Baaghi TV

Category: لاہور

  • پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکرپنجاب کی رولنگ کیخلاف سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائرکر دی

    پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکرپنجاب کی رولنگ کیخلاف سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائرکر دی

    تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے عامر سعید راں نے رات ڈیڑھ بجے درخواست دائر کی درخواست میں حمزہ شہباز، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے اور آج ہی سماعت کی استدعا بھی کی گئی۔

    درخواست میں پی ٹی آئی نے ڈپٹی اسپیکر کی گنتی کو بھی چیلنج کردیا اور دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 7 ارکان ووٹ کاسٹ کرنے ہی نہیں آئے۔ یہ 7 لیگی ارکان گھروں میں بیٹھے رہے، ان کا ووٹ بھی انتخاب میں شمار کرلیا گیا۔

    اس کے علاوہ ایڈووکیٹ عامر سعید راں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، چیف جسٹس غیر آئینی اقدام پر ازخود نوٹس لیں جب تک چیف جسٹس عدالت نہیں آجاتے تب تک یہیں بیٹھے ہیں۔

    دوسری جانب ڈپٹی رجسٹرار اعجاز گورایا کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف پرویز الہیٰ کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے سماعت کب ہو گی اس کا فیصلہ چیف جسٹس نے کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الٰہی نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے تھے۔

    ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کا خط اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ جس میں انہوں نے (ق) لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

    ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ (ق) لیگ کے کاسٹ ہوئے وہ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔

  • لبرٹی احتجاج۔ پی ٹی آئی کارکنان نے توڑ پھوڑ شروع کر دی

    لبرٹی احتجاج۔ پی ٹی آئی کارکنان نے توڑ پھوڑ شروع کر دی

    لاہور:ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف اس وقت لبرٹی تحریک انصاف کے کارکنان اب تک ایک گاڑی کو مکمل تباہ کرنے سمیت کئ چینلز کی ڈی ایس این جیز کو بھی نقصان پہنچا چکے ہیں,سمجھ سے باہر ہے یہ احتجاج کس کے خلاف ہے۔

     

    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کا جناح پارک ایف نائن کے باہر اجتحاج جاری ہے جبکہ لبرٹی چوک لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنان سراپا احتجاج ہیں۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے ایف نائن پارک کے سامنے احتجاج کے باعث روڈ بلاک ہوگئی جبکہ پشاور میں عمران خان کی کال پرپی ٹی آئی کے ہشتنگری چوک میں احجاجی کارکنان کی جانب سے ٹائر جلا کر ٹریفک کو آمد ورفت کےلیے بند کردیا گیا۔

     

    کراچی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے شاہ فیصل نرسری پر احتجاج کے باعث شارع فیصل پر ٹریفک کا دباؤ ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں انتظامیہ نے ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے داخلی وخارجی راستوں پرچیکنگ بڑھادی گئی۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے تمام اہم مقامات وتنصیبات کی سیکیورٹی بڑھادی گئی، امن وامان بحال رکھنے کیلئے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    لاہور:سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے ، اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کرنے کیلئے سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے۔

    پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد ارکان اسمبلی لاہور میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئے۔
    چوہدری ‏پرویز الہیٰ ،‏ریاض فتیانہ،ثناء اللہ خان مستی خیل سمیت ق لیگ اور پی ٹی آئی کے تمام ایم پی ایز سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے

    ادھر اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں، اس بار بھی انصاف کی امید ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ میں اپنی پارٹی کا صدر ہوں لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا آپ خود کو ووٹ نہیں دے سکتے۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سارے جہاں کو علم ہے کہ ہم نے 186 ووٹ لئے، ڈپٹی اسپیکر پر آرٹیکل6 اور توہین عدالت لگنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ آج وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکا امیدوار پرویز الہیٰ 186 ووٹ لینے کے باوجود وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل نہ کرسکے۔

    ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے چوہدری شجاعت حسین کے خط کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کردیے جس کے بعد حمزہ شہباز 179 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کریں گے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ 186 ارکان اسمبلی اس وقت سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر موجود ہیں لہٰذا عدالت سے درخواست کروں گی فوری عدالت لگائیں۔

  • اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے:سراج الحق

    اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے:سراج الحق

    اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص دولت کے زور پر پورا ایوان خرید سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسمبلیاں قانون ساز اداروں کی بجائے اصطبل میں تبدیل ہو گئی ہیں، خریدار بھی موجود اور فروخت ہونے والے بھی پائے جاتے ہیں، دکھائی دیتا ہے کوئی بھی شخص دولت کے زور پر پورا ایوان خرید سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی سیاست ایک دفعہ پھر ایکسپوز ہو گئی ہے، پی ڈی ایم اور پی پی بھی اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہیں، اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے۔

    انہوں نے کہا کہ حکمران جماعتوں کے عمل سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے، کرپٹ سرمایہ دار دولت سے پولنگ اسٹیشنز اور ووٹ خریدتے ہیں، عوام کو فیصلہ سازی سے محروم رکھا گیا تو حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ پاکستان قانون کی بالادستی اور شفاف جمہوری عمل سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اہم اجلاس تقریباً تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ حکومتی امیدوار حمزہ شہباز کو 176 ووٹ ملے تاہم ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کردیے جس کے بعد حمزہ شہباز 3 ووٹوں کے فرق سے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ہیں۔

  • عمران خان نے احتجاج کی کال دیدی، پنجاب حکومت کا رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    عمران خان نے احتجاج کی کال دیدی، پنجاب حکومت کا رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا،شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود ،حماد اظہر اجلاس میں شرکت کرینگے،اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بارے میں مشاورت ہوگی،اجلاس میں چودھری شجاعت کے خط کے بارے میں آئینی و قانونی مشاورت ہوگی.

    شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 186ووٹ چودھری پرویز الہٰی کو پڑے،سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کارروائی جاری رکھی،

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اس پر حیرت ہوئی،جمہوریت کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور وہ اخلاقیات ہے،ساری قوم کے سامنے میں سندھ ہاوس میں منڈی لگی،سندھ ہاوس میں سیاستدانوں کی خرید و فروخت ہورہی تھی،ارکان اسمبلی بکریوں کی طرح بک رہے تھے.

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ ہاوس میں بھی اہم کردار آصف زرداری تھا،سینیٹ کے الیکشن میں بھی سینیٹرز کو خریدا گیا،آصف زرداری بیرونی سازش کا حصہ بنا اور شریفوں کو ساتھ ملایا،پارلیمنٹ کے پاس فوج نہیں اخلاقی طاقت ہوتی ہے، ہم نےپرامن احتجاج کیا،ہمارے پرامن احتجاج پر ظلم کیا گیا،سب سے کرپٹ ترین لوگو ں کو ہم پر مسلط کیا گیا،11سوارب روپے کے کیسز معاف کروائے گئے.

    انہون نے کہا کہ ضمنی انتخابات کیلئے مہم چلائی اور بڑی تعداد میں عوام جمع ہوئے،آصف زرداری 30سالوں سے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں،ہمیں اطلاعات ملی تھیں آصف زرداری لاہور میں پیسہ چلارہےہیں،میں سمجھتا ہوں یہ لوگ سیاستدان نہیں مافیا ہیں،آصف زرداری چوری کے پیسے سے لوگوں کے ضمیر خریدتے ہیں،پارلیمانی پارٹی جو فیصلہ کرتی ہے سب کو قبول کرنا ہوتاہے،چودھری شجاعت حسین کا خط کسی بھی طرح قابل قبول نہیں،ہماری معیشت کا برا حال ہے،دن بدن معاشی بحران بڑھتا جا رہا ہے.

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آج رات ہی احتجاج کی کال دے دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کریں مگرقانون ہاتھ میں نہ لیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا،شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود ،حماد اظہر اجلاس میں شرکت کرینگے،اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بارے میں مشاورت ہوگی،اجلاس میں چودھری شجاعت کے خط کے بارے میں آئینی و قانونی مشاورت ہوگی

    دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور،راولپنڈی اور ملتان میں رینجرز تعینات کرنے کافیصلہ کیا ہے ،پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو رینجرز تعیناتی کے لیے خط بھیج دیا ہے.

