Baaghi TV

Category: لاہور

  • عوام کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مفت علاج فراہم کریں گے،سلمان رفیق

    عوام کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مفت علاج فراہم کریں گے،سلمان رفیق

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب کی عوام کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مفت علاج کی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہیلتھ انشورنس وزیراعظم شہبازشریف کا برین چائلڈ ہے۔

    خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازعوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرناچاہتے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو علاج کی بہترسہولیات فراہم کرنے کیلئے مزید ہسپتالوں کو تیزی سے ام پینل کیاجارہاہے،پنجاب کے خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے بون میروٹرانسپلانٹیشن کی سہولت بھی دیناچاہتے ہیں،پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں رات سے صبح تک ڈاکٹرزکی حاضری اور مریضوں کو علاج کی بہترسہولت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولت کی خاطرخودفیلڈمیں نکلناہوگا۔ پنجاب میں منتخب شدہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اسٹیٹ لائف کے عملہ کو مریض کے بہترعلاج کو یقینی بناناہوگا۔عوام کی جانب سے یونیورسل ہیلتھ انشورنس سے متعلق شکایات کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیاجائے گا۔پنجاب کے منتخب شدہ مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرکے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مریضوں کے علاج کو مانیٹرکیاجائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علماء کرام سے مساجدمیں خطبات کے ذریعے عوام میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس بارے آگاہی پیداکرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ذریعے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہترکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں سیکیورٹی،آئی ٹی اور بائیومیڈیکل مشینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیاجارہاہے۔ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز تمام سرکاری ہسپتالوں کو سولرانرجی پرمنتقل کرناچاہتے ہیں۔

    خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب کے مزید تیس تحصیل ہیڈکواٹرزہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں جلدنصب کردی جائیں گی۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرزکی صفائی کا ہیلتھ کئیرکمیشن کے ذریعے جائزہ لیاجائے گا۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو صاف ستھراماحول دستیاب ہوگا۔سرکاری ہسپتالوں کے بلڈ بنکس کا دورہ کرکے صفائی ستھرائی کے انتظامات کاجائزہ لیاجائے گا۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہترکرنے کیلئے تمام ترتوجہ مرکوزکرنی ہوگی،کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کی طرزپر پنجاب کے دیگرہسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن کا نظام رائج کریں گے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت پنجاب ہیلتھ انشی ایٹومینجمنٹ کمپنی میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے بارے میں اہم اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں پنجاب ہیلتھ انشی ایٹومینجمنٹ کمپنی اور اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے افسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران یونیورسل ہیلتھ انشورنس کیلئے مزیداقدامات کاجائزہ لیا۔اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے افسران نے صوبائی وزیرکو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کیلئے پنجاب کے مزید ہسپتالوں کوام پینل کرنے اور علاج معالجہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    علاوہ ازیں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا اہم اجلاس بھی منعقد ہوا،اجلاس میں سپیشل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرصالحہ سعید اور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران پراجیکٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    اس موقع پر سپیشل سیکرٹری صالحہ سعید نے کہا کہ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس حضرات کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیاجارہاہے۔

  • دفتر بند ہونے کے بعد مونس الہٰی ایف آئی کے دفتر پہنچ گئے

    دفتر بند ہونے کے بعد مونس الہٰی ایف آئی کے دفتر پہنچ گئے

    دفتر بند ہونے کے بعد مونس الہٰی ایف آئی کے دفتر پہنچ گئے
    ایف آئی اے دفتر بند ہونے کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی ایف آئی کے دفتر پہنچ گئے

