Baaghi TV

Category: لاہور

  • جیل میں رانا ثناء اللہ کی طبیعت خراب،طبی معائنہ،ڈاکٹرز نے کیا کہا؟

    جیل میں رانا ثناء اللہ کی طبیعت خراب،طبی معائنہ،ڈاکٹرز نے کیا کہا؟

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی جیل میں طبیعت خراب ہو گئی،

    رانا ثناء اللہ کا پانی بھی بند کردیا گیا، شہباز شریف

    جیل پہنچ کر رانا ثناء اللہ بھی ہوئے بیمار، مریم اورنگزیب کی دہائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منشیات کے الزام میں گرفتار مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی کیمپ جیل میں طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر ز کو طلب کیا کیا گیا، پی آئی سی ڈاکٹرز نے رانا ثناء اللہ کا طبی معائنہ کیا. ڈاکٹرز نے طبی معائنہ کے بعد منیشات کے الزام میں گرفتار ن لیگی رہنما کے لئے مختلف ٹیسٹ تجویز کئے، ٹیسٹ رپورٹ کے بعد ڈاکٹرز علاج سے متعلق فیصلہ کرینگے۔

    رانا ثناء اللہ کو عدالت پہنچا دیا گیا، ایف آئی آر میں کیا لکھا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ پر بنائے گئے کیس کی سزا موت، آصف زرداری بھی بول پڑے

    رانا ثناء اللہ کو عدالت نے جیل بھجوا دیا

    واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ کو اے این ایف نے گرفتار کیا تھا، گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ،عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر رانا ثناء اللہ کو جیل بھجوا دیا تھا. رانا ثنا اللہ کو جیل میں عام قیدی کی سہولیات میسرہوں گی ،رانا ثنااللہ کو منشیات فروشوں کے مخصوص سیل میں رکھا جائے گا ، منشیات فردوشوں کو جیل میں سہولیات میسر نہیں ہوتیں ،جیل قوانین کے مطابق منشیات فروشوں کو بی کلاس نہیں دی جاتی .

    رانا ثناء اللہ کی گرفتاری و جیل منتقلی، اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے خلاف اسمبلی میں قرارداد جمع

    رانا ثناء اللہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ جب رانا ثناء اللہ کو روکا گیا تو انہوں نے بدتمیزی کی اور گریبان پکڑے، رانا ثناء اللہ نے ناجائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے منشیات سمگل کرنے کی کوشش کی، رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے 21 کلو منشیات ملی جس میں سے 15 کلو ہیروئن بھی شامل تھی، رانا ثناء اللہ کے خلاف مخبر کی اطلاع پر کاروائی کی گئی خبرنےاطلاع دی راناثنااللہ کی گاڑی میں منشیات ہے راناثنااللہ کی گاڑی کوروکنے کیلئےحکمت عملی مرتب کی گئی موٹروے سےآنیوالی تمام گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی

  • رانا ثناء اللہ عمران خان کی آمریت کا مقابلہ کر رہا ہے، شاہد خاقان، خواجہ آصف

    رانا ثناء اللہ عمران خان کی آمریت کا مقابلہ کر رہا ہے، شاہد خاقان، خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنماوں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ‌آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سے جیل مٰیں ملاقاتوں‌ پر پابندی سے کارکنان کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ،رانا ثناء اللہ کو بھی جیل میں کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی

    شہباز شریف اور مریم نواز کے علاوہ آج کون کرے گا نواز شریف سے ملاقات؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، خواجہ‌آصف، احسن اقبال کوٹ لکھپت جیل پہنچے جہاں انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کرنی تھی لیکن جیل حکام کی طر ف سے‌صرف پانچ افرار کو ملاقات کرنے کی اجازت دی جانی ہے.

    نواز شریف کی ضمانت کی درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تفصیلی فیصلہ جاری

    کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں پر جو مقدمات ہوتے ہیں اس میں نئی چیز کا اضافہ ہوا ہے کہ ملاقاتوں‌ پر پابندی لگا دی گئی، رانا ثناء اللہ دلیر آدمی ہیں جنہوں نے عمران خان کی آمریت کو شکست دے دی.

