Baaghi TV

Category: لاہور

  • پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی ہے

    ،پنجاب حکومت نےپی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت دی ہے،پی ٹی آئی لاہور کی قیادت گارنٹی دے گی کہ امن و عامہ خراب نہیں ہوگا، جلسے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے تحریری حلف نامہ لیا جائیگا،جلسہ پانچ بجے ختم ہونا چاہئیے۔باہر سے کوئی جتھا آکر لاہور کے کاروبار زندگی کو متاثر نہیں کرے گا۔44 شرائط کی بنیاد ٔپر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی گئی ہے،

    لاہور جلسے میں علی امین معافی مانگیں،افغان جتھوں کو لانے کی اجازت نہیں،اشتہاری مجرم آئے تو گرفتارہوں گے،نابالغ بچے نہیں آئیں گے،گاڑیوں کی تلاشی،کوئی ڈنڈا نہیں،پرچم،پتلے نہیں جلائے جائیں گے،جلسے کے لئے شرائط
    پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے حکومتی شرائط کے نکات
    پارکس اور باغبانی کی انتظامیہ سے اجازت لینی ہو گی، تمام واجبات ادا کیے جائیں گے۔پی ایچ اے واجبات وصول کرے گا۔ اسٹیج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے منتظمین ذمہ دار ہوں گے،خواتین و حضرات کے انکلوژرز الگ الگ ہوں‌گے، ہنگامی راستے بنائے جائیں گے،بھگدڑ سے بچنے،کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے،پارکینگ کے لئے نجی سیکیورٹی اور رضاکاروں کی خدمات لی جائیں گے، وزیر اعلیٰ، کے پی علی امین گنڈاپور کو چاہیے کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد جلسے کے دوران جو انہوں نے کہا اس پر لاہور جلسے میں عوامی طور پر معافی مانگیں۔4) شہر سے باہر کے جتھے آکر روزمرہ کے معمولات میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ریاست مخالف/ ادارہ مخالف نعرہ بازی اور بیان نہیں ہو گا، اسلام آباد جلسہ میں نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں‌کو اسٹیج پر نہیں آنے دیا جائے گا، کوئی اشتہاری مجرم جلسہ میں شرکت نہیں کرے گا۔ اگر ایسا ہواتوان کی گرفتاری میں سہولت فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔جلسہ، ناکام ہونے کی صورت میں بھڑکانے کے جرم میں گرفتار یاں ہوں گی،کوئی افغان جھنڈا نہیں لہرایا جائے گا اور نہ ہی افغان تنخواہ دار افرادی قوت کو جلسہ میں لایا جائے گا۔منتظمین فوکل پرسن کو نامزد کریں گے جو کوآرڈینیٹ کریں گے۔تمام مقامات پر ٹریفک اور سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا،منتظمین ایس پی کینٹ اور ایس پی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ٹریفک پولیس ایک تفصیلی ٹریفک پلان نافذ کرے گی۔ عوام کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار منتظم ہوگا۔پراپرٹی اور پی ایچ اے کی فراہمی کے ایک ماہ کے اندر ادائیگی کرنی ہو گی،16) ڈیک/ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کو اس کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا۔جلسہ کے دوران گراؤنڈ کے اندر ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا جائے۔ جلو پارک گراؤنڈ، لاہور میں کوئی مستقل سٹیج موجود نہیں۔اس لیے کنٹینرز رکھ کر اسٹیج بنایا جائے گا۔سٹیج کے چاروں طرف لوہے کے پائپ لگائے جائیں گے۔منتظم ذمہ داری لے گا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص وی آئی پی ایریا میں داخل نہیں ہوگا نہ ہی اسٹیج کے قریب آئے گا، آرگنائزر کی طرف سے فراہم کردہ رضا کارجلسہ کے شرکاء کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہوں گے،قطاروں کی تشکیل کو یقینی بنائیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شرکاء داخلی دروازے پر پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ رہیں، منتظم جنریٹر کا انتظام کرے گا۔منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نابالغ بچوں کو نہ لایا جائے۔ کسی کو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔سڑکوں/گلیوں پر کوئی جلوس/ریلی نہیں نکالی جائے گی۔کسی کو بھی ڈنڈوں کے ساتھ پنڈال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کا احساس کو مجروح کرنے کا امکان ہو۔ آتش گیر ہتھیاروں کی نمائش اور آتش بازی پر سختی سے پابندی ہوگی۔ منتظمین کی طرف سے کوئی استقبالیہ ڈیسک قائم نہیں کیا جائے گا۔شہر کے کسی بھی حصے میں وال چاکنگ نہیں ہوگی۔34) ہر وقت پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا۔ قابل اعتراض/ جارحانہ نعرے ممنوع ہوں گے۔کسی کو شہر کے اندر جلسہ میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جلسہ میں شرکت کے لیے آنے والی کسی بھی گاڑی/شخص کی پولیس تلاشی لے گی،اس سلسلے میں منتظمین کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔ کسی سیاسی، مذہبی جماعت یا کسی شخص کا کوئی پتلا/جھنڈا نہیں جلایا جائے گا،

