Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور ایکسپوسمیت دیگرویکسینیشن سینٹر فعال، ایسٹرا زینیکا کے خواہشمند انتظار کریں      ڈی سی  ریاض مدثر

    لاہور ایکسپوسمیت دیگرویکسینیشن سینٹر فعال، ایسٹرا زینیکا کے خواہشمند انتظار کریں ڈی سی ریاض مدثر

    لاہور میں 55 سیکٹورل ویکسینیشن سینٹرز بھی مکمل طور پر فعال ، ڈی سی ریاض

    باغی ٹی وی : ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض نے اعلان کیا ہے کہ آج شہر میں تمام کورونا ویکسی نیشن سینٹرز کھلے رہیں گے، اسٹیٹک اور سیکٹورل کورونا ویکسی نیشن سینٹرز مکمل طور پر فعال ہوں گے،9 اسٹیٹک سینٹرز ایکسپو سینٹر، یوسی ایچ، پی کےایل آئی، یونائیٹڈ کرسچن اسپتال فعال رہیں گے۔

    ڈی سی لاہور کاکہنا ہے کہ پنجاب سینٹرل کالج، قذافی اسٹیڈیم ڈرائیو تھرو، ایل ڈی اے آزادی چوک کمپلیکس سینٹرز فعال رہیں گے، 55 سیکٹورل ویکسی نیشن سینٹرز بھی مکمل طور پر فعال ہوں گے اور ان تمام سینٹرز میں سائنوویک اورسائنو فام کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ بیرون ملک کے سفر کے لیے مطلوبہ ویکسین ابھی دستیاب نہیں ہے، ایسٹرا زینیکا ویکسین کے دستیاب ہوتے ہی لوگوں کو اطلاع کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب کمشنر لاہور نے کہا کہ ایکسپو سینٹر لاہور میں کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگیا جہاں صرف سائنو ویک ویکسین لگائی جا رہی ہے ایسٹرا زینیکا لگوانے کے خواہشمند فی الحال انتظار کریں۔

    لاہور ایکسپو سینٹر کے ہال نمبر ایک اور تین میں ویکسین لگائی جارہی ہے، ویکسی نیشن کروانے آنے والوں میں بڑی تعداد ان شہریوں کی ہے جو بیرون ملک جانے کے خواہشمند ہیں۔

    میڈیا کو سینٹر کے باہر موجود شہری نے بتایا کہ سائنوویک کو بیرون ملک سفر کےلیے قبول نہیں کیا جارہا، بیرون ملک سفر کرنے کےلیے صرف مطلوبہ ویکسین لگوانا چاہتے ہیں اس صوتحال میں یورپی اور خلیجی ممالک کے سفر کے منتظر کئی افراد ویکسینیشن سینٹر سے واپس چلے گئے۔

    ملک میں آج سے ویکسینیشن کا عمل معمول کے مطابق شروع ہوگیا

  • مفتی عزیز الرحمن اسکینڈل: زانی کو سرعام لٹکاؤ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    مفتی عزیز الرحمن اسکینڈل: زانی کو سرعام لٹکاؤ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    چند روز قبل جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی اپنے شاگرد صابر شاہ سے بدفعلی کی وڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کے بعد عوام میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : لاہورمیں مفتی عزیز الرحمن کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے پر پولیس نے بدفعلی کا شکار ہونے والے نوجوان صابر شاہ کی درخواست پر مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا تھا۔ایف آئی آرکے متن کے مطابق چند روزقبل مفتی عزیز الرحمن کی نازیبا ویڈیولیک ہونے کے بعد نوجوان صابرشاہ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جس پرپولیس نے مقدمہ میں بدفعلی کرنے اورجان سے مارنے کی دفعات درج کیں۔

