چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔
Category: قصور
-

چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی
-

شہریوں کی فریاد،برآمد موٹر سائیکلوں کے نمبرز بتائے جائیں
قصور
شہریوں نے آئی جی پنجاب و ڈی پی او قصور سے مال مسروقہ میں ملنے والی موٹر سائیکلوں کے نمبرز جاری کرنے کی استدعا کر دیتفصیلات کے مطابق شہریوں نے ڈی پی او قصور و آئی جی پنجاب سے استدعا کی ہے کہ پولیس کی طرف سے مال مسروقہ میں ملنے والی موٹر سائیکلوں کے نمبرز و انجن و چیسز پریس بریفننگ کے دوران بتائے جائیں تاکہ میڈیا نمائندگان کی وساطت سے لوگوں کو معلوم ہو کہ ان کی چوری و چھینی گئی موٹر سائیکلیں برآمد ہو گئی ہیں اور ان کی موٹر سائیکل فلاں تھانے میں برآمد کر کے رکھی گئی ہے تاکہ لوگوں کی قیمتی موٹر سائیکلیں پولیس اہلکار ذاتی استعمال نا کر سکیں اور نا ہی مال خانے میں پڑی پڑی ناکارہ ہو جائیں
شہریوں نے استدعا کی ہے کہ براہ کرم شہریوں کی فریاد پہ ان کے مطالبے کو پورا کیا جائے -

بین الاضلاعی موٹر سائیکل چور و ڈکیت گینگ گرفتار
قصور
تھانہ صدر پولیس کی کاروائی ڈکیتی، موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث بین الاضلاعی گینگ گرفتارتفصیلات کے مطابق تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او میاں محمد جسیم نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ڈکیتی و موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث گینگ کو مال مسروقہ سمیت گرفتار کر لیا
ساجد عرف بائیس ویلر گینگ کے ملزمان ضلع بھر میں ڈکیتی و موٹر سائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث تھے
ملزمان کے قبضہ سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ نقدی،جدید ناجائز اسلحہ و چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں
ملزمان سے مذید تفتیش کی جا رہی ہے -

آوارہ کتوں کی بہتات،اہلیان دیہہ سخت پریشان
قصور
نواحی گاؤں مانانوالہ میں آوراہ کتوں کی بھرمار،کتوں نے کئی بچوں،بوڑھوں و عورتوں کو کاٹ لیا،انتظامیہ نے عرصہ دراز سے آوراہ کتوں کو زہر نہیں ڈالیتفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مانانوالہ میں آوارہ کتوں کی بھرمار سے لوگ سخت پریشان ہیں
عرصہ دراز سے انتظامیہ نے آوراہ کتوں کو زہر نہیں ڈالی جس کے باعث آوارہ کتوں کی بہتات ہو گئی ہے اور آوارہ کتے آئے روز بچوں،بوڑھوں و عورتوں کو کاٹ رہے ہیں
کتے کاٹنے والوں کو قریبی ہسپتال گنڈا سنگھ لیجایا جاتا ہے جہاں ہسپتال عملہ کی طرف سے کبھی سرنجز نا ہونے کا بتایا جاتا ہے تو کبھی ویکسین ختم ہونے کا
لوگ کتوں کی بہتات سے سخت پریشان ہیں اور ڈی سی قصور سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اوارہ کتوں کو تلف کیا جائے تاکہ اہلیان دیہہ سکون کی زندگی جی سکیں -

