Baaghi TV

Category: لاہور

  • ڈپٹی کمشنر لاہور کےلیے کس کان قرعہ میں نکل آیا ؟

    ڈپٹی کمشنر لاہور کےلیے کس کان قرعہ میں نکل آیا ؟

    لاہور:دیرآئید درست آئید ، لاہورکے ہے حکومت کااچھا تحفہ ، اطلاعات کےمطابق لاہور کی انتظامی کمان کا فیصلہ ہو گیا، ایک ماہ بعد شہر کو نیا سربراہ مل گیا۔ دانش افضال کو ڈپٹی کمشنر لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔

    بھارت نے کرتارپور پر اہم اعلان کردیا ، پاکستان کی جیت

    دانش افضال ایڈیشنل سیکرٹری ٹو چیف سیکرٹری کےعہدہ پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔دانش افضال کے بارے میں اچھی رپورٹس ہیں کہ وہ بہت ایماندار ، محب وطن اور محنت کے دھنی ہیں ، دانش افضال کی منظوری وزیراعظم کی طرف سے رضامندی کے بعد ہوئی

    اگر کرپشن پر قابونہ پایاتو!وزیراعظم نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    نئے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی اصغر جوئیہ بطور قائم مقام ڈپٹی کمشنر تعینات تھے۔ یاد رہے 21 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر صالحہ سعید کوعہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

  • لاہورمیں 30 ہزار سیکورٹی اہلکار، 94 ہزار293 واقعات،عوام سوال کرتی ہے !

    لاہورمیں 30 ہزار سیکورٹی اہلکار، 94 ہزار293 واقعات،عوام سوال کرتی ہے !

    لاہور: شہر میں جتنے زیادہ سیکورٹی اہلکار اتنے زیادہ جرائم، شہری امن کو ترس گئے ، اطلاعات کےمطابق لاہور شہرمیں پولیس کی30 ہزارفورس، شہری پھربھی بے یارو مددگار، رواں سال کے 10 ماہ کےدوران کرائم کی شرح میں 30فیصد اضافہ، رواں سال جرائم کے94 ہزار293 جبکہ گزشتہ سال 69 ہزار476 واقعات رپورٹ ہوئے، پولیس کے اپنے اعداد و شمار نے بھانڈا پھوڑ دیا۔

    اللہ کا شکر ہے کہ ڈینگی جارہا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا نے عجیب بات کہہ دی

    تفصیلات کے مطابق لاہورپولیس کی عدم توجہ کےباعث ڈکیتی ، چوری سمیت دیگرسنگین جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہا ہے۔2018 کے پہلے دس ماہ میں ڈکیتی کی32 اور رواں سال 42 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ نقب زنی کےگزشتہ برس2485 جبکہ رواں سال 2947مقدمات درج ہوئے۔

    ذرائع کے حوالے سے بڑی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کےمطابق رواں سال گاڑی چوری کےواقعات میں 33فیصداضافہ ہوا، 2018میں4ہزار572جبکہ رواں سال 6ہزار606گاڑیاں، موٹرسائیکلیں چوری ہوئیں۔ ڈولفن پولیس کے باوجود2018میں 745جبکہ رواں سال1057شہری گلی کوچوں میں لٹ گئے۔

    کراچی والے اڈیالہ اور اسلام اباد والے کراچی پہنچ گئے اہم ملاقاتیں ، اہم فیصلے

    پنجاب پولیس کیطرف سے جاری کیے گئے اس ڈیٹا میں ریپ کے حوالے سے بھی بڑی پریشان کن خبریں سننے کو ملی ہیں‌، اطلاعات کےمطابق اس سال زیادتی کے کیسز میں بھی خوفناک حدتک ضافہ ہوا۔ 2018میں 89 اور رواں سال 338ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ رواں سال جانوروں کی چوری کی وارداتوں میں95 فیصد اضافہ ہوا۔ 2018میں 253 جبکہ رواں سال 495جانوروں کی چوری کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔

    جے یو آئی (ف) کے 2 رہنما گرفتار،سنگین الزامات ، مارچ کے نام پر بھتہ

    ذرائع کے مطابق لاہور کے تھانوں میں ہزاروں درخواستیں تاحال التواء کا شکار ہیں۔ چند روز قبل آئی جی نے اپنے شکایات سیل سے درخواستوں کی لسٹ لاہورپولیس کوبھجوائی تھی جس پر ہدایات کے باوجود مقدمات درج نہیں کیے گئے جبکہ 3روز قبل 6ایس ڈی پی اوز کو مقدمات درج نہ کرنے پر مراسلہ بھی جاری کیا گیا تھا۔