    ادھر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف وکیل اعتزاز احسن نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے فیصلے پر رائے دی اور کہا کہ میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ درست نہیں۔
    پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی میں ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے پر اعتزاز احسن نے تبصرہ کیا اور کہا کہ یہ رن آف الیکشن ہے اور اس میں پرویز الہٰی جیت چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا پہلا حصہ پارلیمانی پارٹی اور دوسرا حصہ پارٹی سربراہ کے اختیار پر ہے کیونکہ پارلیمانی پارٹی بہتر فیصلہ کرسکتی ہے۔

    اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ ق لیگ کے 10 کے 10 ارکان نے پرویز الہٰی کے حق میں فیصلہ کیا، منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمانی سربراہ پارٹی ہیڈ کو کہے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری صاحب نے وہ کیا، جو سیاستدان کو کرنا چاہیے اور ان کا حق ہے، انہوں نے ووٹ مانگنے کی کوشش کی، یہ تو چوہدری شجاعت کے سوچنے کی بات تھی۔

    معروف وکیل نے یہ بھی کہا کہ چوہدری برادران کے خاندان میں بہت بڑی دراڑ پڑ جائے گی، مونس الہٰی ایک طرف اور چوہدری سالک دوسری طرف ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کی کوشش تو آخری دم تک بورس جانسن بھی کرتا رہا، اگر خط صرف ڈپٹی اسپیکر کے پاس گیا تو اس کی قانونی حیثیت نہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ بیسٹ تو میں نہیں کہتا لیکن بہتر حل تو فوری جنرل الیکشن ہی ہے، الیکشن کے بعد بھی مسائل ختم نہیں ہوں گے جو ہارے گا وہ مانے گا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں اگر ایک گروپ بن جاتا ہے تو پارٹی ہیڈ کی ہدایات تو عوامی سطح پر اور اخباروں میں آنی چاہیے تھیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وں شیخ امتیاز محمود عبدالکریم خان اویس یونس ناصر سلمان علام الدین دیوان ملک عثمان حمزہ اعوان عقیل احمد صدیقی چوہدری کامران عباس ملک امانت علی سعدیہ سہیل ڈاکٹر سیمی بخاری مبارک آفتاب گل آصف بھٹی اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے بدنیتی پر فیصلہ سنایا ہے پی ٹی ائی فیصلے کو مسترد کرتی ہے ڈپٹی سپیکر نے آئین شکنی کی ہے اور غیر قانونی رولنگ دی ڈپٹی سپیکر نون لیگ سے ملا ہوا ہے ڈپٹی سپیکر لوٹے اور غدار کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا امپورٹڈ حکمران ٹولہ پی ٹی ائی سے خوف زدہ ہے سپریم کورٹ فی الفور نوٹس لے آصف علی زرداری نے ہمیشہ گھٹیا رول ادا کیا ہے انشاءاللہ پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ سے ریلیف ملے گا اور غیر قانونی طور پر مسلط حمزہ شہباز اور ان کے حواریوں سے پنجاب کی عوام کو چٹکارا ملے گا

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ: پی ٹی آئی اور ق لیگ کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ: پی ٹی آئی اور ق لیگ کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ق) نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔

    پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف تحریک انصاف اور ق لیگ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں پرویزالٰہی، شاہ محمود، اسد عمر، شفقت محمود ، عمر ایوب ، علی امین گنڈا پور سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    اجلاس میں پی ٹی آئی کے 186 ارکان اسمبلی شریک تھے۔تحریک انصاف اور ق لیگ نے ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ مسترد کر دیا اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔

    پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کا کہنا تھاکہ آج رات ہی سپریم کورٹ جائیں گے، تحریک انصاف کے 186 ارکان ابھی سپریم کورٹ جائیں گے۔

  • اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا، شہباز شریف

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا، شہباز شریف

    ترجمان گورنر ہاؤس لاہور کے مطابق حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی، اس سے پہلے حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری کیلئے رات 11 بجے کا وقت دیا گیا تھا.نو منتخب وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری آج صبح 7 بجکر 30 منٹ پر گورنر ہاوس میں منعقد ہو گی.

    وزیراعطم شہباز شریف نے ٹویٹ کیا ہے اور اس میں انہون نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں جس نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا۔ وہدری شجاعت حسین چوہدری ظہور الٰہی شہید کے سیاسی وارث اور علمبردار ہیں۔چوہدری شجاعت حسین نے ایک بار پھر اپنے عظیم والد اور خاندان کی جمہوری روایت کو زندہ و جاوید کیا۔ان کا یہ کردار جمہوریت اور آئینی اقدار کی جیت ہےچوہدری شجاعت حسین، ان کے خاندان، اور ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوںسابق صدر زرداری نے آئین، جمہوریت اور عوام کے مفاد کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے ،سابق صدر زرداری کی سیاسی رواداری نے بحران کا خاتمہ کر دیا ،سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی، باپ سمیت اتحادی جماعتوں کے تمام محترم قائدین کو فرداً فرداً خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اتحادی جماعتوں کے قائدین کی سیاسی بصیرت، اتحاد اور حمایت سے جمہوریت فتح مند ہوئی،قوم آپ سب کو سلام پیش کرتی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں سرخرو ہوئی، آج اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں جمہوریت کی فتح ہوئی، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے عین سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رولنگ دی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف پارٹی ممبران ووٹ نہیں دے سکتے، آج ایک منافق، جھوٹا، مکار اور سازشی شخص جمہوریت کی بات کر رہا تھا.

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے تحت آئینی شکنی کروائی، سپریم کورٹ نے اس رولنگ کے خلاف فیصلہ دیا کہ عمران خان سازشی نے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی، عمران نیازی خود آئین شکنی کریں تو وہ حلال ہے، چوہدری شجاعت حسین کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پارٹی ممبران کو ایک مکار شخص کو ووٹ نہ دینے کی ہدایت جاری کی،یہ پارٹی سربراہ کی ہدایت تھی اور اسی کے مطابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے رولنگ دی،عمران خان 2018ء میں جب دوسری جماعتوں کے لوگوں کو پٹے پہنا رہے تھے تب انہیں حیرانگی نہیں ہوئی تھی.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب سینیٹ الیکشن، خیبر پختونخوا کے انتخابات، کوئٹہ اور بلوچستان میں ووٹ خریدے گئے، تب انہیں حیرانگی نہیں ہوئی تھی، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں عمران خان نے ووٹ خریدے، پنجاب کا مینڈیٹ 2018ء میں نواز شریف کا مینڈیٹ تھا جو عمران خان نے چوری کیا، عمران خان نے پنجاب کے عوام کو لوٹا، بے روزگار کیا، بھوکا کیا،پنجاب کا مینڈیٹ نواز شریف کا مینڈیٹ تھا جو آج واپس لیا ہے، عمران خان نے چار سال جھوٹے الزامات عائد کئے، عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی کو استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا،عمران خان شکر کریں کہ ایک جمہوری حکومت اقتدار میں ہے، وفاقی عمران خان نے اپنے دور میں میڈیا کے لوگوں کی پسلیاں توڑیں، صحافیوں کے قلم توڑے.

