Baaghi TV

Category: لاہور

  • سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ کے گھرپر فائرنگ، افشاں لطیف تھانے پہنچ گئی

    سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ کے گھرپر فائرنگ، افشاں لطیف تھانے پہنچ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ افشاں لطیف کے گھر پر مبینہ طور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    پولیس کے مطابق سابق سپرٹنڈنٹ کاشانہ افشاں لطیف کے گھر کے باہر فائرنگ ہوئی، نامعلوم ملزمان فائرنگ کرکے فرارہو گئے۔افشاں لطیف نے پولیس کو بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ دس دن قبل بھی پیش آیا تھا اور آج بھی فائرنگ کا ویسا ہی واقعہ پیش آیا، ون فائیو پر کال کرنے پرپولیس موقع پر پہنچی اور کاشانہ کے سیکیورٹی اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جبکہ گھر کے باہرسات سے آٹھ گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے لئے درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کرلیا جائےگا۔ افشاں لطیف نے پولیس کو اندراج مقدمہ کے لئے درخواست دے دی ہے.

    واضح رہے کہ کاشانہ سکینڈل میں سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ کاشانہ سکینڈل میں انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کسی بچی سے زیادتی یا بچیوں کو کہیں بھجوانے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔چیئرمین سی ایم آئی ٹی ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے سابق صوبائی وزیر پر لگائے گئے کئی الزامات کی تحقیقات کی لیکن الزامات درست ثابت نہیں ہوئے.

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں یتیم کمسن بچیوں کی شادی نہ کروانے کے جرم میں کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کو گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاری کے وقت افشاں لطیف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے شوہر سمیت گرفتار کیا جا رہا ہے۔مجھے نہیں معلوم اب مجھے کہا لے کر جایا جائے گا اب یہ بچیاں آپ سب کی ذمہ داری ہیں۔ بعد ازاں افشاں لطیف کو رہا کر دیا گیا

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر کا شانہ کے بارے میں وائرل ہونے والی ویڈیوکے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے رپورٹ طلب کر لی ہے-وزیراعلیٰ نے حکم دیاہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور الزامات کی مکمل چھان بین کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں -وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی- کاشانہ میں رہائش پذیر بچیو ں کومکمل تحفظ دیں گے اور میں بے آسرا بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کروں گا-

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

    کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

    قبل ازیں افشاں لطیف نے کاشانہ معاملے پر مدد کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام بھی ایک خط لکھا تھا جس میں اپنے متعلق سیکیورٹی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا،خط میں انہوں نے لکھا کہ یتیم بچیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو سامنے لانے کی سزا دی جارہی ہے اور مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سارے الزامات واپس لوں۔انہوں نے مزید لکھا کہ میری فیملی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لہٰذا فیملی اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

     

  • آپ ایک عظیم باپ کے بیٹے ہیں،یہ "کام” نہ کریں، چودھری شجاعت کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ

    آپ ایک عظیم باپ کے بیٹے ہیں،یہ "کام” نہ کریں، چودھری شجاعت کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ

    آپ ایک عظیم باپ کے بیٹے ہیں،یہ "کام” نہ کریں، چودھری شجاعت کا مولانا فضل الرحمان کو مشورہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے سربراہ، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے.

    چودھری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس وقت ملک میں نئے کٹے نہیں کھولنے چاہئیں،ملک مشکلات میں ہے ،آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے،آپ ایک عظیم باپ کے بیٹے ہیں، آپ کے والد نے ملک کی مضبوطی کی تحریکوں میں حصہ لیا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے لئے باہر نکلتے ہیں، موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے

    ن لیگ کی ناراض "مولانا ” کو ایک بار پھر منانے کی کوشش

    واضح رہے کہ جب مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کیا تھا تب چودھری برادران نے ہی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں کی تھیں اور مولانا نے آزادی مارچ کا پلان بی اور سی دے کر مارچ ختم کر دیا تھا اور کہاتھا کہ حکومت ختم ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی، دسمبر جنوری گزر گئے ابھی تک مولانا فضل الرحمان کی یقین دہانی پوری نہین ہوئی جس کی وجہ سے وہ بے چین ہیں.

