Baaghi TV

Category: لاہور

  • نوکریاں ہی نوکریاں‌ : پنجاب پولیس کی 10 ہزار 633 خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ

    نوکریاں ہی نوکریاں‌ : پنجاب پولیس کی 10 ہزار 633 خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ

    لاہور:نوکریاں ہی نوکریاں‌ : پنجاب پولیس کی 10 ہزار 633 خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق حکومت پنجاب نے پنجاب پولیس کی 10 ہزار 633 خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا فیصلہ کیا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب نے نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر سے رواں برس ریٹائر ہونیوالوں اور پہلے سے خالی اسامیوں کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ ایوان وزیراعلیٰ کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر قواعد و ضوابط کی روشنی میں کام کو آگے بڑھایا جائیگا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بہت جلد خالی آسامیوں کے اشتہارات دے دیئے جائیں گے ، ادھر رواں سال31 دسمبر تک ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین کی فہرستیں الگ سے فراہم کرنیکا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پٹرولنگ اور آپریشنل امور کے لیے 548 گاڑیاں خریدی جائیں گی۔

  • کنگ آف کامیڈی امان اللہ کی نماز جنازہ کونسے معروف عالم دین پڑھائیں گے؟

    کنگ آف کامیڈی امان اللہ کی نماز جنازہ کونسے معروف عالم دین پڑھائیں گے؟

    کنگ آف کامیڈی امان اللہ کی نماز جنازہ کونسے معروف عالم دین پڑھائیں گے؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف کامیڈین امان اللہ کی نماز جنازہ شام7بجےپیراگون سوسائٹی میں ادا کی جائے گی،

    کامیڈین امان اللہ کی نماز جنازہ مولانا طارق جمیل پڑھائیں گے، پہلے نماز جنازہ کا وقت نماز عصر کے بعد کا طے کیا گیا تھا، لیکن اب وقت میں تبدیلی کی گئی ہے، اب نماز جنازہ مغرب کی نماز کے بعد ادا کی جائے گی، نماز جنازہ معروف عالم دین اور تبلیغی جماعت کے رہنما مولانا طارق جمیل پڑھائیں گے

    واضح رہے کہ امان اللہ کی وفات آج دن کو ہوئی وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے،وزیراعظم عمران خان نے معروف کامیڈین امان اللہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ عمران خان نے مرحوم کے درجات کی بلندی، لواحقین کے صبر کی دعا کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا مرحوم امان اللہ سٹیج، مزاحیہ اداکاری اور ڈرامہ انڈسٹری کا قیمتی اثاثہ تھے۔

    خیال رہے امان اللہ 1950کو لاہور میں پیدا ہوئے، وہ پاکستانی سٹیج کے ایک مشہور و معروف مزاحیہ اداکار ہیں جو سٹیج کے سب سے پرانے اداکاروں میں سے ایک تھے۔

    معروف کامیڈین امان اللہ کی وفات پر وزیراعظم سمیت اہم رہنماؤں کا تعزیت کا اظہار

  • کرونا وائرس، صورتحال خراب ہوئی تو کیا پابندی لگائیں گے؟ یاسمین راشد بول پڑیں

    کرونا وائرس، صورتحال خراب ہوئی تو کیا پابندی لگائیں گے؟ یاسمین راشد بول پڑیں

    کرونا وائرس، صورتحال خراب ہوئی تو کیا پابندی لگائیں گے؟ یاسمین راشد بول پڑیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدکی زیرصدارت آج پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیزمینجمنٹ کمپنی میں اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں سپیشل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیراجمل بھٹی اورایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ عمرفاروق ودیگرافسران نے شرکت کی۔

    وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس میں پنجاب کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اورترقیاتی منصوبوں پر جاری پیش رفت کاجائزہ لیا۔سپیشل سیکرٹری اجمل بھٹی اورایڈیشنل سیکرٹری عمرفاروق نے صوبائی وزیرکوجاری ترقیاتی منصوبوں پرجاری پیش رفت کی تازہ صورتحال بارے آگاہ کیا۔

