Baaghi TV

Category: قصور

  • ستلج میں مختلف مقامات پر پانی کی سطح مختلف،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن جاری

    ستلج میں مختلف مقامات پر پانی کی سطح مختلف،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن جاری

    قصور
    دریائے ستلج میں پانی کی سطح مختلف مقامات پر مختلف،اگلے گھنٹوں میں مذید تبدیلی کا امکان،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑا فلڈ ریلیف ریسکیو آپریشن جاری

    تفصیلات کے مطابق تازہ رپورٹس کے مطابق دریائے ستلج کے مختلف مقامات پر پانی کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے آج 2 ستمبر 2025 صبح 09:00 بجے تک تلوار پوسٹ پر پانی کی سطح 12.30 فٹ
    فتح محمد پوسٹ پر 14.50 فٹ جبکہ بکارکے پوسٹ پر ریڈیوس لیول 628.00 ہے

    ماہرین کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹے کے دوران پانی کی سطح میں مذید تبدیلی کا امکان موجود ہے
    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹس کے مطابق گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج تقریباً 2,53,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس پر پانی کی صورتحال کو ہائی فلڈ قرار دیا گیا ہے

    دریائے ستلج کے کنارے بسنے والے قصور کے دیہات براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں اور متاثرہ دیہات کی تعداد 148 سے تجاوز کر چکی ہے

    ضلعی و صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے ریلیف کیمپوں کے ذریعے متاثرین کو خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کر رہے ہیں کئی مقامات سے لوگوں کا بروقت انخلاء مکمل کیا گیا ہے تاہم کچھ دیہات اب بھی شدید خطرے کی زد میں ہیں
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ قصور اس وقت ان علاقوں میں سب سے زیادہ ریلیف ورک کر رہی ہے اور لوگوں کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں تک پکی پکائی خوراک،جانوروں کو چارہ اور انسانوں و جانوروں کو ادویات و صاف پانی کی فراہمی بھی جاری ہے

  • بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے جانے کے باعث دریائے ستلج اور چناب میں پانی کے بہاؤ میں پھر اضافہ ہونے لگا ہے، جس پر پی ڈی ایم اے نے ہیڈ تریموں اور ہریکے پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی-

    ذرائع کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر انڈس واٹر کمیشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط طریقے سے پاکستان کو اطلاع دی، بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو اطلاع دی کہ ستلج ہریکے اور فیروزوالہ کے علاقے میں سیلاب آئے گا بھارت نے سیلابی ریلے سے آج صبح 8 بجے آگاہ کیا، بھارت کی جانب سے سیلاب سے متعلق ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور پر اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔

    دریائے ستلج ہریکے کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافے اور اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا،پی ڈی ایم اے پنجاب نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 34 ہزار کیوسک ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا جھنگ اور ہیڈ تریموں سے گزر رہا ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 1 ہزار کیوسک ہے،خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 66 ہزار کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 67 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 72 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے۔

    مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنانے کافیصلہ

    نالہ ایک، بئیں اور بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پلکھو نالہ میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے،منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 84 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 98 فیصد جبکہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکا ہے،لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا۔

    یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی مغربی کوششیں جنگ کی بڑی وجہ ہے،روسی صدر

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو اسٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے ریسکیو ٹیموں کو پیشگی حساس مقامات پر تعینات کریں، موسلادھار بارشوں کی صورت میں شہریوں کو پیشگی آگاہ کریں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی۔ لاہور 42، گجرانوالہ 19، خانیوال اور قصور 12، مری 11، گجرات اور نارووال 5، اور سیالکوٹ میں 4 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی،آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا امکان ہے، 9واں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔

    بھارتی اداکارہ کینسر سے انتقال کرگئیں

  • پنجاب حکومت کا جاں بحق  اسسٹنٹ کمشنر پتوکی کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا جاں بحق اسسٹنٹ کمشنر پتوکی کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے گزشتہ روز جاں بحق ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد خان کو اعلی سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے سیلاب میں فرائض منصبی ادا کرنے کے دوران جاں بحق ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر ورثا کو ایک کروڑ گرانٹ بھی دی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اے سی فرقان احمد کے لیے اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایک کروڑدینے کی منظوری دے دی۔