  • لاہورمیں بھی دھرنے کی دھمکی دے دی گئی

    لاہورمیں بھی دھرنے کی دھمکی دے دی گئی

    لاہور:ایک طرف اسلام آباد میں دھرنے کی تیاریاں عروج پر تودوسری طرف لاہور میں بھی دھرنے کی دھمکی دے دی گئی ، اطلاعات کےمطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین نے مطالبات کی منظوری کے لیے 4 نومبر کی ڈیڈ لائن دے دی۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ، سروس سٹرکچر سمیت دیگر مطالبات تسلیم نہ کیے تو پنجاب بھر میں دھرنے دیئے جائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین اپنے حق میں مطالبات منوانے کے لیے آج چوتھی بار لاہور سمیت پنجاب بھر کے 152 اراضی ریکارڈ سنٹرز نے محکمانہ کاموں کی تالا بندی کی اور شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ملازمین کا کہنا ہے کہ 15 ماہ بعد ہونیوالے بورڈ کے اجلاس میں ملازمین کے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔

    اللہ کا شکر ہے کہ ڈینگی جارہا ہے، ڈاکٹر ظفر مرزا نے عجیب بات کہہ دی

    پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے تمام ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھی اور تمام ڈویژنز کے ملازمین نے اپنی اپنی ڈویژن میں اراضی ریکارڈ سنٹرز کی تالا بندی کر کے احتجاجی مظاہرے کیے۔ لاہور ڈویژن کے تمام ملازمین سٹی اراضی ریکارڈ سنٹر پر جمع ہو ئے اوراحتجاج ریکارڈ کرایا۔یاد رہےکہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں 3000 ملازمین مطالبات منظور نہ ہونے پر دھرنادیں گے

    پہلے حکومت کرنے دی جائے ، مذہبی جماعت کا مطالبہ سامنے آگیا

    صدر لینڈ ریکارڈ اتھارٹی یونین میاں شاہد کا کہنا ہے کہہیں۔ پی ایل آر اے ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ تین سال سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ تمام سٹاف کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ 4 نومبر تک ہر پیر کے روز قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی اور اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 4 نومبر کو پنجاب بھر میں احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔

    مولاناسورہے تھے،پاسبان سرحدوں کی حفاظت کررہے تھے، پھربھی دشمنی،درخواست دائر

  • حکومتی اصلاحات نامنظور، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج جاری

    حکومتی اصلاحات نامنظور، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج جاری

    لاہور: حسب سابق آج بھی گرینڈ ہیلتھ الائنس کی طرف سے مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرز اور دیگر عملے نے لاہور کے معروف گنگا رام ہسپتال کے سامنے احتجاج شروع کررکھا ہے، ادھر اطلاعات کےمطابق ابھی تک لاہور کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں کام بند ہے۔

    امریکہ پھر افغان طالبان کے منتیں کرنے لگا

    ذرائع کے مطابق اسی احتجاج کی وجہ سے جناح ہسپتال،میو ہسپتال اور گنگارام ہسپتال میں بھی عملے نے او پی ڈیزمیں کام روک دیا ہے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام بند کروادیا ہے۔ ہڑتال کے باعث سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، شیخ زید ہسپتال کی اوپی ڈیز بند ہیں۔

    اسٹریٹ کرائم کے بارے میں ڈی جی رینجرز کا بیان سب حیران

    ہڑتال کے دوران ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس اسٹاف ڈیوٹیوں سے غائب ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کا موقف ہے کہ بل اسمبلی میں پیش ہونے تک او پی ڈیز بند رہیں گی،ایم ٹی آئی بل اسمبلی میں منظور ہوا تو ہسپتالوں کی ایمرجنسی، او پی ڈیز بند کردی جائیں گی۔گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاج کے باعث سرکاری ہسپتال آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مریضوں نے حکومت سے ہسپتالوں کی او پی ڈیز بحال کروانے کی اپیل کی ہے۔

    وزیراعظم نے یو این سیکریٹری جنرل سے کیا مطالبہ کردیا ؟

  • لاہور کی سڑکوں پر اندھیرا یا روشنی اہم فیصلہ آگیا

    لاہور کی سڑکوں پر اندھیرا یا روشنی اہم فیصلہ آگیا

    ل اہور: اب لاہورکی سڑکوں پر اندھیرانہیں بلکہ روشنی ہوگی اس سلسلے میں اہم فیصلے سامنے آگئے ہیں .اطلاعات کے مطابق چیف آفیسر سید علی عباس بخاری کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد، شہر کی 27 ماڈل شاہراہوں جبکہ مجموعی طور پر 214 سڑکوں کی اسٹریٹ لائٹس کو آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پی آئی اے کی پرواز میں خاتون کو انجیکشن لگا کرچپ کیوں کرادیا گیا؟

