Baaghi TV

Category: لاہور

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا گرلز سکولوں میں ہراسانی کے سدباب کیلئے خصوصی کمیٹیاں بنانے کا اصولی فیصلہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا گرلز سکولوں میں ہراسانی کے سدباب کیلئے خصوصی کمیٹیاں بنانے کا اصولی فیصلہ

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ”بیداری“کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عنبرین عجائب کی سربراہی میں 36 طالبات پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : لیگی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ملاقات میں سپیشل طالبہ کو اپنے قریب بٹھایا اور اظہار شفقت کیا بچیوں سے سکولو ں کے بارے میں دریافت کیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر عنبرین عجائب نے ”بیداری“ کی خدمات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور طالبات نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔

    ملاقات میں گرلز سکولوں میں ہراسانی کے سدباب کیلئے خصوصی کمیٹیاں بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، اس موقع پر پنجاب کے سکولوں میں گرلز کا عالمی دن منانے پر اتفاق کیا گیا،وزیر اعلیٰ نے طالبات کی خواہش پر ٹیب اور ای بائیکس دینے کا اعلان کیا اور وویمن ورچوئل سٹیشن، پینک بٹن اور سیفٹی ایپ کے بارے میں آگاہ کیا-

    وزیر اعلیٰ نے شرکاء کو سی ایم سکول میل پروگرام کی تفصیلات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے طلباء کے لیے سکالر شپ لیپ ٹاپ، ای بائیکس سمیت دیگر پراجیکٹس لا رہے ہیں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے طالبات کے ساتھ تصاویر بنوائیں طالبات نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں، اللّہ تعالیٰ آپک و مزید کامیابیوں سے نوازے –

    ملاقات میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری،ایم پی اے ثانیہ عاشق، چیف سیکرٹری اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

  • عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم دے دیا،
    عدالت نے بچوں کےخرچے کو سالانہ دس فیصد کےحساب سے بڑھانے کی درخواست منظور کرلی ،فیصلے کی کاپی پنجاب کےتمام ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور فیملی ججز کو بھجوانے کی ہدایت کر دی گئی،عدالت نے فیصلے کی کاپی سکرٹری قانون پنجاب کو بھی بھجوانے کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئین کےآرٹیکل 4 کےتحت جینے کے حق کا تحفظ محفوظ ہے، پسماندہ طبقات کے بنیادی مفادات کاتحفظ آئینی ذمہ داری ہے، بچوں کی کفالت زندگی کالازمی حصہ ہے،بچے خوراک، لباس، سکولنگ، رہائش، ضروریات اور بقاء کےلئے کفالت پر منحصرہیں، بچوں کا دیکھ بھال حاصل کرنا قانونی حق ہے جو قانون کے ذریعے دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت دیکھ بھال کا حق حقدار کو وقار کے ساتھ ملنا چاہیے، ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کسی خاص بندوبست سے نہیں روکا گیا،

    درخواست گزار مطلقہ خاتون نے دو بچوں کے خرچے میں دس فیصد اضافے کےلئے عدالت سے رجوع کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے سے بچوں کےاخراجات بڑھ چکے ہیں، عدالت بچوں کےمقرر کردہ خرچے کوسالانہ دس فیصد اضافے کےساتھ شامل کرنے کاحکم دے، خاتون کےسابق شوہر نے پٹیشن مسترد کرنے کی استدعا کی تھی.

    آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا  آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج لاہور میں "گرین پنجاب ایپ” اور "سموگ ہیلپ لائن 1373” کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” اور اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل صرف پنجاب یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لئے ایک اہم چیلنج ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ انہیں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ملنے والی وظیفہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 25 ہزار روپے کی رقم بچوں کے لئے ناکافی تھی، اسی لئے انہوں نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پورے پنجاب سے ایک ہزار انٹرنز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ انٹرن شپ کے بعد نوجوانوں کو ان کے اپنے شعبے میں نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پاکستان میں ماحولیات کے مسائل پر حکومتوں نے درست طریقے سے کام نہیں کیا”، اور اب جب یہ مسائل روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اپنے ماحول کو بہتر بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے” اور یہ کہ ان کی حکومت نے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مختلف منصوبے شروع کئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ "جو طلبہ صوبائی حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے سہولت کاری کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے اور سموگ کے سبب سکول اور دفاتر بند کرنا پڑتے ہیں۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” کیونکہ انڈسٹری کی وجہ سے ایئر کوالٹی خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دسمبر میں 28 الیکٹرک بسیں لاہور میں متعارف کرائی جائیں گی اور بسوں کے الیکٹرک چارجنگ سٹیشن سولر پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پنجاب حکومت روزانہ ایک نیا منصوبہ لانچ کرتی ہے” اور یہ کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ "پنجاب حکومت کبھی عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتی” اور ماحولیاتی مسائل کو بہتر بنانے کے لئے 25 کروڑ عوام کو اس مسئلے کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
    مریم نواز نے اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، بغیر نام لئے کہا کہ "ان کو احتجاج کے لئے سرکاری لوگوں کو بلانا پڑتا ہے” اور یہ کہ "آپ کا ایجنڈا ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "اسی افراتفری کے دوران اسلام آباد کا ایک جوان شہید ہو گیا” اور واضح کیا کہ سیاسی سموگ پھیلانے والوں کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے مریم اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جتنا میں ماحولیات پر کام کرنا چاہتی تھی اس سے زیادہ مریم اورنگزیب نے اس پر کام کیا ہے۔”

  • سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    سما ٹی وی بحران کا شکار، نجم سیٹھی پروگرام کی ایڈیٹنگ سے پریشان،تو دیگر بھی نوکریاں چھوڑنے کا تیار، اکرم چودھری نے سب اچھا کی رپورٹ دے کر سما ٹی وی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، عبدالعلیم خان نے سما ٹی وی کی فروخت کے لئے غورو خوض شروع کر دیا

    سما ٹی وی جس کے مالک وفاقی وزیر عبدالعلیم خان ہیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے،اکرم چودھری کی من مانیوں نے سما ٹی وی کی کٹیا ڈبو دی،سما ٹی وی کے اینکر نجم سیٹھی پروگرام کی ایڈیٹنگ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو چکے ہیں،طلعت حسین نے الیکشن کے دنوں میں سما ٹی وی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن نہیں چھوڑا، ابصار عالم سما ٹی وی میں آئے پروگرام کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن ابصار عالم کا پروگرام بھی "وڑ” گیا، سما ٹی وی کے مالک عبدالعلیم خان چینل کی موجودہ صورتحال سے انتہائی پریشان اور اذیت کا شکار ہیں،نجم سیٹھی جو پروگرام کر رہے تھے انکے پروگراموں کی ایڈیٹنگ تیس تیس ہزار روپے تنخواہ لینے والے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نجم سیٹھی پریشان ہیں کیونکہ انکی ایڈیٹنگ درست نہیں ہوتی،نجم سیٹھی کئی بار نشاندہی کر چکے ہیں لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی اور وہی ایڈیٹر ہی کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نجم سیٹھی ناخوش ہیں،

    اینکر طلعت حسین بھی سما ٹی وی میں ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ الیکشن کے بعد سما ٹی وی چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے نہیں چھوڑا ،ابھی تک سما ٹی وی میں ہی ہیں،تاہم انتظامیہ سے ناخوش ہیں،سما ٹی وی نے حال ہی میں اینکر طلعت حسین کا ایک پروگرام آن ایئر نہیں کیا تھا جس پر طلعت حسین نے معافی مانگ لی تھی،صحافی طلعت حسین نے 16 جولائی کی رات 10 بجکر 53 منٹ پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر اپنی پوسٹ میں ریکارڈ پروگرام آن ایئر نہ ہونے پر مہمانوں سے معافی مانگی،اپنی پوسٹ میں طلعت حسین نے لکھا کہ ’کاشف عباسی، شہزاد اقبال، عامر الیاس رانا اور منیب فاروق سے معافی مانگتا ہوں جنہوں نے میرے پروگرام ’ ریڈ لائن ود طلعت ’ میں شرکت کی تھی، جو آج (منگل) ریکارڈ کیا گیا لیکن نشر نہیں ہوا،سینئر صحافی طلعت حسین نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’پروگرام کے آن ایئر نہ ہونے کی وجوہات میرے کنٹرول سے باہر ہیں.طلعت حسین کے بارے میں بھی اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بھی کسی وقت سما ٹی وی چھوڑ سکتے ہیں،

    معروف صحافی وتجزیہ کار ابصار عالم نے سما ٹی وی جوائن کیا، ابصار عالم نے پروگرام تو شروع کر لیا لیکن ان کو بھی وہ پذیرائی نہ مل سکی جو ملنی چاہئے تھی، ابصار عالم کا بھی سما ٹی وی پر پروگرام مقبول نہ ہو سکا، چینل انتظامیہ کی کوشش تھی کہ ابصار عالم کا پروگرام کامیاب ہو تا ہم انہیں ناکامی ہوئی، اور ابصار عالم کا پروگرام بھی "وڑ” چکا ہے، جس کی وجہ سے علیم خان انتہائی پریشان ہیں، نجم سیٹھی کی پروگرام کی ایڈیٹنگ کی پریشانی ،طلعت حسین کا پروگرام آن ایئر ہونا،اور پھر ابصار عالم کے پروگرام کا کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے علیم خان دلبرداشتہ ہیں، اکرم چودھری جو خود کو علیم خان کا ایڈوائزر کہتے ہیں، سما ٹی وی کے تمام معاملات وہی دیکھ رہے ہیں اور سما ٹی وی میں موجودہ بحران کے ذمہ دار بھی وہی ہیں، اکرم چودھری کی وجہ سے ہی سما ٹی وی جو پاکستان کا ایک بڑا چینل تھا کی پذیرائی میں کمی ہوئی ہے، سما ٹی وی پر اب کوئی بھی پروگرام لائیو نشر نہیں ہو رہا بلکہ تمام پروگرامز کی ریکارڈنگ پہلے ہوتی ہے اور پھر انکو چلایا جاتا ہے ۔انہی حالات کےپیش نظر سما ٹی وی کے مالک ،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سماٹی وی کے فروخت کے لئے مشاورت شروع کر دی ہے، عنقریب ایسی خبر سننے کو ملے گی کہ سما ٹی وی ایک بار پھر "فروخت” ہو گیا، اور اسکی تمام تر ذمہ داری اکرم چودھری پر ہی عائد ہو گی.

  • پرویز الہی نے کرپشن کیس میں نیب ریکوری کو جھوٹی خبر قرار دے دیا

    پرویز الہی نے کرپشن کیس میں نیب ریکوری کو جھوٹی خبر قرار دے دیا

    لاہور:چودھری پرویزالٰہی نے نیب کی جانب سے جاری کردہ خبر کی تردید کی ہے-

    باغی ٹی وی: چودھری پرویزالٰہی نے بیان میں کہا کہ آج نیب نے من گھڑت اور جھوٹی خبر چلائی ہے، سیکڑوں سرکاری ملازمین کو اغوا کر کے مار پیٹ کر کے پلی بارگین کی گئی ہے انہوں نے جو پیسے دیے ہیں ان کو میرے ساتھ خوامخواہ منسلک کیا جا رہا ہے، یہ سارا جھوٹ کا پلندا ہے، نہ تو میں نے کرپشن کی ہے اور نہ ہی میں نے کوئی پلی بارگین کی ہےمیرے خلاف 25 جعلی کیس بنے، یہ مزید 25 کیس اور بھی بنا لیں میں عمران خان کے ساتھ ہوں اور رہوں گا انشاء اللہ۔

    واضح رہے کہ ترجمان نیب لاہور نے کہا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے 3 کروڑ 68 لاکھ مالیت کا چیک پنجاب حکومت کے حوالے کیا۔ ڈی جی نیب لاہور امجد مجید اولکھ کی موجودگی میں ایڈیشنل سیکرٹری فنانس عبدالاصمد نے وصول کیاریکوری سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی و دیگر کیخلاف تعمیراتی ٹھیکوں میں کک بیکس کیس میں ہوئی۔ سابق چیف فنانشل آفیسر اکرام نوید سے پلی بارگین سے 1 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول کئے گئے۔

    ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کا کہنا تھا کہ کرپشن اسکینڈلز میں قومی دولت کی برآمدگی نیب کی اولین ترجیح ہے، ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں لاہور بیورو بہترین کام کر رہا ہے، نیب کے تمام اقدامات ملکی و عوامی مفاد میں ہونگے۔

