Baaghi TV

Category: لاہور

  • میاں نواز شریف کی بیماری کا کامیاب علاج کرسکتا ہوں‌، حکیم نے دعویٰ‌کردیا

    لاہور:کرپشن کیس میں سزایافتہ سابق وزیراعظم میاں‌محمد نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے چند ہفتوں سے پیدا صورت حال میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی آگئی جب ایک حکم نے یہ اعلان کردیا کہ اس کے پاس میا ں‌محمد نواز شریف کی بیماری کا علاج موجود ہے

    صدرمتحدہ حکماء محاذ پاکستان پروفیسرحکیم شاہد اقبال ظہیر نے ایک پمفلٹ شائع کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس کے پاس میا ں محمد نواز شریف کی بیماری کا بہترین علاج ہے، پروفیسرحکیم شاہد اقبال ظہیرنے یہ اعلان کیا ہے کہ اگرتین دن کے اندر اندر میاں محمد نواز شریف کا علاج نہ کرسکوں‌تومجھے پھانسی کے پھندے پرلٹکا دینا ، حکیم شاہد اقبال ظہیر نے مزید کہا کہ وہ میاں محمد نواز شریف کی بیماری کو سمجھتا ہے

    اپنے پیغام میں‌حکیم شاہد اقبال ظہیر نےکہا ہےکہ اس کے پاس طب نبوی کا بہترین علاج ہے جو نواز شریف کو بیماری سے پاک کردے گا،حکیم شاہد اقبال ظہیر نے اپنا ایڈریس اور ٹیلی فون نمبر بھی دیا ہے

  • لاہورپریس کلب سے گھرکی ٹرسٹ ہسپتال کی ہمدردیاں

    لاہور:لاہور پریس کلب اورگھرکی ٹرسٹ ہسپتال کے درمیان ممبران اور ان کی فیملیز کو میڈیکل سہولیات فراہم کرنے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں۔معاہدے کے مطابق معزز ممبران اور انکی فیملیز کو گھرکی ٹرسٹ ہسپتال کی تمام سہولیات پر 25 فیصد رعایت حاصل ہوگی ۔

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے اس موقع پر کہا کہ ممبران اور ان کے خاندانوں کو ان مشکل حالات میں علاج معالجے کی سستی سہولیات کی فراہمی کا باقاعدہ منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت شہر کے تمام علاقوں میں ہسپتالوں سے معاہدوں کا منصوبہ پر عمل درآمد شروع ہو گیا ۔

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہاکہ آئندہ چند روز میں مزیدکئی ہسپتالوں سے معاہدے کرلئے جائیں گے تاکہ کلب کے ممبران کو ان کے علاقوں سے بھی یہ سہو لیا ت میسرآسکے ۔گھرکی ٹرسٹ ہسپتال کی سہولیات سے استفادہ کے خواہش مند ممبران کلب سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ گورننگ باڈی نے گھر کی ہسپتال سے ایم اویو کےلئے ممبر گورننگ باڈی محمد احمد رضا کی کاوش کو سراہا۔

  • حکومت کو نواز شریف کی زندگی سے نہیں بلکہ اپنی سیاست سے دلچسپی ہے ، احسن اقبال

    حکومت کو نواز شریف کی زندگی سے نہیں بلکہ اپنی سیاست سے دلچسپی ہے ، احسن اقبال

    حکومت کو نواز شریف کی زندگی سے نہیں بلکہ اپنی سیاست سے دلچسپی ہے ، احسن اقبال

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک ایسے شخص کو کئی دنوں کے عدالتی عمل میں ڈالنا جس کیلیے 24 گھنٹے بھی اہم ہوں ، انتہائی غیرانسانی فعل ہے، حکومت کو نواز شریف کی زندگی سے نہیں بلکہ اپنی سیاست سے دلچسپی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزارت داخلہ نے عدالت کا کام خود سنبھالا ہو،وزرا کہہ چکے ہیں شرط ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے لگائی گئی،دعا گو ہیں کہ نوازشریف جلد از جلد علاج کے لیے بیرون ملک جاسکیں،نوازشریف کی صحت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہیں،عدالت نےمعاملےکی سنگینی کوسمجھاہے،حکومت نےای سی ایل سےنام نکالنےکیلئےغیرقانونی شرط رکھی.ہم نےملک میں برداشت کی سیاست کوفروغ دیناہے،وزیراعظم عمران خان عوام کوگمراہ نہ کریں’حکومت نےای سی ایل سےنام نکالنےکے لیے غیرقانونی شرط رکھی،وزراکہہ چکےہیں کہ شرط ووٹرزکوخوش کرنےکے لیے رکھی ہے.

