Baaghi TV

Category: قصور

  • میرادور جاری رہتا تو پورے ملک میں کوئی بے روزگار نہیں رہتا،نواز شریف

    میرادور جاری رہتا تو پورے ملک میں کوئی بے روزگار نہیں رہتا،نواز شریف

    قصور: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ نواز شریف کا دور جاری رہتا تو پورے ملک میں کوئی بے روزگار نہیں رہتا، یہ بات کوئٹہ، پشاور، لاہور اور کراچی کے عوام بھی سن لیں۔

    باغی ٹی وی : قصور کے علاقے کھڈیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ الیکشن 8 کو ہیں لیکن آج یہاں جشن کا سماں ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، عوام کا پہاڑ ہے، سفید داڑھی والا بھی یوتھ ہے اور ہم سب یوتھ ہیں، شہباز شریف یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں، اس کی سمجھ مجھے آرہی ہے اور یہاں جو جذبہ موجود ہے اس کی بھی سمجھ ہے، شہباز شریف کو یقین ہے کہ کھڈیاں کی تقدیر بدلنے والی ہے شہباز شریف 9 کے بعد تو آئیں گے لیکن یہ بتا کر جائیں کے کھڈیاں اور کوٹ رادھاکشن کو کیا دے کر جا رہے ہوں اور ان کو کچھ دیے بغیر جانے نہیں دینا اور یہاں کی تقدیر بدل جانی چاہیے،شہباز شریف وعدہ کریں کہ کھڈیاں کی سڑکیں پیرس کی سڑکوں کو مات کرے، راستہ کسی موٹروے سے کم نہیں ہونا چاہیے، کھڈیاں کا کیا قصور ہے کہ یہاں یونیورسٹی نہیں بنی۔

    نواز شریف نے کہا کہ میری حکومت ختم نہیں کی جاتی تو کوئی بھی نوجوان بے روزگار نہیں ہوتا اور سب کے پاس باعزت روزگار ہوتا اور یہ بات میں یقین سے کہہ رہا ہے اور دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ نواز شریف کا دورہ جاری رہتا تو پورے ملک میں کوئی بے روزگار نہیں رہتا، یہ بات کوئٹہ، پشاور، لاہور اور کراچی کےعوام بھی سن لیں،ہم نے بہت ٹھوکریں کھائی ہیں لیکن ہمیں ان ٹھوکروں اور مشکلوں سے باہرنکلنا، پھر ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے اور ہم نے پھر ایشین ٹائیگر بننا ہے، میرے سامنے بڑے کام کے لوگ بیٹھےہوئے ہیں، ان سے کام لو اور اس جذبے کو پاکستان کے لیے استعمال کرو، یہ جذبہ پاکستان میں انقلاب پیدا کرے گا اور پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔

    دوسری جانب قصور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی قیادت میں ضلع قصور کو لاہور بنا دیں گے اور ہر چیز دیں گے ایک طرف نوازشریف وطن سے محبت کرتا ہےدوسری طرف ملک دشمنی ہے نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بن کر ملک کو مشکلات سے نکالیں گے ایک طرف ایثار و قربانی ہے تو دوسری طرف لالچ اور پیسہ بٹورنے کی خواہش ہے۔ ایک طرف تحمل اور برداشت ہے تو دوسری طرف تکبر اور رعونت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف 9 مئی والا ہے تو دوسری طرف 28 مئی والا نوازشریف بیٹھا ہے۔ نوازشریف نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا۔ حالیہ سالوں میں جب سیلاب آئے تو وہ دھرنے دیتے رہے، سازشیں کرتے رہے ایک طرف اندھیرے تھے نوازشریف روشنی لایاماضی میں جب بھی ملک پر کڑا وقت آیا نوازشریف آگے بڑھ کر آیا۔

  • پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    پی ٹی آئی کے ورکرز کو پیغام دیتی ہوں، نفرت کی سیاست کو دفن کر دو، مریم نواز