    چند روز قبل اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں مولانا فضل الرحمان نے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو دعوت نہیں دی تھی ،ا ب جو تحریک چلائی جائے گی دونوں بڑی جماعتوں کے بغیر چلائی جائے گی.

     

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے وہ کس کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے،صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے خود کہا کہ وہ کسی ایجنڈے کے تحت حکومت گرانے آئے تھے اور انہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا۔جمہوری حکومت کیخلاف سازش پر آرٹیکل 6لگنا چاہئے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ فضل الرحمان کو کس نے یقین دہانی کرائی۔

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

     

  • عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عورت مارچ کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں خواتین سڑکوں‌ پر نکل آئیں

    پنجاب کے شہروں گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد سمیت دیگر میں خواتین سڑکوں پر آئیں اور عورت مارچ کے خلاف نعرے بازی کی، گوجوانوالہ میں برقع پوش خواتین نے جی ٹی روڈ پر عورت مارچ کے خلاف اجتجاجی ریلی نکالی،ریلی کی شرکانے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھےتھے جن پر عورت مارچ کے خلاف نعرے درج تھے.

    میرا جسم میری مرضی، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، عورت مارچ منتظمین کو دی "دعوت”

    عورت مارچ کا توڑ،مذہبی جماعتوں نے 8 مارچ کو پیغام شرم و حیا ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    گجرات میں بھی برقع پوش خواتین نے عورت مارچ کے خلاف احتجاج کیا،اس موقع پر خواتین کا کہنا تھا کہ عورت کو اسلام نے حقوق دیئے ہیں، اسلام پر عمل کر کے ہی عورت کو کامیابی مل سکتی ہے، مغربی تہذیب سے متاثر عورتیں پاکستان کو فحاشی کا اڈہ بنانی چاہتی ہیں جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں.

    خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر میں باپردہ ہوں میں گھر کی ملکہ ہوں، بے حیائی مارچ نا منظور، شرم کرو حیا کرو، اپنی عزت کا دفاع کروجیسے نعرے درج تھے

    فیصل آباد میں بھی عورت مارچ کے خلاف خواتین نے احتجاج کیا، اور عورت مارچ پر پابندی کا مطالبہ کیا.

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

  • جنوبی پنجاب صوبہ، شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا اعلان

    جنوبی پنجاب صوبہ، شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا اعلان

    جنوبی پنجاب صوبہ، شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال او رجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو سیاسی وعدوں سے بہلایا گیا۔ سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کے نام پر لئے گئے فنڈ اپنے حلقوں پر لگائے۔ جنوبی پنجاب کے عوام نے ترقی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عام انتخابات میں بری طرح مسترد کیا۔تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں شاندار مینڈیٹ ملا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ہم اس مینڈیٹ کی لاج رکھیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے گئے وعدے ہر صورت نبھائے گی۔ جنوبی پنجاب کے عوام کوان کا حق لوٹائیں گے۔جنوبی پنجاب کا ہر ضلع، ہر شہر اور ہر گاؤں ترقی کے عمل میں شریک ہوگا۔ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم باب بند کردیا ہے۔

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پورا فوکس ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے لئے انتظامی لحاظ سے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیاجائے گا۔دیہات تک رسائی پراجیکٹ کے تحت دیہی علاقوں کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جائے گی۔ جنوبی پنجاب میں نئے ہسپتال، کالج او ریونیورسٹیاں بنائیں گے۔ ہمارا ایجنڈا صرف عوام کی خدمت ہے۔ عام آدمی کی خوشحالی کے سفر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

  • شہباز شریف کا دوست ہوں، اس نے کہا میری بیماری میری مرضی، شیخ رشید

    شہباز شریف کا دوست ہوں، اس نے کہا میری بیماری میری مرضی، شیخ رشید

    شہباز شریف کا دوست ہوں، اس نے کہا میری بیماری میری مرضی، شیخ رشید
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ریلوے کا قلمدان ایم ایل ون کی وجہ سے لیا تھا، 72 برس میں پہلی بار بزنس پلان دے رہے ہیں

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ 9ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹرز میں دینے جا رہےہیں ،فری ٹریک پالیسی لا رہےہیں ،سڑک مافیا کےساتھ بھی جھگڑا ہے،ریلوے بذات خود ایک بہت بڑا مافیا ہے ،عمران خان مصنوعی منہگائی کرنےوالوں کوشکنجےمیں لائیں گے،