  • "سموگ اور اس کا تدارک "کے عنوان پر پنجاب یونیورسٹی میں سیمینار

    "سموگ اور اس کا تدارک "کے عنوان پر پنجاب یونیورسٹی میں سیمینار

    سموگ اور اس کا تدارک کے عنوان پر پنجاب یونیورسٹی کے سنٹر فار کول اینڈ ٹیکنالوجی میں خصوصی سیمینار منعقد ہوا،سیمینار میں ڈائریکٹرموحولیات نسیم الرحمن اور ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر تقی زاہد بٹ کی خصوصی شرکت کی

    ڈائریکٹر ماحولیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ترجیحی بنیادوں پر بھٹہ مالکان کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے کام کررہی ہے،شمالی لاہور میں چونتیس میں سے اٹھائیس اسٹیل فیکٹریوں کے اندر جدید ٹیکنالوجی متعارف کروادی گئی ہے،جدید ٹیکنالوجی کے باعث دھواں آلودگی پھیلانے کا باعث نہیں بنے گا، بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی متعارف کروادی ہے جس سے آلودگی کا خاتمہ ہوگا.سموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے،

    پروفیسر ڈاکٹر تقی زاہد بٹ نےکہا کہ چائنہ کی طرز پر پاکستان میں بھی سموگ کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے، سموگ کے حوالے سے کسانوں اور ٹرانسپورٹرز میں بھی آگاہی پیدا کی جائے، تقریب میں کول ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمود سلیم اساتذہ اور نے بھرپور شرکت کی.

  • نوازان ای سی ایل، درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا، کیا فیصلہ آیا؟ سماعت ملتوی

    نوازان ای سی ایل، درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا، کیا فیصلہ آیا؟ سماعت ملتوی

    نوازان ای سی ایل، درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا، کیا فیصلہ آیا؟ سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے بیرون ملک بھجوانے کے لئے ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی ہے .

    عدالت نے حکومت کے موقف کو مسترد کر دیا ہے اور درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی، اب نواز شریف کی درخواست پر سماعت پیر کو ہو گی، لاہو رہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کرے گا

    اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما، وکلاء اور نیب ٹیم کمرہ عدالت میں موجود تھی،

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت نے عدالت میں ایسا کیا جواب جمع کروایا کہ ن لیگ پریشان

    قبل ازیں نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کاکیس سننےکا اختیارلاہورہائیکورٹ کے پاس بھی ہے، ایسے کئی فیصلے موجود جو ہمارے موقف کی تائید کرتےہیں، پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مثال موجود ہے، اتفاق ھے کہ جو فیصلہ بہت سی ہائیکورٹ میں برقرار رکھا گیا وہ پرویز مشرف کا کیس ہے، کراچی کے ایک شہری نے بھی اپنا نام نکالنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو منظور ہوئی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کا کیس مشرف سے مختلف ہے، مشرف سزا یافتہ نہیں تھا.

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ایان علی کا نام بھی بغیرشرائط ای سی ایل سےنکالاگیا.جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ نواز شریف کا نام نیب لاہور یا اسلام آباد کی سفارش پر خط میں ڈالا گیا جس پر وکیل نے کہا کہ لیٹر سے لگتا ہے کہ نیب اسلام آباد کی جانب سے جاری ہوا ہے،

    جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کا معاملہ حکومت پر ڈال دیا ہے، جس پرنوا شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب نے لیٹر جاری کیا، ای سی ایل سے نام نکالنے کا اختیار حکومت کا ہے،وفاقی وزیر قانون نے نیب کو دوبارہ کہا کہ اس معاملے پر بتائیں.

