Baaghi TV

Category: لاہور

  • چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024منعقدہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب میں شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احسان بھٹہ ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور،صنعتکاروں،کالم نگاروں اور سینئر صحافی بھی تقریب میں شریک تھے۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین ،سابق نگران صوبائی وزیر عامر میر اور دیگر کو فرینڈشپ ایوارڈ دیئے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بنایا ہے جو سولر انرجی پر ہوگا۔چین کی کمپنیاں پنجاب میں سولر،ٹیکسٹائل،زراعت ،لیتھیئم بیٹریاں بنانے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔چین کی آئکو سولر انرجی کمپنی کے ساتھ پنجاب میں سولر پینلز مینوفیکچرنگ کا کارخانہ لگانے کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکاہے۔چین کی بڑی موبائل فون کمپنی فیصل آباد میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی۔صوبائی وزیرصنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ چین کے دوران الیکٹرک وہیکلز بنانے والے گروپ کے علاوہ متعدد کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔بہت سی کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی۔پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا اب دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر ثابت ہوگا۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تجارتی تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چینی قونصل جنرل نے کہاکہ پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت ملی ہے۔چین کے سرمایہ کاروں کو بہترین سکیورٹی کی فراہمی پر حکومت کے مشکور ہیں۔

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری
    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

  • پنجاب میں جیل خانہ جات میں تقرر و تبادلے

    پنجاب میں جیل خانہ جات میں تقرر و تبادلے

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈا کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے جیل خانہ جات میں تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق آفتاب احمد کو سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل لودھراں، سپرنٹنڈ نٹ جیل طاہر مجید انسپیکٹوریٹ آف پریزن پنجاب، راؤ ندیم اقبال ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ جیل خانیوال، جمشید احمد ڈپٹی سپرنٹنڈ نٹ جوڈیشل ڈسٹرکٹ جیل ملتان، محمد محسن کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں تعینات کیا گیا ہے-

    اسی طرح محمد عمران بٹ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل ڈسٹرکٹ جیل گجرات، سہیل انور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈویلپمنٹ ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن، عبدالشکور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو سب جیل شجاع آباد، محمد فہیم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو جوینائل جیل بہاولپور، ناصر نواز ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل سینٹرل جیل گوجرانوالہ اور یاسر اعجاز کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈویلپمنٹ سینٹرل جیل بہاولپور میں تعینات کیا گیا ہے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انتظامی وجوہات کے علاوہ جیل ریفارمز پالیسی کے مطابق تمام افسران کو کم از کم 1 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال تک ایک مقام پر پوسٹنگ دی جا رہی ہے اور تمام افسران کی کارکردگی کا مستقل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • لاہور اور کراچی کے درمیان گرین لائن طرز کی ایک نئی ٹرین چلانے کا منصوبہ

    لاہور اور کراچی کے درمیان گرین لائن طرز کی ایک نئی ٹرین چلانے کا منصوبہ

    لاہور: پاکستان ریلوے کے سی ای او نے کہا ہے کہ لاہور اور کراچی کے درمیان گرین لائن طرز کی ایک نئی ٹرین چلائی جائے گی-

    باغی ٹی وی : ای کچہری کے دوران عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے عامر علی بلوچ نے کہا کہ ریلوے کی اولین ترجیح مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے اور خوش آئند بات یہ ہے پاکستان ریلوے کے پاس اب جدید ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی مدد سے مقامی سطح پر نئی کوچز تیار کی جا رہی ہیں، جس کے بعد ریلوے کو بیرون ملک سے کوچز درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، پاکستان ریلوے نے بولان ایکسپریس کا آپریشن صرف 45 دنوں کے اندر اپنے وسائل سے بحال کیا، مزید یہ کہ بارشوں سے متاثرہ ریلوے ٹریک اور پل بھی ریلوے اپنے وسائل سے ہی مرمت کر رہا ہے۔

    فیصل آباد میں ریلوے زمینوں پر قبضے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں، سی ای او نے تجاوزات اور قبضہ مافیا سے ریلوے زمین کو واگزار کروانے کے لیے ڈی ایس لاہور کو بھی فوری ہدایات جاری کیں ، انہوں نے عوام سے بھی گزارش کی کہ وہ ٹرینوں میں صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔

    ای کچہری میں مجموعی طور پر 35 ہزارسے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ تقریباً ساڑھے 6ہزار کمنٹس موصول ہوئے۔
    ضلع کرم میں ریلیف ایمرجنسی نافذ
    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا
    ٹرمپ کا امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ
    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان

  • لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا، کیسز کی سماعت کے لئے ججز کے روسٹر جاری کر دئیے گئے۔

    باغی ٹی وی: موسم سرما کی تعطیلات کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور علاقائی بینچز میں 25 دسمبر سے 8 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی، لاہور ہائیکورٹ کے عدالتی افسران اور ماتحت عدلیہ میں 25 دسمبر سے یکم جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی، ڈیوٹی جج ضروری نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سردیوں کی چھٹیوں کے دوران 26 سے 31 دسمبر تک 15 سنگل بنچ اور 5 ڈویژن بنچ کیسز پر سماعت کریں گے،جبکہ یکم جنوری سے 8 جنوری تک 7 سنگل بنچ اور 2 ڈویژن بنچ کیسوں کی سماعت کریں گے۔

  • پاکستان بزنس فورم کا  وزیرخزانہ کو خط،آئندہ سال کیلئے قابل عمل معاشی روڈ میپ کی اپیل

    پاکستان بزنس فورم کا وزیرخزانہ کو خط،آئندہ سال کیلئے قابل عمل معاشی روڈ میپ کی اپیل

    لاہور:پاکستان بزنس فورم نے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کو خط لکھ دیا جس میں فورم نے ر سال 2025 کے لیے واضح اور قابل عمل معاشی روڈ میپ کا اعلان کرنےکی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : خط میں پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ سال 2024 بزنس کمیونٹی اور عوام کے لیے مشکل ترین سال رہا، بجلی بلوں اور شرح سود نے بزنس کمیونٹی کو جکڑے رکھا، پاکستان کاروبار فرینڈلی ملک نہیں رہا لہٰذا سب کو مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام کےباوجود روپیہ مضبوط ہونے میں ناکام رہاحکومت روپے کو مضبوط کرنے کے لیے فوری اورفیصلہ کن اقدامات کرے، روپے کی مضبوطی کے بغیر مالی دباؤ کم کرنے کی کوششیں بے اثر رہیں گی۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ 2024 میں زرعی محاذ پربھی کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بہت سے لوگ اپنی پیداواری لاگت کی وصولی سے قاصر رہے، پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف 16.5 ملین ایکڑ کا تھا مگر صرف 12 ملین ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل کی کاشت ہوئی-

    خط میں بزنس فورم کی جانب سے وزیر خزانہ کو مشورہ دیا گیا کہ اس وقت میثاق معیشت کی تشکیل کی فوری ضرورت ہے، چارٹر کو وسیع سیاسی اتفاق رائے اور سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہو، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اکٹھے ہوں، قوم کی بہتری کے لیے پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

    دوسری جانب پاکستان بزنس کاؤنسل نے اضافی ٹیکسوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے،اپنے ایک بیان میں پاکستان بزنس کاؤنسل نے کہا کہ ایڈوانس برائے ڈپازٹ تناسب اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس نے بزنس کمیونٹی کو چیلینجز میں مبتلا کر دیا ہے اور بینکوں کی بیلنس شیٹ کو متاثر کررہا ہے، بیرون ملک اثاثوں کو ظاہر کرنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا اکٹھا ہونا سرمایہ کار کو پریشان کررہا ہے سی وی ٹی سے ریونیو بھی کم حاصل ہوا اور سپریم کورٹ میں اسکے خلاف مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

    پاکستان بزنس کونسل نے مشورہ دیا کہ محصولات کی شرح نمو کو بڑھانے کیلئے حکومت طویل المدتی حکمت عملی اپنائے، مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیاجائے، ٹیکس کا بوجھ پہلے سے دینے والوں پر نہ ڈالاجائے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا بچیوں سے مصافحہ، پاکستان زندہ باد کے نعرے

    وزیراعلیٰ پنجاب کا بچیوں سے مصافحہ، پاکستان زندہ باد کے نعرے

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ انجینئرنگ سائنس اسلام آباد آمد ہوئی ہے