    ترقیاتی منصوبوں میں مدراینڈچائلڈہسپتال میانوالی، ساٹھ بستروں پرمشتمل ہسپتال راولپنڈی، دوسوبستروں پرمشتمل مدراینڈ چائلڈہسپتال لیہ کی تعمیر، دوسوبستروں پرمشتمل ہسپتال راجن پورکی تعمیر، مدراینڈ چائلڈہسپتال ملتان کی تعمیر، میانوالی قریشیاں رحیم یارخان دیہی صحت مرکزکی ساٹھ بستروں پرمشتمل تحصیل ہیڈکوارٹرزہسپتال میں منتقلی کیلئے اپ گریڈیشن اوردیگرمنصوبہ جات شامل ہیں۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے افسران کوترقیاتی منصوبوں کومقررہ وقت پرہرصورت مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کی تعمیرکے بعدہزاروں مریضوں کوبہترین طبی سہولیات حاصل ہوں گی۔ پنجاب میں کئی دہائیوں سے نئے ہسپتال نہ بننے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کارش دوگنا ہو چکاہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن سے مریضوں کیلئے طبی سہولیات میں اضافہ کررہے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی آسانی کیلئے تمام تروسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں۔

    قبل ازیں وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے نئی ٹیکنیکل ٹیم بنا دی ہے، جو ہر چار گھنٹے بعد اپنی رپورٹ دے گی، صورتحال خراب ہوئی تو اس ٹیم کی سفارشات پر عوامی اجتماعات اور سکول کالجز بند کرنے پر غور کیا جائے گا۔

    یاسمین راشد کا کہنا تھا کسی بھی وبا کی صورتحال روزانہ تبدیل ہوتی ہے، 82 ممالک میں کرونا وائرس پہنچ چکا ہے، اٹلی، ایران، عراق، چین میں کرونا کے کیسز زیادہ ہیں، چین میں 3 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، چین میں ہلاکتوں کی تعداد کم، دیگرممالک میں زیادہ ہوگئی ہیں، پاکستان میں اب تک 6 کیس سامنے آئے ہیں، کرونا وائرس کا چھٹا کیس کراچی سے رپورٹ ہوا۔

    یاسمین راشد کا کہنا تھا سب کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، صحت مند افراد کیلئے ماسک ضروری نہیں، متاثر افراد اور تیمارداری کرنیوالوں کیلئے ماسک ضروری ہے۔ یورالوجی ہسپتال راولپنڈی، طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ کو مختص کر دیا، 10 ہزار سے زائد افراد کو تربیت دی جاچکی ہے، وائرس کا پھیلاؤ بہت جلد ہوتا ہے، اموات کی شرح 3 فیصد سے زیادہ نہیں، ہاتھ جتنی بار دھوئیں بہتر، چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں۔

    کرونا وائرس،پاکستان نے کی ایران کے ساتھ ریل سروس معطل، شیخ رشید کا بڑا اعلان

    پاکستان میں وائرس ایران سے آیا، کتنے مزید مشتبہ مریض ہیں؟ ڈاکٹر ظفر مرزا کی بریفنگ

    ایران میں پھنسے رشتے داروں کو واپس لانے کے لئے شہری عدالت پہنچ گیا،عدالت نے کیا کہا؟

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے،وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت ایمرجنسی کور گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ ‘ ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ ‘ پاک فوج کے نمائندے اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ اجلاس میں موجود صورتحال میں ملک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اب تک 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد مسافروں کی سکریننگ کی گئی ہے’ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے وفاق ‘صوبے اور تمام ادارے مکمل تیار ہیں۔ ہم سب کو ملکر عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا

  • خلیل الرحمان قمر سے معاہدہ منسوخ ،سوشل میڈیا صارفین نے جیو بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر سے معاہدہ منسوخ ،سوشل میڈیا صارفین نے جیو بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر سے معاہدہ منسوخ ،سوشل میڈیا صارفین نے جیو بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی جیو کی جانب سے خلیل الرحمان قمر سے معافی مانگنے اور کنٹریکٹ منسوخ کرنے کی خبر کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے جیو ٹی وی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا ویب ٹویٹر پر صارفین کی جانب سے جیو ٹی وی کے بائیکاٹ کے لئے دو الگ الگ ٹرینڈ چلائے گئے جو چوبیس گھنٹے سے زائد وقت میں ٹاپ تھری میں رہے. صارفین نے خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کنٹریکٹ کا معاہدہ منسوخ کرنے پر غم و غصہ کا اظہار کیا اور جیو کے بائیکاٹ کا اعلان کیا.

    ایک‌ صارف نے لکھا کہ اگر آپ سچے پاکستانی ہو پاکستان میں بے بےحیائی اور گندگی کے خلاف ہوتوبےحیائی کو سپورٹ کرنے والے جیو چینل پر لعنت بھیج کر مکمل بائیکاٹ کرکے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے کمنٹ میں ڈن لکھیں

    ایک اور صارف نے لکھا کہ اس وقت پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ
    #BoycottGeo
    چل رہا ہے اور یہ کھلم کھلا تھپڑ ہے کہ خلیل الرحمٰن کی جیت ہوئی میرا جسم میری مرضی والے فسادی ہار گئے…قوم کو پاگل بنانے کے دن گنے اب

    ایک اور صارف نے لکھا کہ میرا خیال ہے جو جو ایکٹر اور جو چینل خلیل صاحب کا اس معاملے پر بائیکاٹ کرے عوام کو ان سب کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے…… عوام کی بھرپور حمایت حاصل خلیل الرحمٰن قمر کو…..

    ایک اور صارف نے لکھا کہ سب سے مودبانہ گزارش ہے کے جیو گروپ کو ان فالو کر کے رپوٹ کرو۔
    نہ رہے گا بانس نہ بجے گئ بانسری ۔

    https://twitter.com/hamzabutt61/status/1235785758709071873

    سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ٹویٹر پر جیو ٹی وی کے بائیکاٹ کے لئے پوسٹرز بھی شیئر کئے گئے. صارفین کی جانب سے جیو کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا انفالو کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی ہے، بڑی تعداد میں صارفین جیو کو انفالو کر رہے ہیں. جیو ٹی وی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین نے معاہدہ منسوخی کے فیصلے کو سراہا ہے جس کا اندازہ آج اسے ٹویٹر سے ہو گیا، ٹویٹر پر ایک وقت میں دو ٹرینڈ جیو بائیکاٹ کے پینل پر ہیں اور اس سے جیو کی انتظامیہ پریشان دکھائی دیتی ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جیو انٹر ٹیمنٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ ایک غیر خصوصی معاہدہ ہے جو کہ خلیل الرحمان قمر نے دیگر چینلز کے ساتھ بھی کر رکھا ہے۔جیو خیالات کے تبادلے پر یقین رکھتا ہے ،ہم جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ،خلیل الرحمان قمر نے نہ صرف ایک خاتون کو گالیاں دیں بلکہ اپنی غلطی پر معافی مانگنے سے بھی انکار کیا اس لیے جیو کی انتظامیہ نے ان کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کی شب نجی ٹی وی ’نیو‘ کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ عورت مارچ پر بحث کے دوران معروف خاتون سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔

    ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کیے جانے پر کئی سیاستدانوں، اداکاروں، سماجی رہنما اور دیگر افراد نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے رویے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ ڈراما نویس کا بائیکاٹ کیا جائے اور انہیں کسی پروگرام میں نہ بلایا جائے

    تم بکواس بند کرو،تمہارے جیسے تھرڈ کلاس سے بات نہیں کرنا چاہتی، فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی شو میں کس کو کہہ دیا؟

  • تم بکواس بند کرو،تمہارے جیسے تھرڈ کلاس سے بات نہیں کرنا چاہتی، فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی شو میں کس کو کہہ دیا؟

    تم بکواس بند کرو،تمہارے جیسے تھرڈ کلاس سے بات نہیں کرنا چاہتی، فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی شو میں کس کو کہہ دیا؟

    تم بکواس بند کرو،تمہارے جیسے تھرڈ کلاس سے بات نہیں کرنا چاہتی، فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی شو میں کس کو کہہ دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹی وی ٹاک شوز میں غیر پارلیمانی زبان کے استعمال پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے، خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد کی گفتگو پر برپا ہونے والا طوفان بدتمیزی ابھی تھما نہیں تھا کہ ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی

    نجی ٹی وی کے ٹاک شوز میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو فون پر لیا گیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ مہمان تھے، ویڈیو رضا رومی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیئر کی ہے،