  • ریلوے میں جعلی بھرتیوں کا کیس:اسٹیشن ماسٹر  گرفتار ،4 روزہ ریمانڈ  پر پولیس کے حوالے

    ریلوے میں جعلی بھرتیوں کا کیس:اسٹیشن ماسٹر گرفتار ،4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    لاہور: پاکستان ریلوے میں جعلی بھرتیوں کے کیس میں فراڈ میں ملوث اسٹیشن ماسٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق اسٹیشن ماسٹر لاہور افتخار علی کو ریلوے میں جعلی بھرتیوں کے فراڈ کیس میں گرفتار کرکے 4 روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے ایس ایچ او کی تشکیل کی گئی ٹیم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان ریلوے میں جعلی بھرتیوں کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا تھا، جس میں فرضی ڈیوٹیاں لگا کر لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹے گئے تھے۔ سادہ لوح افراد کو ریلوے میں بھرتی کرانے کا جھانسہ دے کر ان سے لاہور ریلوے اسٹیشن،ڈیزل شیڈ اور دیگر مقامات پر فرضی ڈیوٹیاں بھی کرائی گئیں،اس کے علاوہ بھرتیوں کے بوگس لیٹر جاری کر کے لاکھوں روپے کی رقم بٹوری گئی ریلوے پولیس لاہور نے ملزمان ارسلان، افتخار احمد، اسٹیشن ماسٹر، کلرک اور پلیٹ فارم انسپکٹر عثمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا .ایک ماہ فرضی ڈیوٹیاں کرنے کے بعد تنخواہیں مانگنے پر فراڈ کا انکشاف ہوا۔

  • نیب نے پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان سے ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی

    نیب نے پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان سے ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی

    لاہور: نیب نے کرپشن اسکینڈل میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان کے خلاف کیس میں بڑی ریکوری کرکے رقم پنجاب حکومت کے حوالے کر دی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان نیب لاہور کے مطابق ریکوری سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور دیگر کے خلاف ٹھیکوں میں کک بیکس کیس میں ہوئی ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے 3 کروڑ 68 لاکھ روپے کا چیک پنجاب حکومت کے حوالے کیا، ایک کروڑ 72 لاکھ روپے سابق چیف فنانشل آفیسر اکرام نوید سے پلی بارگین میں وصول کیے گئے۔

    ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ قومی دولت کی برآمدگی نیب کی اولین ترجیح ہے، پارلیمانی نمائندگان و بزنس کمیونٹی کیلئے احتساب سہولت سیل قائم کیا گیا ہے، اے ایف سی کا دائرہ کار قومی اسمبلی، صوبائی پارلیمان کے بعد بیوروکریسی تک پھیلایا گیا ہے نیب لاہور رواں سال اربوں روپے عوام اور قومی خزانہ کی نذر کرچکا ہے، عوام دوست اقدامات میں نیب لاہور ماہانہ کھلی کچہری باقاعدگی سے منعقد کر رہا ہے، چیئرمین نیب کے حالیہ اقدامات سے عوام کا نیب پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

  • شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے

    شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے

    لاہور: ’براڈ بوائے‘ کے نام سے مشہور پاکستان کے نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے ہیں،شہروز کاشف آج صبح شیشاپنگما کی چوٹی پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : شہروزکاشف سرباز خان کے بعد دوسرے پاکستانی ہیں جنہوں نے تمام 14 بلند ترین چوٹیاں سر کی ہیں، سرباز نے گزشتہ ہفتے شیشا پنگما سر کرکے یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی ماؤنٹینئر بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    شہروز کاشف نے اپنی کامیابی پر کہا کہ یہ سب کچھ حاصل کرنا ان کیلئے آسان نہیں تھامجھے معلوم تھا کہ یہ انتہائی مشکل ہوگا اور میری جان جانے کا خطرہ حقیقی تھا لیکن میں ہدف پر توجہ مرکوز رکھتا رہا، اب جب کہ میں یہاں کھڑا ہوں، مجھے احساس ہوا کہ یہ کامیابی صرف پہاڑوں کو سر کرنے کی نہیں بلکہ یہ خوف، شک اور حدود پر قابو پانے کے بارے میں ہے، میرے لیے، یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔

    پی ٹی آئی اراکین کو کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی اجتماع میں شرکت …

    واضح رہے کہ شہروز کاشف کا 8000سر کرنے کا سفر 2019 میں شروع ہوا، جب انہوں نے صرف 17 سال کی عمر میں 8047 میٹر بلند براڈ پیک کو سر کی،سال 2021 میں شہروز نے ماؤنٹ ایورسٹ، مناسلو اور کے ٹو کی چوٹیوں کو سرکیا جب کہ 2022 میں شہروز کاشف نے کینچنجونگا، لوٹسے، مکالو، نانگا پربت، گیشر برم ون اور گیشر برم ٹو چوٹیاں سر کیں ،گزشتہ سال شہروز نے اناپورنا، داولاگیری اور چو ایو کی چوٹیوں کو سر کیا تاہم شہروز کاشف گزشتہ برس ایک حادثے کے باعث شیشاپنگما کو سر کرنے سے محروم رہ گئے تھے-

  • سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کے روز اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ای سی پی کو دوسرا خط لکھا گیا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ اس اہم قانون کی عمل درآمد میں مزید تاخیر جمہوریت اور عوامی خواہشات کے منافی ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں پارلیمانی بالادستی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر فوری عملدرآمد نہ ہونا عوام کی مرضی اور جمہوری نظام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
    سپیکر پنجاب اسمبلی نے خط میں مزید لکھا کہ انتخابات ایکٹ پر فوری عملدرآمد جمہوری نظام کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس قانون کے نفاذ میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی عوامی مفاد میں ہوتی ہے اور اس کی بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی بالادستی جمہوری نظام کی کامیابی کا سنگِ بنیاد ہے اور انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر عملدرآمد کے حوالے سے تاخیر سے جمہوری نظام میں عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فیصلوں کو نظرانداز کرنا عوامی نمائندگی کی توہین ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا چاہیے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ملک احمد خان اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے انتخابات ترمیمی ایکٹ کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، تاحال الیکشن کمیشن کی جانب سے اس پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پاکستانی انتخابی نظام میں شفافیت اور اصلاحات لانے کے حوالے سے ایک اہم قانون ہے جسے پارلیمنٹ نے حال ہی میں منظور کیا ہے۔ اس ایکٹ کا مقصد انتخابی عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ انتخابات کے نتائج عوامی امنگوں کے عین مطابق ہوں۔ملک احمد خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے مسلسل خطوط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کی فوری عمل درآمد کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

  • "فلاپ سٹوری” پر کوئی یقین نہیں کر رہا ،عظمیٰ بخاری

    "فلاپ سٹوری” پر کوئی یقین نہیں کر رہا ،عظمیٰ بخاری

    وزیراطلاعات پنجاب، عظمیٰ بخاری، نے علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ گنڈاپور کی "فلاپ سٹوری” پر اس کے اپنے لوگ بھی یقین نہیں کر رہے۔ عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈاپور کی جانب سے "گینگ آف کالا چور” کے بارے میں بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں میں "مظلوم بچہ” بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کے بھائی اس وقت وزیراعظم ہیں اور بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔
    عظمی بخاری نے زور دیا کہ گنڈاپور کا لیڈر، نوازشریف کے بغض میں جلتا ہوا، اڈیالہ جیل پہنچ چکا ہے، جبکہ نوازشریف پاکستان اور قوم کی بات کرنے والے قومی لیڈر ہیں۔
    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ گنڈاپور اور اس کی جماعت کنویں کے مینڈک کی طرح ہیں جو اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانوروں کی جگہ مویشیوں کی منڈیاں ہوتی ہیں، نہ کہ اسمبلیاں۔ وزیراطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صوبہ چلانے کے قابل نہیں ہیں تو پختونخواہ کی جان چھوڑ دیں، اور ہر ہفتے پنجاب اور وفاق پر چڑھائی کرنے کے بجائے اپنے صوبے کی عوام پر رحم کھائیں۔ یہ بیان پنجاب کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر جب سیاسی بیانات کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے۔