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ حکومت کسی بھی شہری کے حقوق سلب نہیں کر سکتی،نواز شریف کو عدالت نے ضمانت دے رکھی ھے، جس پر جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب سارا معاملہ حکومت پہ ڈال رہی ھے،اگر نیب زمہ داری حکومت پہ ڈال رہی تو عدالت میں مخالفت کیوں کر رہی،

    نواز شریف کو ایک بار پھر ہارٹ اٹیک ،خبر نے ن لیگیوں کو پریشان کر دیا

    نواز شریف کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا گیا، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیسے یہ درخواست ناقابل سماعت ہے؟ اگر کوئی درخواست گزار کراچی ھے کا تو کیا وہ قریبی ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کر سکتا،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر درخواست کو اسکی نوعیت کے مطابق دیکھا جاتا ھے، احتساب عدالت کے جج نے سزا دی، اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، یہاں صرف چودھری شوگر ملز کیس چل رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کو اس سماعت کا اختیار نہیں ،یہ درخواست صرف اسلام آباد ہائیکورٹ سن سکتی ھے، جہاں تفتیش چل رہی تھی نیب نے وہیں نام ای سی ایل میں‌ ڈالنے کی سفارش کی تھی،جب نواز شریف کو 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی اور واضح طور پر کہا گیا کہ نواز شریف پاکستان چھوڑ کر نہیں جا سکتے،

    سرکاری وکیل نے عدالت میں مزید کہا کہ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف، مریم نواز ، حسن اور حسین نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ۔سپریم کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا تھا۔ نواز شریف کی ای سی ایل کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ ہی سن سکتی ہے۔ تمام قانونی تقاضے پورے کر کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا،

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف کی تشویشناک حالت پر وفاقی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا،نیب نے کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے کے فیصلے میں کوئی کردار نہیں، نیب کی سوچ میڈیا ذرائع اور رپورٹس پر کھڑی ہے ،

    عدالت نے کہا کہ لاہور میں چودھری شوگر ملز کیس زیر التوا ہے ایسے میں کیسے آپ کے موقف کی حمایت ہو گی، جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ان سے شورٹی بانڈز نہیں مانگے ہم نے انڈیمنٹی بانڈز مانگے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطل کی گئی، اس کیس میں نواز شریف کو جرمانہ ہو چکا ہے،نواز شریف کو جرمانہ ہوا تھا اسی کے برابر بانڈز مانگے گئے ہیں.

    عدالت نے کہا کہ ہم تو اسکو بعد میں دیکھیں گے، پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہم اس کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں،

    واضح رہے کہ نواز شریف نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں لاہورہائیکورٹ نے نواز شریف کی چوھدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کی، نواز شریف سروسز سے گھر منتقل ہو چکے ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے،

  • ای روزگار تربیتی پروگرام کے نئے مرحلے کیلئے درخواستیں طلب

    لاہور:پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور منسٹری آف یوتھ افیئرز، سپورٹس، آرکیالوجی اینڈ ٹورازم کی جانب سے نوجوانوں کوباعزت آن لائن روزگار فراہم کرنے کے لیے ای روزگار ٹریننگ پروگرام کے نئے مرحلے کے لیے درخواستوں کی وصولی جاری ہے۔

    ٹریننگ پروگرام میں داخلہ لینے کے لئے عمر کی بالائی حد 35سال ہے جبکہ کم سے کم تعلیمی قابلیت ماسٹرز رکھی گئی ہے۔ پنجاب بھر سے پنجاب ڈ ومیسائل رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کیلئے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 نومبر ہے۔امیدوار تکنیکی، غیر تکنیکی اور تخلیقی ڈیزائن کے شعبوں میں درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

    فی الوقت پنجاب بھر میں 31 ای روزگار مرکز فعال ہیں جہاں 13 ہزار سے زائد طلباء تربیت مکمل کر کے انٹرنیٹ سے تقریباً 18 کروڑ روپے سے زائد زرمبادلہ کما چکے ہیں۔خواھشمند افراد درج ذیل ویب سائیٹ کے ذریعے رجسٹریشن کرواسکتے