    کمشنر لاہور وایڈمنسٹریٹر آصف بلال لودھی کی ہدایت پر ہنگامی اجلاس کا انعقاد ہوا، ایم او انفراسٹرکچر انور جاوید نے ابتدائی طور پر 27 ماڈل شاہراہوں کی لائٹس کو سو فیصد روشن کرنے کی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

    ڈینگی کے بعد اب پولیو؛3 نئے کیسز سامنے آ گئے

    اجلاس میں زونل آفیسر انفراسٹرکچر داتا گنج بخش زون شیخ محمد طاہر، ایس ڈی او اسٹریٹ لائٹ محمد زاہد، اے ایم او آئی عامر بٹ، زونل آفیسر انفراسٹرکچر قیوم خان نیازی اور زونل آفیسر انفراسٹرکچر گلبرگ زون ندیم باجوہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    مقبوضہ کشمیر ، بھارتی مظالم کی کہانی بھارتی صحافی کی زبانی

  • سپین کے سفیر بھی لاہوری نکلے

    سپین کے سفیر بھی لاہوری نکلے

    لاہور: پاکستان میں سپین کے سفیر بھی بالکل لاہوریوں کیطرح لاہور کے طرز زندگی کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق سپین کے سفیر مینول دورین لاہور کی خوبصورتی کے دلدادہ نکلے، پاکستانیوں کو ہسپانوی زبان سیکھنے کی دعوت دے ڈالی۔

    نیب کی لندن میں کارروائیاں ، 30 کروڑ برامد کرلیئے

    ذرائع کے مطابق آج ہسپانوی سفیر نے دورہ لاہور کے دوران بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔ خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے ہسپانوی سفیر کو بادشاہی مسجد کی تاریخ بارے آگاہ کیا اور بادشاہی کی تاریخ پر لکھی کتاب پیش کی۔

    کل کراچی کااہم دورہ،پیپلزپارٹی پریشان،کیاکرےگاخان

    ذرائع کےمطابق پاکسان میں سپین کےسفیر نے میاں یوسف صلاح الدین کی حویلی کا دورہ بھی کیا۔ اپنے دورے کے دوران سپین کے سفیر نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہی مسجد اور میاں سلی حویلی قابل تعریف اور قابل دید ہے، لاہور کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے جلد تفریحی دورہ کرونگا۔

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر سپین کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سپین کے درمیان دو طرفہ امور پر کام کر رہے ہیں، آئندہ سال دونوں ممالک کے درمیان صوفی فیوژن میوزک پر کام کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو سپیشن زبان سیکھنی چاہیئے کیونکہ اس کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    دھواں چھوڑنے والے ہوجائیں تیار ، وارننگ اور نوٹس ہیں تیار

    دوسری طرف پاکستان میں سپین کے سفیر نے سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار بھی کیا ،ہسپانوی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سٹورز کھولنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے کاروباری تعلقات میں بہتری آئے گی۔

  • دھواں چھوڑنے والے ہوجائیں تیار ، وارننگ اور نوٹس ہیں تیار

    دھواں چھوڑنے والے ہوجائیں تیار ، وارننگ اور نوٹس ہیں تیار

    لاہور :سردیاں شروع ہوتے ہیں اس بات کا خوف اور امکان پیدا ہوگیا ہےکہ حسب سابق اس مرتبہ بھی کہیں سموگ پاکستانیوں کے گھیراونہ کرلے ، اسی ڈر کی وجہ سے محکمہ ماحولیات کی اینٹی سموگ کارروائیاں جاری ہیں، دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں پر چھاپے مارے گئے،

    مختلف علاقوں میں چھ فیکٹریاں سیل کر دی گئیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز اور علی رضا نے ٹیموں کے ہمراہ فیکٹریوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مومن پورہ روڈ، بند روڈ اور گجومتہ کے علاقوں میں 6 سٹیل ملز اور فیکٹریوں کو سیل کیا جبکہ 8 فیکٹریوں کو وارننگ نوٹسز جا ری کیے۔