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ افسران نے دو سے آٹھ بجے جلسے کا ٹائم دیا ہے، ہم کہ رہے ہیں کہ رات گیارہ یا بارہ تک ٹائم دیا جائے،

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلے کا حکم ملنے کے بعد ڈی سی آفس میں اجلاس ہوا،ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں پولیس رپورٹس اور اسلام آباد جلسے کے بعد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا اور پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے تجاویز پر بھی غور کیا گیا،

    دوسری جانب لاہور پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت تحریک انصاف کے 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کے لیے مراسلہ لکھ دیا ،اقبال ٹاؤن ڈویژن پولیس کی جانب سے ایک مراسلہ ارسال کیا گیا تھا فہرست میں 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جن میں میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں حسن، مہر واجد کا بھی نام شامل ہے۔فہرست میں وقاص امجد، ندیم بارا سمیت خواتین ورکرز کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں،پولیس نے مراسلے میں الزام عائد کیا کہ یہ افراد افواج پاکستان کیخلاف انتشار پھیلاتے ہیں، یہ لوگوں کو نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی ترغیب دیتے ہیں، لاء اینڈ آڈر کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے،تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے کنٹینرز اٹک پہنچادیئے گئے ہیں،اٹک خورد کے مقام پر درجنوں کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں،پنجاب اور خیبر پختونحوا کے بارڈر پر کل صبح روڈ بند کرنے کا امکان ہے،باخبر ذرائع کے مطابق رات کو سڑک بند کرنے کا حکم نہیں ملا ،پولیس کا کہنا تھا کہ اگر صبح حکم ملا تو خیبر پختونحوا کی طرف سے روڈ کو بند کریں گے

  • خاتون اینکر بارے نازیبا گفتگو،عمر عادل کی درخواست ضمانت خارج

    خاتون اینکر بارے نازیبا گفتگو،عمر عادل کی درخواست ضمانت خارج

    اینکر عائشہ جہانزیب سے متعلق غیر مناسب گفتگو کے کیس میں ملزم ڈاکٹر عمر عادل کی درخواست ضمانت خارج کردی گئی

    اینکر پرسن عائشہ جہانزیب سے متعلق نامناسب گفتگو کرنے کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئےگرفتار ملزم عمر عادل کی درخواست ضمانت خارج کردی،عائشہ جہانزیب کی جانب سے زین قریشی ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے تھے، گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عمر عادل نے اپنے یوٹیوب چینل پر عائشہ جہانزیب سے متعلق انتہائی نامناسب گفتگو کی تھی، جس کے بعد اینکر پرسن عائشہ جہانزیب نے سائبر کرائم کے تحت عمر عادل کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا،اندراج مقدمہ کے بعد سائبر کرائم ونگ نے عمر عادل کو گرفتار کرلیا تھا۔

