Baaghi TV

Category: لاہور

  • پیر افضل قادری وفات پا گئے

    پیر افضل قادری وفات پا گئے

    تحریک لبیک کے سابق رہنما، امیر عالمی تنظیم اہلسنت پیر محمد افضل قادری وفات پا گئے ہیں

    پیر محمد افضل قادری کئی دنوں سے علیل تھے اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے،وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے،اہلِ خانہ نے پیر محمد افضل قادری کے گجرات میں وفات کی تصدیق کی ہے،

    پیر محمد افضل قادری کی نمازِ جنازہ کل دن 2 بجے مراڑیاں میں ادا کی جائے گی ،نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں افراد شریک ہوں گے، بعد ازاں مقامی قبرستان میں انکی تدفین کی جائے گی،

  • جیلوں  کے حفاظتی اقدامات سخت کرنے کاحکم

    جیلوں کے حفاظتی اقدامات سخت کرنے کاحکم

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ جات کو مراسلہ بجھوا دیا، جس میں کہا گیاہے کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر بنائے جائیں-

    باغی ٹی وی :محکمہ داخلہ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ جات کو بھیجے گئے مراسلے میں جیلوں میں سکیورٹی آڈٹ،بم ڈسپوزل سکواڈ سے چیکنگ کے احکامات دیئے گئے ہیں، جیل میں آنے جانے والے اہلکاروں کی سخت چیکنگ،بیرونی دیواروں پر خار دارتاریں نصب کرنے کا حکم دیا گیاہے، جیلوں میں قیدیوں،حوالاتیوں کی ملاقات پر وقتی پابندی عائد کر دی گئی جبکہ جیلوں میں پولیس اور رینجرز کے دستوں کی فرضی مشقوں کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہےکہ اڈیالہ جیل کے حوالے سے بہت سنجیدہ تھریٹ موجود ہے۔کچھ دن پہلے دہشت گرد پکڑے گئے ہیں، جن کے پاس اڈیالہ جیل کے نقشے تھےبانی پی ٹی آئی عمران خان کو کہیں اور منتقل کرنے کی اطلاع میرے پاس نہیں ہے۔

    وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا عدالتوں سے رجوع کرنے کا …

    اسلام آباد ،کراچی سمیت مختلف شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    وفاقی حکومت کا بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا منصوبہ

  • وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے

    شاعرہ ،افسانہ نگار اور صحافی صبا ممتاز بانو 12 مارچ 1971ء کولاہور میں پیدا ہوئیں ،
    افسانہ
    ۔۔۔۔۔
    پنچھی
    ۔۔۔۔۔
    رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔
    شب کے راجا نے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر تلے خاموشی بھی سمٹ گئی۔ ضیائے آفتاب نے ہر چیز کو برہنہ کردیا۔ شعاعوں نے راحت کی مچان پر لیٹی مانو سے آنکھ مچولی شروع کردی تو اس کے بدن نے آفتاب کے حرارت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ پلکیں رات بھر کے وصال کے بعد تازہ دم ہو چکی تھیں۔ اس نے چھت کی منڈیروں پر نگاہ ڈالی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ آج بھی کوئی پرندہ نہیں تھا۔
    اس نے مایوس ہو کر مٹی کے کونڈے کی طرف دیکھا۔ پانی شفاف تھا۔ روٹی کے ٹکڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ ان کی چمک ضرور ماند پڑ گئی تھی۔ سب کچھ ویسے کا ویسا تھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ کوئی بھولا بھٹکا افقی مسافر بھی ادھر نہیں آیا تھا۔ اگر آیا ہوتا تو یہ پانی اور یہ روٹی کے ٹکڑے یوں چپ تو نہ سادھے ہوتے۔
    اس نے اپنے گھر کے ساتھ والے باغ پر نگاہ ڈالی۔ وہاں بھی ایک رات میں کچھ نہیں بدلا تھا۔ گلاب کے مہکتے ہوئے پھول، مٹی کی سوندھی خوشبواور اس باغ میں تنہا کھڑا ایک درخت، یہ سب تو رات کو بھی تھے۔۔۔ اس کی عادت تھی کہ وہ نیند محل میں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اپنے گھر سے ملحقہ اس باغ کو ضرور دیکھتی تھی۔ جس میں ایک بڑا سا درخت اسے اپنی جانب پکارتا ہوا لگتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شاہین آکر اس پر بیٹھ جاتاتو اسے لگتا کہ کائنا ت اس کی مٹھی میں آ گئی ہو۔ کہاں سے آتا تھا وہ۔ کدھر کو جاتا تھا وہ۔؟ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتے۔ پھر مانو سونے کے لیے اپنی چار پائی کی طرف چل دیتی اور وہ اپنے ٹھکانے کی طرف۔ اسے کسی کے ہاتھ آنے کا شوق نہیں تھا اور مانو کو اسے ہاتھ لگانے کا شوق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ صبح کے وقت بھی آ جاتا تھا مگراب وہ اس درخت پر موجود نہیں تھا۔ مانو نے اس کے تصور سے دل کو شاد کیا۔
    سپیدی سحر میں یہ باغ حسن کی جاگیر لگ رہا تھا۔ پھولوں کی روشوں میں خراماں خراماں چلتی ہوئی ہوا کے راج پر صرف پھول ہی نہیں جھوم رہے تھے۔ یہ جشن مسرت چند کتے بھی منا رہے تھے جو ہوا کی اٹھکیلیوں پر پاگل سے ہو ئے جا رہے تھے۔ کوئی گول چکر میں پھیرے لے رہا تھا اور کوئی باغ کے اس کونے سے اس کونے تک دوڑ لگا رہا تھا۔
    ‘‘یاالٰہی، ہوا ان کے بدن میں بھی مستی دوڑا دیتی ہے، یہ دیوانگی، یہ جذب و جنوں ان پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ کیسے مستیاں کرتے ہیں یہ۔ کیسے شوخیاں کرتے ہیں؟’‘ سوچتے سوچتے اس نے مست ہوا میں آنچل کو لہرایا۔ سورج راجا کو ہٹنے کا اشارہ کیا۔ پھر کائیں کائیں کرتے ہوئے کووؤں کو پکارا۔ چہکتی ہوئی فاختاؤں کو آواز دی۔ کسی نے بھی تو نہیں سنا۔ وہ دکھ کی لہروں کو اپنے وجود میں سمیٹے ہوئے نیچے اتر آئی۔ شانو آٹا گوندھ رہی تھی۔ پلکوں پر بیٹھے ہوئے آنسو اسے دیکھتے ہی نیچے لڑھک گئے۔
    ”کیا ہوا، رو کیوں رہی ہو۔“ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ساعت کرن آنچل بھی لہرایا، ان کو پکارا بھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ‘‘وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”پگلی کہیں کی۔ ارے کیا ہوا۔؟ نہیں آتے تو نہ آئیں، ان کو دانہ دنکا بھی ڈالتے ہیں۔ روٹی چاول بھی رکھتے ہیں۔ پانی کا برتن بھی رکھا ہے۔ پھر بھی نہیں آتے۔ تو ہم کیا کریں۔‘‘ شانو نے اسے تسلی دی۔
    ”شانو۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ بابا کہا کرتے تھے۔ پرندے خدا کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنا کر رکھوگے تو سب ٹھیک رہےگا۔ بابایہ بھی کہا کرتے تھے۔ چھوٹی سی یہ مخلوق بڑی سی مخلوق کی خدا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔‘‘ مانو نے بابا کی بات شانو کو یاد دلائی۔
    ”بابا ٹھیک کہا کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی نخریلی ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہیں سنتی تو ہم کیا کریں۔’‘ شانو نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی۔
    ”مگر جب بابا تھے تب تو ہمارے گھر میں بہت پرندے آتے تھے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک دفعہ تو امی کا چھوٹو پرس بھی کھانے کی چیز سمجھ کر لے گئے تھے۔۔۔‘‘ مانو کو بھولی بھٹکی کوئی بات یاد آ گئی۔
    ”ہاں۔ پھر وہ گھر کے قریب جھاڑیوں میں اٹکا ہوا مال تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے۔‘‘ شانو نے لقمہ دیا۔
    ”یقینا اس کوے کی نگاہ کمزور ہوگی۔’‘ مانو کی اداسی اب ہنسی میں ڈھل گئی تھی۔
    ”ابا کا بس چلتا تو اس کو بھی عینک لگوا دیتے۔’‘ شانو کی رگ ظرافت بھی پھڑک چکی تھی۔
    ”کچھ بھی تھا شانو، ابا ہوتے تھے تو پرندے صبح دم ہی آکر بیٹھ جاتے اور شام کو جاتے تھے۔ اب یہاں دن سے شام ہو جاتی ہے۔ میں ان کی راہ تکتی رہتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ کوئی بھی تو نہیں آتا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”ارے وہ گھر بھی تو دوسرا تھا نا۔ اس گھر میں ہم اوپر والے حصے میں ہی آباد تھے۔ وہیں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی دوستی ہو گئی تھی ہم سے۔ یہاں ہم نیچے رہتے ہیں اور وہ دوستی کیا کریں، ان کو تو ہماری شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔’‘ شانو نے منطقی بات کی۔
    ”ہاں۔ تب ہمارا بسیر ا چھت پر تھا۔ وہ تو ہمارے ہاتھ سے اچک کر کھا لیتے تھے۔ اب تو ہم صرف ان کو کھانا ڈالنے ہی اوپر جاتے ہیں۔‘‘ مانو کی سمجھ میں شانو کی یہ بات آ گئی تھی۔
    ”چلو شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی بات مانی لیکن کل پھر صبح اٹھتے ہی تم نے مجھ سے پو چھنا ہے کہ شانو ہمارے گھر میں پرندے کیوں نہیں آتے۔’‘ شانو نے منہ بناکر کہا۔
    ”ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اپنا کھانا تو کھا لیا کریں نا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”کھا لیں گے۔ کھا لیں گے۔‘‘ شانو نے بڑی بہن مانو کو تسلی دی۔
    مانو کو گرمی میں چھت پر سونے کی عادت تھی۔ اسے تاروں سے بھرا آسمان امید کا جہان دکھتا تھا۔ افق پر بھولے بھٹکے پرندوں کو سفر کرتے دیکھ کر اسے ایسا لگتا جیسے وہ خود بھی کسی قافلے سے بچھڑ ی کوئی ڈار ہو جو اپنے غول کی تلاش میں ہو۔ ایک آہ، ایک کونج اس کے سینے سے نکلتی۔
    ”یہ انسان کا جسم مجھے کس نے اوڑھایا ہے۔ یہ بدن تو کسی پرواز پر تھا۔’‘
    کبھی کوئی درد بھری آواز کو وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی ہوئی سنتی تو فریاد کی بستی پر مصلے بچھا دیتی اور اس کا دل اس پر بیٹھ کر دعا گو ہو جاتا۔ میرے رب، مسافر قافلے سے بچھڑ جائے تو منزل کو کھو دیتا ہے۔ نیلگوں آسمان کی وسعتوں پر اڑنے والے قافلوں کو بھٹکنے سے بچا۔ دھرتی ان کی کونج کا درد نہیں سہار سکتی۔ یہ اونچی پروازوں کے راہی ہیں۔ ‘‘
    دونوں یادوں کے جنگل میں بسیرا ڈالے بیٹھی تھیں کہ دانی آ گیا۔ مانو نے دانی کو دیکھا تو سب بھول بھال اسے گود میں اٹھا لیا۔ اسے بانہوں سے پکڑا، جھولا دیا اور پھر نیچے اتار دیا۔ دانی خوشی سے دم ہلاتا ہوا چھت پر چلا گیا۔
    ”جتنے چکر یہ چھت کے لگاتا ہے۔ ہم لگائیں تو تھک ہی جائیں۔’‘ شانو نے دانی کو پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کہا۔
    ”بھئی اس کا واش روم جو اوپر ہے۔ اوپر نہ جائے تو کیا کرے۔’‘ مانو نے دانی کی حمایت کی۔
    ”ساری رات میرے ساتھ سکون سے سوتا ہے۔ صبح ہوتے ہی اس کی دھینگا مشتی شروع ہو جاتی ہے۔’‘
    شانو نے دانی کی شکایت کی۔
    ”ارے جا۔ میرا پتر شرارتی ضرور ہے مگر بدمعاش نہیں ہے۔ رات بھر تمہارے ساتھ سوتا ہے۔ کبھی اس نے چھیڑا تمہیں۔’‘ دانی کی شکایت پر مانو تو برس ہی پڑی۔
    ”چھیڑ کر دیکھا تو تھا ایک دن اس نے۔’‘ شانو نے کہا تو مانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
    ”پھر۔؟’‘مانو کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”پھر کیا، اسے پتا چل گیا کہ میں بلی نہیں ویسے کبھی ساتھ سلا کر دیکھو نا۔’‘ شانو نے کہا۔
    ”جس دن میرا میاں گھر نہ ہوا تو میں سلا لوں گی۔’‘ مانو نے فوراً جواب دیا۔
    دونوں کو بھورے سفید دھاری دار بلے سے بہت پیار تھا۔ اس گھر کی رونق تھا یہ بلا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر کے مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی رفیق ہیں۔ اسی لیے ان سے ہی فرمائشیں کرتا تھا۔ وہ بھی اسے چوکے پر بٹھاتیں۔ تحت پر سلاتیں۔ شیمپو سے نہلاتیں اور تھک جاتا تو دباتیں۔ دانی کا اس گھر میں راج تھا۔

    ”اگر دانی نہ ہوتا تو میں تو مر ہی جاتی۔ اس میں لگی رہتی ہوں تو غم کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ مانو نے سوچا۔
    پرندوں اور جانوروں سے پیار اسے ورثے میں ملا تھا۔ ابا ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے دل میں بھی ان کے لیے جیسے کوئی انجانی سی کشش اٹکی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ پرندوں کے پیچھے بھاگتی تھیں تو کبھی جانوروں کے لیے ہلکان ہو تی تھیں۔ مانو اور شانو دونوں کی کائنات ان میں سمٹی ہوئی تھی۔ اس کائنات میں آسماں پر پرندے رقص کرتے تھے اور زمین پر جانور دھما چوکڑی مچاتے تھے۔ وہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسی مخلوق کی طرح جی رہی تھیں جن کی زندگی کا واحد مقصد ہی ان کا خیال رکھنا اور ان سے پیار کرنا رہ گیا تھا۔

    پرندوں کو پکارتے پکارتے سمے بیت رہا تھا۔ مانو کی فریاد انہوں نے نہیں سنی۔ شانو کو کوئی غم نہیں تھا۔ اس کا دانی اس کے پاس تھا۔ اس کو بس دانی سے لگاؤ تھا۔ مانونے اب کھانا پینا گلی کے کتوں کو ڈالنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ پرندوں کے لیے رات کو کچھ نہ کچھ ضرور لے جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل بہل تو گیا تھا مگرکبھی کبھی مانو کی اداسی پھر عود کر آتی تو شانو اس کی گود میں دانی کو ڈال دیتی اور ہنستے ہوئے کہتی۔

    ”چھوڑو یار، دانی کو جھلاؤ۔’‘ وہ بھی ہر غم بھلاکر دانی کو پیار کرنے لگتی۔
    وقت کا ایک اور دن ڈھل گیا تھا۔ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔ مانو چھت پر سونے چلی گئی۔ شانو تسبیح پر کوئی ورد کرنے لگی۔ ماہتاب کی چمک مانو کے چہرے کو فروزاں کیے دے رہی تھی۔ اس نے چھٹکی ہو ئی چاندنی میں اردگرد کے منظر کو دیکھا۔ چاندنی کا حسن ہر چیز سے جھلک رہا تھا۔ اس سحر آفریں ماحول میں نیند کا خمار ایسا چڑھا کہ سارے منظر تحلیل ہو گئے۔ وہ نیند کے آسمان پر تحت نشین ہو گئی۔ رات میٹھی سی نیند میں گزر گئی۔

    چاند راجا کی سلطنت درہم برہم ہو گئی۔ سورج راجا ابھی تحت دن پر براجمان ہوا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوے روٹی کے ٹکڑے لیے منڈیروں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ چھت کائیں کائیں کی آواز سے گونج رہی تھی۔ فاختائیں دانہ دنکا کھا رہی تھیں۔ چوں چوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پرندے گھر کو آ گئے تھے۔ مانو کے دل میں مسرت کی لہریں پھوٹنے لگیں۔ وہ خوشی سے ہمکتی ہوئی نیچے آئی۔ شانو رو رہی تھی۔ دانی رات کو گھر نہیں لوٹا تھا۔ جانے راستہ بھول گیا تھا یا پھر گھر چھوڑ گیا تھا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دے دیا جو مقام اس کا ہے
    دل کی بستی میں نام اس کا ہے
    زندگی کی یہی صداقت ہے
    جس کی دنیا نظام اس کا ہے
    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے
    کتنے سالوں کے بعد میرے لیے
    آج آیا سلام اس کا ہے
    کب بھلایا اسے صباؔ میں نے
    ذکر تو صبح و شام اس کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم زدہ زندگی ہماری ہے
    چاہے دنیا بہت ہی پیاری ہے
    تم نہیں مانتے تو مت مانو
    میری ہر سانس بس تمہاری ہے
    چھوڑ کر ایسے وہ گئے ہم کو
    کیا جئیں گے کہ وار کاری ہے
    جو سہا میں نے وہ سہو گے تم
    وقت کی بھی تو ایک باری ہے
    بس سنبھلنا قدم قدم ہوگا
    زندگی ایک رازداری ہے
    اب ترے ہجر کا صباؔ ہر وقت
    میری آنکھوں سے خون جاری ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خواب اپنے لہو لہو کر کے
    رو دئے تیری جستجو کر کے
    کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
    آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
    کس قدر پر سکون ہوتے تھے
    اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
    عشق بے سود تو نہیں اپنا
    سوچنا میری آرزو کر کے
    لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
    یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
    ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
    زندگی میری مشکبو کر کے
    خود کشی تیرے پیار میں کر لی
    پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے

  • 21 منزلہ ارفع کریم ٹاور ٹو،وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی

    21 منزلہ ارفع کریم ٹاور ٹو،وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی

    لاہور میں 21 منزلہ ارفع کریم ٹاور ٹو بنے گا، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مظوری دے دی۔

    لاہور میں آئی ٹی، ایجوکیشن اور فلم سٹی پراجیکٹ کا آغاز جلد ہوگا، مائیکروسافٹ، اوریکل اور دیگر بڑی کمپنیوں نے آئی ٹی سٹی لاہور کیلئے آمادگی ظاہر کردی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے چین کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو آفس بنانے کیلئے مدعو کرنے کی ہدایت کر دی،مریم نواز کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے بہترین آئی ٹی کمپنیوں کو آئی ٹی سٹی میں بزنس کے مواقع فراہم کریں گے۔پنجاب سمیت پاکستان بھر کے طلبا کے لئے ورلڈ بیسٹ یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائیں گے۔

    ایجوکیشن سٹی میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کرنے کے لئے فوری رابطوں کی ہدایت کی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے لاہور نالج پارک اورآئی ٹی سٹی کے قیام کیلئے پلان کی ڈیڈ لائن مقرر کردی،لاہور میں فری وائی پائلٹ پراجیکٹ، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے منظوری دیدی،لاہور میں 10 مقامات پر فری وائی پراجیکٹ کا آغاز دو ہفتے میں کردیا جائے گا،لاہور میں 516 مقامات پر فری وائی فائی پوائنٹس بنائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی تعلیمی اداروں، ائیرپورٹ، ریلوے سٹیشن اور بس سٹینڈ پر ترجیحاً فری وائی فائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،

    سعودی سفیر بھی وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے معترف

    وزیر مذہبی امور انیق احمد کی سعودی سفیر نواف سعیدالمالکی سے ملاقات

    وزیر خارجہ کا سعودی عرب بارے بیان،شہباز شریف نے بڑا مطالبہ کر دیا

    برف پگھلنے لگی، سعودی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، سعودی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان متوقع

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب کا بین الاقوامی مسافر پروازوں کا آپریشن معطل،پی آئی اے نے بھی اعلان کر دیا

    سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

  • رمیش سنگھ اروڑہ کا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

    رمیش سنگھ اروڑہ کا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

    صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اتنی اہم ذمہ داری سونپی ہے اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے ۔

    سردار رمیش سنگھ اروڑا ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا۔ وہ ایک سرکردہ کاروباری اور ممتاز سکھ رہنما ہیں جو 2020 میں مسلسل دوسری مدت کے لیے رکن صوبائی اسمبلی پنجاب منتخب ہوئے۔ 2013 سے 2018 کے دوران اپنے پہلے دور میں، وہ پنجاب اسمبلی کے پہلے پارلیمنٹیرین تھے جو 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سکھ برادری سے آئے تھے۔ انہوں نے 2014 سے 2017 کے دوران کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر کام کیا اور بطور چیئرمین، قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور اقلیتی امور سے 2017 سے 2018 کے دوران انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی کافی معروف رہے۔

    رمیش سنگھ نے پاکستان میں سکھ برادری کے حقوق کے تحفظ اور "پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018” کی منظوری کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے پاکستان پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سکھ میرج رجسٹریشن ایکٹ نافذ ہے۔ انہوں نے بطور ممبر، ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) گورنمنٹ کی خدمات انجام دیں۔ پنجاب میں 2011 سے 2013 کے دوران وزارت قومی ہم آہنگی کے تحت اقلیتوں کے قومی کمیشن کے رکن کے طور پر اور 2009 سے 2013 کے دوران پاکستان سکھ گوردوارہ پربھندک کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں۔انہوں نے جولائی 2011 میں امریکہ کے تین ہفتوں پر محیط ایک خصوصی سیشن میں "شہریوں کے مساوی حقوق کے فورمز” میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ رمیش سنگھ کو 2016 میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے قومی انسانی حقوق کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

  • نواز شریف کے بیٹے حسن و حسین لاہور پہنچ گئے

    نواز شریف کے بیٹے حسن و حسین لاہور پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے دونوں بیٹے لاہور پہنچ گئے ہیں،

    نواز شریف اپنے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے استقبال کے لئے خود ایئر پورٹ گئے تھے، حسن و حسین نواز کے لاہور ایئر پورٹ پہنچنے پر نواز شریف نے انکا استقبال کیا بعد ازاں سخت سیکورٹی میں انہیں رائیونڈ لے جایا گیا،حسن و حسین نواز چھ برس بعد لاہور پہنچے ہیں، انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی ،وہ 14 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں‌گے،حسن اور حسین نواز نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس میں درخواستیں دائر کی تھیں جس میں وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی،احتساب عدالت نے 7 سال قبل دونوں ملزمان کو ان ریفرنسز میں اشتہاری قرار دیا تھا۔اب احتساب عدالت نے دونوں کے وارنٹ معطل کر رکھے ہیں