    عام انتخابات،مسلم لیگ ن کا آج قصور میں انتخابی مہم کا آخری جلسہ ہو رہا ہے،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ تازہ ترین سروے میں (ن) لیگ مقبول ترین جماعت قرار پائی،کہا گیا نواز شریف تاریخ کا حصہ بن گئے،ظلم اور جبر کی ہر حد کو پھلانگا گیا، ن لیگ مقبولیت میں تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ گئی،ہر سروے مخالفین کے پرخچے اڑا رہا ہے.میں ملک اور قوم کی خاطر، خود پر کئے تمام مظالم بھلانے کےلئے تیار ہوں،میں بھی اپنے اور والد کے ساتھ کیے گئے ہر برے سلوک کو بھلانے کو تیار ہوں، نواز شریف کے مخالفین نے مشہور ہونے کا اور اپنی کارکردگی چھپانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ نواز شریف پر تنقید شروع کردیتے ہیں،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا سیاسی جنم ایک ایسے دور میں ہوا جہاں ماں بہن بیٹی کی کوئی عزت نہیں تھی، جہاں بہنوں بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا تھا ،کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا، باپ کے سامنے گرفتار کر سزائے موت کی چکی میں رکھا گیا لیکن یہ بھی بتاؤں کہ جلسوں میں بھی بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک نے کردار کشی، مجھ پر ذاتی حملے کئے گئے، بدتمیزی، بدتہذیبی کی گئی، مجھ پر جملے کسے گئے،آج ان کی چوری پکڑی گئی، نوا ز شہباز نے ایک لفظ بھی نہیں بولا، میرے لئے آسان نہیں مشکل وقت تھا،میں نے اپنی ماں‌کھوئی جو کبھی واپس نہیں آئے گی، میں آج اس جلسے کو گواہ بنا کر کہنا چاہتی ہوں،کہ یہ مہم کا آخری جلسہ ہے، میں آپ کی خاطر ملک کی خاطر، قوم کی خاطر تمام مظالم بھلانے کو آج تیار ہوں، میں آج وعدہ کرتی ہوں، میں سب کو دعوت دیتی ہوں آؤ، ظلم، انتقام ، جبر جلاؤ گھیراؤ‌کا باب آج بند کر دیں، تحریک انصاف کے نوجوانوں کو کہتی ہیں کہ آ پ کو ورغلایا گیا، جیلوں میں پڑے ہو، نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دو،میں ایسے پاکستان کا خواب دیکھتی ہوں جہاں نوجوانوں کے پاس روزگار ہوں نوجوان ڈگریاں لے کے در بدر نہ گھوم رہے ہو اور انشاءاللہ یہ خواب پورا ہوگا

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں مریم نواز کی ساری تقریر نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ختم ہوتی ہے تو کہنا چاہتی تو مریم نواز تو نواز شریف کی بیٹی ہے انکی کارکن ہے یہاں تو یہ حالت ہے نواز شریف کے تمام مخالفین کی ساری تقریر بھی نواز شریف سے شروع ہوکر نواز شریف پر ہی ختم ہوتی ہے،میں خواب دیکھتی ہوں ایسا پاکستان کا جہاں پر امن،بھائی چارہ اور سلامتی ہو،عوام نے ہر ظلم، ہرجبرسہا لیکن نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا،مسلم لیگ ن کو قصور سے محبت ہے،آج سیاست شروع بھی نواز شریف سے ہورہی اور ختم بھی نواز شریف پر ہورہی ہے، گزشتہ 6-7سال میں نواز شریف پر ظلم و جبر کی ہر لائن کراس کی گئی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • پولیس اور پاک فوج کے مشترکہ فلیگ مارچ

    پولیس اور پاک فوج کے مشترکہ فلیگ مارچ

    قصور
    الیکشن 2024 کی امد کے پیش نظر ضلع بھر میں قصور پولیس اور پاک آرمی نے مشترکہ فلیگ مارچ کئے،

    تفصیلات کے مطابق جنرل الیکشن 2024 کیلئے قصور پولیس کی طرف سے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں
    قصور پولیس اور پاک آرمی نے ضلع بھر میں مشترکہ فلیگ مارچ کئے تاکہ الیکشن ڈے پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے
    ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ فل ڈریس ریہرسل کا انعقاد کرنے کا مقصد
    انتشار پھیلانے اور نقص امن کا سبب بننے والوں کیلئے پیغام جاری کرنا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا
    لہٰذہ قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے انتشار اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سے بچا جائے

  • قصور : ہم اس نظام کی بات کرتے ہیں جس نے ہمیں قرآن پڑھنا بھی سکھایا ہے اور تلوار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حافظ منیب ڈوگر

    قصور : ہم اس نظام کی بات کرتے ہیں جس نے ہمیں قرآن پڑھنا بھی سکھایا ہے اور تلوار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حافظ منیب ڈوگر

    قصور ،باغی ٹی وی (نامہ نگار طارق نوید سندھو کی رپورٹ ) ہم نظام مصطفی کی بات کرتے ہیں جس نے ہمیں قرآن پڑھنا بھی سکھایا ہے اور تلوار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حافظ منیب ڈوگر
    تفصیل کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی کے نامزد حلقہ NA-131 کے امیدوار سردار حافظ منیب احمد ڈوگر اورPP-177 کے امیدوار شیر محمد رضوی نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہارکیا

    ان کے علاوہ حضرت علامہ قاری فیض احمد صاحب، حضرت علامہ انتظار صاحب، حاجی آصف محمود صاحب، چوہدری احمد رضا قصوری صاحب، علی شیر سندھو اور اہل علاقہ کے معززین نے شرکت کی۔سردار حافظ منیب احمد ڈوگر کا کہنا تھا کہ ہم نظام مصطفی کا نفاذ چاہتے ہیں اور اپنا حق لینا جانتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امن کے ساتھ ہمیں اپنا حق ملے گا

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس نظام مصطفی کی بات کرتے ہیں جس نے ہمیں قرآن پڑھنا بھی سکھایا ہے اور تلوار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اورہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں اور ہمارے مذہب میں سود کو اللہ سے جنگ قرار دیا گیا ہے اور نعوذبااللہ ہم اس قابل نہیں ہیں ہم صرف نظام مصطفی کے لئے کام کر رہے ہیں ۔

  • مہنگائی کا طوفان برقرار،سانسیں اکھڑنے لگیں

    قصور
    مہنگائی کا طوفان نا تھم سکا،عوام پریشان

    تفصیلات کے مطابق 5 سال قبل شروع ہونے والے مہنگائی کے طوفان نے تھمنے کی بجائے شدت اختیار کر لی ہے جس کے باعث غریب آدمی کی دو وقت کی روٹی تو چھنی ہی تھی اب سانسیں بھی اکھڑنے لگی ہیں مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر حکمران انجان بنے بیٹھے ہیں اور ان کے پاس تسلیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں
    ہر روز مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے
    ضروریات زندگی کی تمام اشیاء قوت خرید سے باہر چکی ہیں
    ہر روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس پہ لوگ سوچ سوچ کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    پیاز 240 روپیہ کلو،آٹا 150 روپیہ فی کلو، کوکنگ آئل 470 روپیہ فی کلو،دودھ 180 روپیہ فی کلو، مرغی گوشت 659 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہا ہے
    مڈل کلاس اور غریب طبقہ کیلئے تو سانس لینا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے
    جبکہ دوسری جانب الیکشن کمپین کی مد میں کھربوں روپیہ لگایا جا رہا ہے
    غریب سوچ رہے ہیں کہ اگر الیکشن کمپین کی بجائے پیسے غرباء کی بحالی میں لگائے جائیں تو کیا غربت میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟ اور اگر ہو سکتی ہے تو غریب کو شاید غریب رکھنا ہی مشن جمہوریت ہے

  • عام انتخابات 2024 کیلئے بریفننگ،پلان ترتیب

    عام انتخابات 2024 کیلئے بریفننگ،پلان ترتیب

    قصور
    الیکشن 2024 کے لئے ڈی پی او کی بریفننگ

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور طارق عزیز سندھو نے پتوکی سرکل کی نفری کو الیکشن 2024 کے حوالہ سے بریفنگ جس میں
    پولنگ کے عمل اور سیکورٹی انتظامات سمیت سامان کی ترسیل اور نگرانی کے بارے نفری کو آگاہ کیا
    دوران بریفنگ عام انتخابات 2024 کے سیکورٹی امور اور ضابطہ اخلاق سے متعلق آگاہ کیا گیا
    پولنگ اسٹیشن اور الیکشن ڈیوٹی کی حساسیت سے نفری کو آگاہ کیا اور کہا کہ تمام اہلکاران و افسران دوران الیکشن ڈیوٹی ایمانداری سے فرائض سر انجام دیں گے اور حکومتی احکامات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے
    نیز الیکشن مہم کے دوران قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی اور اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی ہو گی کسی کی بھی جانب سے خلاف ورزی پہ فوری قانونی کارروائی کی جائے گی

  • الیکشن کمپین،بےروزگاروں کو وقتی روزگار ،مستقل حل کوئی نہیں

    الیکشن کمپین،بےروزگاروں کو وقتی روزگار ،مستقل حل کوئی نہیں

    قصور
    الیکشن نے وقتی طور پہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دیا،پھولوں کی پتیاں،کھانے کی اشیاء جلسوں میں فروخت کرکے کمانے لگے،تاہم مستقل روزگار کے لئے پریشان،کیا لیڈران کے سروں سے پانی کی طرح پیسہ بہانے والے لوگوں کے پاس بےروزگاروں کو کام کروانے کا پیسہ نہیں؟

    تفصیلات کے مطابق 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کی بدولت ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی الیکشن کمپین چل رہی ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ جلسے جلوس ہو رہے ہیں
    جلسوں،جلوسوں میں امیدواروں پہ پھولوں کی پتیاں پھینکنا،مالائیں پہننا،شرکاء کو کھانے کھلانا,ساونڈ سسٹم لگانا،کرسیاں لگانا اور نت نئی خدمت جاری ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بےروزگار نوجوانوں نے پھولوں کی پٹیاں،مالائیں،ساؤنڈ سسٹم،بینر سازی و دیگر کام شروع کئے ہیں جس کے باعث ان نوجوانوں کو 8 فروری تک وقتی روزگار تو ملا ہے تاہم مستقل روزگار کے لئے نوجوان پریشان ہیں کہ قوم کے پاس جتنا پیسہ ان لیڈران کے سروں سے وارنے کا ہے کیا کسی کے پاس اتنا پیسہ کسی بےروزگار نوجوانوں کو اچھا حلال روزگار کروانے کا نہیں؟
    لیڈران نے کیا روزگار دیا اور اگے کیا روزگار دیں گے؟
    یہ سوچ سوچ کر بےروزگار نوجوان وقت گزار رہے ہیں اور ماضی کی طرح اس بار بھی تماشہ دیکھ رہے ہیں

  • عوامی سروے کیمطابق ووٹ مانگنے ائے امیدواروں سے سوالات،سوالات کے جواب مشکل

    عوامی سروے کیمطابق ووٹ مانگنے ائے امیدواروں سے سوالات،سوالات کے جواب مشکل

    قصور
    پی پی،178,176 177,این اے 131 ،132 کی عوامی سروے رپورٹ کے مطابق لوگوں نے ووٹ لینے آنے والے ایم پی اے،ایم این اے کے امیدواروں سے کارکردگی رپورٹ مانگنا شروع کر دی ہے جس پہ ابتک کی پانچ سالہ کارکردگی پہ وفاقی اور صوبائی اسمبلی کے گزشتہ دور میں جیتنے والے ممبروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے عوام کو پوچھنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں ہمیں کیا دیا گیا ہے؟
    منی موٹر وے لاہور قصور روڈ پانچ سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی لوگ چیختے چلاتے رہے مگر پانچ سال تک سڑک نا بنی اور اگر کام شروع بھی ہوا تو رکا رہا اور بالآخر نگران گورنمنٹ میں کچھ کام ہوا آخر اس کا ذمہ دار کون؟
    قصور رائیونڈ روڈ کہ جس کو 2020 میں 4 کروڑ 20 لاکھ کا فنڈ جاری کیا گیا مگر ایک پیسے کا کام نا ہوا مگر اب نگران حکومت میں 90 فیصد کام پایہ تکمیل تک پہنچا اس کے باعث کئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جب حادثات ہوتے رہے لوگ مرتے رہے تو گورنمنٹ کہاں تھی؟
    اسی طرح براعظم ایشیا کا سب سے بڑا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قصور عرصہ دراز سے بند پڑا ہے اس پہ کیا کام کیا گیا اور کھربوں روپیہ سے لگایا گیا پلانٹ عوام کو کیا فائدہ دے سکا؟
    40 لاکھ آبادی والا ضلع قصور ابھی تک یونیورسٹی سے محروم ہے اور روزانہ سینکڑوں طالبعلم قصور سے سفر کرکے لاہور جاتے ہیں ابتک یونیورسٹی کیوں نہیں بنائی گئی اور لوگوں کو یونیورسٹی کے قیام پہ بیوقوف ہی بنایا جاتا رہا تاہم عملاً کچھ نا کیا گیا
    قصور کے بیشتر گلی محلے اور ضلع قصور کا سب سے بڑا گاؤں کھارا کہ جس کی آبادی تقریباً 40 ہزار ہے اور ووٹ تقریباً 15 ہزار ہے اس کو بار بار عوامی مطالبے پہ نا تو گیس کی سپلائی دی گئی نا دیگر سہولیات حتی کہ گزشتہ 5 سالوں سے گیس پائپ سڑکوں پہ پڑے ہیں کیا یہ لوگ جانور ہیں جو سب سے زیادہ اکثریتی ووٹ ہونے کے باوجود نالیوں،سڑکوں،واٹر سپلائی اور سوئی گیس سے محروم ہیں؟
    ڈی ایچ کیو ہسپتال سیاست کی نذر ہے ابھی بھی ڈاکٹرز مریض کو دیکھتے ہی لاہور لیجانے کی گردان رٹاتے ہیں بلہے شاہ ہسپتال قصور جو کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ہے اس سے عوام کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟
    آٹے کے لائنوں میں لگی عوام سوال کرتی ہے کہ کل تک سارا سارا دن لائن میں لگ کر 10 کلو آٹا لینے والی عوام اب ووٹ کسے دے؟
    کیا کچھ کیا آپ نے ہم عوام کیلئے؟
    عوامی سروے کے مطابق لوگوں میں اس بار سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور لوگ اپنی بہت سی محرومیوں پہ سوال کررہے ہیں جس پہ نئے امیدوار پھر وعدے کر رہے ہیں جبکہ پرانے ممبرز اپنی شرمندگی مٹانے کی خاطر ٹامک ٹوئیاں مارنے کیساتھ ایک بار پھر سے آزمانے کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں

  • قبرستان چراہگاہ میں تبدیل،صبح و شام جانور

    قبرستان چراہگاہ میں تبدیل،صبح و شام جانور

    قصور
    قبرستان جانوروں کی چراہگاہ بنا لی گئی،جانوروں نے قبروں کا برا حال کر دیا،انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کے سینٹر میں واقع قبرستان خواجہ صاحب کوٹ غلام محمد میں لوگوں نے جانور چرانا معمول بنا لیا ہے جس سے قبرستان جانوروں کی چراہگاہ بن کر رہ گیا ہے

    صبح ہونے سے شام تک بےشمار جانور قبرستان میں چرتے ہیں اور قبروں پہ چڑھ کر قبروں کی بیحرمتی کرنے کیساتھ قبروں کی ساخت بھی خراب کر دیتے ہیں جس پہ اہلیان علاقہ نے کئی بار جانوروں کے مالکان کو سمجھایا بھی ہے تاہم کوئی اثر نا ہوا ہے
    اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے ازخود نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • الیکشن کمپین التواء کا شکار،مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان

    الیکشن کمپین التواء کا شکار،مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان

    قصور
    سخت سردی و دھند،ٹھنڈا موسم،الیکشن کمپین التواء کا شکار،اس بار روایتی سیاسی جماعتوں کی بجائے مذہبی جماعتوں کے حق میں عوام کا زیادہ جھکاؤ،اس نظام سے بغاوت کے لوگ بھی میدان میں، ووٹ نا ڈالنے کا عزم

    تفصیلات کے مطابق قصور میں سخت سرد ترین موسم ہے اور دھند کا راج بھی برقرار ہے جس کے باعث الیکشن کمپین التواء کا شکار ہے گزشتہ الیکشن کی نسبت اس سال الیکشن کمپین نا ہونے کے برابر ہے
    ابھی چیدہ چیدہ فلیکس و بینرز نظر آ رہے ہیں وگرنہ الیکشن کے قریب آتے ہی الیکشن کمپین زوروں پہ ہوتی تھی اور ہر طرف بینرز و فلیکسز کا راج ہوتا تھا اس بار امیدواروں کی طرف سے گلی محلے و گاؤں دیہات میں لوگوں کے پاس جانے کا تسلسل بھی پہلے کی نسبت بہت کم ہے جبکہ دوسری طرف عوامی سروے کے تحت لوگوں کا رجحان اس بار روایتی سیاسی پارٹیوں کی بجائے مذہبی جماعتوں اور امیدواروں کی طرف زیادہ ہے نیز اس بار بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس جمہوری نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور اس عمل کو فضول اور بے معنی قرار دیتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ وہ ووٹ نا ڈالیں گے