Baaghi TV

Category: لاہور

  • کراچی میں بینک پر عام شہری سے بڑی رقم  زبردستی چھین کر ملزم فرار

    کراچی میں بینک پر عام شہری سے بڑی رقم زبردستی چھین کر ملزم فرار

    کراچی میں بینک پر عام شہری سے بڑی رقم زبردستی چھین کر ملزم فرار :

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جرم کی واردات ہوئی ۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں جرم ہر گزرتے دن کے ساتھ بھڑتے جا رہے ہیں ۔کبھی چوری ،کبھی نہ حق قتل اور کبھی زیادتی ان سب جرائم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    مزید تفصیلات کے مطابق ابھی حال ہی میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں پھر سے ایک جرم کی رپورٹ سامنے آئی ہے ۔علاقے نارتھ ناظم آباد میں عام شہری بینک میں سے 35 لاکھ روپے جمع کروانے کیلیے آیا تھا ۔جیسے ہی اس نے پیسے نکالے تو اس شہری کو اندازہ نہیں تھا کہ وہاں پر موجود اور افراد اس کو دیکھ رہے ہیں ۔ان افراد نے اس شہری سے پیسے کھینچ لیے اور فرار ہوگئے ۔

    جب پولیس کو اس سب واقعے کے بارے میں آگاہ کیا تو پولیس نے اس سارے واقعے کی تفتیش کے بعد بتایا کہ یہ شہری جانوروں کے چارے کا کام کرتا ہے۔ اور یہ بینک اسلئیے آیا تھا کیونکہ اس کو اس رقم کو بینک میں رکھوانا تھا ۔ اس حوالے سے پولیس نے تسلی دی اور کہا کہ فنگر پرنٹس کے نمونے حاصل کیے جارہے ہیں۔ کرائم ڈیٹابیس اور نادرا سے ریکارڈ بھی چیک کرایا جائے گا ۔پولیس کا کہنا تھا کہ اگر ریکارڈ معلوم ہو جائے تو ملزمان کو ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے ۔اور اس مقصد کے لیے پولیس کوشیش کر رہی ہے ۔

  • روس میں میکڈونلڈز کا  اب وکونسو اینڈ ٹوچکا کے نام سے افتتاح۔

    روس میں میکڈونلڈز کا اب وکونسو اینڈ ٹوچکا کے نام سے افتتاح۔

    روس میں میکڈونلڈز کا اب وکونسو اینڈ ٹوچکا کے نام سے افتتاح۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی مشہور فوڈ میکڈونلڈز جس کو بچے اور بڑے سب بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ روس میں اب اس کو ایک نئے نام کے ساتھ کھول دیا گیا ہے ۔پہلے روس میں بھی اس فوڈ چین کو میکڈونلڈز کے نام سے ہی کھولا گیا تھا ۔لیکن اب حال ہی میں اس کا نام تبدیل کیا گیا ہے ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق اس کا نیا نام وکونسو اینڈ ٹوچکا لکھا گیا ہے ۔جس کا مطلب پاکستان کے مطابق مزیدار اور بس بنتا ہے ۔اس نام کو تبدیل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ روسی عوام کے مغربی انداز میں زندگی گزارنے کا سلسلہ برقرار رہے۔
    رپورٹ کے مطابق میکڈونلڈز نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ملک سے نکلنے کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے 850 ریسٹورنٹس بھی فروخت کر دے گا۔
    لیکن پھر اتوار کے روز اس فوڈ کمپنی کی طرف سے ماسکو میں اپنے پہلے ریسٹورنٹس کو کھولا گیا جس نے میکڈونلڈز کو خریدا تھا۔ اس حوالے سے کمپنی نے یہ کہا کہ اس کا 850 اوٹ لیٹس کو خریدنے کا ارادہ ہے ۔

    جب اس حوالے سے جب پہلی افتتاحی تقریب ہوئی تو اس طرح لگ رہا تھا جیسے اس کمپنی نے امریکا کی نقل کی ہوئی ہے ۔کھانے کا سارا مینیو میکڈونلڈز جیسا ہی تھا۔ مزید براں رپورٹ کے مطابق نیا نام ماضی کے ان روسیوں کو ہی ذہن میں رکھتے ہوئے رکھا گیا ہے کہ جو مغربی اشیا کے استعمال کے عادی ہو چکے ہیں۔ریسٹورنٹس کے سٹاف ممبرز کی یونیفارم پر لکھا گیا ہے وہی مسکراہٹیں اسی طرح یہ الفاظ بھی لکھے گئے ہیں نام بدل جاتا ہے محبت باقی رہ جاتی ہے۔


    جب روس میں پہلی دفع میکڈونلڈزکا iفتتاح ہوا تھا تو تب بھی روس کی عوام ایسے ہی خوش تھی ۔جس طرح سے اس سے اس نئے ریسٹورنٹس وکونسو اینڈ ٹوچکا پر خوش تھی ۔
    مزید یہ کہ روس میں میکڈونلڈز کے ریسٹورنٹس مارچ میں بند کر دیے جا چکے تھے۔اور مئی میں فوڈ چین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس نے مکمل طورپر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔پھر اس طرح 24 فروری کو یوکرین پر فوجی حملے کے بعد روس سے ایک بہت بڑا بزنس ہی نکل گیا تھا
    برانڈ نیا کا مینیو کچھ کم ہے میکڈونلڈز کے مقابلے میں تاہم برگرز وغیرہ کی ریسیپی وه ہی میکڈونلڈز والی رکھی گئی ہے ۔

  • مقتول جزلان کے دادا کی  وفاقی وزیر  داخلہ سے تحفظ کی اپیل ۔

    مقتول جزلان کے دادا کی وفاقی وزیر داخلہ سے تحفظ کی اپیل ۔

    مقتول جزلان کے دادا کی وفاقی وزیر داخلہ سے تحفظ کی اپیل ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مشہور شہر قائد میں ایک سنگین جرم ہوا ۔ شہر قائد میں ایک نوجوان قتل ہوا تھا اس کا نام جزلان تھا ۔مقتول کے گھر والوں نے خود وفاقی وزیر داخلہ سے کہا کہ تحفظ فراہم کیا جائے .
    مزید تفصیلات کے مطابق مقتول جزلان کے گھر میں موجود ان کے دادا نے وفاقی وزیر داخلہ کو خط لکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میرے پوتے جزلان کے قتل کیس میں ملزموں کو بچانے کیلئے پولیس نے کوئی مدد نہیں کی بلکہ کیس کو ہی خراب کیا ہے ملزموں کو بچانے کیلئے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جن اشیا سے قتل کرنے کی کوشیش کی گئی ان میں پستول شامل تھی ۔اور یہ پستول پستول ملزم عرفان، حسنین اور احسان کے والد فیض محمد کا ہے۔ اس حوالے سے پستول سے متعلق ملزمان اور پولیس کے سینئر انویسٹیگیشن افسر کا خود بیان موجود ہے۔
    مزید یہ کہ خط میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیر اور سینئرانویسٹیگیشن افسر اور انویسٹیگیشن پر کیس خراب کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔اس کے علاوہ خط میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان کیس کے گواہ اور اہل خانہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے ملوث متعلقہ افسران کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے۔

  • وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی  سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    باغی ٹی وی: جیسا کے آپ سب جانتے ہیں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور اس بیماری سے آج کل ہر کوئی بچنے کی بھرپور کوشش میں لگا ہوا ہے ۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بہت سے لوگ سرجری بھی کرواتے ہیں جس سے وہ اپنے موٹاپے سے با آسانی چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اسی سرجری کے حوالے سے امریکی ریاست وِسکونسِن میں قائم گُنڈرسن لوتھرن ہیلتھ کیئر سسٹم کے محققین نے تقریباً 3776 موٹاپے کا شکار بالغ العمر افراد کا مطالعہ کیا ہے ۔ان میں سے کچھ موٹاپے میں مبتلا افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے سرجری کروائی ہیں ۔ان افراد کی تعداد لگ بھگ 1620 ہے ۔
    اس حوالے سے محققین کا کہنا تھا کہ سرجری کرانے والے ان تمام افراد کا مطالعہ دس سال سے زیادہ عرصے تک کیا تاکہ سرجری کرانے والے اور نہیں کرانے والوں کے درمیان کینسر کی شرح کا موازنہ کرنے میں آسانی ہو جاۓ۔کینسر بہت سنگین بیماری ہے ۔یہ بیماری بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے ۔

    مزید یہ کہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ۔ان کو باقی افراد کی نسبت کینسر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن ایک اور اہم بات یہ کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ ان کی موت اس بیماری سے واقع ہو ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے وزن کم کرانے کے لئے سرجری کرائی ہوتی ہے ۔جو لوگ موٹاپے کو ختم کرنے کے لئے سرجری کرواتے ہیں تو ان کو اس قسم کے کینسر ۔گردوں کے سرطان ۔چھاتی کے سرطان ۔تھائرائیڈ کینسر ۔پھیپھڑوں کے کینسر کے امکانات میں کمی سے ہوتا ہے ۔تاہم ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کروانے کے لیے کی جانے سرجری کے نتیجے میں موٹاپے کا شکار افراد میں کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہوجاتے ہیں ۔

  • پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں بجٹ اجلاس تاخیر کا شکار ہوگیا، اسمبلی کی کارروائی میں اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی نظر آئی ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا.

    بجٹ اجلاس میں تاخیر کے باوجود متعدد اراکین اسمبلی غیر حاضر ہیں، جبکہ پنجاب اسمبلی میں ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس تا حال جاری ہے،پنجاب کے آئندہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے مشاورت کی جارہی ہے۔
    زرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے تک تاخیر کا شکاررہے گا. تاہم حکومت کی جانب سے معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری جاری ہے جبکہ اپوزیشن نے اپنے مطالبات پر مبنی ڈرافٹ تیار کر لیا

    سپیکر پرویز الٰہی اور اپوزیشن لیڈر سبطین خان کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے ،ارکان اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے پر آئی جی پولیس کو معافی مانگنا ہوگی .

    اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا تھا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں ۔ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق اسپیکر پرویز الہٰی کی جانب سے اسمبلی ملازمین پر دائر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مقدمات واپس لینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے.زرائع کے مطابق ایڈوائزی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، اپوزیشن نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی معاملہ میں آئی پنجاب ملوث ہیں، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ جن کے گھروں پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں ان سے معافی مانگیں،
    حکومتی رکن خلیل طاہر سندھو احتجاجا اجلاس چھوڑ کر باہر آ گئے۔ا جلاس میں خلیل طاہر سندھو نے موقف اختیار کیا کہ ہم تمام صورتحال میں اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ذرائع کے مطابق ن لیگ نے اپوزیشن کے مطالبات ماننے کےلئے وقت مانگ لیا.

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دے دی، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ’روشن راہیں نیا سویرا‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

    کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دے دی، 15 فیصد اسپیشل الاؤنس کی ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ متعلقہ حکام نے دن رات محنت کرکے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی، بجٹ میں عوام کوحقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کی 4991 اسکیموں کے لیے 685 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال سے ڈیجیٹل پنجاب نیٹ ورک شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے بجٹ میں 50 کڑور روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں، صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جنوبی پنجاب کے لیے 31 اعشاریہ 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

  • ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا،رانا تنویز

    ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا،رانا تنویز

    وفاقی وزیر تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن )کی زیرقیادت مخلوط حکومت نے 23-2022 کے بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ 91 ارب سے بڑھا کر 110 ارب روپے کر دیا ہے۔

    نیشنل کالج آف آرٹس(این سی اے) میں آرٹ اینڈ کرافٹ کی نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی سابقہ حکومت نے گزشتہ سال کے دوران اعلی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی تھی، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی ہے اور ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔

    ا نہوں نے کہا کہ این سی اے آرٹس کے اداروں میں ایشیا کا نامور اورایک سو پچاس سال پرانا تعلیمی ادارہ ہے جو اعلی تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے’ اور آئندہ بھی طلبا کو معیاری تعلیم فراہم کرے گا اور ملک میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

    رانا تنویر نے این سی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ یونیورسٹی کی بہتری کے لیے کچھ قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے بنائیں، انہوں نے مزید کہا کہ کالج کو یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنے کے بعد بطور وائس چانسلر ان کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں’ وفاقی وزیر نے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اورمعیاری گریجویٹس تیار کرنے کی کوششوں کو سراہا۔

    وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)اسلام آباد میں وائس چانسلرز کمیٹی کے اجلاس میں زور دیا کہ وہ اعلی تعلیم میں کمرشل ازم کی بجائے معیار پر توجہ دیں’ پچھلی حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے بجائے یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھانے پر زور دیا۔

    وفاقی وزیر نے نے کہاکہ حکومت یونیورسٹیوں کو مزید مالی فوائد دے گی تاکہ مستقبل میں معیار کے نتائج پیدا کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سنگل نیشنل کریکولم (SNC) کا مطلب تعلیمی معیار کو کم کرنا نہیں ہے تاہم ایس این سی رہنما اصولوں پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے’ ایس این سی بینچ مارک کے طور پر رائج رہے گا لیکن ادارے کو تدریس میں آزادی دی جائے گی’اسلامک اسٹڈیز جیسے مضامین کو ایس این سی کی سفارشات کے مطابق پڑھایا جائے گا۔

    انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایس این سی کو رول بیک کیا جا رہا ہے’ تعلیم کو عالمی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر مرتضی جعفری نے وفاقی وزیر تعلیم کو بریفنگ دی اوراین سی اے فیکلٹی کا تعارف کروایا.

  • پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    بجٹ تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی .بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہیں مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ،بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے ،کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے

    وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ،چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ،اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے .

    پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ،بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئی گئی ہیں ،وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں ،سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلہ چار سو نوے روپے میں دستیات ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا ، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505259″ /]

    محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں ، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

    ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ،41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے،شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں

    شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے

    10 کلو آٹے کاتھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔

    صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی ،نان ٹیکس ریونیوکی مد میں24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمنہ لگایا گیا ہے، 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں،312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹیکس کی شرح میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کیا جا رہا ہے،سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

    موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔

    مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا.23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔

    پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے

    مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کے لے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں مفت کُتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص
    Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مختص،اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئی گئی. ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئی گئے، بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ،ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے

    محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں .صحٹ بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں.صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر ہی ہے.شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا،پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے .لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے

    آب پاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے .سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب77کروڑ روپے مختص
    صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، 3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے . Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے
    گئے ہیں

    اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا .گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے

  • جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل

    جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل

    جائیداد کے تنازع پر پھر دو قتل :

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے شاہدرہ میں میں ایک سنگین جرم ہوا ۔شاہدرہ میں موجود عزیز کالونی میں دو قتل ایک ساتھ ہو گئے۔پھر اس واقعہ کا علم جب پولیس کو ہوا تو انہوں نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں ایک مرد اور ایک عورت تھی ۔مرد کا نام فضل اور عورت کا نام فوزیہ تھا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق قتل کرنے والا سگا بھائی تھا جس نے اپنے بھائی اور اس کی بیوی کو جان سے مار ڈالا ۔اور اس کی وجہ جائیداد کا تنازع تھا ۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق جائیداد کا تنازع ابھی کا نہیں بلکے کچھ پرانا چل رہا تھا ۔پھر ایک دن اس بھائی نے دوسرے بھائی اور اپنی بھابی کو جان سے مار کر فرار ہو گیا ۔اس کا نام تنویر تھا اب اس ملزم تنویر کی تلاش جاری ہے ۔ملزم نے اپنے بھائی اور بھابی کو فائرنگ کے ذریعے قتل کیا تھا ۔
    مزید یہ کہ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سٹی سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ سی سی پی او نے ملزم تنویر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔ ملزم تنویر جہاں بھی ملے گا اس کو فوری طور پر گرفتار کرلیا جائے گا ۔

    خیال رہے کہ ابھی کچھ دن پہلے بھی لاہور ہی میں واقعہ شہر داتا دربار میں بھی جائیداد کے تنازع کی وجہ سے ہی چوٹھے بھائی نے اپنے دو بڑے بھائیوں کی جان لے لی تھی ۔جب اس تمام واقعے کا پولیس کو علم ہوا تو پولیس نے تفتیش کرنا شروع کر دی ۔پولیس نے اس حوالے سے بتایا کہ قتل ہونے والے دونوں بھائیوں کی عمر 60 اور 65 سال تھی ۔جن میں ایک بھائی کا نام الطاف تھا اور دوسرے بھائی کا نام سرفراز تھا ۔ملزم مختار جس نے جائیداد کے تنازع پر اپنے دو بڑے بھائیوں کو قتل کر دیا تھا ۔یہ ملزم ٹیکسالی کا رہائشی تھا ۔اس نے اپنے بھائیوں کو فائرنگ سے قتل کیا تھا ۔اس کی خود کی عمر 57 سال تھی اور اس کے دونوں بھائیوں کی عمر 60 اور 65 سال تھی جن کو اس نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا ۔پولیس نے مکمل تفتیش کے بعد ملزم مختار کو گرفتار کر لیا تھا۔

  • سبطین خان اپوزیشن لیڈر منتخب،سپیکر چوہدری پرویز الہی کو جھٹکا

    سبطین خان اپوزیشن لیڈر منتخب،سپیکر چوہدری پرویز الہی کو جھٹکا

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے معاملے پرسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو بڑا جھٹکا لگ گیا. تحریک انصاف نظریاتی گروپ کے سردار سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا گیا

    زرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی پنجاب اسمبلی میں اپنا اپوزیشن لیڈر لانا چاہتے تھے مگر سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پی ٹی ائی کے سابق وزیر سبطین خان کو اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا.اور اس معاملے پر قریبی اتحادی اور سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی تجویز کو رد کر دیا.

    پی ٹی آئی نے محمود الرشید کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے سابق وزیر قانون راجہ بشارت اور سابق وزیر میاں اسلم اقبال کو ڈپٹی اپوزیشن لیڈر بنا دیا ہے.

    پنجاب اسمبلی میں سردار سبطین خان کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا.نوٹیفکیشن سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری کیا گیا. سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اپوزیشن لیڈر کے لئے راجہ بشارت اور میاں محمود الرشید کے نام دئیے تھےجبکہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں نظریاتی گروپ نے سردار سبطین خان کا نام دیا تھا

    پی ٹی آئی کے چئیرمن عمران خاں نے نظریاتی گروپ کے تحفظات کے ہیش نظر سردار سبطین خان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال 2022-2023 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ 15 فیصد سپیشل الاونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی.صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ایم او یو کی منظوری دی.اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبائی وزراء، چئیرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے دن رات محنت کر کے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی ۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔میں ہمیشہ مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔یہ بجٹ سیاسی و انتظامی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

  • پنجاب کابینہ نے  بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    پنجاب کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال 2022-2023 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ 15 فیصد سپیشل الاونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی.صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ایم او یو کی منظوری دی.اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبائی وزراء، چئیرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے دن رات محنت کر کے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی ۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔میں ہمیشہ مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔یہ بجٹ سیاسی و انتظامی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انساف نے سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا، تحریک انصاف نے سبطین خان سے متعلق اسمبلی سیکریٹریٹ کو آگاہ کردیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کچھ دیر میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے.

    واضح رہے کہ پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، صوبائی وزیر اویس لغاری بجٹ پیش کریں گے۔ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ق لیگ نے بجٹ اجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا، اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کریں گے۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں مالی سال 22-2021 کا سپیلمنٹری بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

    جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں ترامیم بھی ایوان میں پیش ہوں گی۔

    پنجاب کا بجٹ مسلم لیگ ن کے وزیر اویس لغاری پیش کریں گے، اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے بجٹ تقریر کے پوائنٹس اویس لغاری کو بجھوا دیئے ہیں۔تاہم کے وزیر خزانہ کا نام اب تک سامنے نہیں آسکا۔

    پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    زرائع کے مطابق آج کے بجٹ اجلاس کیلئے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان کی جانب سے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ اور بجٹ تقریر کے دوران بھرپور احتجاج کا پروگرام بنایا ہے.

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجٹ اجلاس میں رویہ ٹھیک رکھے گی تو اپوزیشن کا بھی ٹھیک ہو گا، حکومت نے اجلاس میں بلڈوز کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن مزاحمت کرے گی.