    ٹاک شو کی ویڈیو میں عطاء اللہ تارڑ کہتے ہیں کہ میں کر رہا ہوں ناں جس پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ تم بکواس بند کرو تمہارے جیسے تھرڈ کلاس سے میں بات بھی نہیں کرنا چاھتی،تم اپنا منہ بند کرو اس کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کال کاٹ دی

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزارت میں ہوتے ہوئے آپ ایسی باتیں کر رہی ہیں ایک وزیر کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی،

    واضح رہے کہ ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کی شب نجی ٹی وی ’نیو‘ کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ عورت مارچ پر بحث کے دوران معروف خاتون سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا

    خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔

    ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کیے جانے پر کئی سیاستدانوں، اداکاروں، سماجی رہنما اور دیگر افراد نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے رویے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ ڈراما نویس کا بائیکاٹ کیا جائے اور انہیں کسی پروگرام میں نہ بلایا جائے

  • کنگ آف کامیڈی، امان اللہ چل بسے

    کنگ آف کامیڈی، امان اللہ چل بسے

    کنگ آف کامیڈی، امان اللہ چل بسے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف کامیڈین امان اللہ وفات پا گئے ،وہ پھیپھڑوں کی مرض میں لاحق تھے اوروہ کئی روز سے لاہور بحریہ ٹاؤن ہسپتال میں ایڈمٹ تھے

    امان اللہ کی عمر 70 برس تھی، ان کو کنگ آف کامیڈی بھی کہا جاتا ہے، امان اللہ اور مستانہ کی جوڑی نے اسٹیج ڈراموں میں دھوم مچائی ،سلجھے ہوئے انداز میں اپنے اندازے کامیڈی سے لوگوں کو محفوظ کرنے والا، لوگوں کے چہروں پر ہنسی لانے والے کردار کا اختتام ہوگیا.امان اللہ نے سینکڑوں ڈراموں میں کام کیا،

    امان اللہ کے گھر والوں نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔امان اللہ خان کے انتقال پر ملک کی تمام سیاسی ، سماجی اور شوبز شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے۔

  • پی ایس ایل میچز کی وجہ سے سارا لاہور کیوں بند ہو جاتا ہے؟ پی سی بی جواب دے ، عدالت نے لیا نوٹس

    پی ایس ایل میچز کی وجہ سے سارا لاہور کیوں بند ہو جاتا ہے؟ پی سی بی جواب دے ، عدالت نے لیا نوٹس

    پی ایس ایل میچز کی وجہ سے سارا لاہور کیوں بند ہو جاتا ہے؟ پی سی بی جواب دے ، عدالت نے لیا نوٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پی ایس ایل میچز کے دوران ٹریفک جام کا نوٹس لے لیا

    جسٹس شاہد کریم نے لاء آفیسر کو 13 مارچ کو پی سی بی اور تمام متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر پیش ہونے کا حکم دے دیا،عدالت نے پی سی بی اور سی ٹی او کو جوڈیشل واٹر کمیشن کیساتھ کل میٹنگ کر کے آئندہ سماعت پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا

    جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے، جو ہزاروں شہری پہ ایس ایل میچز کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں وہ اہم ہے، پی ایس ایل میچز کی وجہ سے سارا لاہور بند ہو جاتا ہے اور آلودگی بڑھ جاتی ہے، حکومت کو خیال ہی نہیں کہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے،

    عدالت نے کہا کہ میچز کرانے کا یہ مطلب نہیں ماحولیاتی آلودگی کو نہ دیکھا جائے،جنریٹرز چلا کر کروڑوں کا ریونیو استعمال کیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کے میچز لاہور سمیت مختلف شہروں میں ہو رہے ہیں، پی ایس ایل میچیز کے دوران سیکورٹی کے لئے مختلف شاہراہوں کو بند کیا جاتا ہے اور ٹریفک کو متبادل روٹ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شدید ٹریفک جام ہو جاتی ہے.

  • معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..

    معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..

    معاہدہ منسوخ کرنے پر خلیل الرحمان قمر نے کیا جیو ٹی وی کے خلاف بڑا اعلان، کہا زندگی بھر…..
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی چینل جیو کی جانب سے خلیل الرحمان قمر کے ساتھ معاہدہ منسوخ کرنے اور معافی مانگنے کے اعلان کے بعد خلیل الرحمان قمر بھی میدان میں آ گئے

    خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ جیوانٹر ٹیمنٹ کی جانب سے کنٹرنکٹ منسوخ کیے جانے کے آفیشل بیان کا جواب ہے جو کہ چاہتے ہیں کہ میں چند غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی فیمنسٹ کے شرمناک سلوگنز اور مذموم مقاصد کو تقویت بخشنے کیلئے ان سے معافی مانگوں ۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے نیک مقصد کیلئے قربانی دینے کا موقع ملا اور میں اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے مطابق پیش کروں ، اس لیے میں جیوکے ساتھ کنٹرنکٹ کو فی الفور منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور اپنے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنی آنے والی زندگی میں کبھی اس چینل کے ساتھ کام نہیں کروں گا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جیو انٹر ٹیمنٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ ایک غیر خصوصی معاہدہ ہے جو کہ خلیل الرحمان قمر نے دیگر چینلز کے ساتھ بھی کر رکھا ہے۔جیو خیالات کے تبادلے پر یقین رکھتا ہے ،ہم جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ،خلیل الرحمان قمر نے نہ صرف ایک خاتون کو گالیاں دیں بلکہ اپنی غلطی پر معافی مانگنے سے بھی انکار کیا اس لیے جیو کی انتظامیہ نے ان کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کی شب نجی ٹی وی ’نیو‘ کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ عورت مارچ پر بحث کے دوران معروف خاتون سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا

    خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔

    ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کیے جانے پر کئی سیاستدانوں، اداکاروں، سماجی رہنما اور دیگر افراد نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے رویے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ ڈراما نویس کا بائیکاٹ کیا جائے اور انہیں کسی پروگرام میں نہ بلایا جائے

  • میری زندگی میری مرضی ۔ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ بھی میدان میں آ گئی

    میری زندگی میری مرضی ۔ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ بھی میدان میں آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عورت مارچ کو لے کر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے ۔سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے خلاف دو دن ٹرینڈ چلتا رہا اور عورت مارچ کے نعروں کے خلاف آواز اٹھائی ایسے میں مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بھی جاندار انٹری ڈال دی

    حنا پرویز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ موٹر سائیکل چلا رہی ہیں ساتھ انہوں نے پیغام لکھا کہ میری زندگی میرا حق

    حنا پرویز بٹ کی ٹویٹ پر صارفین نے مختلف انداز میں رائے دی ہے کسی نے ان کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کسی نے مخالفت کی ہے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر اب موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کی تعداد میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔خواتین آزادانہ موٹر سائیکل چلاتی ہیں اور کسی نے انکی مخالفت نہیں کی

    حنا پرویز بٹ نے عورت مارچ کے نعرے میرا جسم میری مرضی کی نفی کرتے ہوئے میری زندگی میری مرضی کا نعرہ دیا

  • خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے، ایک ٹی وی شو سے شروع ہونے والے ڈرامہ ٹویٹر ، فیس بک تک جا پہنچا ہے اور صارفین دو دھڑوں میں بٹے نظر آ رہے ہیں،کوئی کہہ رہا ہے گالی کیوں نہیں نکالی کوئی کہتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، کوئی کہہ رہا ہے میرا جسم میری مرضی کوئی کہہ رہا ہے میری زبان میری مرضی،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ اچانک شروع نہیں ہوا، ہمارے ملک میں کچھ لوگوں کو سکون راس ہی نہیں آتا نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے دیتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ سیاسی ماحول ٹھنڈا ہے، پی ایس ایل چل رہا ہے، لوگ ڈپریشن سے باہر آ رہے ہیں بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ سکون سے رہیں، اب خلیل الرحمان قمر نے جو کیا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انہیں تھوڑے عرصے کے لئے ٹی وی پر پابندی لگانی چاہئے، کم از کم تین ماہ کی پابندی لگنی چاہئے، رائیٹر کے پاس اسلحہ اس کے الفاظ ہیں، سخت الفاظ میں بات ہو تو لوگ بات کرتے ہیں، جو ادیب ہو، ادب سے تعلق ہو، الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے وہ الفاظ کی حرمت کا پاس نہ کریں تو بہت غلط ہے، لیکن بدقسمتی کیا ہے، بدقسمتی سے عورت مارچ کو بھی معاشرے میں مردوں سے بغاوت اور نفرت کا سمبل بنا دیا گیا ہے، ہر معاشرے میں اچھے مرد بھی ہوتے ہیں.اگر آپ ایک بری مثال اٹھا کر معاشرے کے تمام مردوں پر لگا دیں تو یہ ٍغلط بات ہے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ خواتین بھی بہت زیادہ اچھی ہیں، شاید چند ایک ہوں‌جن پر بات کر سکیں، لیکن بات نہیں کرنی چاہئے، یہ دیکھیں عورت ایک ماں بھی ہے ،بہن بھی ،بیٹی بھی اس کی ہر مرد عزت کرتا ہے،احترام کرتا ہے اور اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتا ہت، اس کا تحفظ کرتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے جبکہ عورت جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے، نسل کی پرورش کرتی ہے تا کہ بڑا ہو کر اچھا بھائی، خاوند، بیٹا بنے، اگر عورت مارچ میں اس طرح کے بینر ہوں کہ اپنا ٹائم آ گیا اور اس طرح کے عجیب قسم کے نشان بنے ہوں ، ہاتھوں کے سگریٹ بنے ہوں اس کا کیا مطلب ہے، سگریٹ نوشی سب کے لئے مضر ہے، مجھے حق ہونا چاہئے کہ جو تنخواہ مردوں کو ملتی ہے وہ خواتین کو ملیں لیکن سگریٹ نوشی کی اجازت کیوں؟ سگریٹ نہ مرد کو دیکھتا ہے نہ عورت کو دیکھتا ہے، جو سب سے زیادہ سگریٹ پینے والے لوگ ہیں ان کی زندگی کو کھوکھلا کر دیتا ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میرا جسم میری مرضی کا کہا جا رہے کہ مطلب غلط لیا جا رہا ہے،بچوں کی تعداد پر عورتوں کی مرضی ہونی چاہئے،یہ شوہر ،بیوی دونوں کا آپس کا فیصلہ ہے ،لیکن اگر کوئی ایک فیصلہ کر لے تو دوسرے کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، لیکن اگر پلے کارڈ پر یہ لکھ دیں کہ …میں الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، جو تصاویر ہیں وہ بھی کسی صورت قابل برداشت نہیں، بے حیائی کو کوئی معاشرہ برادشت نہیں کرتا، دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں جہاں ہر قسم کی آزادی ہے وہاں ان کی روایات ہوں گی اس کے مطابق وہ چلیں گے، مادرپدر آزادی نہیں ہوتی

