Baaghi TV

Category: قصور

  • چونیاں:سرکاری تعلیمی اداروں میں پینے کا صاف پانی نایاب ، طالبعم بیمار ہونے لگے

    چونیاں:سرکاری تعلیمی اداروں میں پینے کا صاف پانی نایاب ، طالبعم بیمار ہونے لگے

    چونیاں،باغی ٹی وی(میاں عدیل اشرف نامہ نگار) سرکاری تعلیمی اداروں میں پینے کا صاف پانی نایاب ، طالبعم بیمار ہونے لگے

    محکمہ ایجوکیشن چونیاں کے ریکارڈ کے مطابق تحصیل میں 393 سرکاری سکول قائم ہیں۔ جن میں محکمہ ایجوکیشن کے ریکارڈ کے مطابق 92 ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ 24 سو اساتذہ کرام بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں وہ بھی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں

    سرکاری سکولوں میں سہولیات کا فقدان زبان زد عام ہے ،مگر سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے، سرکاری سکولوں میں سینکڑوں طلباء وطالبات ٹینکی کا آلودہ پانی پینے یا گھروں سے پانی لانے پر مجبور ہیں،

    سکولوں میں نصب کی گئی ٹینکیوں کی بھی صفائی کا کوئی معقول انتظام نہ ہونے سے انتہائی ناقص اور آلودہ پانی بچے پینے پر مجبور ہیں، جس کے باعث زیر تعلیم طلباء و طالبات میں پیٹ کی بیماریاں عام ہو چکی ہیں،

    والدین کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ بچوں کے کہنے پر سکول انتظامیہ سے اس بارے میں بات کر چکے ہیں مگر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے سکولوں میں محکمہ تعلیم فلٹریشن پلانٹ نصب کروائے تاکہ بچے شفاف پانی پی کر پیٹ کی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

    محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی نوٹس میں آیا ،پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کیلئے احکامات جاری کر دئیے ہیں،جلد ہی ٹینکیوں کی صفائی کرائی جائیگی۔

  • جواں سالہ لڑکی سے زیادتی کا ملزم گرفتار،تفتیش شروع

    جواں سالہ لڑکی سے زیادتی کا ملزم گرفتار،تفتیش شروع

    قصور
    جواں سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار،تفتیش جاری

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل پتوکی کے چک 69 میں جواں سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے
    چک 69 پتوکی کے رہائشی محمد رفیق کی جواں سالہ لڑکی عاصمہ بی بی کو ملزم عقیل نے جبری زیادتی کا نشانہ بنایا تھا
    جس پہ مدعیان نے پولیس کو درخواست دی
    پولیس تھانہ صدر پتوکی پولیس کے ایس ایچ او حافظ عاطف نذیر کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے جواں سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم عقیل چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا
    پتوکی پولیس نے ملزم کو حراست میں لیکر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے

  • ساتواں بڑا زرعی ملک اور   ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی
    از قلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے اس کے علاوہ اور بھی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں

    پاکستان کل رقبہ تقریباً 19 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار 290 ایکڑ ہے جس میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ 43 ہزار 414 ایکڑ زرعی رقبہ ہے جبکہ 1 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 277 ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ، زیر کاشت رقبہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ ہے ،ہمارے ہاں گندم زیر کاشت رقبہ کے 80 فیصد پر کاشت کی جاتی ہے

    ہمارے کل جی ڈی پی میں سے زراعت 22 فیصد ہے اور مجموعی افرادی قوت 44 فیصد شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری کل آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ زراعت کیساتھ منسلک ہے،اسی لئے زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے

    اس وقت ارض پاک میں گندم کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے،کچھ علاقوں میں گندم کی مکمل کٹائی ہو چکی ہے

    گذشتہ سال گندم کی پیدوار 2 کروڑ 68 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں اس سال مزید اضافے کا امکان ہے،مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر نا تو کسان خوش ہے نا ہی گندم خریدنے والے عام شہری جس کی ساری وجہ مس مینجمنٹ اور ذخیرہ اندوزی ہے