    نواز شریف سے ملاقات کا دن، کتنے افراد کو ملی اجازت؟

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کا رابطہ باہر کی دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں ،پچھلے تین ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حکومت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی، ایک قیدی پر کیا پابندی لگانی جو پہلے ہی گرفتار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کارکنان کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے، خواجہ آصف نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ پچھلے تیس سال میں ہم نے جمہوریت کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھایا، وہ ایم این اے ہیں اور انہیں جیل میں کوئی سہولت فرایم نہیں کی گئی، دوائیوں، صاف پانی سے محروم کر دیا گیا، ان کے گھر کے لوگ گھنٹوں باہر کھڑے رہتے ہیں. لیکن کھانا اندر نہیں جانے دیا جاتا.

  • اسپیکر قومی اسمبلی نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات دیں، شہباز گل کا خط

    اسپیکر قومی اسمبلی نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات دیں، شہباز گل کا خط

    وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا ہے جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع اثاثوں کی تفصیلات طلب کی ہیں

    ڈاکٹرعدنان نواز شریف کا ذاتی معالج نہیں بلکہ…..شہباز گل نے کر دیا انکشاف

    وزیراعظم کی ایک تقریر سے لٹیروں کی نیند حرام ہو گئی، شہباز گل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں.

    بس بہت ہو گیا ،مڈٹرم الیکشن لڑیں گے، مسلم لیگ ن نے اعلان کر دیا

    شہباز شریف کی لاہور میں موجودگی کے باوجود پریس کانفرنس میں غیر حاضری؟ اختلافات یا کچھ اور

    خط میں شہباز گل نے کہا ہے کہ نوازشریف نے 16مئی 2016 کو اسمبلی فلور پر تقریر کی تھی ،تقریرمیں نوازشریف نے اثاثوں اورذرائع آمدن سےمتعلق تفصیلات اسمبلی میں جمع کرانےکا دعویٰ کیا تھا ،اسپیکر قومی اسمبلی سے عوامی مفاد میں تفصیلات شیئر کرنے کی درخواست کی ہے.

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    شہباز گل نے خط میں مزید لکھا کہ سابق وزیراعظم کے اسمبلی میں جمع کرائے گئے ذرائع آمدن کی تفصیلات پبلک ڈیٹا ہے،دیکھنا ہے کہ ایسے کون سے ذرائع آمدن ہیں جو عدالت میں جمع نہیں کرائے گئے،عوام جاننا چاہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم اور خاندان نے کن ذرائع سے اتنا سرمایہ بنایا.

    نواز شریف کی بیماری کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر کا انکشاف

    میں پیر یا ولی نہیں لیکن عمران خان کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ نواز شریف نے کیا کہہ دیا

    نواز شریف کی طبیعت خراب، جیل حکام نےایسا فیصلہ کیا کہ ن لیگی پریشان ہو گئے

  • لاہور، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر سے 10 مسلح افراد گرفتار

    لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر سے پولیس نے 10 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے

    لاہور ائیر پورٹ پر فائرنگ، اسلحہ کیسے پہنچا، ملزم نے کیا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر سے پولیس نے دس مسلح افراد کو گرفتار کر لیا جو عدالت میں داخل ہونا چاہتے تھے، ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ برآمد ہوا ہے. پولیس کے مطابق 3مسلح افرادپارکنگ میں کھڑے تھے جبکہ 7 عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے.

    لاہور ائیرپورٹ پر فائرنگ، دو افراد بحق، خوف و ہراس

    مسلح ملزمان کی گرفتاری سپیشل برانچ کی اطلاع پر ہوئی، ملزمان عدالت کے اندر جانا چاہتے تھے، پولیس نے دوران تلاشی سب ملزمان سے اسلحہ برآماد کر لیا،ملزمان کو ریس کورس پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا گیا.

    گرفتار ہونے والے افراد رنگ محل قتل اور بھاٹی قتل کیس میں پیشی کے لئے آئے تھے، ملزمان تھانہ بھاٹی میں درج 318/18 قتل کے کیس کی پیروی کے لئے آئے تھے، ملزمان میں محمود، ارشد اور ولید سمیت 10 ملزمان شامل ہیں۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان کا تعلق اندرون شہر سے ہے اور ملزم پر حملہ کی منصوبہ کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ائیر پورٹ پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد اہم مقامات کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،

  • حکومت مزاحمت کے راستے کو نہیں روک سکے گی، پرویز رشید

    حکومت مزاحمت کے راستے کو نہیں روک سکے گی، پرویز رشید

    مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی خاطرہم اپنے آپ کو قربان کرنے کو تیار ہیں. حکومت نے روش نہ بدلی تومزاحمت کے راستےکو نہیں روک سکیں گے.