    بند کی گئی فیکٹریوں میں اسماعیل لیڈ، عظیم سٹیل ملز، بلیک گولڈ انڈسٹریز، ذیشان سٹیل، لیاقت پلاسٹک ملز اور اللہ وسایا ملزشامل ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز کا کہنا تھا کہ ممکنہ سموگ کی وجہ سے پورے لاہور میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

  • آج آخری دن

    آج آخری دن

    لاہور:لاہور آج عظیم روحانی شخصیت حضرت عثمان بن علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے 976 ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آج آخری روز ہے ،دربار پر درود و سلام، حمد و ثناءاور نعت خوانی کی محفلیں جاری ہیں۔

    ابھی ایمانداری زندہ ہے،کراچی ایئرپورٹ کا دلچسپ واقعہ

    ذرائع کے مطابق 976ویں عرس کی تقریبات کے تیسرے اور آخری روزبھی زائرین کی دربارشریف پرحاضری کاسلسلہ جاری ہے، جہاں پرنور ماحول میں محفل سماع‘ محفل نعت رسول مقبول ﷺ کے ساتھ ساتھ عقیدت مند ٹولیوں کی شکل میں منقبت و سلام کا نذرانہ بھی پیش کر رہے ہیں، ملک اوربیرون ملک سےلاکھوں کی تعدادمیں زائرین اپنی منتیں پوری ہونےکی آس دل میں لئےدربارپرحاضری دے رہے ہیں،

    داتا دربار انتظامیہ کی جانب سے عقیدت مندوں کیلئے دیسی گھی میں مٹن قورمہ، مٹن حلیم، بریانی اور زردے کا اہتمام کیا گیا،دودھ کی روایتی سبیل بھی لگائی گئی ہے جس کا افتتاح کل صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید نے کیا تھا، بیرون شہر سے آنے والوں کے قیام کیلئے سینٹرل ماڈل سکول میں خصوصی کیمپ کا بھی اہتمام کیا گیا، عرس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    بھارتی جارحیت، پاکستان کا منہ توڑ جواب، 9 بھارتی فوجی ہلاک

    وزیر مذہبی امورسید سعید الحسن سمیت دیگر منتظمین نےگورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی داتا دربار آمد پر استقبال کیا، چودھری محمد سرور نے داتا دربار پر حاضری دی اور نوافل اداکیے ، انہوں نے ملکی سلامتی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگیں۔

    کرتارپورراہداری، من موہن سنگھ کی آمد اورعمران خان کااعلان

  • اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    اوکاڑہ:قبل اس کے کہ واقعہ کے متعلق بتایا جائے یہ بتانا ضروری ہےکہ وہ مائیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوکر میکے چلی جاتی ہیں اور بچوں سے دور رہتی ہیں ان کے بچوں کا یہی حال ہوتا ہے خداراعقل سے کام لیں ،

    ناجائز اثاثہ جات ریفرنس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حرکت میں آگئے

    اب آتے ہیں ہیں اس بھیانک واقعہ کی طرف اطلاعات کےمطابق اوکاڑہ میں بچوں کو الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں گئی۔ پولیس نے بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار کرلیا۔

    وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں سے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ مریم خان نے گاؤں جا کر ملاقات کی۔ مریم خان نے بچوں کی دلجوئی کی اوران سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعلی نے واقع کا نوٹس لیکر انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے

    ہٹلر کے” آزادی مارچ "میں تذکرے شروع ہوگئے

    ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ مریم خان کے مطابق بچوں کا فوری طورپرطبی معائنہ کرایا جائے گا۔ تعلیم اورعلاج معالجے کیلئے بھی حکومت ہرممکن مدد کرے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تشدد کے ذمہ دار قانون کے تحت سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ متاثرہ بچوں کی والدہ ناراض ہو کر میکے گئی ہوئی تھی اور بچے اپنی والدہ سے ملنے گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے لیے بھی حکومت ہر ممکن مدد کرے گی، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر بچوں کو اوکاڑہ کے اسکول میں بھی داخل کرائیں گے، اور ان کی بیمار والدہ کا علاج بھی کرایا جائے گا، والد کو بھی سرکاری ملازمت دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تشدد کا ذمہ دار قانون کے تحت سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ انھوں نے بچوں کو نئے کپڑے بھی دیے۔

    بچوں پر تشدد کرنے والے ملزم نے اعتراف جرم کر لیا، میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئے ملزم نے کہا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے، ایک بار معافی مل جائے تو پھر ساری زندگی ایسا دوبارہ نہیں کروں گا، بھتیجوں کو ماں کے پاس جانے کی ضد کرنے پر مارا تھا۔

    پولیس کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم بچوں کا قریبی عزیز ہے، اس کے خلاف مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، ملزم نے پولیس کے سامنے بھی اعتراف جرم کر لیا ہے۔

    نئی میجنمنٹ نئے تقاضے” آپ "ٹی وی کے 400 سے زائد ورکر بےروزگار کردیئے

    یہ خبر پھران ماوں کے لیے ہے جو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتی ہیں کہ اوکاڑہ میں سفاک ملزم کے تشدد سے بچے تڑپتے رہے اور زاروقطار روتے رہے لیکن ملزم کو ذرا بھر ترس نہ آیا۔واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور ظالم شخص کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • می ٹو:کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    می ٹو:کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    لاہور:“می ٹو” مہم کچھ عرصہ قبل شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوتی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہو رہا ہیکہ “می ٹو” مطلب میں بھی ، یہ میں بھی سے مراد وہ عورت ہے جو کہہ رہی ہیکہ ‘میں بھی’ کسی مرد کی حوس کا کسی نا کسی طرح کبھی نشانہ بنی ہوں۔

    اپنے اوپر ہونے والی کسی بھی ہراسگی کے خلاف آواز اٹھانے کیلیے ایک مہم کا جنم نہ جانے کتنے بے گناہوں کی زندگیوں کو بھی کچل گیا۔ اس مہم میں خواتین کو اس بات پر ترغیب دی گئی کہ آپ بنا سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی مرد پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کر دیں پھر وہ مرد جانے اور اس کی باقی کی زندگی اور کیرئیر۔

    ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں خواتین کی جانب سے بلاجواز الزامات مرد حضرات پر لگائے گئے اور ان مرد حضرات کی زندگیاں ، نوکریاں اور گھر پتا نہیں کیا کیا چھن کر رہ گیا۔ ممکن ہے یہ مہم بہتری کیلیے شروع کی گئی ہو لیکن اس کا خطرناک حد تک غلط استعمال معاشروں کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

    آپ حضرات نے بھی بہت سے واقعات سنے اور دیکھے ہوں گے کیونکہ میڈیا کا دور ہے اور اس دور میں ہر کسی تک خبر پہنچنا معمول کی بات ہے۔میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گا لاہور کے معروف کالج “ایم اے او” کالج کا ، کچھ عرصہ قبل ایک استاد پر طالبہ کی جانب سے جنسی ہراسگی کے الزام کا!

    ایم اے او کالج لاہور میں انگلش پروفیسر افضل محمود نے خاتون طالب علم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام پر اور انکوائری کے بعد اس کے غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ کرنے پر خودکشی کر لی ہے۔

    ایم اے او کالج میں انگریزی کے استاد افضل محمود نے نو اکتوبر کو زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ استاد کو انکوائری کمیٹی نے کلئیر قراردیا تھا لیکن کالج انتظامیہ تصدیقی لیٹر نہیں دے رہی تھی اور استاد مسلسل بدنامی سے دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔

    استاد نے خط میں لکھا کہ میری بیوی بھی آج مجھے بدکردار قرار دے کر گھر چھوڑکر جا چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر میں ایک بدکردار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دل اور دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کسی وقت ان کی موت ہو جائے تو ان کی تنخواہ اور اس الزام سے بریت کا خط ان کی والدہ کو دے دیا جائے۔

    کالج لیکچرار نے اپنی بے گناہی کے ثبوت کے باوجود تصدیقی لیٹر جاری نہ ہونے پر خود کشی کی، انکوائری افسر نے رپورٹ میں لیکچرار افضل کو الزامات سے بری قرار دیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق ایم اے او کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار افضل محمود کی خود کشی کے معاملہ پر قائم کی گئی کالج ہراسمنٹ کمیٹی نے لیکچرار افضل کو بے قصور قرار دیا تھا تاہم انکوائری رپورٹ کے باوجود پرنسپل کی جانب سے لیکچرار کی بےگناہی کا باظابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

    اس استاد کے آخری الفاظ ایک خط کی صورت میں جو اس تحریر کیے ، ملاحظہ کیجیے
    “I leave this matter in the court of Allah, The Police are requested not to investigate and other anybody”
    “میں اپنا یہ کیس یہ معاملہ اللہّٰ کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں، پولیس سے درخواست ہیکہ اس معاملے میں کسی سے تفتیش اور کسی کو تنگ نہ کیا جائے”

    خودکشی سے ایک دن قبل کے اس خط کی جانب جس میں استاد محترم نے اپنے کالج کی ساتھی پروفیسر اور تفتیشی افسر ڈاکٹر عالیہ رحمان کو واضح طور پر یہ کہا کہ آپ (ڈاکٹر عالیہ رحمان ، تفتیشی افسر) نے مجھے بتایا کہ میں اس الزام سے باعزت بری ہو گیا ہوں ، میں ابھی تک کالج میں اسی الزام کو سر پر لیے چل رہا ہوں ،

    ہر طرف میرے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ آپ (ڈاکٹر عالیہ) میری دوست اور سینئر پروفیسر ہیں، آپ کالج انتظامیہ پر زور دیں کہ میرے اس معاملے میں مجھے اور کالج کو صاف الفاظ میں بتایا جائے کہ مجھ پر لگنے والا الزام جھوٹا اور من گھڑت تھا۔

    لیکن کالج انتظامیہ کی بے بسی دیکھیں کہ موت کے چار دن بعد تیرہ اکتوبر کو نوٹیفیکیشن جاری ہوا کہ استاد محترم “پروفیسر افضل محمود” بے گنا تھے، ان پر لگائے گئے طالبہ کی جانب سے تمام الزامات جھوٹے اور من گھڑت تھے۔

    اب تفتیش میں طالبہ کیا کہتی ہیں ملاحظہ کیجیے
    “ مجھے ٹیچر نے پیپر میں نمبر تھوڑے دیے، مجھے ان سے شکایت تھی کہ وہ ہمیشہ کم نمبر ہی دیتے تھے، میں نے ان سے بدلہ لینے کیلیے ان پر جنسی ہراسگی کا جھوٹا الزام لگایا تا کہ میں ان کو سبق سکھا سکوں”

    اب مسئلہ یہ ہے کہ اس بےچارے استادکی بے گناہی کے کالج کے پروفیسر فرحان کو توفیق کیوں نہ ہوئی کہ وہ اپنے کلرک کو بلاکرچند الفاظ پر مبنی تحریر ہی لکھوا کر دے دے تاکہ پروفیسر افضل محمود پر لگے بھتان کے داغوں کو دھویا جاسکے ، اسی ہٹ دھرمی اور پرنسپل کی نااہلی کی وجہ سے انگریزی کے پروفیسر افضل کو بے قصور ہونے کے باوجود انتظامیہ نے تین ماہ تک کلیئرنس لیٹر نہ دیا، افضل نے تھک ہار کر خودکشی کرلی۔

    ایم اے او کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار کی خودکشی کے بعد کالج انتظامیہ اور پرنسپل کی نااہلی پرسوالات اٹھ گئے، لیکچرار افضل محمود نے ایک طالبہ کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام اور تحقیقات کے بعد اس کے غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ کرنے پر خودکشی کرلی تھی۔

    لیکچرار کی خود کشی کا ذمہ دار کون ہے؟ اےآر وائی نیوز تفصیلات منظر عام پر لے آیا، ذرائع کے مطابق لیکچرار پر لگے الزامات کی انکوائری کیلئے کالج ہراسمنٹ کمیٹی قائم کی گئی، کمیٹی کی انکوائری افسر ڈاکٹر عالیہ نے اپنی رپورٹ میں لیکچرار افضل کو الزامات سے بری قراردے دیا تھا۔

    انکوائری افسرڈاکٹر عالیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ تین ماہ پہلے ہی پرنسپل ڈاکٹر فرحان کو جمع کرادی گئی تھی اور رپورٹ میں پرنسپل کو طالبہ کیخلاف کارروائی کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ لیکچرار افضل کی خودکشی نے کالج انتظامیہ اور پرنسپل کی نااہلی پرسوالات اٹھادیئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے باوجود لیکچرار کو کیوں بے قصور نہیں ٹھہرایا گیاْ، انکوائری رپورٹ کے باوجود پرنسپل نے طالبہ کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟

    یاد رہے کہ ایم اے او کالج میں انگریزی کے استاد افضل محمود نے نو اکتوبر کو زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی، افضل محمود کی لاش کے ساتھ ان کی اپنی تحریر میں ایک نوٹ موجود تھا۔

    جس پر تحریر تھا کہ وہ اپنا معاملہ اب اللہ کے سپرد کر رہے ہیں اور ان کی موت کے بارے میں کسی کی نہ تفتیش کریں اور نہ ہی زحمت دیں، پولیس اور میڈیکل رپورٹ سے ان کی خودکشی اور نوٹ لکھنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