    عمر عادل کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا تو یو ٹیوبر ڈاکٹرعمرعادل کی جانب سے عدالت میں درخواست ضمانت جمع کروائی گئی تھی، جس پر ضلع کچہری لاہور میں سماعت ہوئی تھی،وکیل مدعی عائشہ جہانزیب نے استدعا کی کہ عائشہ جہانزیب ملزم عمر عادل کو جانتی تک نہیں، ملزم کی تمام گفتگو ریکارڈ کا حصہ ہے، اس لیے ملزم کی ضمانت خارج کی جائے،عمر عادل کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ عمر عادل پر سیاسی بنیادوں پرمقدمات درج کیے جارہے ہیں، عمر عادل پر اسی نوعیت کے 2 مقدمے پہلے بھی درج ہوچکے ہیں،جن میں ضمانتیں ہوچکی ہیں،ہمیں پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ایک کیس میں ضمانت ہوئی تو دوسرے کیس میں گرفتار کرلیں گے،عدالت ضمانت منظور کرنے کا حکم جاری کرے۔

    ڈاکٹر عمر عادل ایک اور مقدمے میں گرفتار،عدالت پیش

    عمر عادل کو پہلے بھی ایک کیس میں ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا تا ہم بعد ازاں عدالت نے عمر عادل کو رہا کر دیا تھا،عمر عادل کے خلاف خاتون صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے بھی مقدمہ درج کروا رکھا ہے،پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی عمر عادل کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دی تھی،جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمر عادل نے اپنے وی لاگ میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر خواتین اینکرز کی کردار کشی کی ہے, عمر عادل گندے انڈے کے نام سے ایک یوٹیوب چینل کے کو ہوسٹ بھی ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور خواتین اینکرز کے حوالے سے گفتگو کرنے پر عمر عادل کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    خواتین اینکرز بارے نازیبا گفتگو کرنیوالے عمر عادل کو رہا کرنے کا حکم

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    غریدہ فاروقی کی درخواست پر خواتین بارے نازیبا کلمات کہنے والا عمر عادل گرفتار

    واضح رہے کہ چند روز قبل یوٹیوبر اور خود ساختہ ڈاکٹر عمر عادل کی جانب سے ایک پوڈ کاسٹ میں خواتین اینکرز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، عمر عادل کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈیکوریشن پیس کی طرح ٹی وی پر سجایا جاتا ہے اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ وہ خاتون اینکر کو کچھ کہہ سکے اور نہ ہی کوئی انہیں چینل سے نکال سکتا ہے،

    عمر عادل کے خواتین بارے نازیبا ریمارکس پر خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے عمر عادل کو ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا، غریدہ فاروقی نے ایف آئی اے میں‌بھی درخواست دی تھی، پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی عمر عادل کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دی تھی،جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمر عادل نے اپنے وی لاگ میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر خواتین اینکرز کی کردار کشی کی ہے, عمر عادل گندے انڈے کے نام سے ایک یوٹیوب چینل کے کو ہوسٹ بھی ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور خواتین اینکرز کے حوالے سے گفتگو کرنے پر عمر عادل کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

  • لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    پاکستان تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اجلاس ہوا

    اجلاس کا انعقاد زوم میٹنگ پر کیا گیا، اجلاس میں لاہور تنظیم اور مرکزی قیادت شامل تھی،اجلاس میں جلسے کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے نہ کیا جا سکا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلسے کی اجازت ملنے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا،لاہور تنظیم کا کہنا تھا کہ جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، اجازت ملتے ہی سٹیج لگا دیا جائے،جلسے کی اجازت ملنے کے بعد کارکنان کی شمولیت کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کے پی کے قیادت ہر صورت جلسے میں شرکت کرے گی،

    تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے آن لائن اجلاس میں جلسے کی تیاریاں تیز کرنے کا کہہ دیا ،تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے تمام رہنماؤں ،ٹکٹ ہولڈر اور سرگرم کارکنان کو مزید اہم ہدایات جاری کر دیں ،لاہور کے ہر حلقے میں جلسے کے حوالے سے بھر پور کمپین میں مزید تیزی کی ہدایت کر دی گئی،پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ لاہور جلسے کے لیے عوام کو موبلائز کرنے کے لیے رہنما میدان میں نکلیں، آج شام تک عدالت کی حکم پر ڈی سی کی جانب سے فیصلے کے بعد مزید ہدایات فوری دی جائیں گی پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت آج شام لاہور جلسے کے حوالے سے مزید پیغام جاری کرے گی،ڈی سی لاہور کی جانب سے اجازت ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے مزید حکمت عملی کارکنان اور عوام کو دی جانے گی

    دوسری جانب نعیم حیدر پنجوتھہ وکلا کے ساتھ لاہور جلسہ گاہ پہنچ گئے، نعیم حیدر کا کہنا تھا کہ جلسہ کی تیاریاں شروع عوام تیار رہے، جلسہ گاہ کے اردگرد راستے بھی کلئیر ہیں اور تمام معاملات کنٹرول میں ہیں عوام ہر صورت جلسہ گاہ پہنچیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کا کل لاہور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ ہے، ابھی تک انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، لاہور ہائیکورٹ نے آج شام پانچ بجے تک انتظامیہ کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے.اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ اگر ڈی سی لاہور نے شام 5 بجے تک جلسے کی اجازت نہ دی تو پھر بھی ہم ہر صورت جلسہ کریں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ لاہور جلسہ ہر صورت ہو گا، وزرا 2 ہزار، ایم پی اے ایک ہزار، تنظیمی عہدیدار 500 اوریوسی عہدیداروں 100 کارکن لائے گا، سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کےلئے مشینری ساتھ جائے گی

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

    پی ٹی آئی جلسہ،مینار پاکستان کے گیٹوں کو تالے لگ گئے، شاہی قلعہ بھی بند
    پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کا معاملہ ،مینار پاکستان کو سیل کردیا گیا ،پولیس نے مینار پاکستان کے چھ گیٹس کو تالے لگا دیئے،پولیس ذرائع کے مطابق پی ایچ اے حکام کی جانب سے مینار پاکستان گیٹس کو بند کرنے کے احکامات ہیں، مینار پاکستان کے اندر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے،مینار پاکستان وزٹ کرنے والوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا جارہا،دوسری جانب شاہی قلعہ کو بھی دو روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے

  • تعلیم حاصل کرنیوالے قیدیوں کی سزا معافی،اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی

    تعلیم حاصل کرنیوالے قیدیوں کی سزا معافی،اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی

    محکمہ داخلہ پنجاب نے ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی کی میٹنگ نہ بلانے پر جیل خانہ جات حکام کو اظہار برہمی کا نوٹس دیا ہے،

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی بروقت رہائی کیلئے کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہونا لازم ہے،ڈی آئی جی پریزن انسپیکشن، اے آئی جی پریزن جوڈیشل، اے آئی جی پریزن ایس اینڈ ڈی کو خط لکھا گیا ہے،متعلقہ افسران نے 2 ماہ سے ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں کیا، افسران کی غفلت کے باعث تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوئی، ایجوکیشن ریمیشن کمیٹی ہر ماہ تعلیم مکمل کرنے والے قیدیوں کی سزا میں کمی کا فیصلہ کرتی ہے، دورانِ قید میٹرک، انٹر، بی اے یا ایم اے کرنے والے اسیران کو 6 سے 10 ماہ سزا کی معافی ملتی ہے، دورانِ قید ترجمہ و حفظ القرآن مکمل کرنے والے اسیران کو 6 ماہ سے 2 سال سزا کی معافی ملتی ہے، الیکٹریشن، موٹر بائینڈنگ اور بیوٹیشن جیسے کورسز کرنے پر اسیران کو 1 ماہ تک سزا کی معافی ملتی ہے.