    درخواست کے مطابق مفتی عبدالعزیزالرحمن لاہورکے نگران اورمتولی تھے، 2013 میں جامعہ منظوراسلامیہ صدرلاہورمیں طالبعلم صابر شاہ نے داخلہ لیا اورمسلسل تعلیم حاصل کرتا رہا۔ درخواست میں طالبعلم نے کہا مفتی عبدالعزیزالرحمن نے الزام عائد کیا کہ میں نے اپنی جگہ کسی دوسرے لڑکے کو امتحان کے لئے بٹھایا ہے، اپنی جگہ دوسرے لڑکے کو بٹھانے کے الزام میں مجھے 3 سال وفاق المدارس سے امتحان دینا ممنوع قراردیا۔

    ایف آئی آرمیں مزید کہا گیاکہ مفتی عبدالرحمن نے میرے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات قائم کرکے امتحانات میں بحالی کا کہا۔ مفتی عزیز الرحمن اور ان کے بیٹے الطاف الرحمن، عتیق الرحمن، لطیف الرحمن سمیت تین افراد مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    اور اب مفتی عزیز کو گرفار کیا جا چکا ہے-

    انویسٹی گیشن شمالی چھاؤنی پولیس نے مفتی عزیز الرحمن کو گرفتار کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد مفتی عزیز الرحمن لاہور سے دوسرے شہر فرار ہوگئے تھے، پولیس نے مفتی عزیز الرحمن کو میانوالی سے گرفتار کیا۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    انویسٹی گیشن پولیس نے مفتی عزیز الرحمان کے دو بیٹوں کو بھی گرفتار کرلیا، جب کہ تفتیش کار مفتی عزیز کے تیسرے بیٹے لطیف الرحمان اور ان کے دوست عبداللہ کی گرفتاری کےلیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔

    لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ویڈیو مجبورا ہم نے دیکھی، علماء نے دیکھی، یہ ویڈیو ایسی نہیں نشہ پلا کر نہیں، حرکات و سکنات بتا رہی ہیں کہ وہ خود حرکات میں شریک ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کو نافذ کیا جائے، اور سب سے پہلے مفتی عزیز الرحمان کو شرعی سزا دی جائے، انکی سزا یہ ہے کہ انہیں مینار پاکستان سے نیچے گرایا جائے-

    پاکستان کے مدارس میں زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. ان واقعات سے مدارس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے. ہر آنے والے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے جبکہ والدین کی جانب سے بھی کافی تشویش کا اظہات کا جا رہا ہے دوسری جانب عوام غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مفتی عزیز کوسر عام پھانسی دی ے کا مطالبہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ #زانیکوسرعاملٹکاؤ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے-


    باغی ٹی وی کے سینئیر ایڈیٹر اور صحافی طہ منیب نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ جرم کی تشہیر کی بجائے سزا کی تشہیر جرائم کی روک تھام کا سبب بنتی ہے، اسلام بھی ہمیں اسی چیز کی رہنمائی کرتا ہے۔ سزا کی تشہیر میں مجرم کا عبرت کا نشان بننا باقیوں کی اصلاح کا باعث بنتا ہے اور اسی سے خیر و برکت بھی اترتی ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ مفتی عزیز کو سرعام پھانسی دی جائے-


    https://twitter.com/Catalyst_66/status/1406516148598870017?s=20
    https://twitter.com/itsziddii2/status/1406521864420274179?s=20


    https://twitter.com/KhanNia389/status/1406530490530598916?s=20


    https://twitter.com/MuhammadZamanPK/status/1406522227449905154?s=20

     

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

    مفتی ویڈیو سیکنڈل،لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے ایسی سزا تجویز کی کہ مولانا فضل الرحمان دیکھتے رہ گئے

    مفتی عزیز الرحمن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے مفتی پوپلزئی نے حکومت سے مطالبہ کردیا

    مفتی عزیزالرحمان کے متعلق پولیس نے بڑا دعویٰ کردیا

    ویڈیو سیکنڈل، پولیس کو ملی کامیابی ۔مفتی عزیز الرحمان گرفتار

  • کرونا ابھی گیا نہیں‌ ڈینگی بھی سر اٹھانے لگا

    کرونا ابھی گیا نہیں‌ ڈینگی بھی سر اٹھانے لگا

    کرونا ابھی گیا نہیں‌ ڈینگی بھی سر اٹھانے لگا

    باغی ٹی وی : سیکریٹری پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کے مطابق پنجاب میں گزشتہ24گھنٹوں میں ڈینگی کاایک کیس رپورٹ ہوگیا . گزشتہ24گھنٹوں میں پنجاب بھرمیں25487 مقامات پرسرویلنس کی کارروائیاں کی گئیں. 12مقامات پرڈینگی لارواکی موجودگی کی تصدیق ہوئی،

    ادھر نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید37 اموات ہوئی ہیں.