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ میں ایک اور پلے کارڈ سامنے آیا تھا کہ کھانا گرم کر دوں گی لیکن…میں پورا بولنا نہیں چاہتا کیوں کہ بچے بھی دیکھ رہتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے ،عورتوں کی برابری کا مطلب یہ نہیں کہ انکو اسلحہ دے کر بارڈر پر بھیج دیا جائے، ان سے ڈھائی من کی آٹے اور سیمنٹ کی بوریاں اٹھوائی جائیں کہ مرد اپنے کام گھر میں خود کر رہا ہے، روزگار کی ٹینشن اب عورت خود لے گی، نہیں ایسا نہیں ہے، دین اسلام سے زیادہ عورت کو حق کسی نے نہیں دیا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورتوں کے حقوق بتائے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پلے کارڈ سے تو یوں لگتا ہے کہ عورت مارچ کا مقصد کچھ اور ہے، ایک شوشہ چھوڑا گیا،پھر عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے کے لئے شوز کرنا شروع کر دئے گئے، شو میں ایک ایسے متنازعہ شخص کو بلایا گیا جو خود عجیب و غریب مخمصے کا شکار ہے، میں اس پر کم ہی بات کروں تو اچھا ہے، بی بی سی اور ٹی وی پر متنازعہ بیان دے کر خود ساختہ دانشور بھی بن گئے، اب وہی خلیل الرحمان قمر عورتوں اور مردوں کے حقوق کا علمبردار بن کر سامنے آ گیا، اب عوام سے ویڈیو میں دعا کی درخواست کر رہے ہیں کہ میرے لئے دعا کرے کہ میں مشن میں کامیاب ہو جاؤں اور بے حیائی کا خاتمہ ہو، یہ عوام کا مسئلہ ہے ہی نہیں اس کو اس میں ایسے ہی لایا جا رہا ہے،عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک طر مارچ کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، دوسری طرف خلیل صاحب بے حیائی کو روکنے کے لئے میدان میں نکل پڑے ہیں. جن باتوں کو خلیل صاحب جائز سمجھتے ہیں ہو سکتا ہے لوگ ان کو بھی بے حیائی سمجھتے ہیں،میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں میرے رشتے داروں کے گھر میں بھی ٹی وی دیکھنا منع ہے اور فلم دیکھنا اس کو تو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے،خلیل کہتے ہیں فلم لکھی ،اچھی لکھتا ہوں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ قانون سوسائٹی کے لئے بنا ہوتا ہے کسی ایک شخص کے لئے نہیں، یہ ایک سازش ہے عوام کو ایسے الجھا دیا گیا جو عوام کا مسئلہ ہی نہیں، دوسری طرف عورت مارچ کے نعرے دیکھ لیں، طلاق یافتہ لیکن خوش، ان نعروں کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی، عورت مارچ والوں سے پوچھا جائے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں، فنڈڈ این جی اوز، پیسہ لے کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر اس ملک کی عورتوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے، یہ نہ تو سماجی مسائل، نہ معاشی مسائل کا حل ہے،وہ خواتین جو ڈرائیور کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی، انہیں یہ معلوم نہیں کہ دوران زچگی کتنی خواتین مر جاتی ہیں اب وہ خواتین کے حقوق مانگ رہی ہیں،میں دیکھتا ہوں کہ ابھینندن پکڑا جاتا ہے ،کلبھوشن پکڑا جاتا ہے توچند خؤاتین پلے کارڈ لے کر آ جاتی ہیں اور ان کے حق میں احتجاج کرتی ہیں،لیکن جب کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری ہوئی تو ان پر تو کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، عورت مارچ والوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا،اب بھارت میں جو ہو رہا ہے، دہلی میں شاہین باغ میں جس طرح عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اس پر کیوں نہیں بولتے، ہم محدود کیوں ہو گئے ،کیا وہ عورتیں نہیں ، کیا ان کے حقوق نہیں، پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں عورت کو چیف ایگزیکٹو بنا یا گیا ، پاکستان میں عورت کو وہ مسائل نہیں جو دیگر ممالک میں ہیں، یہاں ورکنگ وومین کے مسائل کا کسی کو پتہ نہیں، خواتین کے اصل مسائل کے حل میں رکاوٹ یہ خود ہیں، گزشتہ برس عورت مارچ کو دیکھئے کہ یہ عورت کو بنانا کیا چاہتے ہیں، ایسے مارچ کرنا خواتین کی بھی تذلیل ہے، جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے کیا ان کے لئے آواز نہیں اٹھانی چاہئے،

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ والوں سے سوال پوچھنا چاہئے کہ لبرلز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی زبان کو بد زبان کر لوں،میں کپڑے اتار کر شو کرنا شروع کر دوں ،کہ میں لبرل ہوں جو دل میں آئے کروں، یہ آزادی کی بات نہیں، رضیہ سلطانہ جیسی عورت کا کیا جس نے خود کو بغیر آوارہ کہے پورے برصغیر پر حکومت کی،فاطمہ جناح جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا، پاکستان بنانے میں مردوں سے زیادہ خواتین کی محنت تھی، محنت کر کے جو خواتین چولہا جلاتی ہیں ان کے مسائل کا ذکر سامنے نہیں آیا، کیا یہ سازش ہے؟ اس کو ختم کرنا ہو گا، ہمیں برداشت کا مادہ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا، مرد ہے جو خواتین کی عزت بناتا ہے اور عورت مرد کی طاقت بناتی ہے یہی خوبصورتی ہے، جن الفاظ کا چناؤ خلیل الرحمان قمر نے کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس تقسیم کی ایک اور بڑی وجہ ہے ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی ٹویٹس دیکھیں، انہوں نے جو ٹاک شو پر بات کی یہ ظلم ہو گیا، اس کو نہیں ہونا چاہئے، ناشائستہ گفتگو کی معاشرے میں اجازت نہیں ہو سکتی.