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی جلسہ کی اجازت کے لیے درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور قانون کے مطابق آج شام پانچ بجے تک درخواست پر فیصلہ کریں۔ لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ کی اجازت کے لیے دائر درخواست نمٹا دی،لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ رکوانے کی الگ درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کر دی ،جلسہ رکوانے کی درخواست ایڈوکیٹ ندیم سرور نے دائر کی تھی۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔تین رکنی فل بنچ نے جلسہ رکوانے کی درخواست خارج کر دی

    تحریک انصاف کیجانب لاہور کے جلسے سے متعلق درخواست پر سماعت جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی،آئی جی پنجاب عثمان انوار لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے ،پراسکیوشن نے جلسہ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی،سرکاری وکیل نے کہا کہ عالیہ حمزہ نے لاہور کے جلسے کےلیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ اہم سماعت ہےایڈوکیٹ جنرل پنجاب کہاں ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اسلام آباد میں موجود ہیں،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ کمرہ عدالت میں کون کون موجود ہے، حاضری لگوائیں، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری، کمشنر سمیت دیگر نےحاضری لگوا ئی،

    سرکاری وکیل نے دلائل کا آغاز کردیا۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اسلام آباد جلسے میں پی ٹی آئی لیڈرز نے نفرت انگیز تقاریر کیں،اشتہاری ملزم حماد اظہر نے صوابی جلسے میں کہا کہ پنجابیو تیار ہوں جاؤ میدان لگنے والا ہے،حماد اظہر نے کہا پنجابیو خون کے آخری قطرے تک لڑنا ہے،حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے،پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کی تقریریں ریکارڈ کا حصہ ہیں،جلسے میں عدلیہ مخالف ،ریاست مخالف تقریریں ہوئیں،اسلام آباد کے جلسے میں صحافیوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال ہوئیں،حماد اظہر جو مختلف مقدمات کا اشتہاری ہے اس نے تقریر کی،علی امین گنڈا پور نے بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا،

    جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ عالیہ حمزہ کیا پارٹی کی کوئی عہدے دار ہیں،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ عالیہ حمزہ پی ٹی آئی کی سی ای سی کی رکن ہیں،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست نہیں دی،قانون کے مطابق درخواست دینا ضروری ہے، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کہاں ہیں آگے آئیے،کیا عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست دی ،ڈی سی نے جواب دیا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کےلیے کوئی درخواست نہیں دی،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ کے سیکرٹری جنرل نے تو 22 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،کیا کہیں آپ نے 21 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،عالیہ حمزہ ہے کہاں ،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ وہ اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ کی کیفیت میں ہیں ،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ ابھی جلسے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیں،ہم پندرہ منٹ میں دوبارہ آئین گے آپ ہمارے سامنے درخواست دیں،ڈپٹی کمشنر آج ہی درخواست پر فیصلہ کرینگے ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواب نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اکیلا درخواست پر فیصلہ نہیں کرسکتا،درخواست پر حساس اداروں سے رپورٹس منگوانی ہوتیں ہیں پھر فیصلہ کرتے ہیں ، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آج اور ابھی درخواست پر فیصلہ کریں،

    دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں جلسے کی اجازت نہیں ،جسٹس طارق ندیم
    دوبارہ سماعت ہوئی تو ،عدالت نے چیف سیکرٹری کو آگے بلا لیا۔جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ یہ دیکھیے یہ ملک ہے تو سب ہیں،آج جو اقتدار میں ہیں ماضی میں وہ حزب اختلاف میں تھے ،ہر 15 یا 20 دن بعد اس طرح کی کوئی ناں کوئی پٹشن دائر ہوجاتی ہے،کیا یہ بہتر نہ ہوگا ہم ہر ضلع میں جلسے کےلیے ایک جگہ مختص کردیں، اب دیکھیں سارا کا سارا سسٹم چوک ہوا پڑا ہے،تمام افسران یہاں موجود ہیں ،لاہور بڑا شہر ہے یہاں جلسے کےلیے دو تین جگہ مختص کردیں ،یہاں صورتحال یہ ہے کہ آگے جلسہ ہورہا ہوتا ہے پپچھے جنازے رکے ہوتے ہیں ،حکومتیں تو آتی جاتیں رہی ہیں.کوئی ایسا کام کر جائے جس سے آپ لوگ کو یاد رکھیں،آج یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جلسے کی اجازت نہیں مل رہی کل وہ کہہ رہے تھے ،دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں ہے جلسے کی اجازت نہیں ہے ،

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ آگے آئیے،آئی جی صاحب ہم آپ سے یہ توقع نہیں کرتے کہ لوگوں کو غیر قانونی ہراساں کیا جائے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی ہراسمنٹ نہیں کی جارہی ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جھوٹ مت بولئے میرے گھر کے باہر ایک ہفتے سے پولیس کھڑی ہے،

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

  • ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی فیملی سب سے آگے ہو گی، ہم مریں گے ، ہم پر کربلا بنا دیں ہم تیار ہیں ہم گولیاں بھی کھائیں گے ہم آنسو گیس کی شیلنگ بھی برداشت کریں گے ہم کنٹینرز اٹھا کر پھینک دیں گے لیکن جلسہ ہر صورت کریں گے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو عوام نے بچانا ہے، یہ ہمیں کبھی بھی ملٹری کورٹ میں لے جائیں گے،مارے بہت سے لوگ ملٹری جیل میں ہیں، ہمارا بھانجا بھی ملٹری جیل میں ہے،کسی کو معلوم نہیں کہ ان کو کب اور کتنی سزا ہو جائے گی، اب یہ قانون لانا چاہتے ہیں کسی کو بھی اٹھا کر لے جائیں،ایسے لگ رہا ہے کہ جج نے جلد بانی پی ٹی آئی کو سزا دینی ہے،21 تاریخ کو جلسے کے لئے ہم تیار ہیں، سب سے آگے فیملی ہوگی، ہمارے بچے بھی ساتھ ہوں گے، جیل میں ڈالیں اس کے لئے ہم تیار ہیں، لاہور بھی تیار ہیں، ہم لاہور میں نکلیں گے ہم رکاوٹیں ہٹائیں گے لیکن مینار پاکستان پر امن احتجاج کے لئے پہنچیں گے، مریم نواز ناجائز سیٹ پر بیٹھی ہوئی ہے، انہوں نے اپنے کیسز میں ڈیل کی ہے، ان کو لوگوں سے ڈرنا چاہئے، لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالیں یہ نہ ہو کہ اس کے نتائج برداشت نہ کر سکیں، عمران خان نے کہا کہ 15 ماہ سے میں جیل میں بیٹھا ہوں، پارٹی والے بھی جیل میں رہ سکتے ہیں، 21 تاریخ کو عمران خان اگلی کال دیں گے،

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

  • وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا گورنر پنجاب کے بیان پر ردعمل

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا گورنر پنجاب کے بیان پر ردعمل

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے گورنر پنجاب کی طرف سے سلیکشن کمیٹی کی منظوری پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں تفصیلی بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب کے حالیہ بیان میں جو خدشات اٹھائے گئے ہیں، ان کا جواب دینا ضروری ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ گورنر پنجاب کے بیان کے حوالے سے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لئے سلیکشن کمیٹی کی منظوری کابینہ نے دی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گورنر صاحب خود سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور انہیں اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہئے کہ کابینہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی نے یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے خواہشمند تمام امیدواروں کے انٹرویو کیے تھے۔ کمیٹی نے اہل، سینئر اور تجربہ کار افراد کے نام بطور وائس چانسلر تجویز کیے ہیں، جن کی تعیناتی کا فیصلہ کابینہ نے کیا۔
    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ گورنر کا کردار پنجاب اسمبلی اور کابینہ کے اقدامات اور فیصلوں پر مہر لگانے تک محدود ہوتا ہے، اور گورنر کابینہ کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے تحریک انصاف نامی جماعت موجود ہے، اور گورنر کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے آئینی عہدے کی حدود میں رہنا چاہئے۔یہ ردعمل اس وقت آیا ہے جب گورنر پنجاب نے سلیکشن کمیٹی کی منظوری پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

  • اسپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو خط، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر زور

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو خط، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر زور

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ، جن میں مخصوص نشستوں کی تقسیم پر اپنے تحفظات اور تجاویز کا اظہار کیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک نے پنجاب اسمبلی کی خود مختاری برقرار رکھنے اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ ملک احمد خان نے خط میں کہا کہ پارلیمانی نظام کی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ نافذ العمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے۔
    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھی الیکشن کمشنر کو خظ لکھا جا چکا ہے ،یہ خطوط اس وقت لکھے گئے ہیں جب مخصوص نشستوں کی تقسیم اور پارلیمنٹ کی خود مختاری پر بحث جاری ہے۔ اسپیکروں کی طرف سے خطوط لکھنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو یہ باور کرانا ہے کہ پارلیمانی نظام کی بنیادیں مضبوط رکھی جائیں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم میں قانونی اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔یہ پیشرفت ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے پارلیمانی خود مختاری اور الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑنے کا امکان ہے۔

  • گورنر پنجاب کا وزیر اعلیٰ کی جانب سے تجویز کردہ وائس چانسلرز کی تقرری پر اعتراض

    لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے صوبے کی 14 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے اس سمری میں تجویز کردہ ناموں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سرچ کمیٹی کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ کچھ ناموں کے خلاف کرپشن اور انتظامی بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ہر یونیورسٹی کے لیے صرف ایک نام تجویز کیا گیا ہے، جبکہ اصولی طور پر ہر یونیورسٹی کے لیے تین نام بھیجے جانے چاہیے تھے۔ گورنر نے وضاحت کی کہ وزیر اعلیٰ کے پسندیدہ افراد کی تقرری پر زور دینا مناسب نہیں۔
    سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹی کی ساکھ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اور ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کمیٹی کی سلیکشن شفاف نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرچ کمیٹی کے عمل سے وہ مطمئن نہیں اور کئی وائس چانسلرز پر کرپشن اور ناقص منیجمنٹ کے الزامات ہیں، جس کے باعث ان کی تقرری پر اعتراضات ہیں۔اس تنازع کے باعث پنجاب کی یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی عدم تقرری کے باعث ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں، جس سے تعلیمی معاملات مزید مشکلات کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں علاج مہنگا،سوات کی خاتون لاہور علاج کیلئے پہنچ گئی

    خیبر پختونخوا میں علاج مہنگا،سوات کی خاتون لاہور علاج کیلئے پہنچ گئی

    خیبر پختونخواہ ضلع سوات کی رہائشی 24سالہ خاتون علاج کیلئے لاہور جنرل ہسپتال پہنچ گئی۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسی "صحت سب کیلئے "کے تحت مریضہ کا مہنگا ٹیسٹ مفت کیا گیاہے۔

    ضلع سوات کی رہائشی ثناء کو امراض معدہ اور غذائی نالی میں حرکت پذیری کی تشخیص کیلئے ایل جی ایچ لایا گیا۔ ڈاکٹرز نے تفصیلی چیک اپ کے بعد مریضہ کی بیماری کی تشخیص کیلئے مینو میٹری ٹیسٹ تجویز کیا۔ ڈاکٹرز کا تجویز کردہ مہنگا ٹیسٹ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی پالیسی کو یقینی بناتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے مریضہ کا ٹیسٹ فوری مفت کروا دیا۔

    یاد رہے کہ نجی شعبے میں مینو میٹری انتہائی مہنگے داموں میں شمار ہوتا ہے۔ ثناء کے اہل خانہ نے بتایا کہ ضلع سوات میں اس ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں تھی، جس پر وہ پنجاب کے ہسپتال ایل جی ایچ میں آئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی پالیسی کے تحت ہسپتال انتظامیہ نے فوری مفت ٹیسٹ کروا کے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو دعائیں بھی دیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ہسپتال کے دروازے تمام مریضوں کیلئے یکساں کھلے ہیں اور مریضوں کو بہترین و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی جنرل ہسپتال کے ہیلتھ پروفیشنلز کی اولین ترجیح ہے۔