  • عمران صاحب اب ملک پر یہ سختی آپ کے جانے سے ختم ہوگی،مریم اورنگزیب

    عمران صاحب اب ملک پر یہ سختی آپ کے جانے سے ختم ہوگی،مریم اورنگزیب

    عمران صاحب اب ملک پر یہ سختی آپ کے جانے سے ختم ہوگی،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ‏جس ملک کا وزیراعظم نالائق ہو اُس کی حکومت کا ہر آنیوالا سال عوام کیلیے سخت ہوگا،ایک سال پہلے خوشحالی تھی،منہگائی3فیصد،ترقی کی شرح 5.8فیصد تھی ،عمران صاحب ایک سال پہلے اِس ملک میں کاروبار اور روزگارتھا،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران صاحب ایک سال میں آپ کی نالائقی نےعوام کو بدحال کردیاہے،عمران صاحب آپ کےہوتے ہوئے ہرآنیوالا سال عوام پر سخت ہی ہوگا،عمران صاحب اب ملک پر یہ سختی آپ کے جانے سے ختم ہوگی ، نوازشریف پاکستان کو 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کاتحفہ دے چکے ہیں،ملک میں بجلی کی نہیں بلکہ جو ڈاکہ آپ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ سے ڈال رہے ہیں اُس کی وجہ سے عوام پہ سختی ہے،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران صاحب جس ملک کا وزیراعظم جھوٹا ، نااہل ، نالائق اور بے رحم ہو اُس کی حکومت کا ہر آنے والا سال عوام کے کئے سخت ہو گا

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کا وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان میں کرسی کے لئے سخت مقابلہ جاری ہے ،کرائے کے ترجمان اور وزراء کے درمیان اپنی اپنی کارکردگی کی نہیں بلکہ محمد نواز شریف کی صحت پہ سیاست اور جھوٹ کا مقابلہ جاری ہے ،کرائے کے ترجمان کرسی بچانے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ بول رہے ہیں ،جھوٹ کی علامت ادھارے ترجمان جھوٹ نہ بولیں تو نوکری کیسے کریں؟

  • نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالہ سے دائر درخواست پر فیصلہ سماعت کے بعد محفوظ کر لیا، درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، وفاقی حکومت اور نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا تھا

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت نے عدالت میں ایسا کیا جواب جمع کروایا کہ ن لیگ پریشان

    لاہور ہائیکورٹ یہ درخواست سن سکتی ھے یا نہیں ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ،کچھ دیر بعد فیصلہ سنایا جائے گا.

    قبل ازیں نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کاکیس سننےکا اختیارلاہورہائیکورٹ کے پاس بھی ہے، ایسے کئی فیصلے موجود جو ہمارے موقف کی تائید کرتےہیں، پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مثال موجود ہے، اتفاق ھے کہ جو فیصلہ بہت سی ہائیکورٹ میں برقرار رکھا گیا وہ پرویز مشرف کا کیس ہے، کراچی کے ایک شہری نے بھی اپنا نام نکالنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو منظور ہوئی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کا کیس مشرف سے مختلف ہے، مشرف سزا یافتہ نہیں تھا.

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ایان علی کا نام بھی بغیرشرائط ای سی ایل سےنکالاگیا.جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ نواز شریف کا نام نیب لاہور یا اسلام آباد کی سفارش پر خط میں ڈالا گیا جس پر وکیل نے کہا کہ لیٹر سے لگتا ہے کہ نیب اسلام آباد کی جانب سے جاری ہوا ہے،

    جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کا معاملہ حکومت پر ڈال دیا ہے، جس پرنوا شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب نے لیٹر جاری کیا، ای سی ایل سے نام نکالنے کا اختیار حکومت کا ہے،وفاقی وزیر قانون نے نیب کو دوبارہ کہا کہ اس معاملے پر بتائیں.

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ حکومت کسی بھی شہری کے حقوق سلب نہیں کر سکتی،نواز شریف کو عدالت نے ضمانت دے رکھی ھے، جس پر جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب سارا معاملہ حکومت پہ ڈال رہی ھے،اگر نیب زمہ داری حکومت پہ ڈال رہی تو عدالت میں مخالفت کیوں کر رہی،

    نواز شریف کو ایک بار پھر ہارٹ اٹیک ،خبر نے ن لیگیوں کو پریشان کر دیا

    نواز شریف کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا گیا، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیسے یہ درخواست ناقابل سماعت ہے؟ اگر کوئی درخواست گزار کراچی ھے کا تو کیا وہ قریبی ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کر سکتا،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر درخواست کو اسکی نوعیت کے مطابق دیکھا جاتا ھے، احتساب عدالت کے جج نے سزا دی، اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، یہاں صرف چودھری شوگر ملز کیس چل رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کو اس سماعت کا اختیار نہیں ،یہ درخواست صرف اسلام آباد ہائیکورٹ سن سکتی ھے، جہاں تفتیش چل رہی تھی نیب نے وہیں نام ای سی ایل میں‌ ڈالنے کی سفارش کی تھی،جب نواز شریف کو 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی اور واضح طور پر کہا گیا کہ نواز شریف پاکستان چھوڑ کر نہیں جا سکتے،

    سرکاری وکیل نے عدالت میں مزید کہا کہ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف، مریم نواز ، حسن اور حسین نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ۔سپریم کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا تھا۔ نواز شریف کی ای سی ایل کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ ہی سن سکتی ہے۔ تمام قانونی تقاضے پورے کر کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا،

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف کی تشویشناک حالت پر وفاقی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا،نیب نے کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے کے فیصلے میں کوئی کردار نہیں، نیب کی سوچ میڈیا ذرائع اور رپورٹس پر کھڑی ہے ،

    عدالت نے کہا کہ لاہور میں چودھری شوگر ملز کیس زیر التوا ہے ایسے میں کیسے آپ کے موقف کی حمایت ہو گی، جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ان سے شورٹی بانڈز نہیں مانگے ہم نے انڈیمنٹی بانڈز مانگے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطل کی گئی، اس کیس میں نواز شریف کو جرمانہ ہو چکا ہے،نواز شریف کو جرمانہ ہوا تھا اسی کے برابر بانڈز مانگے گئے ہیں.

    عدالت نے کہا کہ ہم تو اسکو بعد میں دیکھیں گے، پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہم اس کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں،

  • نوازان ای سی ایل، پہلے یہ دیکھ لیں ہم سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ عدالت

    نوازان ای سی ایل، پہلے یہ دیکھ لیں ہم سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ عدالت

    نوازان ای سی ایل، پہلے یہ دیکھ لیں ہم سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط نکالنے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی.

    نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کاکیس سننےکا اختیارلاہورہائیکورٹ کے پاس بھی ہے، ایسے کئی فیصلے موجود جو ہمارے موقف کی تائید کرتےہیں، پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مثال موجود ہے، اتفاق ھے کہ جو فیصلہ بہت سی ہائیکورٹ میں برقرار رکھا گیا وہ پرویز مشرف کا کیس ہے، کراچی کے ایک شہری نے بھی اپنا نام نکالنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو منظور ہوئی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کا کیس مشرف سے مختلف ہے، مشرف سزا یافتہ نہیں تھا.

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ایان علی کا نام بھی بغیرشرائط ای سی ایل سےنکالاگیا.جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ نواز شریف کا نام نیب لاہور یا اسلام آباد کی سفارش پر خط میں ڈالا گیا جس پر وکیل نے کہا کہ لیٹر سے لگتا ہے کہ نیب اسلام آباد کی جانب سے جاری ہوا ہے،

    جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کا معاملہ حکومت پر ڈال دیا ہے، جس پرنوا شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب نے لیٹر جاری کیا، ای سی ایل سے نام نکالنے کا اختیار حکومت کا ہے،وفاقی وزیر قانون نے نیب کو دوبارہ کہا کہ اس معاملے پر بتائیں.

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ حکومت کسی بھی شہری کے حقوق سلب نہیں کر سکتی،نواز شریف کو عدالت نے ضمانت دے رکھی ھے، جس پر جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو نیب سارا معاملہ حکومت پہ ڈال رہی ھے،اگر نیب زمہ داری حکومت پہ ڈال رہی تو عدالت میں مخالفت کیوں کر رہی،

    نواز شریف کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا گیا، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیسے یہ درخواست ناقابل سماعت ہے؟ اگر کوئی درخواست گزار کراچی ھے کا تو کیا وہ قریبی ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کر سکتا،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر درخواست کو اسکی نوعیت کے مطابق دیکھا جاتا ھے، احتساب عدالت کے جج نے سزا دی، اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، یہاں صرف چودھری شوگر ملز کیس چل رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کو اس سماعت کا اختیار نہیں ،یہ درخواست صرف اسلام آباد ہائیکورٹ سن سکتی ھے، جہاں تفتیش چل رہی تھی نیب نے وہیں نام ای سی ایل میں‌ ڈالنے کی سفارش کی تھی،جب نواز شریف کو 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی اور واضح طور پر کہا گیا کہ نواز شریف پاکستان چھوڑ کر نہیں جا سکتے،

    سرکاری وکیل نے عدالت میں مزید کہا کہ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف، مریم نواز ، حسن اور حسین نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ۔سپریم کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا تھا۔ نواز شریف کی ای سی ایل کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ ہی سن سکتی ہے۔ تمام قانونی تقاضے پورے کر کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا،

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف کی تشویشناک حالت پر وفاقی حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا،نیب نے کہا ہے کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے کے فیصلے میں کوئی کردار نہیں، نیب کی سوچ میڈیا ذرائع اور رپورٹس پر کھڑی ہے ،

    عدالت نے کہا کہ لاہور میں چودھری شوگر ملز کیس زیر التوا ہے ایسے میں کیسے آپ کے موقف کی حمایت ہو گی، جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ان سے شورٹی بانڈز نہیں مانگے ہم نے انڈیمنٹی بانڈز مانگے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطل کی گئی، اس کیس میں نواز شریف کو جرمانہ ہو چکا ہے،نواز شریف کو جرمانہ ہوا تھا اسی کے برابر بانڈز مانگے گئے ہیں.

    عدالت نے کہا کہ ہم تو اسکو بعد میں دیکھیں گے، پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہم اس کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں،

  • نواز ان ای سی ایل، نیب کا بھی عدالت میں جواب جمع، سماعت جاری

    نواز ان ای سی ایل، نیب کا بھی عدالت میں جواب جمع، سماعت جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف کا نام غیر مشروط ای سی ایل سے نکالنے کیلیےدرخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے، نیب نے بھی عدالت میں جواب جمع کروا دیا ہے نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنا عدالت کا نہیں حکومت کا اختیار ہے، سزا یافتہ شخص کو ہر پیشی پر عدالت میں پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے.

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت نے عدالت میں ایسا کیا جواب جمع کروایا کہ ن لیگ پریشان

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت میں دلائل دیئے انہوں نے کہا کہ وفاق نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس کیس سننے کا اختیار ہے حالانکہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس بھی درخواست پر سماعت کا اختیار ہے، آرٹیکل 199 کے تحت عدالت اس درخواست کی سماعت کر سکتی ہے. ایڈیشنل اٹارنی جنرل وفاقی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،وفاقی حکومت کا اعتراض بلاجواز اور آئین کے منافی ھے،

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ وفاقی اداروں کے دفاتر پورے ملک میں ہوتے ہیں،شہباز شریف کے وکیل نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملہ پر فیصلوں کی کاپیاں عدالت میں پیش کر دیں.

    شہباز شریف کی جانب سے دی جانے والی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ غیر مشروط طور پر نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    واضح رہے کہ نواز شریف نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں لاہورہائیکورٹ نے نواز شریف کی چوھدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کی، نواز شریف سروسز سے گھر منتقل ہو چکے ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے،