Baaghi TV

Category: لاہور

  •   ڈاکٹرز نے 5ماہ کے بچے کے معدے سے چابی نکال کر جان بچا لی

      ڈاکٹرز نے 5ماہ کے بچے کے معدے سے چابی نکال کر جان بچا لی

    جنرل ہسپتال لاہور کے ڈاکٹرز نے پیشہ وارانہ مہارت دکھاتے ہو ئے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا پانچ ماہ کے شیر خوار بچے کی جان بچا لی۔

    گذشتہ روز مسیحائی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف پیڈیاٹرک اینڈ گیسٹرو انٹرنالوجی ڈاکٹر حسن سلمان ملک کی سربراہی میں ٹیم نے سرگودھا سے لائے گئے 5ماہ کے بچے کے معدے سے اینڈو سکوپی پروسیجر کے ذریعے چابی نکال لی جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر آف پیڈیاٹرک اینڈ گیسٹر و انٹرنالوجی ڈاکٹر حوریہ رحمان نے معاونت کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پانچ ماہ کے ایان خان کو تشویشناک حالت میں سرگودھا سے لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم بعض ہسپتالوں نے نازک صورتحال کے پیش نظر کیس لینے سے معذرت کر لی تھی جس پر والدین بچے کو ایل جی ایچ لے آئے جہاں مسیحاؤں نے حق مسیحائی ادا کرتے ہوئے پوری جاں فشانی سے اینڈو سکوپی پروسیجر کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے بچے کو نئی زندگی دی۔ معصوم جان کوبچانے پر والدین کی جانب سے شکرخداوندی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُن کے لخت جگر کی جان بچا کر اُن کو بڑے صدمے سے محفوظ رکھا۔

    ہسپتال کے تمام شعبوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں: پروفیسر الفرید ظفر
    اس موقع پر پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹرمحمد الفرید ظفرنے ڈاکٹرسلمان ملک، ڈاکٹر حوریہ رحمان اور اُن کی ٹیم کی جانب سے بچے کو بلا تاخیر وبر وقت طبی امداد فراہم کرنے اور جدید پروسیجر کے ذریعے چابی نکال کر معصوم جان بچانے پر اُن کی کاوشو ں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بلا شبہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تاہم ڈاکٹرز کا کسی جان کو بچانے کے لئے ہر ممکن حد تک تگ و دو کرنا اور سانسوں کو بحال رکھتے ہوئے زندگی سے ہمکنار کرنا ہی اس پروفیشن کی معراج ہے۔ انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں اور یہاں دور دراز سے آئے مریضوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹرفریاد حسین نے بھی 5ماہ کے بچے کی جان بچانے پر ڈاکٹرز کی ٹیم کو سراہا اور والدین سے کہا کہ وہ اپنے معصوم بچوں کی دیکھ بھال اور نگہداشت کا مکمل خیال رکھیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ بچہ کوئی ایسی چیز منہ میں نہ لے جس سے اُس کی جان کو خطرہ درپیش ہو۔

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے سوشو اکنامک رجسٹری منصوبے کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب نے سوشو اکنامک رجسٹری منصوبے کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشو اکنامک رجسٹری منصوبے کا افتتاح کردیا

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جس کام کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ شروع کردیا، سب کو سوشو اکنامک رجسٹری اقدام کی اہمیت کاپتہ ہونا چاہیے،جب حکومت سنبھالی تو سب سے پہلے رمضان پیکج کیلئے اقدامات کیے، رمضان پیکج پراسیس ہورہا تھا تو پتہ چلا کہ ہمارے پاس تو ڈیٹا ہی نہیں ہے،سمجھ نہیں آتی کہ معلومات اورڈیٹاکے بغیر فیصلےکیسے ہوتے ہیں،دنیا آج ڈیٹا کے تحت سارے کام کرتی ہے، پنجاب کی ساڑھے13 کروڑ آبادی ہے،فیصلہ کیا کہ جو ڈیٹا ہے اسے اکٹھا کرکے منظم کریں گے،رمضان پیکج کیلئے بی آئی ایس پی اور نادرا سے ڈیٹا لیا،ہمارے پاس کسانوں کا بھی ڈیٹا نہیں تھا،ڈیٹا اکٹھا کرنے سے حقداروں تک پہنچ سکیں گے،اسپیشل پرسنز کابھی مکمل ڈیٹا حکومت کے پاس نہیں ہے،جرائم کی وارداتوں کاڈیٹا بھی وہی ہے جو ون فائیو کی کالز سے آتا ہے، تمام اداروں، شعبوں اور عوام کی سوشو اکنامک رجسٹریشن ضروری ہے،اپنا گھر اسکیم شروع کررہے ہیں،نہیں پتہ کہ پنجاب کے کتنے لوگوں کے پاس ذاتی گھر ہیں،چاہتے ہیں ٹیکس دینے والوں کا پیسہ ضائع نہ ہو، ابھی میں نے وقتی طور پر ہیلپ لائنز کھول دی ہیں اپنے ہر پیروجیکٹ اور اسکیم کیلئے۔ کیونکہ ابھی ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہے تو اس لئے ہیلپ لائنز کھول دی گئی ہیں تاکہ جو حق دار ہیں اُس اسکیم کے وہ خود کو رجسٹر کروا سکیں، سولر اسکیم کا بہت بڑا پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں جس سے بجلی کے بل آدھے ہوجائیں گے ، ڈیٹا ہم نے واپڈا سے لے لیا ہے ،ہم ایک بہت بڑا پراجیکٹ جو پنجاب کے 45 لاکھ سے زیادہ صارفین کو جو 0 سے 500 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے سولر پراجیکٹ کا شروع کرنے جارہے ہیں جن سے اُنکے بجلی کے بل آدھے ہوجائیں گے.مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ جس چیز کی مجھے سب سے زائدہ ضرورت محسوس ہوئی حکومت میں آتے ساتھ ہی آج آپ نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ میں مریم اورنگزیب اور پلاننگ منسٹری کو بھی شاباش دیتی ہوں اور اُن سب ڈیپارٹمنٹ کو جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کے کام کیا،

    سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب نےپنجاب سوشو اکنامک رجسٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو ریلیف فراہمی کیلئے کوشاں ہے.وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبہ پنجاب ترقی کررہاہے.وزیراعلیٰ مریم نواز صحت ا ورتعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں.صوبائی حکومت نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کیلئے کوشاں ہے

    "کریم "کی خواتین ڈرائیور اور رائیڈرز کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قوانین متعارف کرانے فیصلہ
    علاوہ ازیں "کریم "کی خواتین ڈرائیور اور رائیڈرز کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اہم اقدام، رائیڈرز سروسز کی بہتری کیلئے قوانین متعارف کرانے فیصلہ کیا گیا ہے،وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے آن لائن کیب سروس پرووائیڈر کریم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،وفد میں کریم کے کنٹری جنرل مینیجر عمران سلیم اور دیگر سینئر ایگزیکٹوز شامل تھے،ملاقات میں نوجوانوں بالخصوص خواتین کے لئے بہترروزگار کے مواقع کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا،”وویمن سیفٹی ایپ ” کو ” کریم”کے ساتھ منسلک کرنے پر اتفاق کیا گیا،مریم نواز نے سروسز پرووائیڈر سیکٹر کی بہتری کے لئے پلان طلب کرلیا،وزیر اعلیٰ نے کریم بائیک رائڈرز کے لیے سیفٹی گیئر کا استعمال ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی.

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • طاہر انجم پر تشدد کرنیوالی خاتون انیلہ ریاض گرفتار

    طاہر انجم پر تشدد کرنیوالی خاتون انیلہ ریاض گرفتار

    پنجاب اسمبلی کے سامنے سٹیج اداکار طاہر انجم پر تشدد کرنیوالی خاتون انیلہ ریاض پر مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے

    مقدمہ انیلہ ریاض اور انکے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا، پولیس نے انیلہ ریاض کو طاہر انجم پر تشدد کے مقدمہ میں گرفتار کرنے کیلئے ان کے لوہاری گیٹ پر چھاپہ مارا اور خاتون ملزمہ کو گرفتار کر لیا، درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے سامنے گزرتے ہوئے طاہر انجم پر تشدد کیا گیا۔ طاہر انجم کے کپڑے پھاڑے گئے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

    واضح رہے کہ اسٹیج اداکار اور مسلم لیگ ن کے کلچرل ونگ کے صدر طاہر انجم پر تحریک انصاف کی خاتون کارکن نے گزشتہ روز بہیمانہ تشدد کیا تھا،واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی اس دوران گالیاں دیں اور کہا کہ تم اسکے لئے کام کرتے ہو اور عمران خان پر الزام لگاتے ہو،خاتون کی وائرل ویڈیو میں یہ سنا جا سکتا ہے ،خاتون کہتی ہیں کہ یہ شخص میرے لیڈر عمران خان کے خلاف ویڈیو بناتا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور یہ اس کے خلاف بولتا ہے، یہ مریم نواز کا بندہ ہے

    ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے خاتون کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا.

    توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کا کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم

    لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ ددینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 12مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف فیصلہ سنادیا ،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا ،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار الحق پنوں کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنادیا.

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نےکہا کہ ہم نے تمام ریکارڈ اکٹھا کرلیا ہے،بانی پی ٹی آئی پر کتنے مقدمات ہیں اور کیا پراگرس ہے تمام تفصیلات جمع کرادی ہیں. جسٹس انوار الحق پنوں نےکہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جیسے ایک کیس سے ضمانت ہوتی تو نئے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے.فوجداری قانون یہ کہتا ہے کہ جیسے ہی پتہ چلے کہ مقدمہ درج ہے تو فوری کارروائی ہونی چاہیے.یہاں ملزم جیل میں تھا پھر بھی کارروائی نہیں کی گئی .پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ سب اس صورت میں ہے کہ جب ملزم عبوری ضمانتوں پر نہ ہو .جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کتنے مقدموں میں عبوری ضمانتیں تھی۔ جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ عبوری ضمانت کا مطلب ہوتا ہے کہ ملزم کو شامل تفتیش کرنا کیا ملزم کو شامل تفتیش کیا گیا ،ایک سال آپ لوگ کہاں رہے ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہر کیس کا ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے،جو ریمانڈ ہے اسے ہی مد نظر رکھا جائے گا،ہم چاہتے ہیں کہ پولی گرافک ٹیسٹ ہر صورت کروایا جائے،تاکہ پتہ چل سکے کہ بانی پی آئی کا دیا ہوا بیان سچا بھی ہے کہ نہیں.

    آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے،سٹس طارق سلیم شیخ
    جسٹس انوار الحق نے کہا کہ 9 مئی کے بعد کب آپ کو خیال آیا بانی پی ٹی آئی کے وائس میچنگ ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹ ہونے چاہئے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے، آپ نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے تو ملزم تو ویسے ہی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ مجسٹریٹ کے پاس تمام اختیارات ہیں کہ یہ ٹیسٹ کرائے، آپ اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہے کہ گرفتاری اب کیوں ڈالی گئی، آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے، جسٹس انوار الحق نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ایک بندہ جیل میں ہے تو گرفتاری کیوں نہیں ڈالی گئی۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اس کے لیے آپ کو 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے، فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا سیمپل ایک بار لیا جائے گا، اگر ملزم فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ نہیں کرواتا تو وہ خود اس کے نتائج کا ذمے دار ہوگا، آپ ملزم کو فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کے لیے فورس تو نہیں کر سکتے۔جسٹس انوار الحق نے کہا کہ آپ کو کب خیال آیا ہے کہ اب ماڈرن ڈیوائسز کی طرف جانا چاہیے۔ پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی سہولت جیل کےاندر ہی ہے باہر لے کر نہیں جانا ہوتا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ انتشار کو ثابت کرنا سب سے مشکل کام ہےجسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ پہلا فرض تفتیشی کا ہے کہ وہ دیکھے کہ جرم بنتا ہے یا نہیں، پھر جج کا فرض، وہ اسکرین پر لگا کر دیکھے کہ کیا واقعی جرم بنتا ہے یا نہیں۔

    جو آپ نے ٹویٹ پڑھا اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی،جسٹس انوار الحق پنوں
    پراسیکیوٹر جنرل نے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں اور ٹویٹس پڑھ کر سنائیں، جس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ جو آپ نے ٹویٹ پڑھا ہے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل نے کہ کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا۔جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ووٹ کو آرمی چیف کی وجہ سے عزت نہیں مل رہی یہ کہنا تو بیانیہ نہیں ہے نا۔ عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا۔اگر حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہاکہ درخواست گزار کے خلاف کیا مٹیریل ہے پراسکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے ہم نہیں پڑھیں گے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اے ٹی سی کے جج کو دیکھنا چاہیے تھا کہ ریمانڈ بنتا بھی ہے کہ نہیں۔درخواست گزار کے خلاف سیکشن کیا لگتا ہے؟ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ سیکشن 121 کے تحت بغاوت کی کارروائی ہو گی؟جسٹس طارق سلیم شیخ نےکہا کہ یہ سیکشن لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم کر دیا ہوا ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ سیکیورٹی برانچ کے افسر نے بیان دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ہدایت جاری کی تھی اگر مجھے رینجرزیا فوج گرفتار کرتی ہے تو ملک کو بند کریں جی ایچ کیو پر حملہ کریں۔ آخر میں سارا الزام پراسیکیوشن پر پڑتا ہے کہ پراسیکیوشن ناکام رہی، اس موقع پر پراسیکیوشن کو پورا موقع نہ دینا زیادتی ہوگی، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ ہماری تفتیش متاثر ہو گی عدالت درخواستیں خارج کرے۔جن موبائل فونز سے ٹویٹس کیے گئے وہ بھی برآمد کرنے ہیں۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ اگر برآمدگی کرنی بھی ہے تو آپ تو درخواست گزار کو جیل سے باہر نہیں لے جا سکتے برآمدگی کیسے کریں گے۔

    بانی پی ٹی آئی وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جس سرکاری وکیل کا بیان پڑھا گیا اس کیس میں تو بانی پی ٹی آئی کی ضمانت ہو چکی ہے۔ نو مقدمات میں پولیس 425 دن سوئی رہی اور تین مقدمات میں پولیس 170 دن سوئی رہی، جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہےکہ ملزم کو عدالت میں ہی پیش کیا جائے،ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو پیش نہ کیا جا سکے،سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے،سیکیورٹی کا سہارا لے کر یہ جان بوجھ کر بانی پی ٹی آئی کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش نہیں کر رہے، عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیاجو سنا دیا گیا ہے

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ،میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہے وہ احاطہ جج کے کنٹرول میں ہو .اگر ویڈیو لنک پر حاضری ہوتی ہے اور ویڈیو کے لنک کے پیچھے کوئی اور کھڑا ہو تو کیا یہ محفوظ ماحول ہوگا ،جسٹس انوارلحق پنوں نے کہا کہ یہ بھی چھوڑیں وہ جہاں ملزم ہے وہ تو پورا احاطہ کسی اور کے کنٹرول میں ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خود کہتے ہیں کہ انکی وکیل موجودگی ہو بس،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ بانی پی ٹی آئی کو کو چھوڑیں اس کیس کے نتائج کو بڑی پکچر پر دیکھیے ،یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے کہ جسمانی ریمانڈ ویڈیو لنک پر ہوسکتا ہے یا نہیں، عمران خان کی ویڈیولنک کے ذریعے حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیدیا گیا

    توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کا کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کا انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کر دیا،بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ میں بارہ درخواستیں دائر کر دیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور اے ٹی سی نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا۔ جیل میں قید ہوں پولیس پہلے بھی تفتیش کر چکی ہے، جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانون کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اے ٹی سی کی جانب سے بارہ مقدمات میں دیا گیا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 15 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا تھا، یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 12 مختلف مقدمات کے سلسلے میں دیا گیا ،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے یہ اہم فیصلہ سنایا،

    دوران عدت کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کا فیصلہ آنے کے بعد لاہو رپولیس نے عمران خان کو نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا،عمران خان کو عدالت میں واٹس ایپ کے ذریعے پیش کر کے حاضری مکمل کروائی گئی تھی،عمران خان نے واٹس ایپ پر عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کروایا تھا،عمران خان نے کہا تھا کہ کیپیٹل ہل میں ویڈیوز کی بُنیاد ہر سزا ہوئی تھی،سُپریم کورٹ نے میری گرفتاری غیر قانونی قرار دی تھی،میری 28 سال کی سیاسی جدوجہد میں ایک بھی پُرتشدد کارروائی نہیں، کبھی تشدد کا نہیں کہا،میری خواہش تھی کہ آزادانہ تحقیقات ہوتیں

    جغرافیہ کو ٹکڑے کرنیوالوں کے اوپر کبھی پابندی،آرٹیکل 6 لگایا گیا ؟ مشتاق احمد

    پابندی لگانے کا فیصلہ جعلی حکومت کی خواہش سے زیادہ کچھ نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    عوامی نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ پچگانہ قرار دیا

    آرٹیکل 6 ، حکومت میں بیٹھے لوگوں پر بھی لگ جائے گا،شاہد خاقان عباسی

    پابندی کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کا ردعمل

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • عظمیٰ بخاری سے منسوب وائرل نازیبا ویڈیو پر عظمیٰ عدالت پہنچ گئیں

    عظمیٰ بخاری سے منسوب وائرل نازیبا ویڈیو پر عظمیٰ عدالت پہنچ گئیں

    لاہور : صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    لاہور ہائیکورٹ کی مبینہ خیر اخلاقی ویڈیو پر عظمیٰ بخاری کو ایف آئی اے میں درخواست دینے کی ہدایت
    لاہور ہائیکورٹ ،صوبائی وزیر عظمی بخاری کی مبینہ خیر اخلاقی ویڈیو پر کاروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ نے عظمی بخاری کو ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اپ تمام ثبوت ایف آئی اے کو دیں۔ درخواست گزار کی درخواست کو پینڈنگ رکھیں گے۔ سرکاری وکیل ایف آئی اے کو آگاہ کریں درخواست گزار کی درخواست کو آج ہی وصول کریں،عدالت نے درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کی بھی ہدایت کر دی ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عظمی بخاری کی درخواست پر سماعت کی.

    عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دے دی
    عظمیٰ بخاری کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایک جعلی ویڈیو کے ساتھ ٹرینڈ چلایا گیا، فلک جاوید نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں، ویڈیو کو یہ کہہ کر ہٹا دیا گیا کہ یہ ویڈیو فیک ہے،ان جعلی ویڈیوز سے عظمیٰ بخاری کی ساکھ کو جو نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ فلک جاوید کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، ایف آئی اے اور وزرات داخلہ سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے معاملے کی فوری تحقیقات کی جائے.

    قبل ازیں عظمیٰ بخاری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میری درخواست ابھی تک کیوں نہیں لگی ،آج میں ایک وکیل ایک شہری کی حیثیت سے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے آئی ہوں ۔ہماری بھی 4 منٹ میں درخواست لگنی چاہیے اور 15 منٹ پر انصاف ملنا چاہیے،دوسروں کو تو 15 منٹ میں انصاف بھی مل جاتا ہے، سوشل میڈیا پربے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے،سوشل میڈیا پر گندی ویڈیو میرے ساتھ منسوب کی جا رہی ہے،وفاقی حکومت ایکشن لے بھی تو 15منٹ میں اڑادیا جائےگا، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں کیا وہ قوم کی بیٹیاں نہیں؟،یہاں صرف ایک پارٹی کی پٹیشنز لگتی ہیں،قوم کی بیٹیاں صرف مخصوص پارٹی کی ہیں یا باقی بھی قوم کی بیٹیاں ہیں؟پی ٹی آئی کی 2 خواتین نئی نئی ہیروئن بنی ہیں،9 مئی کے دہشتگردوں کو کہا جارہا ہے یہ قوم کی بیٹیاں ہیں،ہم بھی قوم کی بیٹیاں ہیں، انصاف کون دے گا؟

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ میں عدالت سے پوچھنے آئی ہوں کہ ہمیں انصاف کب ملے گا میں ادھر ہی ہوں دیکھتی ہوں کہ میری پٹیشن کو کب نمبر لگے گا کب سماعت ہوگی، دوسروں کے لئے تو چھٹی والے دن بھی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی جاتی ہے۔مجھے انصاف چاہئے ،9مئی کی دہشتگرد زرتاج گل کو پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پناہ دی کہا قوم کی بیٹی ہے آج عدلیہ سے سوال ہے کیا میں "قوم کی بیٹی” ہوں ؟ مریم نواز ، مریم اورنگزیب ، ثانیہ عاشق اور حنابٹ قوم کی بیٹیاں ہیں؟