    ذخیرہ اندوزی تو وہی کرے گا جس کے پاس سال بھر کا گھریلوں خرچ موجود ہوتا ہے جس بیچارے غریب کسان کے پاس ایک مہینہ خرچ کے پیسے موجود نہیں وہ کیا ذخیرہ اندوزی کرے گاذخیرہ اندوزی نے ہمارے ملک کا برا حال کرکے رکھ دیا ہے،ضرورتِ زندگی کی کوئی بھی چیز ہو بلیک مارکیٹنگ مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے چیز غائب کرکے اپنی من مانی قیمتوں پہ فروخت کرتا ہے

    یہی صورتحال گندم کیساتھ ہے،غریب کسان بیچارے تو باہر کھیتوں سے ہی فصل بیچ دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چل سکے جب بڑے بڑے کسان گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور اس وقت بیچتے ہیں جب لوگ گندم نا ملنے کے باعث مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں
    حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو رکوے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا دے ،کیونکہ ذخیرہ اندوزی قانون پاکستان کی رو سے بھی جرم ہے اور اسلام کی رو سے بھی قابل تعزیر جرم ہے

    اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی سخت ممانعت کا اندازہ ہم اس حدیث رسول سے لگاتے ہیں،جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام (حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے، (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے)المستدرک 2165

    جبکہ ایک اور حدیث میں ہے کہ

    جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے ، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے ،المستدرک 2168
    درج بالا دونوں حدیثوں سے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کی ممانعت کا اندازہ ہوتا ہے

    حکومت وقت پرفرض ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ غریب دیہاڑی مزدور اورعام لوگ سکون کی روٹی کھا سکیں، بصورت دیگر جب باوجود محنت کے انسان سکون کی روٹی نہیں کھا سکتا تو وہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے

    اگر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو دیگر جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ذخیرہ اندوزی پر زیادہ طاقت اور سختی سےقابو پانے کی ضرروت ہے.

  • سلاٹر ہاؤس پتوکی مکھیوں مچھروں کی مستقل آماجگاہ

    سلاٹر ہاؤس پتوکی مکھیوں مچھروں کی مستقل آماجگاہ

    قصور
    سلاٹر ہاؤس پتوکی میں گندگی کی حد،ٹی ایم اے پتوکی منتھلیاں لے کر خاموش تماشائی ،عوام کی زندگیاں خطرے میں،نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل پتوکی میں سرکاری سلاٹر ہاؤس میں گندگی کا راج ہے
    ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں اور تعفن کا راج ہے جس کے باعث سانس لینا تک دشوار ہے
    سلاٹر ہاؤس میں گندا پانی کھڑا ہے جس سے مچھر،مکھیوں کی مستقل آماجگاہ قائم ہو چکی ہے
    ہر روز ماسوائے سرکاری چھٹی کے اس سلاٹر ہاؤس میں اسی گندگی میں جانور ذبح کرکے لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں

    اس ساری صورتحال میں ٹی ایم اے پتوکی اپنی منتھلیاں لے کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے اور لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہا ہے
    شہری حلقوں نے اس بابت سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر قصور سے ازخود نوٹس لے کر سلاٹر ہاؤس کی صفائی ستھرائی کروانے کے ساتھ اس کو اس حال میں پہنچانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • پیٹرولنگ پولیس کا ناکہ،سرعام رشوت،نوٹس کی اپیل

    پیٹرولنگ پولیس کا ناکہ،سرعام رشوت،نوٹس کی اپیل

    قصور پٹرولنگ پوسٹ نور پور کے انچارج شہزاد SI اور عاطف کانسٹیبل کا شہریوں سے ناروا سلوک و اختیارات سے تجاوز کرپشن کی داستانیں رقم ہوگئیں،شہری پرویز اقبال سمیت کئی لٹ گئے

    میڈیا رپورٹس کیمطابق سماجی کارکن پرویز اقبال بسواری موٹر سائیکل جا رہا تھا کہ سڑک پر پٹرولنگ پوسٹ نور پور کے عملہ نے ناکہ لگا رکھا تھا گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روک کر کاغذات چیک کر رہے تھے حالانکہ پٹرولنگ پولیس مین شاہراہ پر مستقل ناکہ لگانے اور کاغذات چیک کرنے کے مجاز ہر گز نہیں ہیں اسکے باوجود انھوں نے پرویز اقبال سے کاغذات مانگے جو فوٹو کاپی دی تو محمد شہزاد SI انچارج نے اصل کاغذات کی کاپی نہ ہونے کی صورت میں تھانے بند کرنے کی دھمکی دیکر رشوت کا تقاضا کیا جو ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑا رکھنے کیبعد ایک ہزار روپیہ بطور رشوت لیکر رہائی دی
    موقع پر کھڑے کئی شہریوں نے بتایا کہ رشوت ٹیکس نہ دینے کی صورت میں وہ کئی گھنٹے سے کھڑے سزا بھگت رہے ہیں اور یہ سلسلہ مستقل بنیاوں پر کئی ماہ سے جاری ہے شہریوں کی تذلیل وطیرہ ہے پرویز اقبال نے ذمہ داران اعلیٰ افسران سے محمد شہزاد SI انچارج چوکی،محمد عاطف کانسٹیبل باوری اور ایک کس نامعلوم مسلح اسلحہ سادہ کپڑوں میں ملبوس کانسٹیبل کیخلاف اختیارات سے تجاوز،بد اخلاقی کا ارتکاب کرنے اور رشوت ستانی پر اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے معطل کیا جانے اور کسی ایماندار افسر کو چوکی انچارج مقرر کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے

  • جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خظرناک اشتہاری مجرم گرفتار

    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خظرناک اشتہاری مجرم گرفتار

    قصور
    پولیس نے خطرناک اشتہاری مجرم گرفتار کر کیا،جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریس کیا گیا

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس نے خطرناک اشتہاری مجرم کو گرفتار کر لیا
    پولیس نے تھانہ سرائے مغل کے ایس ایچ او غلام صابر کی سربراہی میں کامیاب کاروائی کرتے ہوئے راہزنی کی متعدد وارداتوں میں مطلوب اے کیٹگری کا خطرناک مجرم گرفتار کیا جو کہ
    ضلع وہاڑی کا رہائشی ہے
    اشتہاری مجرم یوسف عرصہ ایک سال سے اشتہاری ہے اور مفرور چلا آ رہا تھا اور تھانہ سرائے مغل پولیس کو راہزنی کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا
    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے گرفتار کیا جس سے مذید تفتیش جاری ہے

  • سرکاری سکولوں میں بغیر کتابوں کے بچے کلاسوں میں

    سرکاری سکولوں میں بغیر کتابوں کے بچے کلاسوں میں

    قصور
    گزشتہ ماہ سے ابتک سرکاری سکولوں کے بچے تاحال کتابوں سے محروم،کلاسیں بغیر کتابوں کے جاری،والدین پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں سرکاری سکولوں کے بچے گزشتہ ماہ رزلٹ آؤٹ ہونے سے اگلی کلاسوں میں بیٹھنے سے اب تک کتابوں سے محروم ہیں گورنمنٹ کی طرف سے کتابیں مہیا نہیں کی گئیں
    بچے کلاسوں میں بغیر کتابوں کے جا رہے ہیں
    ماضی کی طرح اس بار بھی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی بچوں کو بروقت کتابیں نا ملی سکی ہیں جس پہ والدین میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے
    نیز ماضی میں ہر سال بچوں کو گورنمنٹ کی طرف سے انگلش میڈیم نصاب مہیا کیا جاتا ہے جب کہ بیشتر سرکاری سکولوں میں اردو میڈیم نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو بازار سے کتابیں خرید کر دینے پہ مجبور ہیں
    بچوں کے والدین نے موجودہ گورنمنٹ سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو بروقت کتابیں مہیا کی جائیں اور اس بار اُردو میڈیم کتابیں مہیا کی جائیں تاکہ والدین کو کتابیں بازار سے نا خریدنی پڑیں
    واضع رہے کہ ماہ جون میں گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث سکول بند ہو جاتے ہیں جس کے باعث ابتک بچوں کو کتابیں نا ملنا باعث تشویش ہے

  • کارڈیک سینٹر چونیاں میں سہولیات کا فقدان،مریض پریشان

    کارڈیک سینٹر چونیاں میں سہولیات کا فقدان،مریض پریشان

    چونیاں
    تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، کارڈیک سنٹر سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا فقدان پیدا ہوگیا جس سے علاج معالجے کیلئے آنے والے مریض پریشانی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، کارڈیک سنٹر چونیاں کے سرکاری ہسپتالوں میں 30 قسم کی بنیادی ادویات جس میں شوگر کی انسولین بھی ناپید ہوگئیں سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کیلئے آنے والے مریض اور انکے لواحقین خواری کا شکار ہیں۔ محمد زین، سردار رضوان، محمد اشفاق، اسماعیل اکرم و دیگر شہری کہتے ہیں کئی کلومیٹر کا سفر تحہ کرکے ہسپتال آنے کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کی فراہمی کی بجائے محض ادویات کا نسخہ ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت جتنا روٹی، نان کا ریٹ کم کرنے اور فوٹو سیشن میں لگی ہے عملی طور پر عوامی مسائل پر توجہ دی جائے اور ہسپتالوں میں ادویات مہیا کی جائیں شہری کہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بناتے ہوئے انہیں سہولت فراہم کی جائے, معاملے پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے فوکل پرسن کہتے ہیں کہ ادویات کی مرکزی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے فقدان پیدا ہوا تاہم جلد فراہمی یقینی بنا دی جائے گی۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر صحت سیکرٹری صحت اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات مہیا کی جائیں

  • این اے  132 میں ضمنی الیکشن مکمل،سکول کھل گئے

    این اے 132 میں ضمنی الیکشن مکمل،سکول کھل گئے

    قصور
    ضمنی الیکشن مکمل،فول پروف سیکورٹی انتظامات،ریسکیو،پولیس،و دیگر ادارے متحرک رہے

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن قصور میں حلقہ این اے 132 میں پولنگ کا عمل جاری رہا جس کے باعث قصور پولیس کی طرف سے سخت سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے
    ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کے اینٹی رائٹ دستے بھی الرٹ ہیں
    جبکہ ریسکیو 1122 و دیگر ادارے متحرک رہے تاہم کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نا آیا
    پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا
    پولنگ کے بعد آج سے سکول مقررہ وقت پہ لگے اس سے قبل ہفتہ کے دن بیشتر سکولوں میں الیکشن کے باعث وقت سے پہلے چھٹی کروا دی گئی تھی
    واضع رہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی سیٹ پہ ضمنی الیکشن کروایا گیا جس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک رشید احمد خان نے سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سردار محمد حسین ڈوگر کو شکست دی

  • قصور:بجلی کی اوور بلنگ ،ایس ای آفس پر ایف آئی اے کی ٹیم کا چھاپہ،کچھ ہاتھ نہ لگ سکا

    قصور:بجلی کی اوور بلنگ ،ایس ای آفس پر ایف آئی اے کی ٹیم کا چھاپہ،کچھ ہاتھ نہ لگ سکا

    قصور،باغی ٹی وی ( طارق نوید سندھو سے )بجلی کی اوور بلنگ ،ایس ای آفس پر ایف آئی اے کی ٹیم کا چھاپہ،کچھ ہاتھ نہ لگ سکا

    ایف آئی اے ٹیم کا اوور بلنگ کے خلاف لیسکو آفس قصور کا ریکارڈ تحویل میں لینے کے لئے پندرہ رکنی ٹیم نے چھاپہ مارا مگر ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ہی تمام سب ڈویژن کے آفیسر و عملہ دفاتر کی تالہ بندی کرکے فرار ہو گئے ۔

    گذشتہ روز وفاقی حکومت نے اوور بلنگ کے خلاف ایکشن لینے کا کہا تھا تو آج صبح ایف آئی اے اہلکاران نے دیگر اداروں کے اہلکاران کے ساتھ ریکارڈ تحویل میں لینے کے لئے ایس ای آفس پر چھاپہ مارا مگر کچھ ہاتھ نہ لگ سکا

    شہریوں کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار ٹیم میں سے کوئی مخبر موجود ہے جس نے پہنچنے سے پہلے تمام عملہ کو اطلاع دے دی جس وجہ سے ایف آئی اے کو ریکارڈ تحویل میں لینے میں ناکامی ہوئی۔

    واپڈا اہلکار دفاتر کی تالہ بندی کرکے کے فرار ہو گئے ،جس کی وجہ سے سائلین پریشان پھرتے رہے۔