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • فش ٹریڈنگ میں ترقی کےلیے مریم اورنگزیب نے دیئے محکمہ فشریز کو نئے ٹاسک

    فش ٹریڈنگ میں ترقی کےلیے مریم اورنگزیب نے دیئے محکمہ فشریز کو نئے ٹاسک

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگ زیب کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا،

    صوبے میں فش ٹریڈنگ میں ترقی کےلیے محکمہ فشریز کو نئے ٹاسک سونپ دیئے گئے،وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق فش فارمنگ اور شرمپس کی پیداوار بڑھانے کے لیےجامع پلان طلب کر لیا گیا، اجلاس میں نئے پراجیکٹس کے لیے مختلف ماڈلز ،ٹائم لائن، کاسٹنگ اور فوائد و نقصانات بارے تجاویز زیرغور آئیں، فش فارمنگ میں کامیاب ہمسایہ ممالک سمیت سنگاپوراور ٕیواے ای کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کی گئی ،

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پنجاب کو ہرشعبے میں ترقی سے ہمکنار کرنا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا مشن ہے۔ پیداوار میں اضافے کے لیے دوسرے ممالک اور فش فارمنگ کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کے ایکسپرٹس سے ملاقاتیں کی جاٸیں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے میں فش فارمنگ و ٹریڈنگ سے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے پرعزم ہیں،مریم نواز شریف کی ہدایت پر شرمپس کی پیداوارمیں اضافے کے لیے پراجیکٹس لاۓجارہے ہیں،ان مقاصد کے لیے بین الاقوامی سطح کی بہترین ٹیکنالوجیز کو استعمال میں لایا جاۓ گا، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے تحت زیادہ پیداوار کے حامل ہمسایہ ممالک سے مشاورت اور فنی معاونت حاصل کی جاۓ گی ،مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ڈویلپمنٹ آف شرمپس ایکواکلچران سیلاٸن اینڈ بریکش ایریاز آف پنجاب کے پراجیکٹ کا آغاز کیا جاۓ گا۔ اسطرح ناقابل کاشت بنجر ، نمکین اور کڑوے پانیوں والی اراضی پر شرمپس فارمنگ کی جاۓ گی۔ جھینگوں اور مچھلی کی فارمنگ کے نٸے پراجیکٹس سے روزگار اور آمدن کے مواقع پیدا ہونگے۔ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق مچھلی کی پیداوار بڑھانے سے غذائی قلت پر کنٹرول بھی ممکن ہوسکے گا۔

  • سستے آٹے کے نام پر روزے داروں کی حکومت نے نکلوائیں چیخیں

    سستے آٹے کے نام پر روزے داروں کی حکومت نے نکلوائیں چیخیں

    رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گیا، آج پہلا روزہ ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں نگہبان راشن پیکج کی ترسیل کا عمل جاری ہے تو وہیں آج سستے آٹے کے ٹرکوں نے روزے میں عوام کی چیخیں نکلوا دیں

    لاہور کے مختلف علاقوں میں سستے آٹے کے ٹرک لگ گئے ہیں، سستے آٹے کے ٹرک دیکھ کر شہری آٹا خریدنے پہنچ گئے تا ہم شہریوں کو جا کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آٹاسستا نہیں مل سکتا، شہریوں نے یوٹیلٹی سٹور کے بھی چکر لگائے مگر وہاں‌بھی شہریوں کو آٹا اسی نرخ پر مل رہا جو عام مارکیٹ کا ہے، شہریوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے،

    لاہور کے علاقوں میں سسٹے آٹے کے ٹرک لگے تو روزے داروں کی ٹرک کے سامنے لمبی لائنیں سامنے آئی،ہاتھ میں شناختی کارڈ تھامے 8171 پر اپنی تصدیق کے منتظر ،تا ہم تصدیق نہ ہونے پر شہری مایوس واپس لوٹنے پر مجبور پو گئے، ٹرک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 10 کلو کا سستا آٹا 648 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے،سستا آٹا صرف بے نظیر اور احساس پروگرام میں رجسٹرڈ لوگوں کو ہی دیا جا رہا ہے ، شہریوں کاکہنا ہے کہ وہ غریب لوگ جو رجسٹرڈ نہیں ،آمدن کم ہے اسے آٹا نہیں دیں رہے،روزے میں لائنوں میں لگ کر غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں ، جو لائن میں لگ رہا وہ لاہور کا ہی شہری اورریلیف کا مستحق ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا راشن پیکج بھی لاہور میں ن لیگی کارکنان کو دیا جا رہا عوام تک پہنچ رہا،وہ کارکنان جن کی فہرستیں انتخابات سے قبل بنا لی گئی تھیں انہیں کے گھروں تک راشن پہنچایا جا رہا ، سستے آٹے کے لئے لائن میں لگے شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم مختلف علاقوں میں رہتے ہمیں تو ابھی تک لاہور میں رہتے ہوئے راشن پیکج نہیں ملا.

  • سیاسی مخالفین رمضان پیکج کے حوالے سے تکلیف کا شکار ہیں،عظمیٰ بخاری

    سیاسی مخالفین رمضان پیکج کے حوالے سے تکلیف کا شکار ہیں،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ قوم کو رمضان کا مہینہ مبارک ہو، 64 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کے لئیے رمضان پروگرام بنایا گیا ہے ،

    عظمی بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور نادرا کے ذریعے رمضان پیکچ فراہم کیا جا رہا ہے ، سیاسی مخالفین رمضان پیکج کے حوالے سے تکلیف کا شکار ہیں، انہوں نے کبھی ایسا فلاحی پروگرام نہیں دیا ، کہیں لائن کہیں رش نہیں بنے گا، گھروں میں راشن پہنچے گا ، جو نام پروگرام کے لئیے پہنچے ان کو ویری فائی بھی کیا گیا ، روانہ کے حساب سے ڈیش بورڈ اپڈیٹ ہو رہاہے ، آج سے پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ میں پروگرام شروع ہے ، پروگرام کو 20 رمضان تک مکمل کر لیا جائے گا ، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں نہ چلائی جائیں، پنجاب کی تاریخ میں پہلے بار جسے مجسٹریٹ بنایا گیا اس کی ٹریننگ بھی کروائی گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس حوالے سے ہیلپ لائین بنائی کے اور اسے خود مانیٹر کر رہی ہے ، 080002345 پر وزیر اعلی ہر قسم کی انسپکشن کر رہی ہے، تاجروں کو تین دن کا وقت دیا گیا تھا کہ اپنے سٹاک کو حکومت کے ساتھ شئیر کریں ، جو ایسا نہیں کرے گا وہ زخیرہ اندوزی میں آئے گا ،زخیرہ اندوزی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    انسداددہشت گردی عدالت لاہور،نو مئی واقعات میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    انسداددہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء سے دلائل طلب کر لیے،عدالت نے کیس کی سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی،ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل سے بعدازگرفتاری دائر کر رکھی ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے

    لاہور: ڈاکٹر یاسمین راشد نے دہشت گردی کے مقدمے میں چالان کی کاپیاں صاف نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا .درخواست میں تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے صاف کاپیاں فراہم کرنے کی درخواست خارج کردی،چالان کے ساتھ گواہان کے ناموں کی لسٹ نہیں لگائی گئی،چالان کی نامکمل کاپی درخواست گزار کو فراہم کی گئی،صاف کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اقدام بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہے،عدالت چالان کی صاف کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم