Baaghi TV

Category: لاہور

  • چوروں کی دیدہ دلیری،ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں

    چوروں کی دیدہ دلیری،ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں

    لاہور میں چوروں نے ایک ہی دن میں انہوں نے 2 سرکاری گاڑیاں چُرا لیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رِنگ روڈ پولیس کی گاڑی وائرلیس سیٹ،پبلک ایڈریس سسٹم اور دیگر ضروری آلات سمیت چرائی گئی، جبکہ مزنگ میں چور فائر بریگیڈ کے دفتر سے فائر ٹینڈر ہی چرا کر لے گیا۔

    آئسکریم کھلانے کے بہانے گھر سے لے جا کر دو کمسن بچیوں کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز رِنگ روڈ پولیس افسر سرکاری گاڑی میں اسپیئر پارٹس لینے ایل ڈی اے روڈ گیا،گاڑی لاک کی لیکن جب 15، 20 منٹ بعد واپس آیا تو گاڑی نہیں تھی سرکاری گاڑی میں وائرلیس سیٹ ،پبلک ایڈریس سسٹم اور دیگر ضروری آلات بھی نصب ہیں۔

    تعلیم کا خرچ نہ دینے پر باپ کی کنجوسی سے تنگ طالبہ باپ کے 27 لاکھ روپے اٹھا کر…

    پولیس نے مقدمہ درج کر لیا تاہم ناکا بندی کے باوجود گاڑی کا کچھ سراغ نہ مل سکا اس کے علاوہ کوئنز روڈ مزنگ میں فائر بریگیڈ کے دفتر سے چور صبح 5 بجے فائر ٹینڈر ہی چرا کر لےگیا پولیس نے ہیڈ فائر مین کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر کےمطابق چور 15منٹ تک فائر ٹینڈر لے کر گھومتا رہا،وہ فائرٹینڈر کو مزنگ اڈا،صفاں والا چوک،بیگم روڈ اور وارث روڈ پر گھماتا رہا، پھر فیروز پور روڈ کے راستے والٹن روڈ کی جانب نکل گیا۔

    کبیر والا میں ایک ہفتہ قبل اغوا کی گئی لڑکی کو ملزمان سڑک پر بے ہوشی کی حالت میں…

  • ‏پاکستان نےتیسرےون ڈے میں نیدرلینڈزکو9رنزسےہرادیا

    ‏پاکستان نےتیسرےون ڈے میں نیدرلینڈزکو9رنزسےہرادیا

    روٹرڈیم:پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیدرلینڈ کوتیسرے انٹرنیشنل ایک روزہ میچ میں سنسنی خیزمقابلے کے بعد شکست دی ہے ،پاکستان نے نیدرلینڈز کو تیسرے اور آخری ون ڈے میں 9 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-3 سے جیت لی۔

    نیدر لینڈز کے خلاف ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کی اور پوری ٹیم 49.4 اوورز میں 206 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

    پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم ایک بار پھر ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 125 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔بابر اعظم نے سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، انہوں نے پہلے میچ میں 74 رنز دوسرے میچ میں 57 رنز جبکہ تیسرے اور آخری میچ میں 91 رنز بنائے تاہم وہ سیریز میں سینچری اسکور نہ کرسکے۔

    قبل ازیں، پاکستان ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا اور دوسرے اوور میں عبداللہ شفیق 2 رنز بنا سکے، انہیں کنگما نے بولڈ کیا۔
    فخر زمان بھی متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے اور 26 کے انفرادی اسکور پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، انہیں وین بیک نے بولڈ کیا۔جب فخر زمان آؤٹ ہوئے اس وقت پاکستان ٹیم نے 17.2 اوورز میں 2 کھلاڑیوں کے نقصان پر 58 رنز بنائے تھے۔

    پاکستان ٹیم نے سست رفتاری سے کھیلتے ہوئے 25 اوورز میں 2 وکٹیں کھو کر صرف 85 رنز بنائے تھے، اس وقت کریز پر بابر اعظم اور سلمان علی آغا موجود تھے۔تاہم سلمان علی آغا بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، وہ 42 گیندوں پر 24 رنز بنا کر وین بیک کی باؤلنگ پر شیراز احمد کو کیچ دے بیٹھے۔خوشدل شاہ 122 کے مجموعی اسکور پر رن آؤٹ ہوئے۔

    وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے محمد حارث 4 رنز بنا کر ڈی لیڈ کی گیند پر کوپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔جب ٹیم کا مجموعی اسکور 42.4 اوورز میں 168 پر پہنچا تو بابر اعظم بھی اچھی اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔

    گزشتہ میچ کے بہترین کھلاڑی آل راؤنڈر محمد نواز 35 گیندوں پر 27 رنز بنا سکے، انہیں بھی ڈی لیڈ نے آؤٹ کیا۔
    پاکستان کی آٹھویں وکٹ 192 رنز کے مجموعی اسکور پر گری جب محمد وسیم 11 رنز بنا کر ڈی لیڈ کی گیند پر ایڈورڈز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔نویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی زاہد محمود تھے جو 9 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔
    پاکستان کی آخری وکٹ 206 رنز پر گری، نسیم شاہ 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    قبل ازیں، روٹرڈیم میں کھیلے جارہے آخری ون ڈے میچ میں پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر میزبان ٹیم کے کپتان ایڈورڈ اسکاٹ کو فیلڈنگ کی دعوت دی۔

    تیسرے ون ڈے میچ میں آج پاکستان کی جانب سے اوپنر عبداللہ شفیق نے ڈیبیو کیا جنہیں امام الحق کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو طبیعت ناساز ہونے کے سبب آج کا میچ نہیں کھیل سکے۔تاہم بیٹنگ کے دوران عبداللہ شفیق کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔اس کے بعد فخر زمان کا ساتھ دینے اِن فارم بابر اعظم کریز پر آئے اور دونوں نے ٹیم کا اسکور 58 رنز پر پہنچایا جس کے بعد 26 رنز بنانے والے فخر زمان کی اننگز کا خاتمہ ہوا۔

    واضح رہے کہ نیدرلینڈز کے خلاف 3 ون ڈے میچوں کی سیریز پاکستان پہلے ہی 2 میچز جیت کر اپنے نام کرچکا ہے۔

  • جامعہ اشرفیہ لاہور کا عمران خان کے خلاف احتجاج

    جامعہ اشرفیہ لاہور کا عمران خان کے خلاف احتجاج

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے گستاخ رسول سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دینے کے خلاف جامعہ اشرفیہ لاہور کے ناظم مولانا حافظ اسعد عبید، مفتی شاہد عبید،مفتی احمد علی،مفتی محمد زکریا، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا مجیب الرحمن انقلابی،مولانا عبداللہ مدنی اور دیگر علماء کی قیادت میں جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور سے مسلم ٹاؤن موڑ تک ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں اساتذہ اور طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

    جلوس کے شرکاء سے جامعہ اشرفیہ لاہور کے ناظم مولانا حافظ اسعد عبید، مفتی شاہد عبید اور مولانا علیم الدین شاکر سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضورﷺ کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے، عمران خان نے شاتم رسولﷺ سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دے کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح اور گستاخان رسولﷺ کی حوصلہ افزائی کی ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے اس کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا.

    انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان نے اپنے دور حکومت میں مغرب کی خوشنودگی کی خاطر آسیہ ملعونہ اور عبدالشکور قادیانی کورہا کر کے بیرون ملک بھیجنے کے بعد اب سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دے کر ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کر دیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں سے معافی مانگتے ہوئے توبہ کریں اورسلمان رشدی کی حمایت میں اپنا بیان فوری واپس لیں۔

    علاوہ ازیں جمعیت علمائے پاکستان (سواد اعظم) کے مرکزی صدر پیر سید محمد محفوظ مشہدی نے عمران خان کی فوج، عدلیہ، پولیس پر تنقید اور آئی جی اسلام آباد اور میجسٹریٹ زیباچودھری کو دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے دماغی توازن کھو چکے ہیں، جس تواتر سے وہ اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ بہت جلد عمران خان بانی ایم کیو ایم الطاف حسین جیسے انجام سے دوچار جائیںگے۔

