کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈیلیوری بوائے کھانے کا سامان دے کر اور پیسے لے کر جیسے ہی اپنی موٹر سائیکل بیٹھا ملزمان آدھمکے اوراس کی جیب سے بٹوہ نکال لیا جس پر ڈیلیوری بوائے نے ملزمان کو کچھ کہا اور رونے لگا۔

    روتے ہوئے ڈیلیوری بوائے کو دیکھ کر ملزمان کو اس کی حالت پر رحم آگیا اور انہوں نے اس سے لی ہوئی چیزیں واپس کی اور اسےگلے لگا لیا اور اس سے ہاتھ بھی ملایا اور تسلی دے کر واپس چلے گئے۔ ملزمان کے جانے کے بعد بھی رائیڈر روتا رہا۔ سوشل میڈیا پر انسانیت کے نام سے ویڈیو وائرل ہو گئی اور لوگ اس منظر کو دیکھ کر جذباتی ہوگئے ہیں۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوڈ ڈیلیوری بوائے کو لوٹنے کےلیے آنے والے ملزمان بھی نوجوان ہی ہیں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ڈاکو بھی حالات کے مارے ہوئے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط غلط ہی ہے۔

  • پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری کی آج رحیم یارخان آمد

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری کی آج رحیم یارخان آمد

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری آج رحیم یارخان میں مصروف ترین دن گزاریں گے۔
    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری آج دوپہر ڈھائی بجے ضلعی صدر سردار حبیب الرحمان گوپانگ کی رہائش گاہ پر اظہار تعزیت کیلئے جائیں گے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری ضلعی صدر سردار حبیب الرحمان گوپانگ کی رہائش گاہ پر آمد کے بعد ڈویژنل صدر پی پی پی جاوید ڈھلوں کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کریں گے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری4 بجے  ریلی کی صورت میں سٹی رحیم یارخان تشریف لائیں گے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری 5 بجے ضلعی جنرل سیکرٹری جہانزیب رشید کی رہائش گاہ پر وفات پا جانیوالے جیالوں اور ان کے عزیز واقارب سے اظہار تعزیت کریں گے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری6 بجے امیدوار حلقہ این اے179میاں عامر شہباز کی رہائش گاہ پر ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے۔

  • سندھ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ:درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کو ریلیز کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ:درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کو ریلیز کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ نے پورٹ پر پھنسی پرانی گاڑیوں سے متعلق بڑا فیصلہ سناتے ہوئے درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کو ریلیز کرنے کا حکم دے دیا۔
    جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل بینچ نے پرانی درآمد شدہ گاڑی کو ریلیز کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کو ریلیز کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جو گاڑیاں پاکستان پہنچ چکی ہیں انہیں ڈیوٹی، ٹیکس کے بعد ریلیز کردیا جائے۔
    واضح رہے کہ اس کیس میں پہلے بینچ نے ایس آر او 833 کے تحت پرانی گاڑیاں ریلیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ نئے بینچ نے دوسرے بینچ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ چیف جسٹس نے اس معاملے پر خصوصی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

  • کراچی میں مون سون کا تیسرا اسپیل، محکمہ موسمیات کی نئی پیش گوئی

    کراچی میں مون سون کا تیسرا اسپیل، محکمہ موسمیات کی نئی پیش گوئی

    شہر قائد میں بارشوں کا زور ٹوٹنے لگا، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے تیسرے اسپیل میں تیز بارشوں کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر قائد میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانے درجے کی بارشیں متوقع ہیں، تاہم تیز بارش کے امکانات واضح نہیں ہیں۔

    ڈائریکٹر میٹ سردار سرفراز کے مطابق کراچی میں شام سے بادل برسنا شروع ہوسکتے ہیں، مون سون سسٹم کا اثر زیادہ تر مشرقی سندھ کے علاقوں پر رہے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کل بھی ہلکی اور درمیانے درجے کی بارشوں کی پیش گوئی ہے جبکہ آج کراچی کا موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں درمیانے درجے کی بارش ہوئی تھی ۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سسٹم نے سندھ خصوصاً جنوبی سندھ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے تحت 11 ستمبر تک شہر میں بارش کا امکان ہے۔

  • کراچی کے 90 فیصد سے زائد ریستوران بغیر رجسٹریشن چلانے کا انکشاف

    کراچی کے 90 فیصد سے زائد ریستوران بغیر رجسٹریشن چلانے کا انکشاف

    کھانے کے معیار کو کنٹرول کرنے والے مختلف قوانین کے باوجود سندھ میں عوام کو مضر صحت اشیا کی فراہمی جاری ہے۔

    تقریباً 5 سال پہلے صوبائی حکومت نے سندھ فوڈ اتھارٹی (SFA) قائم کی تھی جس کا مقصد فوڈ بزنس کو ریگولیٹ، مانیٹر کرنا اور اس حوالے سے معیار کے رہنما اصول کو وضع کرنا تھا تاہم صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں واقعہ ڈھابے، ریسٹونٹس اور بیکریز ایس ایف اے کے مقرر کردہ معیارات کو نظرانداز کرتی ہوئی پائی گئیں۔

    اگرچہ قانون کے تحت سندھ میں کسی بھی فوڈ بزنس کو چلانے کیلیے رجسٹریشن اور لائسنس ضروری ہے لیکن ایسا لگتا ہے یہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہے عملی طور پر کچھ نظر نہیں آتا۔

    کراچی کے رہائشی علی عظمت نے کہا کہ ہم نے گزشتے ہفتے ڈی ایچ اے فیز 1 میں ایک بیکری سے چکن اسٹکس لیں جسے کھانے کے بعد میری بیوی اور بچے بمشکل فوڈ پوائزننگ سے بچے، جب میں نے بیکری مالک سے شکایت کی تو اسے اس کا کوئی ملال تھا نہ ہی کوئی خوف، محکمے کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق اس کا دائرہ سندھ کے کھانے پینے کی اشیاکی نگرانی اور ریگولیٹری سے کہیں زیادہ پھیلا ہوا ہے۔

    حکومتی ادارے کو صوبے کے فوڈ بزنس کے مجموعی کام پر بھی نظر رکھنی ہوگی جس میں مینوفیکچرنگ ، پروسیسنگ، پیکیجنگ، اسٹوریج، ٹرانسپورٹ، ڈسٹری بیوشن، امپورٹ اور ایکسپورٹ ، کیٹرنگ وغیرہ شامل ہیں۔

    ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے شہری مراکز میں حیران کن 90 فیصد متعلقہ کاروبار فوڈ اتھارٹی میں رجسٹریشن ہوئے بغیر کام کررہے ہیں۔

    مقامی ریستوران چلانے والے حافظ شہزاد نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کھانے کی سہولیات کی رجسٹریشن کے بارے میں کوئی قانون ہے یا نہیں، میں پچھلے 8 سالوں سے یہ کاروبار چلا رہا ہوں اور کوئی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھنے نہیں آیا۔

    بات کرتے ہوئے سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محفوظ قاضی نے کہا کہ ان کا محکمہ فی الحال کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے.

    تاہم یہ بتانا ضروری ہے کہ جانچ کی سہولت کا اصل میں 2016 میں وعدہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا لیکن محفوظ قاضی کا خیال ہے کہ 5 سال گزرنے کے باوجود اس سہولت کو وجود میں آنے میں ابھی چند ماہ درکار ہیں۔