    شہباز شریف اور مریم نواز کے علاوہ آج کون کرے گا نواز شریف سے ملاقات؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نواز شریف سے ملاقات کے لئے کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ حکومت کے پاس مخالفین کیخلاف جھوٹے الزامات لگانے کے سوا کچھ نہیں.آج حکمرانوں کا جھوٹ بے نقاب ہوتا جارہا ہے،ہم سب پربھی کوئی ناکوئی جھوٹا الزام لگایا جائے گا .

    نواز شریف کی ضمانت کی درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویزرشید کا کہنا تھا کہ ہم مریم نواز کے ساتھ کھڑے ہیں، الزامات صرف اپوزیشن کیخلاف لگائےجارہےہیں ،سعدرفیق،حمزہ شہبازاورآصف زرداری پرالزام ہے،انہیں سزا نہیں ہوئی ،پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پر الزامات ہیں تو جیلوں میں ہیں،حکومت نےروش نہ بدلی تومزاحمت کےراستےکو نہیں روک سکیں گے.

    نواز شریف سے ملاقات کا دن، کتنے افراد کو ملی اجازت؟

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت میں موجودافراد پرالزامات ہے تو وہ آزاد ہیں ،پرویز رشید نے دعویٰ کیا کہ میاں نوازشریف کی قیادت میں ن لیگ متحد ہے،میاں نوازشریف کا جونظریہ ہے وہی پوری ن لیگ کا ہے.

     

    واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

  • شہباز شریف اور مریم نواز کے علاوہ آج کون کرے گا نواز شریف سے ملاقات؟

    شہباز شریف اور مریم نواز کے علاوہ آج کون کرے گا نواز شریف سے ملاقات؟

    سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج ملاقات کا دن ہے، نواز شریف سے صرف پانچ افراد ملاقات کر سکیں گے

    نواز شریف کی ضمانت کی درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تفصیلی فیصلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں جمعرات کو ملاقات کا دن مقرر ہے، آج نواز شریف کی خواہش اور ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق سرف پانچ افراد ملاقات کریں گے، دیگر پارٹی رہنماوں اور کارکنان کی ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے.

    نواز شریف سے ملاقات کا دن، کتنے افراد کو ملی اجازت؟

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    نواز شریف کی طبیعت خراب، جیل حکام نےایسا فیصلہ کیا کہ ن لیگی پریشان ہو گئے

    شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کی نواز شریف کی مخالفت، اہم خبر

    نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز اور شہباز شریف کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی ، ان کے علاوہ تین مزید افراد ملاقات کر سکیں گے. مسلم لیگ ن کے کارکنان کوٹ لکھپت جیل پہنچنا شروع ہو گئے ہیں تا ہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی، تیسرا ہفتہ ہے جب کارکنان کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی

    واضح رہےنواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ سنا دیا گیا

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    ڈاکٹرعدنان نواز شریف کا ذاتی معالج نہیں بلکہ…..شہباز گل نے کر دیا انکشاف

    واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

    نواز شریف کی بیماری کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر کا انکشاف

    میں پیر یا ولی نہیں لیکن عمران خان کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ نواز شریف نے کیا کہہ دیا

  • آئی جی پنجاب کا شہری کی ہلاکت پر ایکشن، اے ایس پی فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا

    آئی جی پنجاب کا شہری کی ہلاکت پر ایکشن، اے ایس پی فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا

    انسپکٹر جنرل پنجاب نے فیصل آباد میں شہری کی ہلاکت کی ابتدائی رپورٹ پرایکشن لیتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی جڑانوالہ فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی کھڑیانوالہ فیصل آباد خالد محمود اور ایس ایچ او عمردرازکو معطل کر دیا گیا ہے. سی آئی اے گوجرانوالہ کی ریڈنگ ٹیم کے 10 ممبران کو بھی معطل کر دیا گیا ہے.

    آئی جی پنجاب کی طرف سے ایڈیشنل آئی جی، آئی اےبی کو مکمل رپورٹ 48 گھنٹے میں پیش کرنیکا حکم دیا گیا ہے. آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ اختیارات سےتجاوز کرنے وال اکوئی افسریا اہلکار رعایت کا مستحق نہیں ہے. واضح رہے کہ فیصل آباد میں‌پولیس کی زیر حراست ایک شخص کی مبینہ وفات کا معاملہ پیش آیا تھا جس پر شہریوں‌ کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس چوکی کو آگ لگا دی گئی تھی. اس واقعہ کے خلاف آئی کی جانب سے ایکشن لیا گیا ہے.