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 41 ہزار65 نئے ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار 50 نئے کیسز سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً2.55 فی صد رہی.

  • تالے توڑ کر چوری کرنے والا گینگ گرفتار

    تالے توڑ کر چوری کرنے والا گینگ گرفتار

    انویسٹی گیشن پولیس کینٹ ڈویژنزنے چور گینگ کو گرفتار کرلیا،

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال خان کی ہدایات پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئیں،

    ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ نوید ارشاد نے بتایا، گھروں اور دکانوں میں چوری کرنیوالے زینی گینگ کے 02ملزمان کو گرفتار کیا گیا ھے،ملزمان میں زین العابدین عرف زینی اورعمار شامل ھیں،ملزمان سے چوری کی گئی موٹرسائیکل،3موبائل فونز اور نقدی برآمد کی گئی ھیں،ملزمان رات کے وقت گھروں اور دکانوں کے تالے توڑ کر قیمتی اشیاء چوری کرکے فرار ہو جاتے تھے،ایس ڈی پی او ڈیفنس سرکل غلام دستگیر کی سربراہی میں انچارج انویسٹی گیشن ڈیفنس اے محمد سرورنےملزمان کو گرفتار کیا.

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال خان نے کھا کھ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی اور ان کی طرف سے ڈیفنس اے پولیس ٹیم کو شاباش دی گئی.

  • راشدی گینگ کا سرغنھ ساتھی سمیت گرفتار

    راشدی گینگ کا سرغنھ ساتھی سمیت گرفتار

    انویسٹی گیشن پولیس ٹبی سٹی نے چور گینگ کو گرفتار کرلیا،

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال خان کی ہدایات پر جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا،

    ایس پی انویسٹی گیشن سٹی نے بتایا، چوری کی وارداتوں میں ملوث راشدی گینگ کے 2ملزمان گرفتار کر لئے گئے،ملزمان میں گینگ کا سرغنہ راشد عرف راشدی اور عثمان شامل ھیں،ملزمان سے ایک لاکھ 29ہزار روپے، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء برآمد ھوئےھیں،ملزمان کے خلاف لاہور کے مختلف تھانوں میں چوری کے متعددمقدمات ٹریس کئے جارھے ھیں،ملزمان گھروں اور دکانوں میں چوری کی وارداتیں کرتے تھے،انچارج انویسٹی گیشن ٹبی سٹی محمد رمضان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی.

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی طرف سے ملزمان کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش دی گئ.

  • بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    بحریہ نہیں سندھ بچاؤ ، لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ

    گزشتہ روز لاہور میں بھی سندھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا احتجا میں بچاؤ بچاؤ سندھ بچاؤ کے سلوگن لگائے گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 18 جون جمعہ کو پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، حقوقِ خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھیوں کی زمینوں پر قبضے، گجر نالہ اور اوورنگی نالہ کاروائی میں عوام کی گھروں سے بے دخلی اور ہزاروں سندھی سیاسی و سماجی کارکنان پر مقدمات کے خلاف جبکہ جانی خیل دھرنے کے لواحقین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے پریس کلب لاہور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرے میں سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سندھ سے لاھور آ کر خصوصی شرکت کی یہ احتجاجی مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پریس کلب لاہور کے اطراف میں ریلی بھی نکالی گئی-

    ریلی کے دوران سندھی عوام کی زمینوں پر قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ یہ ریلی شملہ پہاڑی کے اطراف میں نکالی گئی جس میں بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کی سندھی عوام کے خلاف انتقامی کاروائیوں اور سندھ میں سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف جاری کریک ڈاون کو فی الفور بند کیا جائے جبکہ تمام اسیر کارکنان کو رہا کیا جائے مزید یہ کہ گجر نالے اور بحریہ ٹاون قبضہ کے متاثرین کو نہ صرف ان کی زمینیں واپس کی جائیں بلکہ بحریہ ٹاون انتظامیہ اور دیگر ملوث ارکان اور اداروں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے۔

    ٔٔپاک سرزمین پارٹی نے بحریہ ٹاون پرپیش آنے والے واقعہ پرکس کوذمہ دارقراردیا،اہم خبرآگئی

    ریلی سے خطاب کرنے والوں میں سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماء اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر جگدیش آہوجا، حقوق خلق موومنٹ کے رہنماء فاروق طارق، ثنا اللہ امان، مزمل خان، حیدر بٹ، بلال ظہور، عائشہ احمد، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی اور سندھ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے رہنماء ظفر بگٹی نے خطاب کیا۔

    فاروق طارق نے کہا پنجاب کے ترقی پسند عوام نے آج لاھور میں سندھیوں سے یک جہتی مظاہرہ کر کے پاکستان کے مظلوم عوام کے اتحاد کو فروغ دیا ہے، ہم سندھ کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے پنجاب اپنے سندھیوں بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

    جگدیش آہوجا نے کہا کہ سندھی عوام کے پرامن لاکھوں کے مجمعے پر آنسو گیس کے شیل چلا کر سندھ کی بیٹیوں، قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کو پیغام دیا کہ ملک ریاض اور زرداری کے خلاف مزاحمتی تحریک برداشت نہیں کی جائے گی، سندھ کے عوام نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن پر واضع کر دیا کہ ان کی زمینوں پر قبضے اور دہشت گردی کے سامنے سندھی قوم کبھی نہیں جھکے گی۔

    سندھ کے وسائل سے مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور بحریہ ٹاؤن قبضہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں شہریوں سے زمینں خالی کروا کر پراپرٹی ڈیلروں کو دی جا رہی ہیں جبکہ اندرونی علاقوں میں سندھ کی ندیوں اور پہاڑوں پر قبضہ کر کے انہیں ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مصنوعی طریقہ سے پانی کا رخ تبدیل کر کے لوگوں کی زمینیں بنجر کی جا رہیں ہیں۔ ہم اس ظلم پر کسی صورت چپ نہیں بیٹھیں گے اور آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ اگر زیادتیوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ان احتجاجی مظاہروں کو ملک گیر سطح پر بھی منظم کیا جائے گا۔

    بحریہ ٹاؤن واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر

    ‎پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی نے بحریہ ٹاون کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام پر دوہرا ظلم جاری ہے، ایک طرف ان کو گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مقدمات بھی انھیں کے خلاف بنائے جا رہے ہیں۔ جو ایک انتہائی شرمناک قدم ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیاسی کارکنان پر جاری کریک ڈاؤن نے پیپلز پارٹی کے ترقی پسند اور عوامی پارٹی ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ملک ریاض جیسے سرمایہ داروں کے سہولت کار ہیں۔

    ‎عورت مارچ کی ترجمان شمائلہ کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور سندھ گورنمنٹ کے رویہ کی مزمت کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زمینیں واپس کی جائیں اور تمام سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ سندھ سے آنے والے وفد میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری مختار میمن اور منیر نائچ بھی شامل تھے احتجاج میں سندھ گریجویٹس ایسوی ایشن لاھور برانچ کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

    احتجاج میں لاہور کی کچی آبادیوں سے بڑی تعداد میں مزدوروں اور خواتین نے شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ ہر جگہ پس رہے ہیں چاہے پنجاب میں راوی ریور پروجیکٹ کے نام پر ان کا استحصال کیا جائے یا سندھ میں ترقی کے نام ہر غریبوں کے گھر مسمار کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دکھ سانجھے ہیں اور ہمیں مل کر اس استحصالی نظام کے خلاف لڑنا ہے۔

    واضح رہے کہ 17 جون کو بحریہ ٹاؤن واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی تھیدرخواست عوامی تحریک کے رہنما ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو کی جانب سے دائر کی گئی تھی لیکن عدالت نے فوری سماعت کیلئے استدعا کی درخواست مسترد کردی تھی ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو نے الزام لگایا تھا کہ اس واقعے میں پیپلز پارٹی خود شامل ہے لوگوں کے خلاف دھڑا دھڑ مقدمات ہو رہے ہیں، پورے واقعے پر جوڈیشل انکوائری کرائی جائے-

    درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ بے گناہ لوگوں کو جس طرح گرفتار کیا جا رہا ہے یہ غیر قانونی عمل ہے-

    اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں۔

    سرکار کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں ایس ایچ او گڈاپ پولیس سٹیشن انسپکٹر اشرف جان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سندھ یونائیٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ محاذ، جئے سندھ قوم پرست پارٹی، قومی عوامی تحریک و دیگر قوم پرست تنظیموں نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا اور 6 جون کو پارٹی رہنما اور کارکن گاڑیوں میں ٹولیوں کی صورت میں بحریہ ٹاؤن کے سامنے ایم نائن پر دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب پہنچا شروع ہوئے تھے-

    مدعی کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ’پاکستان نہ کھپے‘ کے نعرے لگوائے اور سرکاری اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، جو قابل گرفت جرم ہے۔

    پولیس نے ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی سیکشن سات، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی (پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کرنا) اور کارِ سرکار میں مداخلت ڈالنے کے الزامات کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

    جس کے بعد کراچی پولیس نے 80 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی تھے بعد ازاں پولیس نے انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا-

    بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے بھی پولیس کے موقف سے ملتے جلتے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا گیا تھا بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ بحریہ میں بحیثیت سکیورٹی مینیجر تعینات ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، جلال محمود شاہ، صنعان قریشی، جان محمد جونیجو اور دیگر رہنما اپنے آٹھ سے دس ہزار کارکنوں کے ساتھ پہنچے اور اپنی تقاریر میں بحریہ کی زمین پر قبضہ کی دھمکیاں اور اپنے کارکنوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہے۔

    مدعی کے مطابق مشتعل لوگوں نے بحریہ کے مین گیٹ کے باہر کنٹینروں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور خار دار تاروں کو کاٹ کر سکیورٹی سٹاف کو زد وکوب کیا اور آتش گیر مادہ پھینک کر مین گیٹ کو آگ لگا دی، اس دوران ہوائی فائرنگ کر کے دہشت پھیلائی گئی۔

    درخواست کے مطابق 400 سے 500 کے قریب لوگ اندر داخل ہو گئے جن میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، شیر لاشاری، جان شیر جوکھیو، مراد گبول، علی حسن جوکھیو، داد کریم، گل حسن کلمتی( کراچی کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف) ،جھانزیب کلمتی، جلال محمود شاہ، ریاض چانڈیو، سجاد چانڈیو، اسلم خیرپوری، ظفر حسین، زین شاہ، صنعان قریشی، یعقوب خاصخیلی، سلام سولنگی قدوس شیخ اندر داخل ہوئے اور کمرشل ایریا میں توحید اسکوائر کے نزدیک توڑ پھوڑ کی، آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی اور سٹور روم اور اس کے اندر موجود گاڑیوں کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔

  • فرد جرم عائد کرنے کے لئے عدالت نے صوبائی وزیر کو طلب کر لیا

    فرد جرم عائد کرنے کے لئے عدالت نے صوبائی وزیر کو طلب کر لیا

    فرد جرم عائد کرنے کے لئے عدالت نے صوبائی وزیر کو طلب کر لیا
    احتساب عدالت لاہور میں چنیوٹ آئرن ریفرنس کی سماعت 17جولائی تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے آئندہ سماعت پر فرد جرم کی کارروائی کیلئے صوبائی وزیر سبطین خان کوطلب کر لیا ،عدالت نے شریک ملزم ارشد وحید کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ سال 14 جون کو نیب لاہور نے سبطین خان کو غیر قانونی ٹھیکوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ وہ میانوالی پی پی 88 چار سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور پھر وزیر جنگلات وجنگلی حیات بنے۔ ماہ ستمبر میں انہیں لاہور ہائیکورٹ نے رہا کیا تھا،لاہورہائی کورٹ نے 50لاکھ روپے کے 2مچلکوں کےعوض ضمانت منظورکی تھی .

    چوہدری برادران کے دور میں اربوں کی کرپشن کرنیوالے صوبائی وزیر جنگلات گرفتار

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    نیب نے سبطین خان کو گرفتار کیا تو انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا. صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان نے سیاست کا آغاز 90 کی دہائی میں کیا، وہ 1990 سے 93 سے پنجاب اسمبلی کے رکن رہے اور ساتھ میں صوبائی وزیر جیل خانہ جات بھی تھے، چوہدری برادران کی جب حکومت بنی تو وہ وزیر معدنیات بنے، گزشتہ الیکشن میں صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور الیکشن جیتے، تحریک انصاف نے انہیں صوبائی وزیر بنا یا تھا.

    قبل ازیں احتساب عدالت لاہور میں صاف پانی ضمنی ریفرنس کیس کی سماعت 17جولائی تک ملتوی کر دی گئی ،عدالت نے شہباز شریف کے داماد علی عمران اور بیٹی رابعہ کے اثاثوں کی تفصیلات آئندہ سماعت پر طلب کر لیں عدالت نے صاف پانی ضمنی ریفرنس میں علی عمران اوربیٹی رابعہ کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

  • این آر او نہ دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے جہانگیر ترین کو دے ہی دیا،رانا ثناء اللہ

    این آر او نہ دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے جہانگیر ترین کو دے ہی دیا،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ایف آئی اے افسرا ن سے کہتاہوں کہ سازش کاحصہ نہ بنیں،

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے ،ملک میں احتساب کا ڈرامہ چل رہا ہے ،نیب سے کچھ نہیں بن پایا تو ایف آئی اے کو آگے  لے آئے،این آر او نہ دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے جہانگیر ترین کو دے ہی دیا،جہانگیر ترین کو این آر او بجٹ پاس کروانے کے لیے دیا گیا،حکومت نے 3 سال میں انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ نہیں کیا اس احتساب پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، جہانگیر ترین کیخلاف بھی انتقامی کارروائی ہورہی تھی،

    قبل ازیں منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر ن لیگی رہنما و کارکنان بھی انکے ہمراہ تھے، پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ،عدالت نے مختصر سماعت کے بعد نئی تاریخ دی، رانا ثناء اللہ منشیات کیس کی سماعت اب 31 جولائی کو ہو گی

    رانا ثنا اللہ کے خلاف سی این ایس اے 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت کیس درج کیا گیا،رانا ثناءاللہ کی لاہور ہائی کورٹ سے 24 دسمبر 2019 کو درخواست ضمانت منظور کر لی گئی تھی رانا ثناءاللہ اس کیس میں تقریبا چھ ماہ جیل میں قید رہے تھے رانا ثناء اللہ کو اے این ایف حکام نے یکم جولائی 2019 کو موٹر وے پر ناکہ لگا کر منشیات کی بھاری مقدار کے ساتھ گرفتار کیا تھا،

    شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

    شہباز شریف خاندان کے کتنے افراد اشتہاری قرار دے دیئے گئے؟

    شہباز شریف کا عدالت پیشی کے موقع پر کس شخصیت سے ہوا ٹیلی فونک رابطہ؟

    شہباز شریف کی جیل میں طبیعت ناساز، 8 رکنی میڈیکل بورڈ جیل پہنچ گیا

    سینیٹ انتخابات، شہباز شریف سے کون کونسی اہم شخصیات ملنے پہنچ گئیں؟

    شہباز شریف کے کتنے ارب اثاثوں کی تفصیلات نہیں مل رہیں؟ نیب کا عدالت میں انکشاف

  • فیاض الحسن چوہان کا ایوان سے واک آؤٹ ،ڈپٹی اسپیکر سے ناراضگی کا اظہار، وجہ کیا بنی؟

    فیاض الحسن چوہان کا ایوان سے واک آؤٹ ،ڈپٹی اسپیکر سے ناراضگی کا اظہار، وجہ کیا بنی؟

    لاہور: صوبائی وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے،ڈپٹی اسپیکر نے فیاض الحسن چوہان کو نقطہء اعتراض پر بولنے نہ دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فیاض الحسن چوہان پیپلز پارٹی کے حسن مرتضی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    فیاض الحق کا کہنا تھا کہ حسن مرتضی نے پی ٹی آئی پر غلط تنقید کی یہ اس پر معافی مانگیں ،ڈپٹی اسپیکر نے فیاض الحسن کو بات کرنے سے روکا تو وہ احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے-

    بعد ازاں میڈیا ست گفتگو کرتے ہوئے فیض الحسن نے کہا کہ ا بھی اسمبلی سے واک آؤٹ کر کے باہر آیا ہوں اس کی کیاوجوہات ہیں-

    انہوں نے اپنے اس احتجاج کے بارے میں بتایا کہ شیخ راحیل اصغر نے اپنی کالک پورے پنجاب کے عوام کے منہ پر لگائی میرا یہ اسمبلی کا دوسرا دور ہے آج پہلی مرتبہ میں نے واک آؤٹ کیا ہے۔

    حسن مرتضی نے پاکستان کی محنت کش طبقے کو کمی کہا میں نے ان کا لطیفہ خاموشی سے سنا میں نے سپیکر سے کہا کہ حسن مرتضی نے لاکھوں ایسے لوگوں کا دل دکھایا ہے جو محنت کش ہیں-

    فیاض الحسن کے مطابق میں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ حسن مرتضی ان باتوں پر معافی مانگے حسن مرتضی نے ڈھٹائی سے معافی مانگنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ مجھے پوائینٹس آف آرڈر پر بولنے کا بھی موقع نہیں ملا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ لاڈکانہ والوں کا دور نہیں اس پر معافی مانگی جائے شیخ روحیل اصغر کو کہوں گا کہ بابا بلھے شاہ اور میاں محمد بخش کی سرزمین پر کوئی گالی نکالنے والا نہیں انہوں نے اپنی غلطی کو پورے پنجاب کے سر پر ملنے کی کوشیش کی۔

    علی نواز اعوان نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی رات ہی معافی مانگ لی تھی پاکستان میں میراثی فنکار ہیں کوئی کمی نہیں ہے میں حسن مرتضی کو کہوں گا کہ وہ شیخ راحیل اصغر نہ بنیں میری پاکستانیت کو ٹھیس پہنچی ہے میرا احتجاج حسن مرتضی اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف ہے-

  • منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے جوڑے کی سزا معطل

    منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے جوڑے کی سزا معطل

    منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے جوڑے کی سزا معطل
    لاہور ہائیکورٹ نے منشیات سمگلنگ کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے جوڑے کی سزا معطل کر دی ہے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے جوڑے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ احمد علی اور ریحانہ کوثر کو سیشن عدالت ساہیوال نے 2011 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے ثبوتوں کی دوبارہ تشخیص کے لیے اپیل کو سماعت کے لیے منظور کیا۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کے وکیل نے استغاثہ کے کیس میں نقائص کی بھی نشاندہی کی، اس کیس کے بے نتیجہ ہونے کا تاثر بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ملزمان 2011 سے جیل میں ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے تک عدالت سزا معطل کرتی ہے۔

    عدالت نے ملزمان کو ضمانت کے لیے 5 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