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد وہ ایک الزام بھی ثابت نہیں کر سکے، عمران نیازی، فرح گوگی اور بشری بی بی چور ہیں، اگر کوئی آئین کی تشریح اپنی مرضی سے کرنے کی کوشش کرے گا ہمیں قبول نہیں ہوگا، آئین کی تشریح آئین اور پارلیمان کے مطابق ہوگی، کسی کی مرضی کے مطابق آئین کی تشریح نہیں ہوگی، تین روز سے عمران خان گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن، پولیس، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو گالیاں دیتے رہے، آج ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی کہہ رہے ہیں، عمران خان فسادی ہیں اور ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں، آج مسلم لیگ (ق) کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت کی ہدایت پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی گئی، عمران خان نے بھی ہدایت کی تھی کہ ان کے ارکان ان کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے، تب سب کچھ ٹھیک تھا،عمران خان ملک کے اندر فساد اور انتشار چاہتے ہیں، وہ ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں،عمران خان سیاسی عدم استحکام لانا چاہتے ہیں تاکہ ملکی معیشت سنبھلے نہ، عمران خان نے ملک کو سری لنکا بنانے کی کوشش کی، عمران خان اس لئے ہر روز سیاسی انتشار مچانے کی کوشش کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا کہ اس نے آئین پر حملہ کیا.

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چار سال عوام کو لوٹا، اپنے گھر والیوں کے ذریعے عوام پر ڈاکے ڈلوائے، عمران خان وہ بہروپیا ہے جو معصوم شکل بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کروائی،
    عمران خان نے جوان بچوں کے ہاتھوں میں اسلحہ اور ڈنڈے پکڑوائے،پی ٹی آئی نے ڈسکہ کا الیکشن چوری کیا، لانگ مارچ کے اندر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے چھتوں سے پولیس والوں کو گولیاں ماری، یہ ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں، یہ قدرت کا نظام ہے، یہ اللہ کا کرنا ہے جو عمران خان نے بویا آج وہی کاٹ رہے ہیں، عمران خان نے لوگوں کی بے گناہ بیٹیوں کو ہتھکڑیاں لگائیں، عمران خان جو بکواس کرے گا اس کا جواب اسی طرح دیا جائے گا، پچھلے چار سال پنجاب میں کرپشن کر کے انہوں نے اپنا منہ کالا کیا، ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر دوسروں پر الزام عائد کرنا ان کا وطیرہ ہے، عمران خان اقتدار کی طاقت کو استعمال کر کے بھی ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے،عمران خان کو ان کی زبان میں شٹ اپ،شہباز شریف دن رات اس ملک میں رواداری اور اتحاد کے ذریعے ملک میں معاشی استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں.

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ5 سالوں سے مشکلات میں ہے،پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے سب مل کر کوشش کریں گے،قوم بھی ملکی ترقی کےلئے دعا کرے

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فتنہ خان نے اپنے اقتدار کے لیے نا صرف چودھری خاندان میں پھوٹ ڈلوائی بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے چودھری پرویز الہی کی سپیکرشپ اور سیٹ بھی چھین لی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ شخص جہاں جاتا ہے نحوست پھیلاتا ہے۔چودھری شجاعت صاحب نے دباؤ کے باوجود اصولی فیصلہ کیا اور اپنی عزت اور توقیر میں اضافہ کیا۔


    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں، بیٹھ جائیں، منہ دیکھیں اور نوٹس لیں۔پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر بختاوربھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پربیان دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ووٹ کا انفرادی حق چھیننے کے لیے جدوجہد کی، انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جشن منایا کہ افراد کو پارٹی سربراہ کی پیروی کرنی چاہیے۔

    وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کے فیصلے کا احترام کرتےہیں، آصف زرداری کی گارنٹی پر ہم نے پرویز الہٰی کو اپنا امیدوار بنایا تھا، آصف زرداری کا اس بات پر چوہدری شجاعت کے گھر جا کر بیٹھنا بنتا تھا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آصف زرداری اور چوہدری شجاعت کے گھر کے دو ایک لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں ہم نے اپنے غلط فیصلے کو بھی تسلیم کیا اور رزلٹ کو بھی، انہوں نے پچھلے 5 دنوں میں تکبر کا مظاہرہ کیا، یہ الیکشن کا سال ہے، ہم انشا اللّٰہ عام انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے کا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والا ڈی سیٹ بھی ہوتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے تحت 25 ارکان ڈی سیٹ ہوئے تھے، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے موجود ہیں، آپ نے جو کرنا ہے، کروانا ہے کریں، ہم آپ کو روک کر دکھائیں گے، ہم آپ کو قانون کا سبق ازبر کروائیں گے، امن خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔لاہور لبرٹی چوک پر فائرنگ کی اطلاع ملی ہے،فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتارکرنے کا حکم دے دیا ہے.