    اسسٹنٹ کمشنر کینسر کے مریض ہونے کے باوجود مسلسل فلڈ ریلیف ڈیوٹی کررہے تھے، مرحوم فُرقان احمد خان پتوکی کے سیلاب زدہ علاقے میں متاثرین کو ریسکیو وریلیف آپریشن میں مصروف رہے،فُرقان احمد مرحوم نے پتوکی میں سیلاب متاثرین کو خوراک ، میڈیسن اور دیگر سہولیات کے مسلسل کام کیا۔

    یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی مغربی کوششیں جنگ کی بڑی وجہ ہے،روسی صدر

    وزیراعلی پنجاب نے مرحوم فرقان احمد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی مدد کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے حقیقی ہیرو ہیں، فرقان احمد کی فرض شناسی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے،اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں ہیڈ بلوکی کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر تھے کہ اس دوران انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

    پاکستان ہمیشہ کثیر الجہتی، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

  • ستلج میں ایک بار پھر سے پانی کی سطح میں اضافہ،الرٹ جاری

    ستلج میں ایک بار پھر سے پانی کی سطح میں اضافہ،الرٹ جاری

    قصور
    دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں پھر سے اضافہ، قصور کے نچلے علاقے الرٹ پر رہیں،ضلعی انتظامیہ کا اعلان

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں قصور میں آج یکم ستمبر 2025 کو صبح 9 بجے
    تلوار پوسٹ پر پانی کی سطح 12.40 فٹ،بکارکے پوسٹ پر R.L. 627.90 اور فتح محمد پوسٹ لر 14.30 فٹ ہے
    محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورتحال درمیانی درجے کے سیلابی خدشات کی نشاندہی کرتی ہے
    اگر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو قصور کے نچلے علاقے زیرِ آب آ سکتے ہیں
    ضلعی انتظامیہ نے مقامی آبادی کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریائی علاقوں کے قریب رہائش یا غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو حکام سے رابطہ کریں
    ابتک 72 دیہات اور تقریباً اڑھائی لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں

  • اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    لاہور:اسسٹنٹ کمشنر پتوکی ضلع قصور سیلابی دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے،ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے گہرے غم اور افسوس کا اظہار کیاڈی جی کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ہیڈ بلوکی سیلاب کے علاقے میں ڈیوٹی پر تھے، ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ راوی، چناب اور ستلج کے بپھرنے کے باعث پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز ٹیم کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈیوٹی پر موجود ہیں،پنجاب کے تینوں دریاؤں میں بدترین سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کے باعث اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ صوبے میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 33 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سود مند ہونگے ، وزیراعظم

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی، ہر طرف مکانات، راستے، سڑکیں گھر سب سیلابی پانی میں ڈوبے نظر آرہے ہیں جب کہ مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے،لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے لگی، دریائے راوی میں 78 ہزار کیوسک ریلا گزر رہا ہے۔

    سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانےکے بعد جھنگ میں داخل ہوگیاجھنگ میں بڑا آبی ریلا داخل ہونے سے 200 کے قریب دیہات زیر آب آگئے، سیکڑوں گھر پانی میں ڈوب گئے جب کہ 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں،دریائے چناب کا بڑا ریلا آج رات ملتان سے گزرنے کا امکان ہے، شہر کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنا مائٹ نصب کردیے گئے جب کہ ضرورت پڑنے پر بارودی مواد سے شگاف ڈالا جائے گا۔

    بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

  • سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

    سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

    قصور کی معروف سیاسی شخصیت اور سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
    انہوں نے ہیڈ بلوکی، ننتھے جاگیر، ننتھے خالصہ اور دیگر دیہی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے

    رانا محمد اقبال خان نے ریلیف ورکس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو جلد اور مکمل ریلیف فراہم کیا جائے
    انہوں نے زور دیا کہ ریلیف کے عمل کو مذید تیز کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام مشکلات سے نکل سکیں اور جلد سے جلد اپنی سابقہ زندگیوں کی طرف واپس آئیں

    انہوں نے مقامی انتظامیہ پر بھی زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات اور رہائش سمیت بنیادی سہولیات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے

  • 1995 کے بعد ستلج میں سب سے زیادہ بہاؤ،قصور شہر محفوظ

    1995 کے بعد ستلج میں سب سے زیادہ بہاؤ،قصور شہر محفوظ

    قصور
    قصور میں سیلابی کیفیت سے ستلج میں 1955 کے بعد سب سے زیادہ بہاؤ،شہر قصور محفوظ ہے تاہم حفاظتی طور پر ہچھ دیہات خالی کروائے گئے