ایل پی جی کی بلند ترین قیمتیں،ارباب اختیار کو بدعائیں
قصور
غرباء کی بنیادی ضرورت ایل پی جی (لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) کا مصنوعی بحران،360 روپیہ فی کلو تک فروخت جاری،لوگ سر پکڑ کا بیٹھ گئے،ارباب اختیار کو بدعائیںتفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح موجودہ گورنمنٹ بھی بلیک مارکیٹنگ مافیا کے آگے مکمل بے بس ہے
ضلع قصور میں ایل پی جی ( لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) کا مصنوعی بحران شدت اختیار کر گیا ہے
چند دن قبل تک 230 روپیہ فی کلو فروخت ہونے والی ایل پی جی 360 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہی ہے
غرباء کی بنیادی ضرروت ایل پی جی کا ایک دم سے اتنا مہنگا ہو جانا حکومتی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہے
بااثر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتیں 500 روپیہ فی کلو تک ہونے کا خدشہ ہے
جبکہ اس مصنوعی بحران کو سیلاب سے جوڑا جا رہا کے کہ راستے بند ہیں جس کے باعث مہنگی فروخت کی جا رہی ہے
لوگوں کا کہنا ہے بفرض اگر راستے بند بھی ہیں تو فضائی راستے اس عوامی سہولت کیلئے کیوں استعمال نہیں کئے جا سکتے ؟ کیا گورنمنٹ اور اشرافیہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کے ساتھ ساز باز کئے ہوئے ہے؟لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گورنمنٹ اور لوگوں کے خون پسینے سے پلنے والہ اشرافیہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کو قابو نہیں کر سکتا تو خداراہ اپنے گھروں کو جائیں اور پھر ہر کسی کو اپنی من مانی کرنے دی جائے تاکہ اس مان مانیوں کے اثرات ایک ہی بار دیکھ لئے جائے
کیونکہ لوگ تو پہلے ہی خودکشیوں پہ مجبور ہیں اور مر رہے ہیں پھر جس کے زور بازو میں اثر ہو گا کم ازکم و تو چھین کر کھائے گا ہی
مہنگائی کے مارے لوگ ارباب اختیار کو سرعام بدعائیں دے رہے ہیں -

پاکستانی تاریخ کے مہنگے ترین پھل و سبزیاں
قصور
پاکستانی تاریخ کی مہنگی ترین سبزیاں و پھل،سیلاب زدگان کیساتھ پوری قوم بھی پریشان،حکومتی دعوے بے نقابتفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگی سبزیاں و پھل فروخت کئے جا رہے ہیں جن کو نا چاہتے ہوئے بھی مہنگائی کے مارے لوگ خریدنے پہ مجبور ہیں
دس ںیس روپیہ فی کلو والی گوبھی 150 روپیہ،مٹر 300 ،پیاز 150،ٹماٹر 250,بھنڈی 120,بینگن 200 سندر خانی انگور 550,جاپانی پھل 250,کیلا 120 روپیہ فی درجن تک فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ ان تمام چیزوں کے سرکاری نرخ کم ہیں
بلیک مارکیٹنگ مافیا پوری تندہی سے اور بے خوف ہو کر اپنی من مانیاں کر رہا ہے جسے روکنے والا کوئی نہیں
گورنمنٹ کے سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے کے دعوے بے نقاب ہو رہے ہیں
سیلاب زدگان کیساتھ اس وقت پوری قوم شدید پریشان ہو گئی ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ خداراہ مہنگائی ختم کرنے کے دعوے کسی حد تک تو پورے کئے جائے نا کہ اور مہنگائی کی جائے -

سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ بند،لوگ پریشان
قصور
الہ آباد گلشن اقبال کالونی میں لگے سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ سے لوگ پانی سے محروم ،ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہتفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے قصبہ الہ آباد کی کالونی گلشن اقبال میں سرکاری واٹر سپلائی کیساتھ گورنمنٹ کی طرف سے واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگایا گیا ہے تاکہ لوگ پینے کا صاف پانی حاصل کر سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں تاہم عملہ نے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے
جب جی چاہتا ہے کبھی کبھار فلٹریشن پلانٹ چلا دیا جاتا ہے ورنہ زیادہ تر بند ہی رکھا جاتا ہے
اس بابت اہلیان علاقہ نے متعلقہ شحض کو کئی بار کہا بھی ہے تاہم کوئی فائدہ حاصل نا ہوا
اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث ہمیں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت دور سے پانی لانا پڑتا ہے حالانکہ گورنمنٹ نے ہمیں ہمارے علاقے میں سہولت دی ہوئی ہے مگر عملہ کی نااہلی سے ہم اس سہولت سے محروم ہیں
اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

بیٹا مارتا ہے جبکہ بہو گالیاں دیتی ہے،70 سالہ بوڑھی ماں کی تھانے میں دہائی
قصور: ناخلف بیٹے اور بہو نے تھانے میں ماں سے معافی مانگ لی-
باغی ٹی وی : ڈی پی او قصور محمد صہیب اشرف کی خصوصی ہدایت پر تھانہ بی ڈویژن پولیس نے ماں اور ناخلف بیٹے و بہو کے درمیان غلط فہمی دور کروادی جس کے بعد بیٹے نے ماں کے قدموں میں گر کر معافی مانگی-
لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل
تفصیلات کے مطابق قصور شہر کے علاقے سلامت پورہ کی 70 سالہ بیوہ ممتاز بیگم نے بیٹے اور بہو کے خلاف ڈی پی او قصور کو درخواست دی کہ بیٹا مارتا ہے اور گھر سے دھکے دے کر نکال دیتا ہے جبکہ بہو گالیاں دیتی ہے۔
ایس ایچ او بی ڈویژن ڈاکٹر ذوالفقار نے بوڑھی ماں کی درخواست پر بیٹے اور اس کی بیوی کو تھانہ میں طلب کیا تو بیٹا بیوی بچوں سمیت تھانے آ گیا جہاں ماں کے قدموں میں گر کر معافی مانگی ماں نے بیٹے کو معاف کردیا-
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست راجستھان میں 12 ویں جماعت کے طالب علم نے اپنی ماں کو تیز دھار آلے سے قتل کرکے لاش کو کمبل میں لپیٹ کر ٹن کے ڈبے میں بند کردیا۔
5 ماہ میں 7 شادیاں کرنے والی پھولن دیوی گرفتار
راجستھان کے گاؤں سیملیہ میں بالارام نامی شخص کام سے گھر لوٹا تو اہلیہ کو غائب پایا۔ بیٹے نے بتایا کہ ماں کھیت گئی تھی اور اب تک لوٹی نہیں۔ جس پر باپ نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے بیٹے سے سختی سے پوچھا تو اس نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ماں نے میری پسندیدہ بکری کو فروخت کردیا تھا جب کہ میں نے بہت منع کیا تھا۔ وہ میری محبوب بکری تھی جس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے ماں کو مار دیا۔
ملزم نے پولیس کو مزید بتایا کہ میں گھبرا گیا تھا اس لیے لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ پولیس نے لاش برآمد کرلی اور قتل کا مقدمہ درج کرکے سفاک بیٹے کو بچوں کی جیل منتقل کردیا۔
پولیس مقابلے میں گرفتار ملزم بارے پولیس نے کیا اہم انکشاف
-

سرکاری سکول کرپشن کا گڑھ،تحقیقات کا مطالبہ
قصور
سرکاری سکول کرپشن کا گڑھ بن گیا،سرکاری فنڈز ذاتی استعمال میں لائے جاتے رہےتفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کا ہائی سکول کرپشن کا گڑھ بنا گیا ہے مقامی صحافی محمد وقار علی نے بتایا کہ چونیاں کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول تالاب والا میں کرپشن کی نئی داستان رقم کی جا رہی ہیں اور اس کرپشن میں اسکول کا سابقہ کلرک اور سابقہ ہیڈ مسٹریس شامل ہیں
سکول کے این ایس بی فنڈ میں لاکھوں روپے کا جھوٹا جعلی اور بوکس بل ڈال کر گڑبڑ کی گئی ہے
نیز محکمہ تعلیم کے ceo اور do تبدیل ہوئے کافی عرصہ گزر گیا ہے مگر کلرک عبدالشکور اور میڈم سیدہ منظمہ فاطمہ صاحبہ کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جو کہ ceo اور do کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے
بچوں کے لئے آنے والا این ایس پی فنڈ سابقہ میڈم اور سابقہ کلرک اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں جس سے بچوں کے والدین میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے
والدین و معززین علاقہ نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے -

موجودہ سیلاب یا عذاب ، ازقلم:غنی محمود قصوری
موجودہ سیلاب یا عذاب
ازقلم غنی محمود قصوری
ایک محتاط اندازے کے مطابق 14 جون 2022 سے لے کر اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت سے جانبحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 386 مرد،191 عورتیں اور 326 بچے شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 1293 سے تجاوز کر چکی ہے-
ماہ رمضان بابرکت مہینے سے حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا سلسلہ جاری ہے کسی کو کرسی بچانے کی فکر ہے تو کسی کو کرسی گرانے کی ،ہر ایک کے پاس حکومت گرانے اور بنانے کیلئے ایم پی اے،ایم این اے خریدنے کے پیسے ہیں مگر نہیں تو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے نہیں-
دنیا سے اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے ہمیں بھیک دی جائے تاکہ کچھ سیلاب متاثرین کو دیا جائے تو باقی اپنی جیبوں میں بھرا جائےتاہم بفضل تعالی غیور پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد میں مصروف ہیں مگر سیاستدانوں کی طرف سے اب بھی کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور مملکت پاکستان ایک بار پھر بہت بڑی آفت میں گھرا ہوا ہے-
گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ ،صوبہ بلوچستان،صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر شدید سیلاب کی لپٹ میں ہیں تقریباً پاکستان کے کل رقبہ کا 60 فیصد سے زائد رقبہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے سب سے زیادہ سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخوا متاثر ہوئے ہیں اس سیلاب کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیںاور سیلاب کے باعث 4 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئی اور 7 لاکھ کے قریب گھر،دکانیں،ہوٹلز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں-
ایک اندازے کے مطابق 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت اس وقت مسلط ہے
اس سے قبل 2010 میں شدید سیلاب آیا تھا جسے اقوام متحدہ کی طرف سے آہستگی سے سونامی میں تبدیل ہونے والا سیلاب قرار دیا تھا
2010 میں پاکستان کے 78 ضلع متاثر ہوئے تھے جبکہ اس بار 116 ضلع متاثر ہوئے ہیں-کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ہےآئیے دیکھتے ہیں قرآن مجید کی رو سے یہ سیلاب کیا ہے اللہ تعالی سورہ المؤمنون میں فرماتے ہیں ” اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اُتارا
پھر اُسے زمین میں ٹھہرا دیا اور یقین رکھو، ہم اُسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں”قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ نے پانی برسانے کا علاقہ ٹھیک چنا ہے اور اللہ تعالی اس پانی کو غائب بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اس علاقے کو پانی کی ضرورت تھی مگر ہم نے اس ضرورت کو سمجھا نہیں اور اسے ضائع ہونے دینے کے ساتھ اپنی جانوں و املاک کو تباہ بھی کروایا –
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چولستان کا علاقہ خشک سالی سے بنجر ہو گیا تھا اور بارشوں کیلئے دعائیں کی جا رہی تھیں تب بھی یہی سیاسی بندر بانٹ والا سلسلہ جاری تھا تھا اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے-
قیام پاکستان سے لے کر کرسی کی اس چھینا چھینی نے حکمرانوں کو ایسا مصروف کئے رکھا ہے کہ انہیں نا تو ڈیم بنانے کی فرصت ہے اور نا ہی ڈیم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے والوں سیاستدان کے خلاف کاروائی کی ہوگی بھی کیوں آخر بھینس ہی تو بھینس کی بہن ہوتی ہے-
کل ہی کی تو بات ہے کہ کرونا آیا تھا تو ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا تھا مگر افسوس کہ ڈنڈے کے زور پر ڈیم نہیں بنوائے جا رہے کرونا ایس او پیز پر سختی کروا کر دنیا سے امداد لینی تھی جبکہ ڈیم بننے سے پاکستان خودکفیل ہو گا اور یوں دنیا کی امداد سے ہم محروم رہیں گے-
ایک اکیلے کالا باغ ڈیم کے بننے سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی اور مچھلی کی پیدوار زیاد ہو سکے گی جبکہ اس ڈیم سے پانی سٹور کرکے سیلاب پر بڑی حد تک قابو کرنے کیساتھ سستی ترین بجلی بھی حاصل ہو سکے گی-
مگر کیا کریں ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخالفوں کو چپ تو کروانا آتا ہے مگر ملکی مفاد میں مخالفت کرنے والوں کو قابو کرنا نہیں
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مانگنے کا چسکا لگ گیا ہے اور اب ہمارا مانگے بنا گزارا نہیں اگر اب بھی ڈیموں بارے نا سوچا گیا تھا مستقبل میں اس سے بھی بڑی تباہی کا خدشہ ہے-