  • رانا ثناء اللہ کی اپنی اہلیہ سے مختصر ملاقات میں کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    رانا ثناء اللہ کی اپنی اہلیہ سے مختصر ملاقات میں کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء‌اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مجھے رانا ثناء سے ملنے نہیں دیا گیا بہت زیادہ اصرار پر کہا گیا کہ صرف 5 منٹ ملاقات ہوگی. ملاقات میں رانا صاحب نے خیریت پوچھی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نبیلہ ثناء‌اللہ نے کہاکہ اس موقع پر موجود ایک شخص نےکہا کہ رانا صاحب بتائیں ہیروئن بھی ملی ہے آپکی گاڑی سے.

    واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے.

    میڈیا رپورٹس میں‌ کہا گیا ہے کہ رانا ثناء‌اللہ کو کیمپ جیل میں‌ رکھا گیا ہے. انہیں‌ عام فرشی گدا دیا گیا ہے اور جس بیرک میں‌ وہ قید ہیں انہیں‌ وہاں‌ اے سی کی سہولت حاصل نہیں‌ ہے بلکہ ایک پنکھا نصب ہے جس سے وہ گرمی کا مقابلہ کریں‌ گے. بتایا گیا کہ رانا ثناء‌اللہ کے سب ٹیسٹ نارمل ہیں. دریں‌ اثناء‌ رانا ثناء‌اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثناء‌اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ رانا ثناء‌اللہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں‌ ادویات بھی نہیں‌ دی جارہیں. شہباز شریف، مریم نواز اور مریم اورنگزیب نے بھی انہیں‌ اس طرح‌ قید رکھنے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اگر انہیں‌جیل میں‌کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہوں‌ گے.

  • وزیر اعلیٰ‌ پنجاب سے ملاقات میں ن لیگی رہنما یونس انصاری کو کیا ہدف دیا گیا؟ اہم خبر

    وزیر اعلیٰ‌ پنجاب سے ملاقات میں ن لیگی رہنما یونس انصاری کو کیا ہدف دیا گیا؟ اہم خبر

    سابق ن لیگی رہنما یونس انصاری کی وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارسے ملاقات ہوئی ہے. ملاقات میں طاہر بشیر چیمہ، سمیع اللہ چودھری اوردیگر رہنما بھی شریک تھے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس انصاری کون لیگی ارکان اسمبلی کے جوڑتوڑ سےمتعلق نیا ہدف مل گیا ہے. اس ماہ مزیدلیگی ارکان اسمبلی کی وزیراعلی ٰاوروزیراعظم سےملاقات کرائی جائیگی.

    واضح رہے کہ اس سے قبل ن لیگی رہنما یونس انصاری نے 15 ممبران اسمبلی کے ہمراہ بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں یونس انصاری نے اہم کر دار ادا کیا تھا. اب بھی یونس انصاری مسلم لیگ ن کے مختلف اراکین سے رابطے میں‌ ہیں‌ اور آنے والے دنوں‌ میں‌ مزید ن لیگی اراکین کے تحریک انصا ف میں‌ شامل ہونے کی توقع ہے.

  • لیسکودعوے ہزار ،لوڈ شیڈنگ برقرار،عملہ غائب ،کوئی پوچھنے والاکوئی سننے والا نہیں. لیسکو کی من مانیاں

    لیسکودعوے ہزار ،لوڈ شیڈنگ برقرار،عملہ غائب ،کوئی پوچھنے والاکوئی سننے والا نہیں. لیسکو کی من مانیاں

    خصوصی رپورٹ:نمائندہ باغی ٹی وی ایاز خان

    لاہور:لیسکو میں نااہلی اور افسر شاہی کا راج.سب ڈویثرن رحمان پورہ کا ایس ڈی او اور عملہ بنے عوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے.ویسے تو حکومت کہتی ہے لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی ۔۔لیکن سب ڈویثرن رحمان پورہ میں لیسکو عملہ کی ملی بھگت سے اب بھی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔شدید گرمی کے موسم میں ہفتے میں کئی بار تین سے چار گھنٹے بجلی کا غائب ہونا ایک عادت سی بن گئی ہے. اور صورتحا ل اس حد تک بھی چلی جاتی ہے کہ رحمان پورہ کے ایریامیں ایک طرف بجلی آرہی ہوتی ہے تو دوسری طرف ساری ساری رات لوگ بجلی سے محروم رہتے ہیں ۔اگر آپ عملے کی جیبیں گرم کریں تو پھر آپ کا میٹر دوسری فیڈرپر ڈال دیا جائے گا ۔بلکہ عملے کی ملی بھگت سے انہوں نے لوگوں کو دو الگ الگ لائنوں کے ایک ہی گھر کے لیے دو دو میٹر بھی الاٹ کر رکھے ہیں ۔جن کی ایک میں بجلی جاتی ہے تو دوسری لاءن سے بجلی چل رہی ہوتی ہے ۔اور لائنوں میں بھی انہوں نے تقسیم کررکھی ہے. ۔کہیں بجلی جاتی نہیں اور دوسری طرف آئےروز خرابی اور بجلی غائب ۔کبھی کہا جاتاہے ٹرانفارمر خراب ہوگیا ، کبھی کہا جاتاہے کہ تاریں ٹوٹ گئیں ، کبھی کہا جاتاہے کہ کا م ہورہا ہے اور اور پیچھے سے بجلی بند ہے .اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عملہ کہیں اور کام کررہاہے۔
    سرکاری طور پر لوڈ شیڈنگ ختم ہونے سے عملے کی دیہاڑیاں کم ہوئیں تو انہوں نے لوٹ مارکے لیے لوڈ شیڈنگ کے مصنوئی طریقے ایجاد کرلیے ۔بار بار خراب ہونے والے ٹرانفارمر کی جگہ نیا لگانے کی بجاءے پرانے کو ہی پرائیویٹ لوگوں سے مرمت کرواکر کام چلاتے رہتے ہیں ۔مسءلے کوعارضی طور پر حل کردیا جاتاہے اور خرابی کی گنجائش رکھ دی جاتی ہے ۔
    سب ڈویثرن رحمان پور ہ میں ڈیوٹی پر مامور لوگ اکثر غائب رہتے ہیں ۔لیسکو کی طرف سے جو بجلی کے بلوں پر موبائل نمبرز دیے گئے وہ بند رہتے ہیں یا پھر اگر کوئی فون اُٹھا بھی لے تو لوگوں کو جھوٹی تسلیوں سے ٹرخایا جاتاہے ۔یا پھر کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ کا علاقہ نہیں آپ شاہ کمال سب ڈویژن پر رابطہ کریںٹیلی فون آپریٹر اور لائن مین سے لیکر ایس ڈی او سید اشفاق شاہ تک سارہ عملہ کوئی بھی وقت پر دفتر میں نہیں آتا ۔ اور لوگ پریشان ہوتے رہتے ہیں ۔

    بل پرایس ڈی او رحمان پورہ کا نمبر بھی درج ہے لیکن موصوف نمبر اُٹھانا گوارہ نہیں کرتے ۔ بل پر ایکسن کا نمبر بھی درج ہے ۔لیکن کیا مجال کہ وہ بھی کبھی آپ کا نمبر اُٹھا لیں ۔ صورتحال تو اس حد تک خراب ہے کہ لیسکو کمپلینٹ سیلز کے نمبر0320 0520888 پر بھی اگر رابطہ کیا جائے تو پتہ چلتاہے کہ جو فیڈر سب ڈویژن رحمانپورہ والے بند بتا رہے ہیں وہ چل رہاہے ۔۔یعنی خود بجلی وقت پر ٹھیک نہیں کرتے اور صارفین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ کام ہورہا ہے اور پرمٹ لیا ہواہے ۔وغیرہ ۔اور حد تو ےہ ہے کہ لیکسو کمپلینٹ سیل والوں کی بھی نہیں سنتے ۔

    دو اورتین جولائی کی درمیانی گزشتہ شب سب ڈویژن رحمان پور ہ کے ایف بلاک میں رات بارہ بجے سے لیکر صبح آٹھ بجے تک بجلی غاءب رہی ۔ اسی دوران لوگوں نے بل پر دےگئے نمبرز پر رابطہ کیا تو ۔نمبر بند پایا گیا۔ایس ڈی او سید اشفاق شاہ نے فون اُٹھانا گوارہ نہ کیا ۔ اور نہ ہی ایکسین نے ۔ سب ڈویژن رحمان پورہ کے دفتر میں عملہ غاءب صرف ایک ٹیل فون آپریٹ لوگوں کو جھوٹی تسلی دے کر گھر بھیجتا رہا پھر وہ بھی غاءب ہوگیا۔ ڈائریکٹر آپریشن کے نمبر پر بھی میسج کیا گیا مگر جواب نہیں آیا۔سب ڈویژن رحمانپورہ کمپلینٹ آفس میں شکایت رجسٹر میں درج کرنے کی بجائے عام کاغذوں پر لکھ لی جاتی ہے تاکہ ایک آدھی کمپلینٹ کے علاوہ کوءی ریکارڈ ہی نہ رہے ۔اور تمام کمپلینٹس کاریکارڈ محفوظ ہی نہیں کیا جاتا ۔تاکہ سب اچھا ظاہر کیا جاسکے ۔جب لیسکو کے کہ ہیڈ آفس کے کمپلینٹ سیل پر رابطہ کیاگیا۔تو وہاںپر موجود آپریٹر محمود نے بھی بارہا سب ڈویژن رحمان پورسے سے رابطہ کیا لیکن پھر بھی بجلی بحال نہ ہوسکی۔
    اس پر آپریٹر محمود نے ایس ڈی او رحمان پورہ سید اشفاق شاہ کو سرکاری نمبر سے فون کیا تو اُس نے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسءلہ اُس علاقے کی نہیں بلکہ شاہ کمال سب ڈویژن کا ہے ہے اور پھر کہا کہ یہ پاکستان ہے ےہاں ایسا ہی چلتاہے ۔لوگوں کی بار بار شکایت پر لاءن مین عرفان نے چکر لگا کر کہہ دیا کہ ٹرانفارمر خراب ہے ۔اور صبح ٹھیک ہوگا۔ اور گھر چلا گیا۔
    لوگ ساری رات گرمی میں تڑپتے رہے ۔ دوسرا لائن مین محمد زبیر جس کی ڈیوٹی صبح چھ بجے ہے لیکن سات بجے کے بعد آیا اور موصوف نے کہا کہ یہ اُس کا مسئلہ نہیں کہ رات 12بجے سے لاءٹ نہیں آرہی اور وہ یہاں پر لیسکو کا سپوکس پرسن نہیں ۔اور یوں صبح آٹھ بجے تک بجلی کا نام ونشان نہیں تھا ۔ آئے روز یہی ہوتاہے ۔

    ایس ڈی او سب ڈویژن رحمان پورہ سید اشفاق شاہ کبھی بھی وقت پر دفتر نہیں آتے اور اُن کے چپراسی شفیق کے مطابق
    دس بجے تک آجاتے ہیں لیکن ایس ڈی او صاحب گیارہ بجے کے بعد آءے لیکن اُن کے انتظار میں اُن کے کمرے کا ونڈواے سی صبح سویرے ہی چلا دیا جاتا ہے تاکہ موصوف کو آتے وقت ٹھنڈا چلڈ کمرہ ملے۔ کافی دیر انتظار کے بعد ایس ڈی او صاحب تشریف لائے۔
    اُن سے پوچھا گیاکہ آپ فون کیوں نہیں اُٹھا تے توکہنے لگے کیا میں ہر وقت تم لوگوں کے فون سنتا رہوں ۔کیامجھے رات کو سونا نہیں ہوتا میں کسی کا24 گھنٹے کاملازم نہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ آپ کے دفتر کا بل پر درج موبائل فون بھی بندہے تو کہا پیمنٹ کی وجہ سے بند ہے ۔عملے کی سُستی اور ساری رات بجلی غائب رہنے کا پوچھا گیا تو موصوف نے کہا میں پہلے جہاں رہتاتھا وہاں بارہ گھنٹے بھی بجلی نہیں ہوتی تھی۔ یہ تو کچھ بھی نہیں

    جب پوچھا گیا آپ کا عملہ دفتر میں نہیں ہوتا ۔شکایات درج نہیں کی جاتیں تو کہا گیا کہ ایک شکائت درج کافی ہوتی کیاجوبھی شکایت کرے سب کی درج کرتے رہیں ۔ اور آئے روز بجلی غائب رہنے کے حوالے سے پوچھا گیاتو ایس ڈی او صاحب جو ایس ایچ او زیادہ لگ رہے تھے کہا کہ تو کیا ہم سونے کے سپر کنڈکٹر لگوا دیں ۔یہ پاکستان ہے یہاں لوڈ زیادہ ہے ۔ایسا ہوتا آیاہے اور ایسا ہی چلتا رہے گا۔جو مرضی کرلیں جسے مرضی شکایت لگا لیں ۔ اس سےبھی زیادہ بجلی جائے گی۔
    موصوف کی اکڑ دیکھ کر لگتاتھا یہ عوام کے خدمت کار نہیں بلکہ علاقے کے داروغہ ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا اس کو اوپر سے شوکاز نوٹس ہی آجائےگا ۔اور بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں جو کرنا ہے کرلو ۔اس طرح من مانی کررہے ہیں ۔