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صفدر لغاری نے لکھا کہ وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمی بخاری کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کے پاس جب ان کا سیاسی مقابلہ نہ ہوسکا تو انہوں نے اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے یہ حربہ استعمال کیا گو کہ ان کی یہ سازش پٹ گئی لیکن ان افراد کو قرار واقعی سزا دے نشان عبرت بنایا جائے گا۔

    راشد نصراللہ نے ایکس پرلکھا کہ پی ٹی آئی کی دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے کہ ہر کسی کو ڈرا کر، گالی دے کر، سوشل میڈیا پر ٹرول کر کے وہ کامیاب ہوں گے تو اب یہ دھندہ مزید چلنے والا نہیں۔ عظمیٰ بخاری ایک بہادر خاتون ہیں اور اس طرح کی گھٹیا حرکات انھیں مزید مضبوط کریں گی، وہ آپ کے کرتوتوں کا مزید پردہ چاک کریں گی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کی بہن فلک جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک گندی ویڈیو شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عظمیٰ بخاری کی ہے،عظمیٰ بخاری نے اسے عدالت لے جانے کا اعلان کیا تو فلک جاوید نے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دی تا ہم عظمیٰ بخاری عدالت پہنچ گئیں.

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لے کر سوشل میڈیا پر سیاسی مہم تک، متعدد معاملات پر پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے، عظمیٰ بخاری نے براہ راست پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ "بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔” ان کا اشارہ عمران خان کی طرف تھا، جو فی الحال جیل میں ہیں۔ وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک "عوام دشمن معاہدہ” کیا تھا، جس کے نتیجے میں آج قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد بھچر پر بھی عظمیٰ بخاری نے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "جس لیول کا ذہنی مریض آپ کا لیڈر ہے، اس سے دو ہاتھ آگے آپ ہیں۔” یہ بیان پی ٹی آئی قیادت کی ذہنی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک کے استعمال پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں ٹک ٹاک پر سب سے پہلے انٹرنیشنل فراڈیہ اور بہروپیا ہی آیا تھا۔” یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم کو غیر موثر اور غیر اخلاقی سمجھتی ہیں۔
    عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر کیے جانے والے تنقیدی حملوں کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ "جن کے لیڈر نے ٹک ٹاک پر مقابلے جنت مرزا سے کیے وہ مریم نواز کو طعنے دے رہے ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف تین ماہ میں تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں اہم منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی بحران، اور سیاسی استحکام جیسے اہم مسائل پر دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں

  • لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں ایک حیران کن واقعے میں، پنجاب اسمبلی کے باہر قائم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے قریب مشہور اداکار اور کامیڈین طاہر انجم پر تشدد کیا گیا۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق، جب طاہر انجم کیمپ کے قریب سے گزر رہے تھے تو ایک خاتون نے ان پر حملہ کر دیا۔ خاتون نے نہ صرف انہیں تھپڑ مارے بلکہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ حملہ آور خاتون کا نام انیلا بتایا گیا ہے، جو خود کو ‘نیلی پری’ کہتی ہے۔نیلی پری نے الزام لگایا کہ طاہر انجم نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو دہشت گرد کہا تھا، جس پر انہوں نے یہ اقدام کیا۔ حاضرین نے بڑی مشکل سے اداکار کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔
    طاہر انجم، جو مسلم لیگ (ن) کے کلچر ونگ پنجاب کے صدر ہیں، نے کہا کہ وہ صرف ویڈیو بنا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا ہے اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما ملک احمد خان بھچر نے حملہ آور خاتون سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاتون ان کی پارٹی کی ورکر نہیں ہے اور پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

  • ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،مریم اورنگزیب

    ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پُر امن احتجاج کی کال دے کر کے کہا کہ جاؤ جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوجاؤ، اس شخص نے کہا تھا کہ مجھے کمانڈوز نے پکڑا تو چھوڑوں گا نہیں، منصوبہ بندی ہورہی تھی،یہ شخص ملک کو ڈیفالٹ کر کے چلاگیا اور پھر آئی ایم ایف کو خط لکھا کہ مدد نہ کرو، جہاں سے نو مئی کے مجرموں کو ریلیف مل رہا ہے انکو سمجھنا چاہیے کہ ملک کا آئین و قانون کیا کہتا ہے۔ اگر ان لوگوں پر ملک کا آئین و قانون لاگو نہیں ہوتا تو پھر پاکستان کے کسی شہری پر آئین و قانون لاگو نہیں ہوتا،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ آپ کاغذ لہراتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سائفر ہے، میں نے جھوٹ بولا،پھر کہتے محض کاغذ کا ٹکڑا، توشہ خانہ سے گھڑی چوری کی پھر کہتے میری گھڑی میری مرضی، پھر کہتا میں نومئی کیا اسکو مرسیڈیز میں سپریم کورٹ بلایا جاتا ہے اور گڈ ٹو سی یو کہا جاتا ہے، پاکستان کے دوسرے کسی مجرم کو تو یہ باتیں نہیں کی جاتیں، پھر اسی جماعت کو سیاسی جماعت کہا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے ایسا کہا،گڈ ٹوسی یو اس کو کہا جا رہا جو اعتراف کر رہا ہاں میں نے کال دی تھی، پھر کہتا ہے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہمارے اوپر ہو رہی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ فیک نیوز کے خلاف یہ جنگ لڑی ہے، کوئی مجھے چیلنج نہیں کر سکتا، آپ ایک لشکر کشی کر کے سیاست کے لبادے میں ریاست پر چڑھ دوڑیں، بیرون ممالک میں سوشل میڈیا والوں کو بٹھا کر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کریں،کیا یہ پرامن احتجاج تھا، پٹرول بم، ڈنڈوں کے ساتھ گھر توڑے جا رہے، یہ سیاسی جماعت ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد کی میں عزت کرتی ہوں کیا انکا مجسمہ وہاں موجود تھاجو لوگوں کو کہہ رہا تھا کہ نکلو باہر، وہ عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرتا رہا ہے لیکن سزا دینے میں اتنی سستی، کیا ریاست پر حملہ کرنا،یہ انقلابی پن ہے، یہ دہشت گردی ہے، دہشت گرد جماعتیں جو نہیں کر سکیں وہ انہوں نے کیا، سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں ہونی چاہئے لیکن سیاسی جماعت او ر دہشت گرد جماعت میں فرق ہے، اگر 9 مئی کے مجرمان پر آئین اورقانون لاگو نہیں ہوتا تو پھر کس پر ہو گا ، اگر 9 مئی کے ملزمان رہا ہو رہے ہیں تو یہ کس کی کمزوری ہے؟مجرم کے اعتراف جرم کے بعد اب اسکو آئین و قانون کیمطابق سزا سنانی چاہیے۔ ایک مجرم جو اعتراف جرم کررہا ہے اسکو قانونی لاڈلہ نہیں بنایا جاسکتا اسکو اب مزید رعایت نہیں دی جاسکتی،

    کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی مناسب نہیں،گورنر پنجاب سردار سلیم

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کیخلاف قرارداد منظور

    پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے،خواجہ آصف

    عمران نےبھی ایک جماعت پر پابندی لگائی اسوقت تو تشویش کااظہارنہیں کیا،جاوید لطیف

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف سخت موقف

    سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، حکومت اپنی شکست تسلیم کرے: شاہد خاقان عباسی

    اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان کا پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف موقف

  • عمران خان14 ماہ سے جیل میں ابتک شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا،عدالت

    عمران خان14 ماہ سے جیل میں ابتک شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جسمانی ریمانڈ دینے کے خلاف 12 مقدمات کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق سلیم شیخ کے سربراہی میں دو رکنی بینچ نےسماعت کی،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان 9 مئی کو اسلام آباد میں ضمانت کے لیے پیش ہوئے، عمران خان کو انتہائی غیر مناسب طریقہ سے احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا،عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے وہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا، عمران خان 9 مئی سے 12 مئی تک پوری دنیا سے لاتعلق تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہوا،جسٹس اطہر من اللہ نے 12 مئی کو عمران خان سے پوچھا آپکو معلوم ہے کیا حالات ہیں،عمران خان نے ہم سے پوچھا توہم نےحالات کا بتایا،عمران خان نے فوری مذمت کی،

    پراسکیوٹر جنرل کے اعتراض پر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے دوست وکیل نے درست نشاندہی کی کہ وکالت نامہ نہیں ہے، میرے پاس 300 وکالت نامے تھے جو ختم ہوچکے ہیں یہ مجھے بتا دیں کہ مزید کتنے مقدمات درج کرنے ہیں میں وہ بھی دستخط کروا لیتا ہوں، 9 سے 12 مئی کے دوران کیا کوا،، عمران خان کو اس کا معلوم نہیں اور نان ہی عمران خان کا اس سے تعلق ہے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ عمران خان 7 مقدمات میں نامزد ہیں جبکہ باقیوں میں سپلمنٹری بیان میں عمران خان کو نامزد کیا گیا ہے ،ہمیں یہ بتائیں کہ عمران خان کیخلاف پورے پنجاب میں کتنے مقدمات درج ہیں، کتنے مقدمات میں نامزد ہیں اور کتنے مقدمات میں سپلمنٹری بیانات میں نامزد کیا گیا ہے ،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ آپ نے یہ سب تاریخ کے ساتھ بتانا ہے،کب سپلمنڑی اسٹیٹمنٹ میں نامزد کیا کتنے چالان جمع ہوچکے ہیں کب جمع ہوئے باقیوں کی صورتحال کیاہے،آپ کیس کے بنیادی حقائق بیان کریں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس کے بنیادی حقائق یہ ہیں کہ نو مئی کو درخواست گزار اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھااسلام آباد ہائیکورٹ کے بائیو میٹرک روم سے غیر قانونی طور پر درخواست گزار کو اغوا کیا گیا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد خورشید نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر قانونی ریمانڈ دیا،ریمانڈ کےلیے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غیر قانونی ہے،انہوں نے 12 مقدمات میں گرفتاری ڈالی، ہم نے تو 3 مقدمات میں ضمانت حاصل کر رکھی تھی انہوں نے باقی 9 مقدمات میں 14 ماہ گرفتاری کیوں نہیں ڈالی،یہاں انکی سب سے بڑی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے حکم دیا کیا کہ، عمران خان کی جیل سے حاضری لگائی جائے تو انہوں نے 6 ماہ تک عمران خان کی جیل سے حاضری نہیں ہونے دی اور جسمانی ریمانڈ میں اچانک عمران خان کی وٹس اپ کے زریعے حاضری لگوا دی،یہ بھی انکی بدنیتی ہے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی مختلف مقدمات میں ریلیز ہونے کے بعد انکو ریمانڈ لینا یاد آگیا یہ انکی بد نیتی ہے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جس بنیاد پر انہوں نے ریمانڈ لیا وہ کن ثبوتوں کی بنیاد پر لیا گیا پہلے اسکو کلئیر کریں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو سرکاری وکیل بتائیں کہ انکے پاس کیا ثبوت ہیں، یہ ریمانڈ پیپر ہے اس میں ملزم کہاں ہے لکھا ہے کہ ملزم کا وکیل پیش ہوا، انہوں نے واٹس اپ کے ذریعے پیش کیا ، اس فیصلے میں تو یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ کس کا نمبر تھا اسکا ذکر نہیں کیا یہ نہیں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کیسے پیش کیا ایسا کچھ آڈر میں نہیں لکھا، آڈر پر کوئی تصویر بھی نہیں،نوٹیفکیشن پر ریڈر کا نمبر موجود نہیں تھا، گورنمنٹ نے ارینج کرنا ہوتا ہے کیسے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنا ہے،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ کتنے کیسز میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالی چکی ہے ،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ کتنے کیسز کے مکمل چالان جمع ہوئے اور کتنے کیسز کے چالان نامکمل ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق 20 کیسز میں ضمنی بیانات کے زریعے نامزد کیا گیا ہے اب تو یہ 37 سے بھی آگے جاچکے ہیں ،سید فرہاد علی شاہ نےعمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پڑھ کر سنا ئی، جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ سب سے پہلے عمران خان کو کس کیس میں شامل تفتیش کیا، فرہاد نے کہا کہ جی بلکل کیا اور گرفتار کرنے کی بھی استدعا کی، جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ مجھے ریکارڈ دیکھ کر بتائیں ایسے زبانی نہیں،کب کیا ہوا،ریکارڈ کے زریعے بتائیں، پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ جی یہ ریکارڈ دے دیتا ہوں،عدالت نےپراسکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ریمانڈ کیسے ہوا بتائیں ،بتائیں بانی پی ٹی آئی کو پہلے کونسے مقدمہ میں شامل تفتیش کیا تھا تفتیشی نے کیا لکھا تھا، تفتئشی نے کہہ تھا ملزم کی یہ چیزیں تفتیش کے لیے چاہیے، پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں پھر بتاتا ہوں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا انہوں یہ کہا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے، اب یہ مشین کی مدد لینگے تفتیشی افیسر نے کچھ نہیں دیکھا ،وائس میچنگ ٹیسٹ کی بات کررہے ہیں اور ریمانڈ مانگ لیا پولیس نے، آپکے 20 مقدمات کے ثبوت نہیں ملے تو انہوں نے ڈائریکشن ہی تبدیل کر لی، آج انکے درخواست اور تفتیش ہی مکمل طور پر تبدیل ہوچکی کے، کہتے ہین پولی گراف ٹیسٹ کرنا ہے،، انٹرنیٹ پر کچھ مواد سامنے آیا جس سے وائس میچنگ ٹیسٹ کرنا ہے،جج انسداد دہشت گردی نے 10 دن کا ریمانڈ دیا،، جج صاحب نے حقائق کا جائزہ نہیں لیا،، انہوں نے ہولی گراف ٹیسٹ مانگا، یہ مشین پر اعتماد کر سکتے ہیں ہیں اپنی تفتیشی ٹیم ہر اعتماد نہیں کر سکتے،میں آپکے سامنے جج انسداد دہشت گردی کا کانٹیکٹ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد پر شدید اعتراضات ہیں،14 ماہ بعد نو کیسز میں گرفتاری ڈالی گئی جو کبھی ظاہر ہی نہیں کیے گئے،،یہ سب کچھ ہمارے لیے حیران کن ہے،

    جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ درخواست گزار آپ کے پاس 14 ماہ سے ہے ابتک شامل تفتیش کرنے یا نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں،عمران خان تو بہت سے کیسزمیں ضمانت پربھی نہیں تھا ،پراسیکوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ان کیسز میں جیسے جیسے شواہد سامنے آتے رہے لوگوں کے بیانات ہوتے رہے اس حساب سے گرفتاری ڈالی گئی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کیا یہ کیسز ساری زندگی چلتے رہیں گے ،،جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ آپ کے تفتیشی نے درخواست گزار کو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کی کیا وجوہات بتائی ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ 37 مقدمات میں ایک ہی نوعیت کے الزام ہیں تو پھر بار بار تفتیش کی کیا ضرورت ہے ،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس تو ویڈیو لنک پیشی کے رولز موجود ہی نہیں ہیں،قبل از گرفتاری درخواست پر ملزم کا پیش ہونا ضروری ہوتا ہے، عبوری ضمانتوں پر عمران خان ذاتی حثیت میں پیش نہیں ہوئے، انہوں نے ہی درخواست دی کہ ملزم سابق وزیر اعظم ہیں ان کو سکیورٹی خدشات ہیں،انہوں نے خود ویڈیو لنک کے زریعے حاضری کی اجازت لی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ہم اس کیس کو Deside کرنا چاہتے ہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کل عمران خان کو ریمانڈ کےلیے پیش کرنا ہے، عدالت نے کہا کہ ہم کل اس معاملہ پر فیصلہ دے دیں گے،،عدالت نے فریقین سے مختلف عدالتی نظریں مانگ لیں

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کا انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کر دیا،بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ میں بارہ درخواستیں دائر کر دیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور اے ٹی سی نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا۔ جیل میں قید ہوں پولیس پہلے بھی تفتیش کر چکی ہے، جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانون کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اے ٹی سی کی جانب سے بارہ مقدمات میں دیا گیا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 15 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا تھا، یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 12 مختلف مقدمات کے سلسلے میں دیا گیا ،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے یہ اہم فیصلہ سنایا،

    دوران عدت کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کا فیصلہ آنے کے بعد لاہو رپولیس نے عمران خان کو نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا،عمران خان کو عدالت میں واٹس ایپ کے ذریعے پیش کر کے حاضری مکمل کروائی گئی تھی،عمران خان نے واٹس ایپ پر عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کروایا تھا،عمران خان نے کہا تھا کہ کیپیٹل ہل میں ویڈیوز کی بُنیاد ہر سزا ہوئی تھی،سُپریم کورٹ نے میری گرفتاری غیر قانونی قرار دی تھی،میری 28 سال کی سیاسی جدوجہد میں ایک بھی پُرتشدد کارروائی نہیں، کبھی تشدد کا نہیں کہا،میری خواہش تھی کہ آزادانہ تحقیقات ہوتیں

    جغرافیہ کو ٹکڑے کرنیوالوں کے اوپر کبھی پابندی،آرٹیکل 6 لگایا گیا ؟ مشتاق احمد

    پابندی لگانے کا فیصلہ جعلی حکومت کی خواہش سے زیادہ کچھ نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    عوامی نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ پچگانہ قرار دیا

    آرٹیکل 6 ، حکومت میں بیٹھے لوگوں پر بھی لگ جائے گا،شاہد خاقان عباسی

    پابندی کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کا ردعمل

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    صحافی و اینکر رضوان رضی کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا

    رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کو بھجوایاگیا نوٹس شیئر کیا،رضوان رضی کو عدلیہ کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کرنے پر طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی کو 26 جولائی کو ایف آئی اے لاہور آفس میں طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی نے ایکس پر کہا کہ احباب کے توجہ دلانے پر ذاتی معلومات چھپا کرکے دوبارہ اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یکجہتی کے لئے پوسٹ کرنے والے احباب بھی اس پر توجہ رکھیں ۔

    ممتاز صحافی و قانوندان میاں داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ سینئر صحافی رضی دادا کو ایف آئی اے کی طرف سے عدلیہ کی توہین پر جاری کردہ نوٹس قابل مذمت ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومتی ایجنسیوں کو توہین عدلیہ پر اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ صحافیوں بالخصوص رضی دادا جیسے صحافیوں کو ہی ٹارگٹ کیا جاتا ہے؟اگر عدلیہ کو عدالت کے کسی بھی عدالتی فیصلے یا انتظامی حکم پر کسی شہری کی تنقید، سخت تنقید، سخت ترین تنقید توہین توہین لگتی ہے تو اخلاقی ہمت کر کے توہین عدالت کا براہ راست نوٹس جاری کریں تاکہ شہریوں اور بالخصوص صحافیوں کو بھی پتہ چلا کہ عدلیہ مضبوط ادارہ ہے یا ایک کمزور ترین ادارہ ہے جو ہر مرتبہ ایف آئی اے، پولیس کے پیچھے چھپ کر وار کرتا ہے۔

    اجمل جامی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ رضوان رضی کو ایک بار پھر ایف آئی اے نے یاد فرمایا ھے۔ افسوس ھے کہ الزام اب یہ لگا کہ آپ اعلی عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض اور دھمکی آمیز مہم کا حصہ ہیں۔رضی صاحب کی سیاسی فکر یا تجزیاتی اپروچ سے اختلاف ہو سکتا ھے مگر یہ الزام اور پھر نوٹس تک کی کہانی ناقابل فہم ھے۔ اگر ایسا کچھ واقعی جناب نے ارشاد فرمایا تو وہ نظر سے نہیں گزرا۔ لیکن آس پاس دستیاب دیگر کھلم کھلے لب و لہجے انہیں یاد کیوں نہ آئے۔۔؟

    صحافی نوید چودھری نے ایکس پر لکھا کہ جناب رضوان رضی کو نوٹس جاری ہونے کے بعد زیادہ شدت سے لازم ہوچکا ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کے تقرر کا از سر نو جائزہ لے ، پاشا سے فیض دور تک بھرتی کردہ چھانٹیوں کے مستحق ہیں ۔ ڈگریاں اور پراپرٹیاں چیک کراکے مقدمات چلائے جائیں ، توہین عدالت قانون فی الفور ختم کیا جائے

    صحافی محمد عاصم نصیر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جو پسند ہو اسکو ہر طرح کی آزادیُ دے دو۔ وہ جن کے مرضی کپڑے اتار دیتے ہیں پگڑیاں اچھالتے ہیں ملک کو توڑنے میں مصروف عمل ہیں مگر انکو آزادی ہےاور جو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں انکو نوٹسز پر نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ہم رضوان رضی اور سعید چوہدری کو دبانےکے نوٹسز کی مذمت کرتےہیں