    ایف آئی کے د فتر کے باہر ق لیگ کے کارکنا ن بھی موجود تھے،مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ نے کہا تھا عمران خان سے ہمیں بڑا ڈر ہے، مجھے ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس نہیں ملا، شوگر کمیشن کے حوالے سے انہوں نے کیس بنایا ہے،میں خود ایف آئی اے پہنچا ہوں ،گرفتار کرنا ہے تو کر لیں،شہباز شریف اور بیٹوں کیخلاف کیسز میں گرفتاریاں نہیں ہو رہیں شہباز فیملی پر16ارب روپے کا کیس ہے، مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لیں لیکن عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا 16 ارب روپے کے کیس میں کافی پیشرفت ہوچکی ہے،میری اطلاع کے مطابق انہوں نے مجھ پر شوگر کمیشن کا کیس بنایا،
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ق لیگ کے رہنما مونس الہیٰ کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا تو مونس الہیٰ نے رد عمل میں ٹویٹ کی اور کہا کہ میں ایف آئی اے جا رہا ہوں، گرفتار کرنا ہے تو کر لیں

    قبل ازیں مونس الہیٰ کے اعلان کے بعد صحافیوں کی بڑی تعداد ایف آئی اے دفتر کے باہر پہنچ گئی لیکن دفاتر کے بند ہونے کا وقت ہو گیا ، سخت گرمی میں صحافی مونس الہیٰ کی ایف آئی اے آمد اور متوقع گرفتاری کے منتظر تھے تا ہم ایسا کچھ نہ ہوا، اور ایف آئی اے آنے کی بجائے مونس الہیٰ نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی

    ق لیگی رہنما مونس الہٰی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عبوری ضمانت دائر کر دی ایف آئی اے سینٹرل کورٹ لاہور میں مونس الہٰی کے وکلانے درخواست ضمانت دائر کی ایف آئی اے سینٹرل کورٹ لاہورنے درخواست پر اعتراض لگا کر واپس کر دی. عدالت نے کہا کہ درخواست ضمانت اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، جس پر مونس الٰہی نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کا مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    مونس الہیٰ کے اس رویئے پر صحافی خاور مغل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مونس الٰہی صاحب ہم صحافی صبح سے FIA دفتر کے باہر آپکی آمد کا انتظار کر رہے ہیں اب تو دفتر بھی بند ہو گیا ہے جناب نے گرفتاری کس کو دینی ہے ؟؟ بھڑک مارنے سے پہلے ایک بار سوچ ہی لیتے

    دوسری جانب ق لیگی کارکنان نے ایف آئی اے دفتر کے باہر پر امن احتجاج کیا ہے، ق لیگ کے ایک درجن کے قریب کارکنان ق لیگ کے دو جھنڈے اٹھائے ایف آئی اے دفتر کے باہر احتجاج کے لئے پہنچے اور تھوڑی دیر میں وہاں سے واپس لوٹ گئے، احتجاج کی ویڈیو ق لیگ کے ہی ایک کارکن نے ٹویٹر پر شیئر کی ہے

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ مونس الہیٰ ناراض نہ ہوں، ان کی گرفتاری کا فیصلہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ہوا، انکوائری بھی تب ہی ہوئی۔ عمران خان مونس کو اس وقت گرفتار کروانا چاہتے تھے جس کا مونس نے مجھے خود بتایا، ہم جب ان کے گھر وزراتِ اعلیٰ سے متعلق مذاکرات کے لیے گئے تب مونس نے اس بات کا اظہار کیا تھا مونس الٰہی کو صرف نوٹس کریں گے اور کہیں گے آکر ان پیسوں سے متعلق ثابت کریں نواز بھٹی اور مظہر حسین ثابت کریں کہ 72 کروڑ ان کے ہیں یہ کرپٹ پیسہ ہے اور یہ منی لانڈرنگ ہے یہ ثابت کردیں اس حوالے سے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے چوہدری صاحبان تھے تو مونس کو گلہ نہیں کرنا چاہیے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو گرفتاری ہوگی

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،وزیر خزانہ پنجاب

    ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے تلاوت کلام پاک سے پنجاب بجٹ سیشن کا آغاز کر دیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ایوان اقبال میں پہنچ گئے

    وزیر خزانہ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ عوام نے شہباز شریف سے زیادہ متحرک لیڈر نہیں دیکھا گزشتہ حکومت نے کرپشن کے متعدد ریکارڈز قائم کیے،چوربازاری سے آنے والے شعبدہ بازوں کون لیگ نے ناکام بنا دیا،پنجاب میں گزشتہ ساڑھے3 سال میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، گزشتہ ساڑھے 3 سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا،مسلم لیگ کے دور میں شرح ترقی تیزی سے بڑھ رہی تھی، سی پیک کے تحت 51 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ن لیگ کی حکومت نے پہلے بھی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا اب بھی کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیورکیا تھا اب بھی کرکے دکھائیں گے، پنجاب میں متعدد توانائی کے منصوبے ن لیگ کے دور میں لگائے گئے،ن لیگ کے صحت کارڈ کو انصاف کارڈ کا نام دیا گیا،گزشتہ 3 سالوں میں پنجاب کے سکولوں میں طلبا کی تعداد کم ہوئی، ماضی کی حکومت نےسوشل سیکٹرکی ترقی پربھی توجہ نہیں دی مسلم لیگ کے دور میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا، ن لیگ کے منصوبوں پراپنی تختیاں لگا کرکریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی،نا مساعد حالت میں بھی ایک متوازن اورعوام دوست بجٹ کوممکن بنایا،خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا،

    وزیر خزانہ پنجاب اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب بجٹ 2022-23 کا مجموعی حجم 3ہزار226 ارب روپے ہے،کُل آمدن کا تخمینہ 2ہزار521 ارب 29کروڑ روپے مختص کیا گیا بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ارب روپے مختص ہیں نان ٹیکس ریونیو کی مدمیں 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ترقیاتی پروگرام کیلئے 22 فیصد اضافے کے ساتھ 685 ارب روپے مختص ہیں محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ترقیاتی پروگرام کیلئے 685 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں 41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا جا رہا ،ایک ہزار 712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویزکی گئی ہے وزیر اعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جائے گی،عام آدمی کیلئے سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے شہری علاقوں میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شر ح کو ایک فیصد سے بڑھا کر2 فیصد کرنے کی تجویز کی گئی ہے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی ،اس وقع پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ 3ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں،غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتایہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنانا ری پبلک بن جاتا، سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی اسپیکر کی طرف لپکے تھے،احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں 4سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے،ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا،عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں،

    پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا 

    پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرجواب طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

  • ضمنی انتخابات،ن لیگ نے ٹکٹوں کی تقسیم شروع کر دی

    ضمنی انتخابات،ن لیگ نے ٹکٹوں کی تقسیم شروع کر دی

    مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم شروع کر دی

    لاہور کے حلقہ پی پی 170 سےامین ذوالقرنین کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا ،ٹکٹ مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کے دستخطوں سے جاری کی گئی .مسلم لیگ ن نے پی پی 167 سے نذیر چوہان کو ضمنی الیکشن کی ٹکٹ جاری کر دی .ملتان میں پی ٹی ائی کے منحرف رکن سلمان نعیم کو بھی نون لیگ نے پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا نون لیگ کی جانب سے پی ٹی ائی کے دس منحرف اراکین کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے جاچکے ہیں،

    لاہور پی پی 167 پر پارٹی ٹکٹ کس کو دیا جائے، تاحال فیصلہ نہ ہوسکا .پی پی 167 سے علیم خان نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا ،علیم خان کے نمائندے شعیب صدیقی نے بھی پی پی 158 سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا دونوں رہنماؤں نے ٹکٹ کا اختیار نون لیگ کو دے دیا تھا،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 25 ارکان پنجاب اسمبلی کا پارٹی پالیسی سے انحراف ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو پارٹی پالیسی سے انحراف پر آرٹیکل 63 اے کے تحت نا اہل قرار دیدیا تھا ، ان بیس سیٹوں پر ضمنی الیکشن 17 جولائی کو ہو رہے ہیں،

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

  • پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم، گورنر نے آرڈینینس جاری کر دیا

    پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم، گورنر نے آرڈینینس جاری کر دیا

    پنجاب میں سیاسی بحران جاری ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سرد جنگ کا خاتمہ نہ ہو سکا.گورنر پنجاب کے حکم پر پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کے نوٹیفیکیشن کے بعد گورنر پنجاب نے آرڈینینس جاری کر دیا جس کے مطابق سیکرٹری قانون احمد رضا سرور نے سیکرٹری پیجاب اسمبلی کی حثیت سے اختیارات سنبھال لیے ہیں .

    ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم کر دی ہے ، حکومت پنجاب نے پنجاب اسمبلی کو دوبارہ محکمہ قانون کا سپیشل انسٹی ٹیوٹ بنادیا۔گورنر پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا.

    آرڈینینس کے مطابق سیکریٹری اسمبلی اب سیشن بلانے یا برخواست کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔زرائع کے مطابق سیکرٹری قانون نے ایوان اقبال میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو پہنچنے کی ہدایت کر دی،گورنر پنجاب کے حکم کے مطابق پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں منعقد ہوگا۔ سیکرٹری قانون آج مینٹنگ چیئر کریں گئے

    زرائع کے مطابق آرڈینینس جاری ہونے سے سپیکر پنجاب اسمبلی کے کار خاص اورسیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی من مانیاں ختم ہوگئیں,محمد خان بھٹی محکمہ قانون کے ماتحت ہونگے۔ پنجاب اسمبلی کو دوبارہ محکمہ قانون کے ماتحت کر دیا گیا۔

    سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نےاسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے، ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں،آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے، کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اسپیکر کے اختیارات محدود کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے رویے کے باعث کیا گیا ہے۔ اختیارات محدود کرنے کے لیے محکمہ قانون نے سمری تیار کی۔ اسمبلی کے رولز آف بزنس میں آرڈینینس کے ذریعے ترامیم کی گئی.

    دوسری جانب ق لیگ اور پی ٹی آئی نے اراکین کو ایوانِ اقبال میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جانے سے روک دیا۔ پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمود الرشید کا کہنا ہے کہ اراکین کو اطلاع کر دی ہے کہ پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شریک ہوں۔

    تحریکِ انصاف نے تمام اراکینِ اسمبلی کو مراسلہ بھی جاری کر دیا، اراکینِ اسمبلی کو خط پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید کی جانب سے لکھا گیا ہے۔ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت ہو رہا ہے۔ ارکانِ اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی زیرِ صدارت اجلاس میں شرکت کریں، پنجاب اسمبلی کے سوا کسی اور جگہ اجلاس میں شرکت نہ کی جائے۔

    پنجاب اسمبلی کے آج 2 الگ الگ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں .گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کا طلب کردہ پنجاب حکومت کا بجٹ اجلاس آج دوپہر 2 بجے ایوانِ اقبال میں ہو گا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے اجلاس دوپہر 1 بجے طلب کر رکھا ہے۔

    زرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری نے ایوانِ اقبال میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے لاہور پہنچ گئے۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے معاملے پر بحران جاری ہے، دو روز ہو گئے، اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش نہ کیا جاسکا۔اسپیکر پرویز الٰہی اور اپوزیشن ارکان اپنے مطالبے پر قائم اور حکومت اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔

  • پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پرویز الہی کی ہٹ دھرمی، بجٹ پیش نہ ہو سکا،حکومت اور اپوزیشن نے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلا لئے

    پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، ایک طرف گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا رواں ا40 واں اجلاس برخواست کر دیا اور 41 واں اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا تو اس کے ساتھ ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے برخواست کیا گیا اجلاس شروع کر دیا اور صوبائی وزیر خزانہ سردار اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔وزیر خزانہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ جناب سپیکر! گورنر پنجاب یہ اجلاس ختم کر چکے ہیں لہذا اس اجلاس کی کاروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہو گی۔ اس پر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ گورنر کے احکامات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں.بعدازاں سپیکر نے اجلاس کل مورخہ 15 جون 2022 کو دوپہر 1 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔

    پجٹ اجلاس دو روز میں پیش نہ ہو سکا .حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز سے ڈیڈ لاک برقرار ہے ،حکومت بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن اپنے اوپر قائم مقدمات کا خاتمہ اور آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں طلب کر کے معافی کے خواہاں ہیں. تاہم اب پیجاب اسمبلی کے دو اجلاس بلائے جاچکے ہیں ،گورنر ارواں اجلاس نرخواست کر چکے ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ گورنر کے احکامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس صورت میں کل دو اجلاس منعقد ہوں گے. حکومت ایوان اقبال میں بجٹ پیش کرے گی جبکہ اپوزیشن کل پیجاب اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کرے گی.

    صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ میں پچھلے دو دن سے تقریر تیار کرکے بار بار ایوان کے اندر آیا، ہمارے اوپر بے جا تنقید کی گئی لیکن ہم نے راجہ بشارت کی طرح بدتمیزی نہیں کی،اسپیکر نے ہمارے وزیر اعلی کو ایوان کے اندر بلوایا اور پھر کہا گیا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلاؤ،ہمارا اور عوام کا استحقاق مجروح ہوا ، ہماری بجٹ کی تقریر کو ڈسٹرب کیا گیا، آج پھر پورا دن ہمارے ایم پی ایز کو انتظار کروایا گیا،یہ ہمارا رائٹ تھا جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا،ہم نے کل کہا تھا آئین پانی کی طرح ہوتا ہے،پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے قبضے میں لی ہوئی ہے، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ اجلاس پروووگ ہوگیا ہے تو انھوں نے کہا کہ بجٹ پیش کریں ، کل ہم انشاء اللہ بجٹ پیش کریں گے

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ میں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ،کہا گیا مجھے سارجنٹ اینڈ آرمڈ کے ذریعے باہر نکالا جائے،آج کابینہ کا اجلاس رات آٹھ بجے ہوا اور کابینہ نے سمری گورنر کو بھیجی گئی،گورنر پنجاب نے نیا اجلاس کل بلایا ہے، میاں محمود الرشید ، مراد راس ، میاں اسلم اقبال کہتے ہیں ہمارے پرچے ختم کریں،یہ بادشاہ کی طرح ایوان کو چلاتے ہیں،یہاں گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے لوگ بھرتی کی ہوئے ہیں، پچیس مئی پچیس مئی ظلم اور قہر ہوگیا ، آپ کو تو ابھی ہاتھ نہیں لگایا آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں ، انھوں نے میڈیا کی انٹری بند کردی، کیا پرویز الہی بادشاہ سلامت ہیں کہ جو دل کرے گا کریں گے، اپنی نگرانی میں پرویز الہی غنڈوں کو اندر لائے،مونس الہی دو دن بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں کیوں بیٹھا ہے.

    انہوں نے کہا کہ میرے سے آپ اتنا خوف زدہ کیوں ہیں ،آپ کے بیٹےکے جب قصے نکلے گے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، محمد خان بھٹی کیا کام کرتا ہے کہ ارب پتی ہے ،ساتویں سکیل میں لگا کر بائیسواں گریڈ دے دیا،یہ چار دن کی اسپیکری پر خود کو کیا سمجھتے ہیں ، آپ ایوان اقبال آئیں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں، آپ ہر پارٹی کے ساتھ شراکت میں رہے ہیں آپ صرف اقتدار کے پجاری ہیں، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، آپ آئیں کل ایوان اقبال میں اپنے اسٹاف کو لے کر آئیں آپ آئیں آپ کو عزت دیں گے،اس ملک نے صدا رہنا ہے ہم نہیں ہوں گے یہ ملک ہمیشہ رہے گا ،آئینی اور قانونی معاملہ پیدا نہیں ہوگا، پہلے خبر چلی پھر اسپیکر کی رولنگ آئی ،جو انھوں نے دو دن کیا ہے اب ان کو وہاں آنا پڑے گا،ابھی فوکس بجٹ ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اسمبلی اجلاس جاری تھا
    تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی ،اگر گورنر اجلاس ملتوی کرے تو سیکرٹری اسمبلی کو تحریری اطلاع آتی ہے. پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نہ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،جب اجلاس ملتوی کرتے ہیں تو سیکرٹری اسمبلی کو گورنر کہے گا ،کسی اور جگہ رکھ کر اجلاس چار بندے بیٹھ جائیں یہ مذاق ہے غیر قانونی ہے ،سپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا ،انہوں نے دوسرا بدنما داغ اپنے ماتھے کا حصہ بنایا ہے.خواتین اراکین کی طرف سے تحریک استحقاق آئی ہے ،جس پر سب سے پہلے کاروائی ہوگی ،عطا تارڈ نے غلط اشارے کئیے

    ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجہ بشارت نے کہا کہ ابھی تک تحریری طور پر اجلاس برخاست ہونے کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا ،سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس کی صدارت کا نہئں کہا جاسکتا .اسمبلی کی عمارت کو ہوتے ہوئے کسی دوسری عمارت کو اسمبلی ڈکلئیر نہیں کیا جاسکتا ،ہم نے جب فلیٹئز ہوٹل میں اجلاس کیا تو ایوان سے اجازت لی تھی ،بجٹ اسمبلی سے پاس ہوتا ہے اور یہاں سارا سٹاف موجود ہے ،اگر گورنر غیر قانونی کام کرنا چاہتا ہے تو یہ بدقسمتی ہے ،کل اسمبلی کا ممبر نہ ہونے والے کو ایوان میں بٹھا دیا گیا .کل اجلاس ایک بجے اسمبلی بلڈنگ میں ہوگا.

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ تین دفعہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کا کہا ،جو کچھ انہوں نے بجٹ بنایا پنڈورا بکس کھلے گا تو پتہ چلے گا ،ان واقعات میں حق ابھر کر سامنے آتا ہے ،اراکین کو ہراساں کیا جارہا ہے،میاں اسلم اقبال نے کہا کہ بتیس سو ارب کا بجٹ ہے ،اسمبلی بلڈنگ چھوڑ کر غیر آئینی طور پر کہیں اور بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے،گورنر نے غیر آئینی حکم دیا ہے ،یہ غیر آئینی اقدام پر بغلیں بجاتے ہیں ،پہلے ہوٹل میں اجلاس منعقد کرکے حمزہ کو وزیر اعلی بنا لیا ،یہ نکمی اور نااہل حکومت کے کام ہیں.

  • گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل ایوان اقبال میں طلب کر لیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس برخواست کردیا. گورنر پنجاب نے کل پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس سہ پہر 3 بجے ایوان اقبال میں طلب کر لیا ہے ایوان اقبال میں پنجاب کا بجٹ پیش کیا جائے گا.مسلم لیگ ن کے وزیر سردار اویس لغاری پنجاب کا بجٹ پیش کریں گے.

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے 40 واں اجلاس برخواست ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع کر دیا ، اجلاس میں شرکت کیلئے ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ بھی پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں ایوان میں جاؤں گا کسی میں جرات نہیں کہ مجھے ایوان سے نکالے ۔ اس وفت بھی سردار اویس لغاری ،رانا مشہود اور صوبائی وزرا بھی پیجاب اسمبلی میں موجود ہیں.

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اجلاس کل ایک بجے دوپہر تک کیلئے ملتوی کر دیا ہے.پنجاب اسمبلی کا اجلاس اٹھ گھنٹے اکتالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا تھا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہی کر رہے تھے تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ریا اوع آج بجت اجلاس کے دوسرے روز بھی پنجاب اسمبلی میں بجت پیش نہ ہو سکا.
    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کا اجلاس کیلئے انتظار کیا گیا اور بیس منٹ انتظار کرنے کے بعد اجلاس کل تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

  • پاکستان پرامن ملک اور ہمارا دوسرا گھر ہے،بھارتی سکھ یاتری

    پاکستان پرامن ملک اور ہمارا دوسرا گھر ہے،بھارتی سکھ یاتری

    جوڑ میلے میں شرکت کے لیے پاکستان آئے سکھ یاتریوں نے کرتاپور کا دورہ کیا۔ترجمان متروکہ وقف بورڈ املاک کے مطابق ان سکھ یاتریوں کی مختلف سنگتوں نے نارووال ضلع کی تحصیل شکرگڑھ میں واقع کرتارپور کے مقام پر واقع دنیا کے سب سے بڑے گوردوارہ صاحب کا درشن کیا۔

    سنگتوں کے گوردوارہ صاحب کرتارپور پہنچنے پر گیانی صاحب،سردار اندرجیت سنگھ پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی،مترکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری شرائن رانا شاہد‘ڈپٹی سیکرٹری عمران گوندل ودیگر انتظامیہ کے افسران نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔چیئرمین بورڈ حبیب الرحمن گیلانی کے احکامات کی روشنی میں مہمانوں کے لیے
    بہترین انتظامات کئے گئے۔ اس موقع پر بھارت سے آئے سکھ یاتریوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے شاندار انتظامات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    بھارتی سکھ یاتریوں لکی سنکھ‘رنجیت سنگھ اور گوبند سنگھ نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے‘ پنجاب حکومت نے جس طرح ہمارے لئے سیکورٹی کے انتظامات کئے ہیں اس کے لیے ہم بے حد شکر گزار ہیں‘متروکہ وقف املاک بورڈ نے بھی ہمارے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے لئے بہت اچھے اقدامات کئے ہیں جس پر ہمیں دلی خوشی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں‘ مذہبی دورہ کے کے دوران پاکستانیوں نے ہمیں جتنی عزت اور محبت دی ہم اس کو فراموش نہیں کرسکتے‘ہم یہاں سے محبتیں سمیٹ کر واپس جائیں گے۔واضح رہے کہ بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ مذہب کے ماننے والوں کی کثیر تعداد جو کہ سکھ مذہب کے پانچویں گرو شہید گرو ارجن دیو جی کی یاد میں لگنے والے جوڑمیلے میں شرکت کے لئے پاکستان میں موجود ہے

  • بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ فرح گوگی کا نام لیا جاتاہے تو تکلیف ہوتی ہے ریاست مدینہ میں توشہ خانہ سے گھڑیاں بیچی جاتی ہیں ، عوام کو بتانا چاہتا ہوکہ انا نہیں ہے عوام کی بہتری کےلئے انا بھی نچھاور کر دوں گا.

    ہم کہتے ہیں بجٹ پیش کرنے دو مگر وہ کہتے آئی جی کو پیش کرو، انہیں اب عوام کی عدالت میں پیش کروں گا، ڈر کر کہتا ہوں دو ماہ کی کابینہ نے آٹے پردو سو ارب روپے کی سبسڈی دی ، تماشا بند ہوناچاہئے، آئین و قانون کا تماشا بند ہونا چاہئیے،اب تماشا نہیں چلے گا، بجٹ بھی پاس ہوگا اور کامیاب بھی ہوں گے،اگر کسی کی شکل پسند نہیں تو آئیُن و قانون کی پامالی تو نہُ کریں.

    اوزیراعلی نے مزید کہا کہ آج بھی آیا ہوں ، بیٹھوں گا مگر تماشا آج بھی جاری ہے، یہ وہی سپیکر ہے جس پر عدم اعتماد ہے ، اب عوامُ دشمنی کررہے ہیں، آپشن نہیں بتائوں گا نیت صاف ہے، تین ماہ سے آئینی بحرانوں کا سامنا کررہاہوں، پہلی جولائی سے ٹی ایچ کیو ڈی ایچ کیو میں مفت ادویات دوںُگا ،بجٹ بھی پیش ہوگا آئینی کھلواڑ کا بھی بندوبست کروں گا.