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے حمزہ شہباز شریف کو دوبارہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے،مسلم لیگ (ن) عوام کی خدمت کا سفر انشاءاللہ جاری رکھے گی. عوامی فلاح و بہبود کے لیے انشاء اللہ کام جاری رکھیں گے.

  • پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے

    پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے

    لاہور:پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے، اس حوالے سے سینئر صحافی مبشرلقمان نے ماہرانہ اور قانونی نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح پچھلے چند دنوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پارٹی پالیسیکے خلاف ووٹ دینے کے حوالے سے ریمارکس دیئے گئے ہیں ان سے واضھ ہورہا ہےکہ پارٹی سربراہ کی ہدایات کیخلاف ووٹ دینے پر ق لیگی اراکین ڈی سیٹ ہو جائیں گے

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اج جس طرح پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے تمام اراکین جنہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا بشمول چوہدری پرویز الٰہی اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نااہل ہو جائیں گے اور آرٹیکل 63 اے کے تحت فرد جرم عائد کر دی جائے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کچھ عرصے بعد پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نہیں ہوں گے۔

    پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ووٹوں کی گنتی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا۔سپریم کورٹ نے پارٹی ڈائریکشن سے منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنےکی رائےدی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کے مختصرحکم نامے میں یہ رائے دی ہے۔

    سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کا منحرف رکن کےخلاف ایکشن لینے یا نہ لینےکا اختیارختم کیاتھا۔سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ پارٹی ہیڈ ڈکلئیریشن دےیا نہ دےمنحرف رکن کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔

    خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کی جانب سے وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق چوہدری شجاعت نے ق لیگ کے ارکان کو خط میں ہدایت دی ہے کہ کسی کو ووٹ نہیں دینا۔

    اس صورتحال کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے ارکان شش و پنج کا شکار رہے اور کافی دیر تک اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

    بعدازاں چوہدری پرویز الٰہی سمیت ق لیگ کے ارکان نے اپنے ووٹ کاسٹ کر دیے ہیں اور پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برخلاف پی ٹی آئی امیدوار پرویز الٰہی کو ووٹ دیا۔

  • ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت کی حمایت حاصل کرلی جبکہ چوہدری پرویزالہیٰ کو شکست کا سامنا کرنا پرا .وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔

    ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔ تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

    ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے تمام ووٹ مسترد کر دیئے۔ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہیٰ کوووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔اس پر دوست محمد مزاری نے کہا کہ انہیں اختیارہی نہیں ہے، چودھری شجاعت سے 3 مرتبہ فون پررابطہ کیا۔

    اس پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپ کے پاس یہ اختیارنہیں کون ووٹ دے سکتا ہے کون نہیں،جس پر جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈی سیٹ ہونے والوں کے خلاف رولنگ دی ہوئی ہے۔اس پر راجہ بشارت نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین مجازہی نہیں۔ ووٹ کی ڈائریکشن دینے کے لیے کس کوحق حاصل ہیں۔

    تاہم ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد کرتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔اس موقع پر ق لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تو اسے عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ کےانتخاب کیلئےپنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 50منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی،وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اورووٹنگ کاعمل پر امن طریقے سے مکمل ہوا،تحریک انصاف کے نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی زین قریشی نےپہلا ووٹ کاسٹ کیا.حمزہ شہبازاور پرویز الہی سمیت ق لیک کے ارکان نے بھی اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کیا.

    قبل ازیں پیجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن نے پی پی 167سے پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے حلف پر اعتراض اٹھا یا گیا،اجلاس شروع ہوتے ہی پی پی 7روالپنڈی سےکامیاب ن لیگ کے امیدوار راجہ صغیر احمد نے حلف اٹھایا. اجلاس نماز مغرب کے وقفہ کیلئے 10 منٹ تک ملتوی کیا گیا.اس سے پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ 25منحرف ارکان کے ووٹ ختم کرنے کے بعد حمزہ شہباز کو 172ووٹ حاصل ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں دوبارہ ووٹنگ ہوگی،تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی ووٹ ڈال سکتےہیں،زین قریشی قومی اسمبلی چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہنا چاہتےہیں،ووٹنگ کا طریقہ کار وہی رہے گا جو پہلے اختیار کیا گیا تھا،کوئی بھی رکن 186ووٹ حاصل نہیں کرسکا، اس لئے رن آف الیکشن ہوگا، رن آف الیکشن میں 186ووٹ کی ضرورت نہیں، سادہ اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بنے گا، پرویزالٰہی کو ووٹ دینے والے ارکان بائیں اورحمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے دائیں طرف لابی میں گئے.پنجاب اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 371ہے

    چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادےمونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہٰی کو متفقہ امیدوار نامزد کیا تھا.


    دوسری جانب مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویزالٰہی کی حمایت سے انکار کردیا تھا،اس کی تصدیق مونس الہیٰ نے کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بھی ہار گیا ،عمران خان بھی ہار گیا ، زرداری جیت گیا .انہوں نے بتایا کہ ماموں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے امیدوار کی حمایت نہیں کروں گا،نجی ٹی وی جیو کے مطابق حامد میر سے بات کرتے ہوئے مونس الہیٰ نے یہ بات کی تھی،مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ عمران خان کےامیدوار کی حمایت نہیں کروں گا.

    ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت کے مطابق مسلم لیگ ق کے ارکان پیجاب اسمبلی پعمران خان کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے،اگر مسلم لیگ ق کے ارکان پنجاب اسمبلی ووٹ کاسٹ کریں گے تو ان کے ووٹ گے تو ان کے ووٹ مسترد تصور کئے جائیں. ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اس معاملے پر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو خط لکھ دیا ہے کہ مسلم لیگ ق کے ارکان کے ووٹ اگر عمران خان کے وزارت اعلی کے امیدوار کو دیئے جائیں تو انہیں مسترد کر دیا جائے.موجودہ صورتحال میں پرویز الہی خود کو بھی ووٹ نہیں ڈال سکیں گے اور اگر ووٹ ڈالا تو آرٹیکل تریسٹھ اے لگے گا اور اسپیکر کی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے.

    اجلس کے موقع پر سیکیوعتی کیلئے پولیس کے تازہ دم دستے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں تعینات کیا گیا،پولیس کے اہلکاروں کو ایوان کے اندر تعینات کر دیا گیا،پولیس اہلکار ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ کے پیچھے تعینات کئے گئے تھے،پولیس اہلکاروں کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے خصوصی اختیار دئیے گئے ، اجلاس شروع ہوتے ہی پنجاب اسمبلی گیٹ کو تالے لگا دیئے گئے اورکسی بھی شخص کو اندر آنے اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی.

    پیجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے مونس الہیٰ نے شجاعت حسین سے ملاقات کی ، دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری بھی چودھری شجاعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے.

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس کیلئے 4 بجے کا وقت دیا گیا تھا.وزیراعلی پنجاب کیلئے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور مسلم لیک ق کے چوہدری پرویز الہی مدمقابل تھے تاہم جیت کیلئے دونوں ہی پر عزم تھے.

    وزیراعلی پنجاب کو منتخب کرنے کیلئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پنجاب اسمبلی پکو بسوں میں پنجاب اسمبلی لایا گیا، زرائع کے مطابق ارکان پیجاب اسمبلی کی کڑی نگرانی بھی کی گئی اور ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک ارکان کو اسمبلی کی عمارت سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی.پ

    مسلم لیگ ن کی رکن پیجاب اسمبلی عظمی ضعیم قادری بھی کورونا کے باوجود پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے پہنچی تھیں.اجلاس سے قبل پنجاب اسمبلی کے باہر ن لیگ اور اسمبلی کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا، رانا مشہود کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی والوں نے ہمارے سٹاف کو اندر جانے سے روکا .

  • عظیم قوم بنانے کے دعویدار کے پاس وزارت اعلیٰ کا اپنا امیدوار تک نہیں،مریم نواز

    عظیم قوم بنانے کے دعویدار کے پاس وزارت اعلیٰ کا اپنا امیدوار تک نہیں،مریم نواز

    عظیم قوم بنانے کے دعویدار کے پاس وزارت اعلیٰ کا اپنا امیدوار تک نہیں،مریم نواز
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ غلامی سے آزادی کا بھاشن دینے والا اپنے ارکان کو غلاموں سے بھی بدتر سمجھتا ہے،

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا رہا آج اسی کیلئے ووٹ مانگ رہا ہے، اسی کو 12 کروڑ کے صوبے کا مالک بنانے کو تیار ہے، پنجاب منی گالہ نہیں جسے آپ کبھی بزدار،کبھی گوگی، پنکی اوراس کے بیٹوں کے حوالے کر دیں، عظیم قوم بنانے کے دعویدار کے پاس وزارت اعلیٰ کا اپنا امیدوار تک نہیں ،پنجاب کی خدمت کرنا اور پنجاب کو ٹھیکے پر دینے میں فرق ہے 2018میں پنجاب کے عوام نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا تھا،یہ جیتے جاگتے عوام کا صوبہ ہے، فتنہ خان کی اے ٹی ایم نہیں،

    وفاقی وزیر ، ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک کے تمام اداروں پر اپنا قبضہ چاہتے ہیں، 2018 کے انتخابات کے بعد ہر الیکشن میں عمران خان نے ہارس ٹریڈ نگ کی،عمران خان بتائیں وہ کس منہ سے جمہوریت کا دعویدار ہونے کی بات کرتاہے،بطور وزیراعظم آپ خود آئین شکن ہے، آج پنجاب میں ووٹ چوروں اور جمہوریت کے پاسداروں کا مقابلہ ہے ،خان صاحب آپ لاہور میں 7دن قیام کریں،دیکھیں گے یہ شہر کس کا ساتھ ہے،تحریک انصاف کے صدر،ڈپٹی اسپیکراوراسپیکر آئین شکن ہے ان لوگوں نے ارکان کو بھیڑاوربکریاں سمجھا ہوا ہے ہم عمران خان کے ہر بہروپ اور دھوکہ کو بے نقاب کرتے رہیں گے،دوسروں کو لوٹا کہنے والے عمران خان خود ہارس ٹریڈنگ کے ماہر ہیں، عمران خان کا سیاسی رویہ منافقانہ طرز کا ہے،الیکشن کمیشن واضح کر ے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے میں اور کتنی تاخیر ہے،عمرا ن خان جسے سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے آج اسی کو امیدوار نامزد کر دیا ہے،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    قبل ازیں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے قبل پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب بڑا ڈاکو کہنے پران سے معافی مانگیںعمران خان اگر پرویز الٰہی سے معافی نہیں مانگتے تو قوم سے ضرور معافی مانگی بنی گالا میں فرح گوگی کے ذریعے جو کرپشن کی گئی ان پیسوں سے ووٹ خریدے جا رہے ہیں ۔ فرح گوگی کی رشوت کے مال سے لوگوں کا ایمان بھیچنے کے لیے بولیاں لگائی جا رہی ہیں

    واضح رہے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے الیکشن آج ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی کے امیدوار چوھدری پرویز الہیٰ ہیں جبکہ ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز ہیں، پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن آئندہ ملکی سیاست کا تعین کریں گے ،آصف زرداری، بلاول زرداری بھی لاہور میں ہیں اور گزشتہ دو روز سے آصف زرداری متحرک ہیں، پنجاب میں ملاقاتیں کر رہے ہیں، حکومت و اپوزیشن دونوں اپنے اپنے اراکین سے اتنے خوفزدہ تھے کہ انہیں ہوٹلوں میں رکھا گیا تھا اور اپنی نگرانی میں سب کو اجلاس میں لایا گیا ،پنجاب میں پارٹیوں کا اپنے اراکین پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے