Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم

    لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ ددینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 12مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف فیصلہ سنادیا ،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا ،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار الحق پنوں کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنادیا.

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نےکہا کہ ہم نے تمام ریکارڈ اکٹھا کرلیا ہے،بانی پی ٹی آئی پر کتنے مقدمات ہیں اور کیا پراگرس ہے تمام تفصیلات جمع کرادی ہیں. جسٹس انوار الحق پنوں نےکہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جیسے ایک کیس سے ضمانت ہوتی تو نئے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے.فوجداری قانون یہ کہتا ہے کہ جیسے ہی پتہ چلے کہ مقدمہ درج ہے تو فوری کارروائی ہونی چاہیے.یہاں ملزم جیل میں تھا پھر بھی کارروائی نہیں کی گئی .پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ سب اس صورت میں ہے کہ جب ملزم عبوری ضمانتوں پر نہ ہو .جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کتنے مقدموں میں عبوری ضمانتیں تھی۔ جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ عبوری ضمانت کا مطلب ہوتا ہے کہ ملزم کو شامل تفتیش کرنا کیا ملزم کو شامل تفتیش کیا گیا ،ایک سال آپ لوگ کہاں رہے ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہر کیس کا ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے،جو ریمانڈ ہے اسے ہی مد نظر رکھا جائے گا،ہم چاہتے ہیں کہ پولی گرافک ٹیسٹ ہر صورت کروایا جائے،تاکہ پتہ چل سکے کہ بانی پی آئی کا دیا ہوا بیان سچا بھی ہے کہ نہیں.

    آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے،سٹس طارق سلیم شیخ
    جسٹس انوار الحق نے کہا کہ 9 مئی کے بعد کب آپ کو خیال آیا بانی پی ٹی آئی کے وائس میچنگ ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹ ہونے چاہئے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے، آپ نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے تو ملزم تو ویسے ہی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ مجسٹریٹ کے پاس تمام اختیارات ہیں کہ یہ ٹیسٹ کرائے، آپ اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہے کہ گرفتاری اب کیوں ڈالی گئی، آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے، جسٹس انوار الحق نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ایک بندہ جیل میں ہے تو گرفتاری کیوں نہیں ڈالی گئی۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اس کے لیے آپ کو 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے، فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کا سیمپل ایک بار لیا جائے گا، اگر ملزم فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ نہیں کرواتا تو وہ خود اس کے نتائج کا ذمے دار ہوگا، آپ ملزم کو فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کے لیے فورس تو نہیں کر سکتے۔جسٹس انوار الحق نے کہا کہ آپ کو کب خیال آیا ہے کہ اب ماڈرن ڈیوائسز کی طرف جانا چاہیے۔ پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی سہولت جیل کےاندر ہی ہے باہر لے کر نہیں جانا ہوتا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ انتشار کو ثابت کرنا سب سے مشکل کام ہےجسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ پہلا فرض تفتیشی کا ہے کہ وہ دیکھے کہ جرم بنتا ہے یا نہیں، پھر جج کا فرض، وہ اسکرین پر لگا کر دیکھے کہ کیا واقعی جرم بنتا ہے یا نہیں۔

    جو آپ نے ٹویٹ پڑھا اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی،جسٹس انوار الحق پنوں
    پراسیکیوٹر جنرل نے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں اور ٹویٹس پڑھ کر سنائیں، جس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ جو آپ نے ٹویٹ پڑھا ہے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل نے کہ کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا۔جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ووٹ کو آرمی چیف کی وجہ سے عزت نہیں مل رہی یہ کہنا تو بیانیہ نہیں ہے نا۔ عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا۔اگر حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہاکہ درخواست گزار کے خلاف کیا مٹیریل ہے پراسکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے ہم نہیں پڑھیں گے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اے ٹی سی کے جج کو دیکھنا چاہیے تھا کہ ریمانڈ بنتا بھی ہے کہ نہیں۔درخواست گزار کے خلاف سیکشن کیا لگتا ہے؟ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ سیکشن 121 کے تحت بغاوت کی کارروائی ہو گی؟جسٹس طارق سلیم شیخ نےکہا کہ یہ سیکشن لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم کر دیا ہوا ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ سیکیورٹی برانچ کے افسر نے بیان دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ہدایت جاری کی تھی اگر مجھے رینجرزیا فوج گرفتار کرتی ہے تو ملک کو بند کریں جی ایچ کیو پر حملہ کریں۔ آخر میں سارا الزام پراسیکیوشن پر پڑتا ہے کہ پراسیکیوشن ناکام رہی، اس موقع پر پراسیکیوشن کو پورا موقع نہ دینا زیادتی ہوگی، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ ہماری تفتیش متاثر ہو گی عدالت درخواستیں خارج کرے۔جن موبائل فونز سے ٹویٹس کیے گئے وہ بھی برآمد کرنے ہیں۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ اگر برآمدگی کرنی بھی ہے تو آپ تو درخواست گزار کو جیل سے باہر نہیں لے جا سکتے برآمدگی کیسے کریں گے۔

    بانی پی ٹی آئی وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جس سرکاری وکیل کا بیان پڑھا گیا اس کیس میں تو بانی پی ٹی آئی کی ضمانت ہو چکی ہے۔ نو مقدمات میں پولیس 425 دن سوئی رہی اور تین مقدمات میں پولیس 170 دن سوئی رہی، جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہےکہ ملزم کو عدالت میں ہی پیش کیا جائے،ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو پیش نہ کیا جا سکے،سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے،سیکیورٹی کا سہارا لے کر یہ جان بوجھ کر بانی پی ٹی آئی کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش نہیں کر رہے، عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیاجو سنا دیا گیا ہے

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ،میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہے وہ احاطہ جج کے کنٹرول میں ہو .اگر ویڈیو لنک پر حاضری ہوتی ہے اور ویڈیو کے لنک کے پیچھے کوئی اور کھڑا ہو تو کیا یہ محفوظ ماحول ہوگا ،جسٹس انوارلحق پنوں نے کہا کہ یہ بھی چھوڑیں وہ جہاں ملزم ہے وہ تو پورا احاطہ کسی اور کے کنٹرول میں ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خود کہتے ہیں کہ انکی وکیل موجودگی ہو بس،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ بانی پی ٹی آئی کو کو چھوڑیں اس کیس کے نتائج کو بڑی پکچر پر دیکھیے ،یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے کہ جسمانی ریمانڈ ویڈیو لنک پر ہوسکتا ہے یا نہیں، عمران خان کی ویڈیولنک کے ذریعے حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیدیا گیا

    توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کا کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کا انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کر دیا،بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ میں بارہ درخواستیں دائر کر دیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور اے ٹی سی نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا۔ جیل میں قید ہوں پولیس پہلے بھی تفتیش کر چکی ہے، جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانون کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اے ٹی سی کی جانب سے بارہ مقدمات میں دیا گیا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 15 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا تھا، یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 12 مختلف مقدمات کے سلسلے میں دیا گیا ،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے یہ اہم فیصلہ سنایا،

    دوران عدت کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کا فیصلہ آنے کے بعد لاہو رپولیس نے عمران خان کو نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا،عمران خان کو عدالت میں واٹس ایپ کے ذریعے پیش کر کے حاضری مکمل کروائی گئی تھی،عمران خان نے واٹس ایپ پر عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کروایا تھا،عمران خان نے کہا تھا کہ کیپیٹل ہل میں ویڈیوز کی بُنیاد ہر سزا ہوئی تھی،سُپریم کورٹ نے میری گرفتاری غیر قانونی قرار دی تھی،میری 28 سال کی سیاسی جدوجہد میں ایک بھی پُرتشدد کارروائی نہیں، کبھی تشدد کا نہیں کہا،میری خواہش تھی کہ آزادانہ تحقیقات ہوتیں

    جغرافیہ کو ٹکڑے کرنیوالوں کے اوپر کبھی پابندی،آرٹیکل 6 لگایا گیا ؟ مشتاق احمد

    پابندی لگانے کا فیصلہ جعلی حکومت کی خواہش سے زیادہ کچھ نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    عوامی نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ پچگانہ قرار دیا

    آرٹیکل 6 ، حکومت میں بیٹھے لوگوں پر بھی لگ جائے گا،شاہد خاقان عباسی

    پابندی کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کا ردعمل

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • عظمیٰ بخاری سے منسوب وائرل نازیبا ویڈیو پر عظمیٰ عدالت پہنچ گئیں

    عظمیٰ بخاری سے منسوب وائرل نازیبا ویڈیو پر عظمیٰ عدالت پہنچ گئیں

    لاہور : صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    لاہور ہائیکورٹ کی مبینہ خیر اخلاقی ویڈیو پر عظمیٰ بخاری کو ایف آئی اے میں درخواست دینے کی ہدایت
    لاہور ہائیکورٹ ،صوبائی وزیر عظمی بخاری کی مبینہ خیر اخلاقی ویڈیو پر کاروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ نے عظمی بخاری کو ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اپ تمام ثبوت ایف آئی اے کو دیں۔ درخواست گزار کی درخواست کو پینڈنگ رکھیں گے۔ سرکاری وکیل ایف آئی اے کو آگاہ کریں درخواست گزار کی درخواست کو آج ہی وصول کریں،عدالت نے درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کی بھی ہدایت کر دی ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عظمی بخاری کی درخواست پر سماعت کی.

    عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دے دی
    عظمیٰ بخاری کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایک جعلی ویڈیو کے ساتھ ٹرینڈ چلایا گیا، فلک جاوید نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں، ویڈیو کو یہ کہہ کر ہٹا دیا گیا کہ یہ ویڈیو فیک ہے،ان جعلی ویڈیوز سے عظمیٰ بخاری کی ساکھ کو جو نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ فلک جاوید کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، ایف آئی اے اور وزرات داخلہ سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے معاملے کی فوری تحقیقات کی جائے.

    قبل ازیں عظمیٰ بخاری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میری درخواست ابھی تک کیوں نہیں لگی ،آج میں ایک وکیل ایک شہری کی حیثیت سے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے آئی ہوں ۔ہماری بھی 4 منٹ میں درخواست لگنی چاہیے اور 15 منٹ پر انصاف ملنا چاہیے،دوسروں کو تو 15 منٹ میں انصاف بھی مل جاتا ہے، سوشل میڈیا پربے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے،سوشل میڈیا پر گندی ویڈیو میرے ساتھ منسوب کی جا رہی ہے،وفاقی حکومت ایکشن لے بھی تو 15منٹ میں اڑادیا جائےگا، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں کیا وہ قوم کی بیٹیاں نہیں؟،یہاں صرف ایک پارٹی کی پٹیشنز لگتی ہیں،قوم کی بیٹیاں صرف مخصوص پارٹی کی ہیں یا باقی بھی قوم کی بیٹیاں ہیں؟پی ٹی آئی کی 2 خواتین نئی نئی ہیروئن بنی ہیں،9 مئی کے دہشتگردوں کو کہا جارہا ہے یہ قوم کی بیٹیاں ہیں،ہم بھی قوم کی بیٹیاں ہیں، انصاف کون دے گا؟

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ میں عدالت سے پوچھنے آئی ہوں کہ ہمیں انصاف کب ملے گا میں ادھر ہی ہوں دیکھتی ہوں کہ میری پٹیشن کو کب نمبر لگے گا کب سماعت ہوگی، دوسروں کے لئے تو چھٹی والے دن بھی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی جاتی ہے۔مجھے انصاف چاہئے ،9مئی کی دہشتگرد زرتاج گل کو پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پناہ دی کہا قوم کی بیٹی ہے آج عدلیہ سے سوال ہے کیا میں "قوم کی بیٹی” ہوں ؟ مریم نواز ، مریم اورنگزیب ، ثانیہ عاشق اور حنابٹ قوم کی بیٹیاں ہیں؟

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صفدر لغاری نے لکھا کہ وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمی بخاری کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کے پاس جب ان کا سیاسی مقابلہ نہ ہوسکا تو انہوں نے اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے یہ حربہ استعمال کیا گو کہ ان کی یہ سازش پٹ گئی لیکن ان افراد کو قرار واقعی سزا دے نشان عبرت بنایا جائے گا۔

    راشد نصراللہ نے ایکس پرلکھا کہ پی ٹی آئی کی دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے کہ ہر کسی کو ڈرا کر، گالی دے کر، سوشل میڈیا پر ٹرول کر کے وہ کامیاب ہوں گے تو اب یہ دھندہ مزید چلنے والا نہیں۔ عظمیٰ بخاری ایک بہادر خاتون ہیں اور اس طرح کی گھٹیا حرکات انھیں مزید مضبوط کریں گی، وہ آپ کے کرتوتوں کا مزید پردہ چاک کریں گی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کی بہن فلک جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک گندی ویڈیو شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عظمیٰ بخاری کی ہے،عظمیٰ بخاری نے اسے عدالت لے جانے کا اعلان کیا تو فلک جاوید نے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دی تا ہم عظمیٰ بخاری عدالت پہنچ گئیں.

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لے کر سوشل میڈیا پر سیاسی مہم تک، متعدد معاملات پر پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے، عظمیٰ بخاری نے براہ راست پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ "بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔” ان کا اشارہ عمران خان کی طرف تھا، جو فی الحال جیل میں ہیں۔ وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک "عوام دشمن معاہدہ” کیا تھا، جس کے نتیجے میں آج قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد بھچر پر بھی عظمیٰ بخاری نے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "جس لیول کا ذہنی مریض آپ کا لیڈر ہے، اس سے دو ہاتھ آگے آپ ہیں۔” یہ بیان پی ٹی آئی قیادت کی ذہنی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک کے استعمال پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں ٹک ٹاک پر سب سے پہلے انٹرنیشنل فراڈیہ اور بہروپیا ہی آیا تھا۔” یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم کو غیر موثر اور غیر اخلاقی سمجھتی ہیں۔
    عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر کیے جانے والے تنقیدی حملوں کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ "جن کے لیڈر نے ٹک ٹاک پر مقابلے جنت مرزا سے کیے وہ مریم نواز کو طعنے دے رہے ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف تین ماہ میں تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں اہم منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی بحران، اور سیاسی استحکام جیسے اہم مسائل پر دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں

  • لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں ایک حیران کن واقعے میں، پنجاب اسمبلی کے باہر قائم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے قریب مشہور اداکار اور کامیڈین طاہر انجم پر تشدد کیا گیا۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق، جب طاہر انجم کیمپ کے قریب سے گزر رہے تھے تو ایک خاتون نے ان پر حملہ کر دیا۔ خاتون نے نہ صرف انہیں تھپڑ مارے بلکہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ حملہ آور خاتون کا نام انیلا بتایا گیا ہے، جو خود کو ‘نیلی پری’ کہتی ہے۔نیلی پری نے الزام لگایا کہ طاہر انجم نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو دہشت گرد کہا تھا، جس پر انہوں نے یہ اقدام کیا۔ حاضرین نے بڑی مشکل سے اداکار کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔
    طاہر انجم، جو مسلم لیگ (ن) کے کلچر ونگ پنجاب کے صدر ہیں، نے کہا کہ وہ صرف ویڈیو بنا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا ہے اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما ملک احمد خان بھچر نے حملہ آور خاتون سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاتون ان کی پارٹی کی ورکر نہیں ہے اور پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

  • ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،مریم اورنگزیب

    ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایک مجرم اعتراف جرم کررہا ہے، اُسے سزا سنائیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پُر امن احتجاج کی کال دے کر کے کہا کہ جاؤ جی ایچ کیو پر حملہ آور ہوجاؤ، اس شخص نے کہا تھا کہ مجھے کمانڈوز نے پکڑا تو چھوڑوں گا نہیں، منصوبہ بندی ہورہی تھی،یہ شخص ملک کو ڈیفالٹ کر کے چلاگیا اور پھر آئی ایم ایف کو خط لکھا کہ مدد نہ کرو، جہاں سے نو مئی کے مجرموں کو ریلیف مل رہا ہے انکو سمجھنا چاہیے کہ ملک کا آئین و قانون کیا کہتا ہے۔ اگر ان لوگوں پر ملک کا آئین و قانون لاگو نہیں ہوتا تو پھر پاکستان کے کسی شہری پر آئین و قانون لاگو نہیں ہوتا،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ آپ کاغذ لہراتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سائفر ہے، میں نے جھوٹ بولا،پھر کہتے محض کاغذ کا ٹکڑا، توشہ خانہ سے گھڑی چوری کی پھر کہتے میری گھڑی میری مرضی، پھر کہتا میں نومئی کیا اسکو مرسیڈیز میں سپریم کورٹ بلایا جاتا ہے اور گڈ ٹو سی یو کہا جاتا ہے، پاکستان کے دوسرے کسی مجرم کو تو یہ باتیں نہیں کی جاتیں، پھر اسی جماعت کو سیاسی جماعت کہا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے ایسا کہا،گڈ ٹوسی یو اس کو کہا جا رہا جو اعتراف کر رہا ہاں میں نے کال دی تھی، پھر کہتا ہے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہمارے اوپر ہو رہی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ فیک نیوز کے خلاف یہ جنگ لڑی ہے، کوئی مجھے چیلنج نہیں کر سکتا، آپ ایک لشکر کشی کر کے سیاست کے لبادے میں ریاست پر چڑھ دوڑیں، بیرون ممالک میں سوشل میڈیا والوں کو بٹھا کر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کریں،کیا یہ پرامن احتجاج تھا، پٹرول بم، ڈنڈوں کے ساتھ گھر توڑے جا رہے، یہ سیاسی جماعت ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد کی میں عزت کرتی ہوں کیا انکا مجسمہ وہاں موجود تھاجو لوگوں کو کہہ رہا تھا کہ نکلو باہر، وہ عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرتا رہا ہے لیکن سزا دینے میں اتنی سستی، کیا ریاست پر حملہ کرنا،یہ انقلابی پن ہے، یہ دہشت گردی ہے، دہشت گرد جماعتیں جو نہیں کر سکیں وہ انہوں نے کیا، سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں ہونی چاہئے لیکن سیاسی جماعت او ر دہشت گرد جماعت میں فرق ہے، اگر 9 مئی کے مجرمان پر آئین اورقانون لاگو نہیں ہوتا تو پھر کس پر ہو گا ، اگر 9 مئی کے ملزمان رہا ہو رہے ہیں تو یہ کس کی کمزوری ہے؟مجرم کے اعتراف جرم کے بعد اب اسکو آئین و قانون کیمطابق سزا سنانی چاہیے۔ ایک مجرم جو اعتراف جرم کررہا ہے اسکو قانونی لاڈلہ نہیں بنایا جاسکتا اسکو اب مزید رعایت نہیں دی جاسکتی،

    کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی مناسب نہیں،گورنر پنجاب سردار سلیم

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کیخلاف قرارداد منظور

    پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے،خواجہ آصف

    عمران نےبھی ایک جماعت پر پابندی لگائی اسوقت تو تشویش کااظہارنہیں کیا،جاوید لطیف

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف سخت موقف

    سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، حکومت اپنی شکست تسلیم کرے: شاہد خاقان عباسی

    اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان کا پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف موقف

  • عمران خان14 ماہ سے جیل میں ابتک شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا،عدالت

    عمران خان14 ماہ سے جیل میں ابتک شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جسمانی ریمانڈ دینے کے خلاف 12 مقدمات کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق سلیم شیخ کے سربراہی میں دو رکنی بینچ نےسماعت کی،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان 9 مئی کو اسلام آباد میں ضمانت کے لیے پیش ہوئے، عمران خان کو انتہائی غیر مناسب طریقہ سے احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا،عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے وہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا، عمران خان 9 مئی سے 12 مئی تک پوری دنیا سے لاتعلق تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہوا،جسٹس اطہر من اللہ نے 12 مئی کو عمران خان سے پوچھا آپکو معلوم ہے کیا حالات ہیں،عمران خان نے ہم سے پوچھا توہم نےحالات کا بتایا،عمران خان نے فوری مذمت کی،

    پراسکیوٹر جنرل کے اعتراض پر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے دوست وکیل نے درست نشاندہی کی کہ وکالت نامہ نہیں ہے، میرے پاس 300 وکالت نامے تھے جو ختم ہوچکے ہیں یہ مجھے بتا دیں کہ مزید کتنے مقدمات درج کرنے ہیں میں وہ بھی دستخط کروا لیتا ہوں، 9 سے 12 مئی کے دوران کیا کوا،، عمران خان کو اس کا معلوم نہیں اور نان ہی عمران خان کا اس سے تعلق ہے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ عمران خان 7 مقدمات میں نامزد ہیں جبکہ باقیوں میں سپلمنٹری بیان میں عمران خان کو نامزد کیا گیا ہے ،ہمیں یہ بتائیں کہ عمران خان کیخلاف پورے پنجاب میں کتنے مقدمات درج ہیں، کتنے مقدمات میں نامزد ہیں اور کتنے مقدمات میں سپلمنٹری بیانات میں نامزد کیا گیا ہے ،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ آپ نے یہ سب تاریخ کے ساتھ بتانا ہے،کب سپلمنڑی اسٹیٹمنٹ میں نامزد کیا کتنے چالان جمع ہوچکے ہیں کب جمع ہوئے باقیوں کی صورتحال کیاہے،آپ کیس کے بنیادی حقائق بیان کریں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس کے بنیادی حقائق یہ ہیں کہ نو مئی کو درخواست گزار اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھااسلام آباد ہائیکورٹ کے بائیو میٹرک روم سے غیر قانونی طور پر درخواست گزار کو اغوا کیا گیا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد خورشید نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر قانونی ریمانڈ دیا،ریمانڈ کےلیے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غیر قانونی ہے،انہوں نے 12 مقدمات میں گرفتاری ڈالی، ہم نے تو 3 مقدمات میں ضمانت حاصل کر رکھی تھی انہوں نے باقی 9 مقدمات میں 14 ماہ گرفتاری کیوں نہیں ڈالی،یہاں انکی سب سے بڑی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے حکم دیا کیا کہ، عمران خان کی جیل سے حاضری لگائی جائے تو انہوں نے 6 ماہ تک عمران خان کی جیل سے حاضری نہیں ہونے دی اور جسمانی ریمانڈ میں اچانک عمران خان کی وٹس اپ کے زریعے حاضری لگوا دی،یہ بھی انکی بدنیتی ہے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی مختلف مقدمات میں ریلیز ہونے کے بعد انکو ریمانڈ لینا یاد آگیا یہ انکی بد نیتی ہے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جس بنیاد پر انہوں نے ریمانڈ لیا وہ کن ثبوتوں کی بنیاد پر لیا گیا پہلے اسکو کلئیر کریں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو سرکاری وکیل بتائیں کہ انکے پاس کیا ثبوت ہیں، یہ ریمانڈ پیپر ہے اس میں ملزم کہاں ہے لکھا ہے کہ ملزم کا وکیل پیش ہوا، انہوں نے واٹس اپ کے ذریعے پیش کیا ، اس فیصلے میں تو یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ کس کا نمبر تھا اسکا ذکر نہیں کیا یہ نہیں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کیسے پیش کیا ایسا کچھ آڈر میں نہیں لکھا، آڈر پر کوئی تصویر بھی نہیں،نوٹیفکیشن پر ریڈر کا نمبر موجود نہیں تھا، گورنمنٹ نے ارینج کرنا ہوتا ہے کیسے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنا ہے،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ کتنے کیسز میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالی چکی ہے ،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ کتنے کیسز کے مکمل چالان جمع ہوئے اور کتنے کیسز کے چالان نامکمل ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق 20 کیسز میں ضمنی بیانات کے زریعے نامزد کیا گیا ہے اب تو یہ 37 سے بھی آگے جاچکے ہیں ،سید فرہاد علی شاہ نےعمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پڑھ کر سنا ئی، جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ سب سے پہلے عمران خان کو کس کیس میں شامل تفتیش کیا، فرہاد نے کہا کہ جی بلکل کیا اور گرفتار کرنے کی بھی استدعا کی، جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ مجھے ریکارڈ دیکھ کر بتائیں ایسے زبانی نہیں،کب کیا ہوا،ریکارڈ کے زریعے بتائیں، پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ جی یہ ریکارڈ دے دیتا ہوں،عدالت نےپراسکیوٹر جنرل سے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ریمانڈ کیسے ہوا بتائیں ،بتائیں بانی پی ٹی آئی کو پہلے کونسے مقدمہ میں شامل تفتیش کیا تھا تفتیشی نے کیا لکھا تھا، تفتئشی نے کہہ تھا ملزم کی یہ چیزیں تفتیش کے لیے چاہیے، پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں پھر بتاتا ہوں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا انہوں یہ کہا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے، اب یہ مشین کی مدد لینگے تفتیشی افیسر نے کچھ نہیں دیکھا ،وائس میچنگ ٹیسٹ کی بات کررہے ہیں اور ریمانڈ مانگ لیا پولیس نے، آپکے 20 مقدمات کے ثبوت نہیں ملے تو انہوں نے ڈائریکشن ہی تبدیل کر لی، آج انکے درخواست اور تفتیش ہی مکمل طور پر تبدیل ہوچکی کے، کہتے ہین پولی گراف ٹیسٹ کرنا ہے،، انٹرنیٹ پر کچھ مواد سامنے آیا جس سے وائس میچنگ ٹیسٹ کرنا ہے،جج انسداد دہشت گردی نے 10 دن کا ریمانڈ دیا،، جج صاحب نے حقائق کا جائزہ نہیں لیا،، انہوں نے ہولی گراف ٹیسٹ مانگا، یہ مشین پر اعتماد کر سکتے ہیں ہیں اپنی تفتیشی ٹیم ہر اعتماد نہیں کر سکتے،میں آپکے سامنے جج انسداد دہشت گردی کا کانٹیکٹ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد پر شدید اعتراضات ہیں،14 ماہ بعد نو کیسز میں گرفتاری ڈالی گئی جو کبھی ظاہر ہی نہیں کیے گئے،،یہ سب کچھ ہمارے لیے حیران کن ہے،

    جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ درخواست گزار آپ کے پاس 14 ماہ سے ہے ابتک شامل تفتیش کرنے یا نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں،عمران خان تو بہت سے کیسزمیں ضمانت پربھی نہیں تھا ،پراسیکوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ان کیسز میں جیسے جیسے شواہد سامنے آتے رہے لوگوں کے بیانات ہوتے رہے اس حساب سے گرفتاری ڈالی گئی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کیا یہ کیسز ساری زندگی چلتے رہیں گے ،،جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ آپ کے تفتیشی نے درخواست گزار کو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کی کیا وجوہات بتائی ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ 37 مقدمات میں ایک ہی نوعیت کے الزام ہیں تو پھر بار بار تفتیش کی کیا ضرورت ہے ،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس تو ویڈیو لنک پیشی کے رولز موجود ہی نہیں ہیں،قبل از گرفتاری درخواست پر ملزم کا پیش ہونا ضروری ہوتا ہے، عبوری ضمانتوں پر عمران خان ذاتی حثیت میں پیش نہیں ہوئے، انہوں نے ہی درخواست دی کہ ملزم سابق وزیر اعظم ہیں ان کو سکیورٹی خدشات ہیں،انہوں نے خود ویڈیو لنک کے زریعے حاضری کی اجازت لی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ہم اس کیس کو Deside کرنا چاہتے ہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کل عمران خان کو ریمانڈ کےلیے پیش کرنا ہے، عدالت نے کہا کہ ہم کل اس معاملہ پر فیصلہ دے دیں گے،،عدالت نے فریقین سے مختلف عدالتی نظریں مانگ لیں

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کا انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کر دیا،بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ میں بارہ درخواستیں دائر کر دیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور اے ٹی سی نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا۔ جیل میں قید ہوں پولیس پہلے بھی تفتیش کر چکی ہے، جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانون کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ اے ٹی سی کی جانب سے بارہ مقدمات میں دیا گیا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 15 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا تھا، یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 12 مختلف مقدمات کے سلسلے میں دیا گیا ،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے یہ اہم فیصلہ سنایا،

    دوران عدت کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کا فیصلہ آنے کے بعد لاہو رپولیس نے عمران خان کو نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا،عمران خان کو عدالت میں واٹس ایپ کے ذریعے پیش کر کے حاضری مکمل کروائی گئی تھی،عمران خان نے واٹس ایپ پر عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کروایا تھا،عمران خان نے کہا تھا کہ کیپیٹل ہل میں ویڈیوز کی بُنیاد ہر سزا ہوئی تھی،سُپریم کورٹ نے میری گرفتاری غیر قانونی قرار دی تھی،میری 28 سال کی سیاسی جدوجہد میں ایک بھی پُرتشدد کارروائی نہیں، کبھی تشدد کا نہیں کہا،میری خواہش تھی کہ آزادانہ تحقیقات ہوتیں

    جغرافیہ کو ٹکڑے کرنیوالوں کے اوپر کبھی پابندی،آرٹیکل 6 لگایا گیا ؟ مشتاق احمد

    پابندی لگانے کا فیصلہ جعلی حکومت کی خواہش سے زیادہ کچھ نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    عوامی نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ پچگانہ قرار دیا

    آرٹیکل 6 ، حکومت میں بیٹھے لوگوں پر بھی لگ جائے گا،شاہد خاقان عباسی

    پابندی کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کا ردعمل

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    صحافی و اینکر رضوان رضی کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا

    رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کو بھجوایاگیا نوٹس شیئر کیا،رضوان رضی کو عدلیہ کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کرنے پر طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی کو 26 جولائی کو ایف آئی اے لاہور آفس میں طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی نے ایکس پر کہا کہ احباب کے توجہ دلانے پر ذاتی معلومات چھپا کرکے دوبارہ اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یکجہتی کے لئے پوسٹ کرنے والے احباب بھی اس پر توجہ رکھیں ۔

    ممتاز صحافی و قانوندان میاں داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ سینئر صحافی رضی دادا کو ایف آئی اے کی طرف سے عدلیہ کی توہین پر جاری کردہ نوٹس قابل مذمت ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومتی ایجنسیوں کو توہین عدلیہ پر اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ صحافیوں بالخصوص رضی دادا جیسے صحافیوں کو ہی ٹارگٹ کیا جاتا ہے؟اگر عدلیہ کو عدالت کے کسی بھی عدالتی فیصلے یا انتظامی حکم پر کسی شہری کی تنقید، سخت تنقید، سخت ترین تنقید توہین توہین لگتی ہے تو اخلاقی ہمت کر کے توہین عدالت کا براہ راست نوٹس جاری کریں تاکہ شہریوں اور بالخصوص صحافیوں کو بھی پتہ چلا کہ عدلیہ مضبوط ادارہ ہے یا ایک کمزور ترین ادارہ ہے جو ہر مرتبہ ایف آئی اے، پولیس کے پیچھے چھپ کر وار کرتا ہے۔

    اجمل جامی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ رضوان رضی کو ایک بار پھر ایف آئی اے نے یاد فرمایا ھے۔ افسوس ھے کہ الزام اب یہ لگا کہ آپ اعلی عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض اور دھمکی آمیز مہم کا حصہ ہیں۔رضی صاحب کی سیاسی فکر یا تجزیاتی اپروچ سے اختلاف ہو سکتا ھے مگر یہ الزام اور پھر نوٹس تک کی کہانی ناقابل فہم ھے۔ اگر ایسا کچھ واقعی جناب نے ارشاد فرمایا تو وہ نظر سے نہیں گزرا۔ لیکن آس پاس دستیاب دیگر کھلم کھلے لب و لہجے انہیں یاد کیوں نہ آئے۔۔؟

    صحافی نوید چودھری نے ایکس پر لکھا کہ جناب رضوان رضی کو نوٹس جاری ہونے کے بعد زیادہ شدت سے لازم ہوچکا ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کے تقرر کا از سر نو جائزہ لے ، پاشا سے فیض دور تک بھرتی کردہ چھانٹیوں کے مستحق ہیں ۔ ڈگریاں اور پراپرٹیاں چیک کراکے مقدمات چلائے جائیں ، توہین عدالت قانون فی الفور ختم کیا جائے

    صحافی محمد عاصم نصیر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جو پسند ہو اسکو ہر طرح کی آزادیُ دے دو۔ وہ جن کے مرضی کپڑے اتار دیتے ہیں پگڑیاں اچھالتے ہیں ملک کو توڑنے میں مصروف عمل ہیں مگر انکو آزادی ہےاور جو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں انکو نوٹسز پر نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ہم رضوان رضی اور سعید چوہدری کو دبانےکے نوٹسز کی مذمت کرتےہیں

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو جیو فینسنگ کا ڈیٹا حاصل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی، ایڈوکیٹ اشتیاق اے خان نے کیا کہ 24 جون کے آڈر میں جیو فینسنگ کا کہا گیا، پھر ابھی تک اس کا انتظار ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ہم نے ٹیلیفون کمپنیوں کو درخواست کی ہے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ابھی تک رپورٹ کیوں نہیں آئی، ایک ماہ گزر گیا ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ابھی صرف ایک کمپنی کا ڈیٹا آیا ہے، باقی کمپنیوں کا ڈیٹا آنا ہے،عدالت نے کہاکہ اگر پیر کے دن پولیس ریکارڈ نہ لائی تو آئی جی پنجاب کو طلب کر لیں گے, اظہر مشوانی کی والد قاضی حبیب الرحمن عدالت میں پیش ہوئے ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • 9 مئی  کی ویڈیوز دیکھی ہیں، وہاں سب لیڈروں کی طرح تقریریں کررہے تھے،جج

    9 مئی کی ویڈیوز دیکھی ہیں، وہاں سب لیڈروں کی طرح تقریریں کررہے تھے،جج

    تحریک انصاف نے جج انسداد دہشت گردی خالد ارشد پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔

    ‏انسداد دہشت گردی عدالت لاہور ،نو مئی جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،اعظم سواتی اور کرامت کھوکھر،مسرت چیمہ سمیت دیگر عبوری ضمانتوں کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پیش ہو گئے،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے عدالت پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا،عبوری ضمانت میں عمر ایوب کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی گئی،عمر ایوب کے وکیل پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ نے دائر کی ،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عمر ایوب اسلام آباد ہائیکورٹ میں مصروف ہیں جس کے باعث عدالت پیش نہیں ہوسکتے ،عدالت عمر ایوب کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرے .

    عمر ایوب کے وکیل نے جج ارشد جاوید پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ،وکیل عمر ایوب مسعود چشتی نے کہا کہ جج بن کر کیس سنیں گے تو ہم دلائل دیں گے ورنہ ہمارا کیس ٹرانسفر کر دیں۔ ہم اس عدالت کی عزت کرتے ہیں اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہمارے ساتھ زیادتی کریں۔

    جج خالد ارشد نے کہا کہ میں نے تمام 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز دیکھی ہیں، وہاں سب لیڈروں کی طرح تقریریں کررہے تھے، آپ حتمی دلائل دیں ورنہ میرٹ پر ضمانتوں پر فیصلہ کروں گا، ملزمان کے وکلاء نے بار بار مہلت کی استدعا کی،جج خالد ارشد نے کہا کہ ‏آج پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ضمانتوں پر اللہ کے فضل سے فیصلہ ہوگا،آپ چیزوں کو متنازعہ کررہے ملزمان کے وکلاء بحث کرے ورنہ میرٹ پر فیصلہ کروں گا، ڈیرھ سال سے یہی چل رہا ہے کتنی بار دلائل کا موقع دے چکا ہوں ،سب ملزمان کے وکلاء دلائل مکمل کریں،

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • خلیل الرحمان قمر پر تشدد،اغوا،ملزمان عدالت پیش،آمنہ کاملا جسمانی ریمانڈ

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد،اغوا،ملزمان عدالت پیش،آمنہ کاملا جسمانی ریمانڈ

    معروف رائیٹر خلیل الرحمٰن قمر کو ہنی ٹریپ کرنے کا مقدمہ ،پولیس نے گرفتار ملزمان کو عدالت پیش کر دیا

    عدالت نے ملزمہ آمنہ عروج کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ،عدالت نے دیگر گیارہ ملزمان کو شناخت پریڈ پر جیل بھیج دیا ،پولیس نے عدالت میں کہا کہ ملزمہ آمنہ عروج سے تفتیش درکار ہے جسمانی ریمانڈ دیا جائے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمہ آمنہ عروج کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا قبول کی گئی

    مجھے حسن شاہ اور خلیل الرحمن قمر دونوں بلیک میل کر رہے تھے،،آمنہ عروج
    عدالت پیشی کے موقع پر خلیل الرحمن قمر کو بلانے والی لڑکی آمنہ عروج کا کہنا ہے کہ میں دونوں اطراف سے بلیک میل ہورہی تھی، مجھے حسن شاہ اور خلیل الرحمن قمر دونوں بلیک میل کر رہے تھے، حسن شاہ مجھے استعمال کرتا تھا اور خلیل الرحمان قمر نے ڈرامہ میں کاسٹ کرنے کا لالچ دے کر استعمال کیا،میں دونوں طرف سے بلیک میل ہورہی تھی اب یہ معاملہ مجھ اکیلی پر ڈال دیا گیا ہے۔ گینگ کا سرغنہ حسن شاہ ابھی بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے کاروائی کرتے ہوئےخلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنے والے گینگ کو گرفتار کر لیا تھا،ملزمان میں آمنہ عروج،ممنون حیدر،ذیشان قیوم، جاوید اقبال، تنویر احمد، فلک شیر، قیصرعباس،رشید احمد، میاں خان، بابر علی،شمائل بی بی اور مریم شہزادی شامل ہیں،خلیل الرحمٰن قمر کو ہنی ٹریپ کرنے والی خاتون کو بھی گرفتارکرلیا گیا جس سے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جارہی ہے، ڈرامہ نگار کی درخواست پر اغواء اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت تھانہ سندر لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، ملزمان خلیل الرحمٰن قمر کو اغواء کرکے 1کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کرتے رہے،تاوان کی رقم نہ دینے پر ملزمان نے تشدد کا نشانہ بنایا