    انہیں کراچی کے دہشتگرد کی سیاسی موت کو یاد رکھنا چاہیے ،جس کی کال پر بھی شہر بند ہوجاتے تھے ۔لوگ اس کی لندن سے ٹیلی فونک بکواسات سنتے تھے۔ پھر اس نے قومی اداروں کے خلاف تقریریں شروع کیں تو عدالت نے اس کی تقریروں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جو اب تک جاری ہے۔ اب پیمرا نے عمران خان کی لائیوتقریروںپر پابندی لگا کر اچھا اقدام کیا ہے۔ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایسے شخص کو لائیو چلانے کا مطلب اپنی اقدار اور اپنے اداروں کی بے توقیری کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا۔ جس شخص کو سیاست میں شائستگی کا احساس نہ ہو اور اداروں کو متنازعہ بنا کر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے تو ایسے شخص کی گفتگو کو میڈیا پر چلانا ملکی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی اظہار رائے کا مطلب ذمہ داری کے ساتھ منسلک ہے۔اداروں کی توہین اور کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے میڈیا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیںدی جاسکتی ۔ کیونکہ میڈیا قومی پلیٹ فارم ہے جو ملک کو متحد رکھنے کے لئے استعمال ہونا چاہیے ، نہ کہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے اور قوم میں تفریق پیدا کرنے کے لیے۔

    جے یو پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی اداروں میں پھوٹ ڈلوانے کی سازش سے لا تعلقی کرنے کے بعد غداری کے ملزم کی حمایت میں ریلی نکالنے کا مطلب ہے کہ عمران خان اداروں کو دباو ¿ میں لا کر مرضی کے فیصلے لینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پتہ ہے کہ شہباز گل تو مہرہ ہے۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈے کا تعلق بنی گالہ کے مکین سے ہے۔

  • عمران خان کا بھرپور ساتھ دیں گے، پرویزالہیٰ

    عمران خان کا بھرپور ساتھ دیں گے، پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب بھر میں اسلحہ کی نمائش کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسلحہ کی نمائش کرنے پر بلا تفریق کارروائی کی جائے۔

    عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    چودھری پرویزالٰہی سے گجرات سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی نے ملاقات کی، ملاقات میں وزیراعلی پنجاب نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی کہ اسلحہ کی نمائش پر پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایسے عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایسے عناصر کا آہنی ہاتھوں سے قلع قمع کرنا ہے۔

     

    شہبازگل کی تازہ ویڈیو نے فواد چوہدری کا جھوٹ بے نقاب کر دیا،اسلام آباد پولیس کی انکوائری مکمل

     

    وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کرنے والوں میں رکن قومی اسمبلی سید فیض الحسن، اراکین پنجاب اسمبلی محمد ارشد چودھری، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، سلیم سرور جوڑا، محمد اختر حیات اور چودھری لیاقت علی شامل تھے، گجرات کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    اراکین اسمبلی نے اسلحہ کی نمائش کے خلاف ایکشن پر چودھری پرویزالٰہی کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ آپ کا یہ فیصلہ صوبے میں امن عامہ کی فضا قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہر لمحہ قیمتی ہے، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر کام کر گزریں گے، ن لیگ کے دور میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو پس پشت ڈالا گیا، عوامی خدمت کے کاموں کو جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے وہیں سے شروع کر دیا ہے، آج بھی عمران خان کو ہی اپنا وزیراعظم مانتا ہوں، عمران خان کا بھرپور ساتھ دیں گے، گجرات والے ساتھ نبھانا جانتے ہیں، 2 ستمبر کو جلسہ عام میں گجرات کے لوگ عمران خان کا فقیدالمثال استقبال کریں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا ظفروال میں اینٹی ٹینک مائن پھٹنے کے واقعہ میں بچوں سمیت 4 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا. وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ،اینٹی ٹینک مائن پھٹنے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا.

    مذید برآں زیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کا فیصل آباد کے علاقے میں آگ لگا کر رکشہ ڈرائیور کو قتل کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئےانسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی.

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ افسوسناک واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے ۔ گرفتار ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انسانیت سوز واقعہ میں ملوث ملزمان قرار واقعی سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ملزمان انسان کہلانے کے حق دار نہیں۔ پنجاب حکومت مقتول ڈرائیور کے خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی گی۔

  • شہبازگل کی تازہ ویڈیو نے فواد چوہدری کا جھوٹ بے نقاب کر دیا،اسلام آباد پولیس کی انکوائری مکمل

    شہبازگل کی تازہ ویڈیو نے فواد چوہدری کا جھوٹ بے نقاب کر دیا،اسلام آباد پولیس کی انکوائری مکمل

    غداری کے مقدمہ میں گرفتار پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی ایک کے بعد ایک ویڈیو منظر عام پر آرہی ہے اور ان ویڈیوز کے ساتھ پی ٹی آئی کے جھوٹوں ، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات سے بھی پردہ اٹھتا جارہا ہے.

    غداری کے مقدمہ میں زیر حراست پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی اور چیف آف سٹاف شہباز گل کی پمز ہسپتال سے ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ویڈیو میں شہباز گِل پمز اسپتال میں اپنے کمرے میں ہشاش بشاش نظر آ رہے ہیں۔

    پمز اسپتال میں اٹینڈنٹ نے پوچھا کہ مٹن ٹھیک ہے، مٹن کھالیں گے؟ جواب میں شہباز گِل نے کہا کہ کچھ بھی لا کے دے دو، اس وقت جو دو گے میں کھا لوں گا۔اٹینڈنٹ نے شہباز گِل سے پوچھا کہ پانی چاہیے آپ کو؟ جس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی یہاں پڑا ہوا ہے۔شہباز گِل نے اٹینڈنٹ سے کہا کہ جب آپ مجھے کھانا دیں گے تو اُس کے فوراً بعد نیبولائز کرنا ہے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی اپنے قاند عمران خان کے نقشہ قدم پر چلتے ہوئے فرضی کہانیاں گھڑنے لگے اور گھلے عام پریس کانفرنس میں جھوٹ بولتے رہے کہ شہباز گِل گزشتہ رات سے کچھ بھی کھانے سے انکار کررہے ہیں، وہ کھانے پینے کی اشیا نہیں لے رہے، کھانا پینا چھوڑنا بظاہر ان کا اپنا ذاتی اقدام لگ رہا ہے۔سابق وفاقی وزیر نے بتایا کہ شہباز گِل کی سی آئی اے کے تھانے میں پٹائی کی گئی، عمران خان اور وکیلوں کو شہباز گِل سے ملنے نہیں دیا گیا۔

    شہباز گل کی پمز پسپتال میں کھانا منگوانے کی ویڈیو نے فواد چوہدری کے جھوٹ سے پردہ ہٹا دیا ہے.جبکہ ان کی جانب سے شہباز گل پر تشدد کا الزام بھی ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا.تاہم ایک بات ضرور ثابت ہو چکی ہے کہ پی ٹی آئی جھوٹوں کی پارٹی ہے، یہ وہ سیاسی جماعت ہے جو سیاسی پوائینٹ سکورنگ کیلئے عوام کو گمراہ کرنے کا ہنر بھی خوب جانتی ہے چاہے ان کے اس فعل سے ملک کو نقصان ہو یا اداروں کو مگر پی ٹی آئی کو تو صرف اپنے مقاصد سے غرض ہے.

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل پر تشدد کے الزامات پر اسلام آباد پولیس کی انکوائری مکمل ہوگئی، رپورٹ کل ہائیکورٹ میں پیش کی جائے گی۔انکوائری کمیٹی کے سامنے تحریک انصاف کے 4 رہنما پیش ہوئے۔زرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی جائے گی، تحریک انصاف کے رہنماوں نے اپنا موقف ریکارڈ کرایا،زرائع کے مطابق شہباز گل پر تشدد کی مبینہ تصاویر کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں.

    ذرائع پمز اسپتال کاکہنا ہے کہ شہباز گِل کی تمام ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوگئی ہیں۔ شہباز گِل کی صحت کو جانچنے کیلئے میڈیکل بورڈ کا اجلاس آج ہوگا۔ذرائع پمز اسپتال کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ شہباز گِل کی صحت کے متعلق مشاورت کرے گا۔شہباز گِل کی میڈیکل رپورٹس کے تناظرمیں میڈیکل بورڈ تفصیلی رپورٹ تیار کرے گا۔

  • کورونا کے 232 نئے کیسز رپورٹ،لاہور میں ایک ہلاکت

    کورونا کے 232 نئے کیسز رپورٹ،لاہور میں ایک ہلاکت

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرپنجاب نے کوروناوائرس کے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمارجاری کردیئے.سیکرٹری صحت کے مطابق تمام شہری خاص طور پر کورونا کی مکمل احتیاط کو یقینی بنائیں۔ صرف ویکسی نیشن اوراحتیاط کے ذریعے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں-

    سیکرٹری صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے کورونا کیسز 232 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ صوبہ بھر میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 519,674 ہو چکی ہے۔اب تک صوبہ بھر میں 502,558 مریض علاج کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں کورونا کے باعث 1 ہلاکت لاہور سے رپورٹ ہوئی۔ صوبہ بھر میں کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 13,596 ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 8776 تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    سیکرٹری صحت کے مطابق صوبہ بھر میں کورونا کےاب تک مجموعی طور پر 11,823,715 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سے کورونا وائرس سے 133 جبکہ حافظ آباد سے 21 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد سے 18، راولپنڈی 16جبکہ بہاولپور سے 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرگودھا سے 8 جبکہ سیالکوٹ، رحیم یار خان، پاکپتن اور ملتان سے 3 تین کیسز رپورٹ ہوئے۔ ننکانہ چینیوٹ، گجرات اور اوکاڑہ سے 2 دو کیسز رپورٹ ہوئے، گجرانوالہ، قصور، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 1ایک کیس رپورٹ ہوا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر کے تمام شہروں میں کورونا کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح 2.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 4.8 فیصد، فیصل آباد سے 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران حافظ آباد میں مثبت کیسز کی شرح 6.5 فیصد اور راولپنڈی سے 4.0 ریکارڈ کی گئی۔

    سیکرٹری صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ شہری کورونا کے خلاف خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کوہرصورت یقینی بنائیں۔ 12 سال سے زائد عمر کے تمام شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں۔عوام کسی بھی قسم کی رہنمائی یا شکایات کے لئے1033 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کی ڈینگی پر قابو پانے کیلئے صوبہ بھرمیں موثر انسدادی کارروائیاں جاری ہیں.سیکرٹری صحت پنجاب کے مطابق محکمہ صحت نے صوبہ بھر میں ڈینگی لاروا کو تلف کرنے اور افزائش روکنے کے لیے کاروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر سے ڈینگی کے 52 مریض رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی سے 28، لاہور سے 12، گوجرانولہ سے 4 جبکہ فیصل آباد سے 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران بہاولپور، اوکاڑہ، خانیوال، شیخوپورہ، قصور اور سیالکوٹ سے 1ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ رواں سال کے دوران پنجاب بھر میں اب تک ڈینگی کے 611 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔رواں سال کے دوران لاہور سے ڈینگی کے کل 279 کیسز سامنے آئے۔رواں سال اب تک پنجاب بھر میں ڈینگی بخار سے 2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

    سیکرٹری صحت پنجاب نے بتایا کہ لاہور سمیت صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 116 مریض داخل ہیں ۔ لاہور کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 29 مریض داخل ہیں ۔ گزشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے پنجاب 446,428 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔گزشتہ روز پنجاب بھر میں محکمہ صحت کی ٹیموں نے 117,856 آؤٹ ڈور مقامات کوچیک کیا.گزشتہ روز پنجاب بھر میں 1941 مقامات سے لاروا برآمد ہوا۔ گزشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے لاہور میں 82,546 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔گزشتہ روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے لاہور میں 16,559 آؤٹ ڈور مقامات کوچیک کیا.گزشتہ روز لاہور میں 1384 مقامات سے ڈینگی لاروا تلف کیا گیا۔

    سیکرٹری صحت پنجاب نے کہا کہ عوام سے کورونا کے ساتھ ساتھ ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنانے کی اپیل کرتے ہیں۔ پنجاب کے تمام علماء کرام سے مساجد میں آنے والے نمازیوں کو ڈینگی بارے آگاہی دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، گھر کے اندر اور باہر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، عوام صفائی کا خیال رکھ کر ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں.

  • طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    کہا جاتا ہےکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔نام نہاد ساستدانوں کا نعرہ سالوں سے سنا جا رہا ہے ۔صوبوں میں سیلابی ریلے میں طاقت کا چشمہ بہہ رہا ہے ۔ بعض مقامات پر لاشیں بہہ رہی ہیں۔ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔نہ کھیت نہ گھر ،نہ مال مویشی ،جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسر طرف اسلام آباد میں سیاستدانوں کا جنگی ماحول جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اختیارات، مفادات، اقتدار کی جنگ ہوس زر اور ہوس اقتدار نے انہیں دیوانہ بنا دیا۔ جس ملک کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت آخری سانس لے رہی ہو کیا وہاں کے حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں؟

     

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب اور مرکز میں جو کھیل جاری ہے کیا اس کا فائدہ ملک و قوم کو ہو رہا ہے ؟ ہر طرف اخلاقی تباہی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ یہ قوم کہیں کسی سیلاب میں بالکل بہہ نہ جائے ؟ 75 سالوں میںپاکستان کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ عصر حاضر کے وطن عزیز کے حالات و واقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ وبکا نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو کل تک اپنے گھروں میں تھے وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں بلوچستان کو تو سیلابی ریلے نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ قیامت کی اس گھڑی کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہ کرے تو کیا کہا جائے؟

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ملک کسی سیاستدان، کسی جاگیردار، کسی وڈیرے، کسی سرمایہ دار، کسی جرنیل، کسی بیورو کریٹ کی جاگیر نہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکومت میں شامل جماعتیں ہوں یا اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں 75 سالوں کے بعد بھی ہم بالغ نظر، باصلاحیت اور معاملہ فہم قیادت سے شاید محروم ہیں۔ مشکل حالات میں اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں اور عالمی دنیا کو تاثر نہ دیں کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ ہوس اقتدار، ہوس زر، ہوس اختیارات، ہوس مفادات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہ لگائیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وزرات عظمیٰ پر بیٹھنے والوں پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے سبق حاصل کریں ورنہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہے گی۔

  • پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا.

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے محکمہ پراسیکیوشن اور پولیس کو پی ٹی آئی کارکنان پر قائم مقدمات کے بارے میں مکمل انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے.

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ فاشسٹ حکومت نے 25 مئی کو ہمارے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات درج کیے۔ متعلقہ محکموں اور حکام سے جھوٹے مقدمات پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ 25 مئی کو پی ٹی آئی کارکنوں پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمے خارج ہوں گے.

    وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ جن افسران نے سیاسی لوگوں کے کہنے پر جھوٹے مقدمے درج کیے ان سے جواب طلبی جاری ہے۔ جھوٹے مقدمے درج کرانے پر فاشسٹ حکومت کے نمائندوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فاشسٹ حکومت نے پہلے پنجاب میں اور اب اسلام آباد میں قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں۔

    وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے پنجاب اور اسلام آباد پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اب گرفتاریوں کے خوف سے کاغذی شیروں کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، خاطر جمع رکھیں، ہم آپ سے وہ سلوک نہیں کریں گے جو آپ ہمارے لوگوں سے کر رہے ہیں، آپ کتنے دن بلوں میں چھپیں گے، قانون کے مطابق اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا.

  • مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    لاہور:وطن کی مٹی گواہ رہنا جیسا شہرہ آفاق ملی نغمہ گانے والی نیرہ نور انتقال کر گئیں، انا لله و انا الیه راجعون، نیرہ نورپاکستان کی ایک معروف شخصیت تھیں جن کا ہرکوئی دل سے احترام کرتا ہے،

    نیرہ نور،شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست آسام کے گوہاٹی شہرمیں3نومبر 1950کو پیدا ہوئیں۔ یہیں پلی بڑھیں اور بیگم اختر کے نغموں،علی الصبح مقامی مندروں کے لاؤڈ اسپیکر س سے گونجنے والے بھجنوں اور شہر میں منعقد ہونے والے کنسرٹس سے محظوظ ہوتی رہیں۔ پھر کشاںکشاں ان کی آواز اور وجود میں یہ فن لطیف داخل ہوہی گیا۔دوسری جانب نیر ہ کے تجارت پیشہ اہل خانہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان ہجرت تحریک پر، آسام سے رخت سفر باندھنا شروع کردیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ نیرہ کے والد محترم اور چند دیگر اہل خانہ، آل انڈیا مسلم لیگ(اے آئی ایم ایل)کے ممبر اور آسام اکائی کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔چنانچہ یہ کارواں پہلے پہل امرتسر واردہوا ،پھر 1958میںوہاں سے سیدھا کراچی پلائن کرگیا۔نیر ہ نور کی گنگناہٹ سب کا دل موہ لیتی تھی ۔ پاکستان میں ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویژن ،لالی ووڈ فلم انڈسٹری،پاکستان فلمس کارپوریشن جیسے ادارے وجود میں آچکے تھے اور تب تک ان کا مرکزی کراچی ہی تھا۔چنانچہ موقع اور دستور کے مطابق نیرہ نور نے اپنا پہلا نغمہ پی ٹی وی سے ہی نشر کیا ۔

    نیرہ کی گلوکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے جس شخص اور شخصیت نے دریافت کیا،اس کا نام نامی ہے پرو فیسر اسرار احمد ،جو اس وقت اسلامیہ کالج ،لاہور میں مدرس تھے۔یہ1968کی بات ہے،ایک دن نیرہ نیشنل کالج آف آرٹس،لاہور میں منعقدہ سالانہ ڈنر کے موقع پر اپنی کالج فرینڈس اور اساتذہ میں گھری میڈم نور جہاں،بیگم اختراور ناہید اختر کی آوازوں میںگارہی تھیں۔وہیں پرو فیسر موصوف نے اس جوہر قابل کو پرکھا اور یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں واقع،ریڈیو پاکستان،لاہور کے اسٹوڈیو لے آئے ۔اب نیر ہ نور کی آواز،ہواکے دوش پر سوار ہو کرکراچی سے خیبر تک،لاہور سے پشاور تک اور اسلام آباد سے گوادر تک پورے ملک میں سُروں کی عطربیزی کرنے لگی۔ پھر محض دوسال بعد ہی انھیں پی ٹی وی،نیشنل اسٹوڈیو ،اسلام آباد سے دعوت نامہ موصول ہوا اور نیرہ کچھ اپنے پروں اور کچھ فن کے پروں پر اڑتی ہوئی’کانسٹی ٹیوشن اوینیو‘ جاپہنچی ۔نیرہ نے پی ٹی وی کے لیے مرزا غالب ،فیض احمد فیض اور احمد فراز کی غزلیں گا کر آواز و ساز عطا کیا ۔اس وقت پی ٹی وی مہدی حسن،احمد رشدی جیسے لیجنڈ اور اساتذہ سے موسوم تھا،نیرہ کو ان کے ساتھ گلوکاری کے مواقع میسر آئے۔

    نیرہ نور بہت جلد پاکستان شوبز انڈسٹری کے افق کا ستارہ بن گئی ۔اب وہ ریڈیو اور ٹی وی گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی پلے بیک دینے لگیں۔ان کی پہلی فلم1973میں کے ۔خورشید کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”گھرانہ“ہے۔جس میںانھوںنے رونا لیلیٰ علی اوراحمد رشدی کے ساتھ ’تیراسایہ جہاں بی ہو سجنا‘نغمہ گایا ۔شائقین و فلم بینوں کی پسند پر وہ اس نغمے کے لیے لالی ووڈ کے باوقار ایوارڈ”نگار ایوارڈ “ سے سرفرازکی گئیں،علاوہ ازیں انھیں تین مرتبہ ”آل پاکستان میوزیکل کانفرنس“ کی جانب سے گولڈ میڈل ملے۔لالی ووڈ کے آگے کے سفر میں نیرہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں’ایم اشرف‘،’روبن گھوش‘،’کمال احمد‘اور ’نثار بزمی‘نے کلیدی کردار اداکیا۔

    بہزاد لکھنوی کی غزل ”اے جذبہ دل گر میں چاہوں“اس وقت مراد ِشاعر بنی، جب نیرہ نور نے اسے ارشد محمود کی موسیقی میں پی ٹی وی کے پرو گرام ’سخن ور‘ میں گایا ۔آج بھی نیرہ کے البم’میری پسند‘ کاسب سے بہترین اور زیادہ سناجانے والا نغمہ ہے۔جدید شاعروں کے نائب امام ،ناصر کاظمی کی روح بھی اس وقت مسرت سے جھوم اٹھی جب نیرہ نے ان کی’رنگ برسات نے بھرے کچھ تو‘ اور ’پھر ساون رُت کی پون چلی‘غزلیں گائیں ——- اور اختر شیرانی کے رومان پر رنگ اس و قت چڑھا جب نیرہ نے ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘غزل کو اپنا ساز دروں دیا۔فیض احمد فیض،ابن انشا،تسلیم فاضلی،کلیم عثمانی،مسرور انور وغیرہ دیگر شعرا و سانگ رائٹرس ہیں جنھوں نے نیرہ کے لیے نغمے تحریر کیے اور نیرہ نے انھیں سازو آواز کی روح پھونکی۔

    یہ بات کس قدر متاثر کن اور زندگانی ساز ہے کہ حکومت پاکستان کے باوقار اعزاز’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔2005‘کی مالک نیرہ نور، انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انھوں نے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ان کے چہرے پر گلوکاری کے وقت بھی کسی قسم کے تاثرات کی جھلک نہ ہوتی تھی اور عام زندگی میں بھی ان کی شرافت و نجابت مثالی تھی۔ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔آج بھی پاکستان میں ان کی وہی شخصی قدرو منزلت۔ہاں البتہ 2012کے بعد سے انھوں نے شوبز کی دنیا سے منہ موڑلیا

  • آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا، عمران خان کی حکومت قومی خزانہ خالی کرکے چلی گئی، ہم نے مشکل فیصلوں سے ملکی معیشت کو بچایا، پاکستان کو مشکلات سے نکال کر اصل مقام تک پہنچانا ہمارا مشن ہے،چین پاکستان کی معیشت کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔

    ریلوے کے پانچ بڑے اسٹیشنوں کی جدید خطوط پر ڈویلپمنٹ کا فیصلہ

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ چین دنیا بھر سے سوا دو ہزار ارب ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے جبکہ پاکستان سے چینی درآمدات صرف تین ارب ڈالر ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی برآمدات کو کیسے بڑھا سکتے ہیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ہم برآمدات میں پیچھے کیسے رہ گئے، ہمیں برآمدات بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔

     

    وزیراعظم نے دکانداروں سے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی روک دی

     

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت چھوڑ کر گئے تو ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب تھا مگر اب ترقیاتی بجٹ ساڑھے پانچ سو ارب روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ نجی شعبہ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی کرنے والے ممالک اپنی ایکسپورٹ کو بڑھاتے ہیں، پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں بھی اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔

     

    قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اورعمران خان کو ایک ساتھ بٹھاؤں گا،فاروق ستار

    انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت خزانہ خالی کرکے گئی مگر ہم نے پاکستان کو اس کھائی سے بچا لیا ہے جس میں ہم گرنے والے تھے،ہمارے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا ریاست بچائیں یا سیاست ،ہم نے اپنا گردہ کاٹ کر پاکستان کی معیشت کو بچایا۔انہوں نے کہاکہ رجیم چینج آج نہیں بلکہ2018میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان اور سی پیک کو تباہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اناڑی پن پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے حکومت سے تعاون کریں تا کہ ان لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سو ارب دفاع جبکہ پانچ سو تیس ارب روپے پینشن کا بجٹ ہے،پانچ ہزار ارب کا خسارہ پورا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے اس لئے ہمیں ٹیکس ریونیو کو مزید بڑھانا ہوگا۔

    انہوں نے کہاکہ بجلی کا بل دینے والوں پر بجلی چوری کرنے والوں کا بوجھ پڑتا ہے،حکومت کبھی بھی پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلہ نہیں کرسکتی،ہمارے پاس ایک سال کا ٹائم فریم ہے،وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آخری سہ ماہی کیلئے ترقیاتی بجٹ کی قسط جاری نہیں کرسکتے۔احسن اقبال نے کہاکہ سیاسی استحکام اور اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی ممکن ہے،پالیسیوں کا تسلسل رہے گا تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے،ترقی کیلئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ہر قسم کی زنجیر سے آزاد کیا جائے۔