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج قصور میں 1995 کے بعد سب سے زیادہ پانی کا بہاؤ ہے
    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 350,000 cusecs سے زائد بہاؤ ریکارڈ کیا ہے جو 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی ہے
    اس غیر معمولی صورت حال نے انتظامیہ کے لیے قصور شہر کو محفوظ رکھنے کا بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے تاہم الحمدللہ بروقت اقدامات سے قصور شہر محفوظ ہے

    آر آر اے ون بند
    (RR-One Bund)
    میں شگاف ڈال کر سیلابی پانی کو ان علاقوں سے ہٹایا گیا تاکہ قصور اور آس پاس کی بستیاں محفوظ رہ سکیں
    صوبائی انتظامیہ نے قصور اور ملحقہ دیہات میں بڑے پیمانے پر انخلا اور ریلیف آپریشنز شروع کر دیئے جن میں فوج، پولیس، ریسکیو 1122، اور امدادی ادارے شامل ہیں

    اب تک تقریباً 72 دیہات متاثر ہو چکے ہیں، اور 1,686 افراد اور 967 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، 127,000 افراد صرف ستلج کے اطراف سے منتقل کئے جا چکے ہیں

    گنڈا سنگھ والا پر ستلج کا بہاؤ اس وقت 3 لاکھ 3 ہزار سے 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے جو کہ ایک خطرناک اور غیر معمولی سطح ہے
    ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے جبکہ بلوکی کے نشیبی علاقے مذید سیلاب کے زیرِ اثر آ سکتے ہیں
    پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کے ساتھ مؤثر اطلاعات کا تبادلہ نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے آئندہ چند روز میں مزید 70,000 کیوسک یا زائد پانی آنے کا خدشہ ہے
    ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں سیلاب سے متاثرہ خواتین، بچے اور بزرگ رہائش پذیر ہیں
    ریلیف کمشنر پنجاب نے کہا ہے کہ یہ ملک کے سب سے بڑے ریلیف آپریشنز میں سے ایک ہے، جس میں تینوں انتظامیہ اور ادارے شریک ہیں
    اس وقت صورتحال نہایت سنگین ہے اس لئے مقامی انتظامیہ, امدادی اداروں، اور عوام کو یکجا ہو کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بڑے سانحے سے پہلے ہی قوم کو محفوظ رکھا جا سکے
    اللّہ تعالیٰ کے حکم سے اب بڑی حد تک قصور شہر محفوظ ہے احتیاطی طور پر قادی ونڈ سمیت کچھ دیہات خالی کروائے گئے تھے کیونکہ سیلاب کے پانی کی سطح مذید بلند ہو رہی تھی اور بند ٹوٹنے کا خطرہ تھا مگر الحمدلله پانی نے جے سی پی انڈین حدود میں اپنا راستہ بناتے ہوئے جے سی پی پر واقع انڈین وی آئی پیز روم اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے جس سے بند ٹوٹنے کا خطرہ ختم ہو گیا ہے
    حالات کنٹرول میں ہیں جبکہ ڈی سی، ڈی پی او اور اُنکی ٹیمیں دن رات محنت کر رہے ہیں
    گزشتہ رات کچھ دیہاتیوں نے بند کو توڑنے کی کوشش کی تھی مگر ڈی سی اور ڈی پی او نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بند کو توڑنے نہیں دیا اور ساری رات بند کی نگرانی کی
    برسات کا سلسلہ وقفے وقفے سے تاحال جاری ہے

  • بہترین صحافتی خدمات پر غنی محمود قصوری کو حسن کارکردگی کی سند،نیک تمناؤں کا اظہار

    بہترین صحافتی خدمات پر غنی محمود قصوری کو حسن کارکردگی کی سند،نیک تمناؤں کا اظہار

    قصور
    دعا آن لائن نیوز پاکستان کی جانب سے بطور بیورو چیف قصور حسن کارکردگی پر حوصلہ افزائی

    تفصیلات کے مطابق دعا آن لائن نیوز پاکستان کے بیورو چیف ڈاکٹر محمد ادریس نے بیورو چیف قصور غنی محمود قصوری کی بہترین صحافتی خدمات اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے خصوصی حوصلہ افزائی کی ہے
    صحافتی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے اور بروقت خبریں فراہم کرنے پر ادارے کی جانب سے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

    اس موقع پر دعا نیوز پاکستان کی انتظامیہ نے کہا کہ غنی محمود قصوری جیسے محنتی اور دیانتدار صحافی ادارے کا اثاثہ ہیں ان کی کاوشوں سے قصور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں کی حقیقی صورتحال اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے

    صحافتی حلقوں نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی محنت کو سراہنا ان کے حوصلے مزید بلند کرنے کا ذریعہ بنتا ہے
    غنی محمود قصوری نے دعا آن لائن نیوز پاکستان کے سی ای او جناب ڈاکٹر محمد ادریس صاحب کیلئے نیک تمناؤں اور ادارے کی دن دگنی رات چگنی ترقی کیلئے دعائیں کیں

  • قصور شہر کو زیر آب آنے کا خدشہ،انتظامیہ جلد سے جلد اقدمات کرے

    قصور شہر کو زیر آب آنے کا خدشہ،انتظامیہ جلد سے جلد اقدمات کرے

    قصور
    دریائے ستّلج میں بڑھتے ریلے سے قصور شہر کو خطرہ،انتظامیہ
    جلد۔اقدامات کرے

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج گنڈہ سنگھ والا قصور میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس سے قصور شہر اور نواحی دیہات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں
    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 80 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے

    گنڈہ سنگھ و قریبی دیہات سے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ابتک 14 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر مشرقی پنجاب کے علاقوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں

    زرائع کے مطابق انتظامیہ نے قصور شہر کو بچانے کے لئے حفاظتی بندوں پر دباؤ کم کرنے کی غرض سے رحیم یار کے مقام پر بند کاٹنے کا فیصلہ کیا تاکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور شہر کو زیرِ آب آنے سے بچایا جا سکے
    ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ قصوراور پاک فوج کی مشترکہ کوششوں سے ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

    گورنمنٹ ہائی اسکول کھڈیاں خاص،ڈگری کالج چونیاں،گورنمنٹ ہائی سکول پتوکی،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مصطفی آباد للیانی اور
    ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کے قریب ریلیف سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جن کے رابطہ نمبرز
    ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن 1122،ضلعی کنٹرول روم قصور 049-9200123
    ،ڈپٹی کمشنر آفس قصور (ایمرجنسی ڈیسک) 049-9200200 ہیں

    محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں دریائے ستلج اور اس سے جڑے ندی نالوں میں پانی کا مذید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے قصور کے نشیبی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں
    اہلِیان قصور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فوری بحالی اور نقصانات کے ازالے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور قصور شہر کو زیر آب آنے سے بچانے کے لئے جلد سے جلد عملی اقدامات کئے جائیں
    واضع رہے کہ دریائے ستلج کے مختلف مقامات سے قصور شہر کا فاصلہ 8 سے 12 کلومیٹر ہے
    جبکہ ارگرد سینکڑوں دیہات آباد ہیں

  • بل ڈسٹری بیوٹر ایک جگہ بل پھینک کر فرار،اہلیان علاقہ کا احتجاج ،نوٹس کی اپیل

    قصور
    لیسکو سب ڈویژن راجہ جنگ میں بل تقسیم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ، گاؤں اوراڑہ نو کے شہری سراپا احتجاج

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی لیسکو سب ڈویژن راجہ جنگ کی غفلت اور نااہلی نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال رکھا ہے
    گاؤں اوراڑہ نو کے مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بجلی کے بل گھر گھر تقسیم کرنے کے بجائے بل ڈسٹری بیوٹر ایک جگہ بل پھینک کر غائب ہو جاتا ہے
    اس غیر ذمہ دارانہ رویہ
    نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے
    اہلیانِ علاقہ کے مطابق گاؤں میں بجلی آنے کے آغاز سے ہی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک کسی افسر نے اس سنگین مسئلہ پر توجہ دینا گوارا نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس بار بھی بیشتر گھروں کو بل نہیں ملے اور لوگ بل ڈھونڈنے کے لیے دفاتر اور بینکوں کے دھکے کھا رہے ہیں

    اہلِ علاقہ نے کہا کہ لیسکو کے ذمہ داران کی یہ غفلت صرف سستی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے
    بجلی کے بل نہ ملنے کے باعث صارفین تاخیر سے ادائیگی پر جرمانوں کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ قصور صرف بل ڈسٹری بیوٹر کی لاپرواہی اور افسران کی خاموشی ہے
    اہلیان علاقہ نے چیئرمین واپڈا اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ راجہ جنگ سب ڈویژن میں فوری طور پر شفاف انکوائری کی جائے، غفلت برتنے والے اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہر صارف کو وقت پر بل کی فراہمی یقینی بنائی جائے بصورت دیگر لوگ اجتماعی احتجاج پر مجبور ہوں گے