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہونہار سکالر شپ لانچنگ تقریب میں شرکت کی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف پنڈال میں آتے ہی اچانک طالبات کے درمیان پہنچ گئیں،طلبہ نے خوشی سے پر جوش تالیاں بجا کر وزیر اعلی مریم نواز شریف کا خیر مقدم کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بچیوں سے مصافحہ کیا،بچیوں کو گلے لگا کر اظہار شفقت اور سر پر پیار کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف فاسٹ کے طلبہ کے درمیان بیٹھ گئیں،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پاکستان زندہ باد کےنعرے لگائے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے طلبہ کےلئے باکس اور سٹینڈی ہٹا دیں

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فاسٹ یونیورسٹی کے پانچ کیمپس کے طلبہ سمیت دیگر کو چیک تقسیم کئے،یو ای ٹی ٹیکسلا ، ایگریکلچر یونیورسٹی, میڈیکل کالج راولپنڈی دیگر اداروں کےطلبہ کو بھی سکالر شپ چیک دئیے گئے،ہونہار سکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،اسلام آباد پولیس کی چاک وچوبند دستے نے ہونہار طلبہ کو جنرل سلام پیش کیا،صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے وزیر اعلی مریم نواز کا خیر مقدم کیا،ہونہار سکالرشپ کے بارے میں معلوماتی ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی،تقریب میں ہائر ایجوکیشن کا تیار کردہ خصوصی تھیم سانگ بھی پیش کیا گیا،

    ماہرین نفسیات کے مطابق وہ رویے جو طلاق کروا دیتے ہیں

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

  • 9 مئی  سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے  مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    لاہور: سانحہ 9 مئی میں ملوث ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان کو جیل منتقل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : سانحہ 9 مئی میں ملوث ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے ملزمان کی جیل منتقلی کا عمل جاری ہے جس میں سزا یافتہ 11 مجرموں کو سینٹرل جیل لاہور منتقل کر دیا گیا، جیل منتقل ہونے والوں میں محمد عمران محبوب، علی شاہ، جان محمد، ضیا الرحمان، علی افتخار، عبدالہادی، داود خان، فہیم حیدر، محمد حاشر، محمد عاشق خان اور محمد بلاول شامل ہیں۔

    قبل ازیں 25 میں سے 12 مجرموں کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا گیا تھا اور اب مزید 11 کو لاہور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پاک جنوبی افریقہ آخری ون ڈے ، اسٹیڈیم میں دو غیر معمولی …

    واضح رہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 مجرموں کو سزائیں سنائی تھیں آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنائیں، یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں، سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ نفرت اور جھوٹ پر مبنی ایک پہلے سے چلائے گئے سیاسی بیانیے کی بنیاد پر مسلح افواج کی تنصیبات بشمول شہداء کی یادگاروں پرمنظم حملے کئے گئے اور اُن کی بے حرمتی کی گئی، یہ پُرتشدد واقعات پوری قوم کے لئے ایک شدید صدمہ ہیں۔

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی کے واقعات واضح طور پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو بھی سیاسی دہشتگردی کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس یوم سیاہ کے بعد تمام شواہد اور واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی گئی اور ملوث ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کئے گئے۔

  • شیر کی ہلاکت،گارڈ پر مقدمہ درج،مالک کیخلاف کاروائی نہ ہو سکی

    شیر کی ہلاکت،گارڈ پر مقدمہ درج،مالک کیخلاف کاروائی نہ ہو سکی

    لاہور: تھانہ ہربنس پورہ کے علاقے میں ایک پالتو شیر کی ہلاکت کے بعد گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ شیر کے مالک کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مبینہ غفلت یا اعلیٰ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش،محکمہ وائڈ لائف نے مقدمہ میں شہباز نامی گارڈ کو ملزم قرار دے دیا

    دو روز قبل شیر کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب یہ شیر اپنے پنجرے سے فرار ہو کر گلیوں میں آ گیا تھا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔پولیس کے مطابق، مقدمہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 کی سیکشن 5 اور 12 اور 289 ت پ دفع کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ شیر کو غیر قانونی طور پر ایک شہری کے گھر پر پالا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے شیر کے مالک اور اس کے گارڈ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ گارڈ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم شیر کے مالک کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے کہا کہ شیر کے مالک کو اسی مقدمہ میں شامل تفتیش کیا جائے گا اور اس کے خلاف محکمانہ چالان بھی تیار کیا جائے گا۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ محکمہ وائلڈ لائف کے استغاثہ کے مطابق درج کیا گیا تھا اور اس میں شیر کے مالک کا نام شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ہربنس پورہ کے رہائشی علی عدنان نے اپنے ڈیرے پر ایک پالتو شیر رکھا ہوا تھا۔ شیر موقع پا کر اپنے پنجرے سے باہر نکل آیا اور گندے نالے کے قریب آ گیا۔ شیر کی دھاڑیں سن کر لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا،شہریوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، لیکن اس سے پہلے ہی سکیورٹی گارڈ نے شیر پر گولیاں چلا کر اسے ہلاک کر دیا۔ پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے، لیکن شیر کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی، اور لوگ اس بات پر حیرانی کا شکار تھے کہ کس طرح ایک طاقتور جنگلی جانور کو ایک شہری کے گھر پر پالا جا رہا تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف جانوروں کی زندگی خطرے میں آتی ہے بلکہ انسانوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    اب تک پولیس نے شیر کے مالک کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی ہے، تاہم محکمہ وائلڈ لائف نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ شیر کے مالک کو تفتیش میں شامل کیا جائے گا اور اس کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔اس واقعہ نے لاہور اور دیگر شہروں میں پالتو جنگلی جانوروں کی پرورش اور ان کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کو غیر قانونی طور پر پالتو جانور کے طور پر رکھنا نہ صرف جانوروں کی فلاح کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ انسانی زندگیوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اس واقعہ کے بعد ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کی پالتو حیثیت کے حوالے سے سخت قوانین وضع کیے جائیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • آگ کی بھٹی سے گزر چکی،  گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام کی بلا امتیاز خدمت پنجاب حکومت کا مشن، تمام شعبوں میں اصلاحات لار ہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نےہونہار سکالرشپ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ،صحت ،انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کی ترقی کیلئے انقلابی منصوبے شروع کئے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ نوجوان نسل کو جدید خطوط پر تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع کے لئے کوشاں ہیں۔ روزگار کے لئے آئندہ ماہ بڑا منصوبہ شروع کرنے والے ہیں۔کاروبار کے لئے نوجوانوں کو تین کروڑ روپے تک آسان شرائط پر قرض ملے گا۔ بد تہذیبی، تشدد اور انتشار کے لئے اکسانے والے نوجوانوں کے خیر خواہ نہیں۔ ہم سب کو مل کر پاکستان میں ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔بطور ماں آپ کو تلقین کرتی ہوں پاکستان ہمارے لیے سب سے پہلے ہونا چاہیے۔اس سال ہم 30 ہزار اسکالر شپ دے رہے ہیں اور مجھے خوشی ہے اس بات کی کہ 60 فیصد اسکالر شپ لڑکیوں کو ملی ہیں،میں جنوری 2025 میں ایک روزگار اسکیم لے کر آرہی ہوں جس سے آپ کو 3 کروڑ تک کا قرضہ دیا جائے گا،مجھے صرف سیاست مخالف ہونے کی بنیاد پر کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا رہا،
    سیاسی تفریق سے بالاتر ہوکر ہونہار سکالر شپ تمام طلبا کیلئے ہے،صرف اسکالر شپ نہیں، بہت جلدی ہم لیپ ٹاپ بھی لے کر آرہے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین نے میری کردار کُشی کی لیکن میں آہستہ آہستہ سخت ہو گئی ہوں، میں اُن لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھے آگ کی بھٹی میں سے گزارا، اب مجھ پر کوئی چیز اثر نہیں کرتی، مجھے گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا، ہم سٹوڈنٹس کو مزید ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینا چاہتے ہیں تاکہ انہیں تعلیم کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور وہ آسانی سے اپنے تعلیمی مقاصد حاصل کر سکیں۔یہ 100 بلین کے قریب 5 سالہ منصوبہ ہے جس میں 30 ہزار سکالرشپس اس سال ہونگے 30 ہزار اگلے سال شامل ہونگے اسی طرح 4 سال کی ڈگری میں یہ شامل ہوتے جائیں گے لیکن میری پوری کوشش ہے کہ ہونہار سکالرشپ کی تعداد سالانہ 50 ہزار تک لے کر جائیں۔میں نے یہ جانے بغیر کے کون سا طالب علم کون سی سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتا ہے سب کو اسکالرشپس دیں، اگر آپ پنجاب میں ہو اور ہونہار ہو اس اسکالرشپ کے لیے اہل ہو۔جتنے آج آپکے ماں باپ خوش ہونگے آپ کی چیف منسٹر آپکی ماں مریم نوازشریف اس سے زیادہ خوش ہے۔جب آپ کو گارڈ آف آنر مل رہا تھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ہمارا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔میں نہ سفارش سنتی ہوں اور نہ کبھی کوئی تعیناتی سفارش پر کرتی ہوں اسی لیے میرے کچھ ایم این ایز اور ایم پی ایز مجھ سے ناراض ہوجاتے ہیں ۔ یہ آپ کی امانت ہے اس میں کوئی خیانت نہیں ہوسکتی۔

    پاک جنوبی افریقہ آخری ون ڈے ، اسٹیڈیم میں دو غیر معمولی واقعات

    مغربی میکسیکو میں طیارہ حادثہ،سات افراد کی موت

    موبائل فون کمپنیوں کی لوٹ مار،عوام نے جاز اور زونگ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی

  • عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    عظیم گلوکارہ "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی

    آج 23 دسمبر کو برصغیر کی مشہور و مقبول گلوکارہ، "ملکہ ترنم” نورجہاں کی 24ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ نورجہاں، جن کا اصل نام اللہ وسائی تھا، 1926 میں قصور، پنجاب کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز نو برس کی عمر میں کلکتہ سے بطور چائلڈ سنگر کیا اور جلد ہی اپنی آواز اور گائیکی کے منفرد انداز سے ایک نئی پہچان حاصل کر لی۔

    پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا، اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں،نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا، اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی سیکھنے کا انتظام کیا۔

    نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی، 1930 میں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا، اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً 11 خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، 1931 تک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ 1932 میں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی، اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی،پنچولی نے نورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاولی کے لیے منتخب کیا،اس فلم کے لیے نورجہاں نے اپنا پہلا گانا ’سالا جوانیاں مانے اور پنجرے دے وچ‘ ریکارڈ کروایا۔ تقریباً تین سال کولکتہ میں رہنے کے بعد نور جہاں واپس لاہور چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مشہور موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی، جو اسٹیج پروگراموں میں موسیقی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نورجہاں کو اسٹیج پر گانے کی پیشکش کی جس کے بدلے میں نورجہاں کو فی گانا ساڑھے سات آنہ دیا گیا۔ ان دنوں ساڑھے سات آنہ اچھی رقم سمجھی جاتی تھی۔1939 میں پنچولی کی میوزیکل فلم گل بکاولی کی کامیابی کے بعد نور جہاں فلم انڈسٹری کی ایک مقبول شخصیت بن گئیں۔ اس کے بعد سنہ 1942 میں پنچولی کی پروڈیوس کردہ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نور جہاں نے بطور اداکارہ فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی۔

    نورجہاں نے اپنی زندگی کے 35 سال سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی آواز کا جادو چلایا اور اپنے دور کی سب سے اہم گلوکارہ کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10,000 گانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں۔1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، نورجہاں کے ملی نغموں نے پاکستانی عوام اور فوج میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ ان کے گانے "ہمتِ مردانہ”، "دل دل پاکستان” اور دیگر نغمے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ ان کی آواز نے فوجیوں میں حوصلہ پیدا کیا اور عوامی جذبات کو مضبوط کیا۔

    نورجہاں کی فنی زندگی میں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات شامل ہیں۔ 1957 میں انہیں بہترین گلوکاری اور اداکاری کے لیے صدر پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ملینیم ایوارڈ جیسے اہم اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ان کے گانے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنے جاتے ہیں، اور ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ نورجہاں کی آواز کی مٹھاس اور گائیکی کے جذباتی رنگ ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

    2000 میں آج ہی کے دن نورجہاں کراچی میں انتقال کر گئیں اور انہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسا لمحہ تھا جس سے پاکستانی قوم اور موسیقی کی دنیا ہمیشہ کے لیے غمگین ہو گئی۔نورجہاں کا فن اور ان کی شخصیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز کی جادوگری، ان کے ملی نغمے اور ان کی بے شمار موسیقی کی تخلیقات انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی برسی پر مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں محافل منعقد کیں، جہاں ان کے گانے سن کر لوگوں نے اپنے پسندیدہ گانے دوبارہ سنے۔نورجہاں کا نام ہمیشہ گلوکاری کی دنیا میں ایک سنہری باب کے طور پر زندہ رہے گا اور ان کی گائیکی ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی۔