    شیخ رشدی احمد نے مزید کہا کہ وزیراعظم چند روز میں معیشت سے متعلق اہم اعلان کریں گے،آٹا اور چینی چوروں کو بے نقاب کریں گے،پیسے مل گئے تو کے سی آر6ماہ میں چلا دیں گے،شہبازشریف کا دوست ہوں ،اس نے کہا میری بیماری میری مرضی،کچھ نیا نہیں ہونے جا رہا، پی پی جتنی مرضی زور لگا لے، بلاول کی دال یہ نہیں گل سکتی، پنجاب غیرتمندوں کا علاقہ ہے، ایم ایل منصوبہ میری منزل ہے اسے لئے وزارت لی اور اسے پورا کریں گے

  • خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف عالم دین ، تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی بھی خلیل الرحمان قمر کی حمایت میں کھل کر میدان میں آ گئے

    علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا جو دین کے نام پر کھاتے ہیں اور دین کی بات کرتے ہیں، ہماری محبت بھی اللہ کے لئے ہے اور دشمنی بھی اللہ کے لئے، ایک عورت ہمارے معاشرے مین کینسر پھیلانا چاہتی ہے، خلیل نے ٹھیک بات کی ، اس کو یہ بات کرنی چاہئے تھی، بعض دفعہ ایک جملہ ہی انسان کو بہت اوپر لے جاتا ہے

    میرا جسم میری مرضی، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، عورت مارچ منتظمین کو دی "دعوت”

    عورت مارچ کا توڑ،مذہبی جماعتوں نے 8 مارچ کو پیغام شرم و حیا ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    علامہ خادم حسین رضوری نے مزید کہا کہ خلیل الرحمان قمر نے اسلام کی غیرت پر بات کی مجھے امید ہے کہ اللہ اس پر رحم فرماے گا ، اس نے ساٹھ ساٹھ لاکھ مرید رکھنے والوں کو بھی مات دی جنہوں نے کبھی غیرت کی بات نہیں کی اور بے شرمی کا اخلاقیات کا نام دیا ہوا ہے، جب ایسا موقع آئے تو خلیل الرحمان قمر کی طرح ہی بات ہونی چاہئے، گونگے شیطان بن کر لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور لوگ اس کو اخلاقیات کہتے ہیں، خلیل الرحمان قمر نے مردوں والی بات کی اور یہی بات بنتی تھی، میں نے بڑی مدھم گفتگو کی ہے اس لئے کہ خلیل الرحمان قمر نے سب کی طرف سے قرض اتار دیا، بات موقع پر ہوتی ہے ،یہ ٹرک والوں کو بھی پتہ ہوتا ہے، بعد میں باتیں کرنے کا کیا فائدہ،

    علامہ خادم حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ بات وقت پر ایک کافی ہوتی ہے، ریاست مدینہ کے سربراہ کو پتہ ہی نہیں کیا ہو رہا ہے، کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا ،معلوم نہیں کہ ریاست مدینہ سے کیا مراد لیتے ہیں، اگر مدینہ پاک مراد ہو پھر عورتیں اس طرح کانفرنس نہ کر سکیں، خواتین جس طرف جا رہی ہیں اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا، اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دیں ،جب بندہ بیباک ہو جائے تو رب کی گرفت بہت سخت ہے.

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

     

  • پنجاب پولیس کے 24 ڈی ایس پیز کی ترقی کا پروانہ جاری

    پنجاب پولیس کے 24 ڈی ایس پیز کی ترقی کا پروانہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے24 ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدے پرترقی دیدی

    ترقی پانیوالوں میں فرحت حمید قریشی،ناصر محمود باجوہ ،ساجد حسین شامل ہیں، ترقی پانے والوں میں حبیب اللہ ،طاہر مقصود ،محمد اشرف،فاروق احمد،طارق عزیز سلیم احمد ،ملازم حسین ،شمس الحق ،فرخ نوید ،ظفر عباس ،شہزاد حمید ،غلام حسین چوہان شامل ہیں

    ڈی ایس پیز کی ترقی کا نوٹفکیشن جاری کا دیا گیا ہے، انہیں ترقی ملنے پر ان کے تبادلوں کا امکان ہے، انہیں پنجاب میں مختلف اضلاع میں تعینات کیا جائے گا، اس حوالہ سے جلد آئی جی پنجاب احکامات دیں گے

  • رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی، عدالت پیشی کے موقع پر عورت مارچ بارے کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی، عدالت پیشی کے موقع پر عورت مارچ بارے کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی، عدالت پیشی کے موقع پر عورت مارچ بارے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے انسداد منشیات عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں کو میرے خلاف بیان دینے کیلیے مجبور کیا گیا،ریکارڈ کیا گیا بیان ہمیں فراہم نہیں کیا گیا،شہبازشریف مارچ کے آخر تک وطن واپس آئیں گے،شہبازشریف واپس آکر اپنا کردار ادا کریں گے،

    رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ ملک میں لوگوں کے کاروبار متاثر ہو گئے،مارچ میں نوازشریف کا علاج ہو جائے گا،شہبازشریف واپس آئیں گے،خواتین کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں ،مارچ ہونا چاہیے،اسلام نے خواتین کو حقوق دیئے ہیں خواتین کے حقوق کے حق میں ہیں ،مارچ ہونا چاہیے حق ملنا چاہیے ،

    قبل ازیں انسداد منشیات عدالت میں رانا ثناء اللہ کے کیس بارے سماعت ہوئی،انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے گواہوں کے بیانات کی درخواست پر فریقین کے وکلا کو بحث کیلیے طلب کرلیا،رانا ثنااللہ نے گواہوں کے بیانات کی کاپی فراہم کرنے کی درخواست دائر کردی

    عدالت میں رانا ثنااللہ کے شریک ملزم عثمان فاروق نے نئے وکیل کا وکالت نامے جمع کروا دیا،فاضل جج نے کہا کہ ملزمان پر فردجرم عائد کرنی ہے جس پر وکلا نے کہا کہ ہمیں تمام کیس پڑھنا ہے اس کے بعد فردجرم عائد کی جائے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کے وکلا فرد جرم عائد کرنے سےمتعلق عدالتی وقت ضائع کررہے ہیں،فرد جرم عائد ہو اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو

    عدالت نے کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کر دی

  • ملزموں کو ترقیاں ملنے پر وزیراعظم کو مبارکباد دینے کیلئے الفاظ نہیں مل رہے:ڈاکٹر طاہرالقادری

    ملزموں کو ترقیاں ملنے پر وزیراعظم کو مبارکباد دینے کیلئے الفاظ نہیں مل رہے:ڈاکٹر طاہرالقادری

    ملزموں کو ترقیاں ملنے پر وزیراعظم کو مبارکباد دینے کیلئے الفاظ نہیں مل رہے:ڈاکٹر طاہرالقادری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ڈاکٹر توقیر شاہ سمیت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تمام ملزم اور چھوٹے بڑے کردار پہلے سے بہتر عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں، سابق دور حکومت میں سانحہ کے ملزم حکومت بدلنے پر اپنی گرفت ہونے کے خوف میں مبتلا تھے آج پرکشش تعیناتیاں ملنے پر وہ بے خوف ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کو ترقیاں ملنے اور شاندار تبدیلی پر وزیراعظم کو مبارکباد دینے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے قانونی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ خصوصی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے وکلاء نے انہیں اے ٹی سی، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء اپیلوں اور استغاثہ پر بریفنگ دی۔

    ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ عمران خان بطور اپوزیشن رہنما اپنے جلسوں، بیانات اور پریس کانفرنسوں میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کو سزا دلوانے کی بات کرتے تھے،حکومت ملنے کے بعدمظلوموں کو انصاف دینا دور کی بات سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے سوا سو کارکنوں کو انہی کے دور حکومت میں سزائیں سنائی گئیں او روہ پانچ سال اور سات سال کے لیے جیلوں میں بند اور ناکردہ گناہوں کی سزابھگت رہے ہیں۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ تبدیل شدہ دور حکومت میں کرپشن کیسز میں سزا یافتہ مشکوک دولت مند مریضوں کو ریلیف دینے کے لیے چھٹی والے دن بھی دفاتر کھل جاتے ہیں مگر سلطان جیسے بیمار غریب قیدی ڈاکٹرز کی واضح ہدایات کے باوجود علاج کی اجازت کے لیے مہینوں رلتے ہیں۔

    خرم نواز گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر توقیر شاہ 14 بے گناہوں کے قتل کا مرکزی کردار ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار ڈاکٹر توقیر شاہ کی تعیناتی پر حیرت ہے:سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کرداروں کو موجودہ دور میں بھی اہم عہدوں سے نوازا جا رہا ہے، باقر نجفی رپورٹ کے مطابق توقیر شاہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں رابطہ کار کا کردار ادا کیا:

    واضح رہے کہ وفاقی سیکریٹری قومی صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک کو عہدے سے ہٹادیا گیا توقیر شاہ ایڈیشنل سیکریٹری انچارج وزارت قومی صحت مقرر کر دئئے گئے توقیر شاہ شہبازشریف کے سیکریٹری تعینات رہے ان پر سانحہ ماڈل ٹاون کا اہم کردار ہونے کا الزام ہے

  • میرا جسم میری مرضی، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، عورت مارچ منتظمین کو دی "دعوت”

    میرا جسم میری مرضی، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، عورت مارچ منتظمین کو دی "دعوت”

    میرا جسم میری مرضی، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، عورت مارچ منتظمین کو دی "دعوت”

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل عورت مارچ کے منتظمین کو خواتین کو وراثت کا حق دینے، ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹوں ، جہیز اور گھریلو تشدد کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی دعوت دیتی ہے،

    علامہ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی اور پاکستانی اقدار کے خلاف نعروں سے ملک میں صورتحال کشیدہ ہورہی ہے،پاکستان کی نظریاتی اساس اور معاشرتی اقدار کو پامال کرنے والےملک و قوم کےخیرخواہ نہیں ہوسکتے،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘جیسے بیہودہ نعروں کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایسی سوچ اور ذہنیت رکھنے والے لوگ فکری انتشار کا شکار اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنےکی کوشش کر رہے ہیں،ملک میں اس نئے فتنے کی وجہ سے تصادم کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے.

    علامہ طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ جسم اللہ کی امانت ہے،اس پر اللہ ہی کی مرضی چلے گی ،اس کے علاوہ جو بات بھی کی جائے گی وہ اللہ کی نافرمانی اور بغاوت ہوگی،میرا جسم میری مرضی کابیہودہ نعرہ لگانے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ عورت کے وراثت میں حق کی بات کریں،جہیز کی لعنت پر آواز اٹھائیں،عورت کی تعلیم و تربیت کی بات کریں۔

    علامہ طاہر محمود اشریف کا مزید کہنا تھا کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ لگانے والے چند افراد عورتوں کے حقوق کے نام پر بےراہ روی کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان شاء اللہ پاکستان جیسے معاشرے میں ممکن نہیں۔ نظریہ پاکستان ، ہماری تہذیب اور کلچرسے بیزارچند عناصرناصرف معاشرتی اقدار کو پامال کر رہےہیں بلکہ ہمارے مضبوط خاندانی نظام کی جڑوں کو کاٹنے کے درپے ہیں،انہیں کسی صورت ایسے بیہودہ پروگراموں کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے ہماری اقدار پامال ہوں ،اس تصادم کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے پوری قوم کو متحدہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہیے ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے خلاف دائر کی گئی اسلام آباد کے 8 شہریوں کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر اسے خارج کردیا۔

    خیال رہے کہ خواتین رہنماؤں نے لاہور سمیت اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر 8 مارچ کو عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور پاکستان میں گزشتہ 2 سال سے ان مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    اس سال ’عورت مارچ‘ شروع ہونے سے قبل ہی اس پر بحث شروع ہوگئی ہے اور جہاں کئی افراد اس مارچ کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں کچھ افراد اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔

    عورت مارچ کی حمایت کرنے والے افراد کا ماننا ہے کہ ’عورت مارچ‘ خواتین کی خودمختاری اور حقوق کے لیے اہم قدم ہے جب کہ اس کی مخالفت کرنے والے افراد کا مؤقف ہے کہ یہ مارچ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے، خواتین کو بے راہ روی اختیار کرنے اور فحاشی پھیلانے کا سبب ہے۔

    گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہوئی تھیں اور ان مارچ میں شامل خواتین کی جانب سے اٹھائے گئے بینرز پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

    کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ بینرز پر مختلف طقبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید بھی کی تھی۔