Baaghi TV

Category: لاہور

  • تخت لاہور،ن لیگ 9، آزاد تین، آئی پی پی دو سیٹوں پر کامیاب

    تخت لاہور،ن لیگ 9، آزاد تین، آئی پی پی دو سیٹوں پر کامیاب

    تخت لاہور کس کے سر، آزاد امیدوار بھی جیتے لگے، نواز شریف جیت گئے، شہباز شریف ،مریم نواز جیت گئیں تو وہیں ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق ہار گئے، شیخ روحیل اصغر، محمد نعمان بھی ہار گئے ہیں،ایاز صادق جیت گئے ہیں،حمزہ شہباز بھی جیت گئے ہیں

    لاہور سے قومی اسمبلی کی تمام چودہ نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج مکمل ہوگئے ہیں،مسلم لیگ ن نے لاہور سے قومی اسمبلی کی 9نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ،آزاد امیدواروں نے تین نشستیں حاصل کیں ،لاہور سے آئی پی پی نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی

    این اے 121، وسیم قادر کامیاب
    این اے 121 لاہور کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار وسیم قادر 78803 ووٹ کامیاب قرار پائے۔مسلم لیگ ن کے روحیل اصغر 70597 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے، ن لیگ لاہور کی سیٹ ہار گئی ہے

    این اے 129،میاں اظہر کامیاب
    این اے 129 ، تحریک انصاف کے آزاد امیدوار میاں اظہر ایک لاکھ تین ہزار سات سو اٹھارہ ووٹ لے کر کامیا ب ہو گئے، محمد نعمان نے 71540 ووٹ حاصل کئے ہیں، اور دوسرے نمبر پر رہے، میاں اظہر تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کے والد ہیں

    این اے 122، لطیف کھوسہ کامیاب
    این اے 122 سے تحریک انصاف کے امیدوار لطیف کھوسہ ایک لاکھ 17 ہزار 109 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، ن لیگی خواجہ سعد رفیق 77 ہزار 9 سو سات ووٹ لے کر ہا ر گئےہیں

    این اے 123، شہباز شریف کامیاب
    ن لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور سے قومی اسمبلی نشست جیت لی ہے،این اے 123 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق شہبازشریف 63953 ووٹ لے کرکامیاب قرار پائے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار افضال عظیم پاہٹ 48486 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    این اے 124، ن لیگی مبشر اقبال جیت گئے
    این اے 124 مسلم لیگ ن کے مبشر اقبال 55 ہزار 387 ووٹ لےکر جیت چکے ہیں جبکہ آزاد امیدوار ضمیر جھیڈو 43 ہزار 594 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے

    این اے 119،مریم نواز کامیاب
    این اے 119، ن لیگی رہنما مریم نواز جیت گئی ہیں،مریم نواز نے 83 ہزار 855 ووٹ حاصل کیے، جبکہ آزاد امیدوارشہزاد فاروق نے 68 ہزار 376 ووٹ لیے

    این اے 120 لاہور، ن لیگ کے ایاز صادق 68143 ووٹ لےکر جیت چکے ہیں،عثمان حمزہ نے 49 22 ووٹ لئے ہیں

    لاہور کے حلقہ این اے 130 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے، نوا زشریف جیت گئے ہیں، نواز شریف نے این اے 130 سے 1لاکھ سات 71 ہزار24 ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1 لاکھ 15 ہزار 43 حاصل کئے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد جیل میں ہیں اور ان پر کئی مقدمات ہیں،تحریک لبیک کے امیدوار نے اس حلقے سے 4456 ووٹ لئے ہیں جبکہ مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار نے 2520 ووٹ حاصل کئے ہیں

    حلقہ این اے 118 لاہور سے ن لیگی رہنما حمزہ شہباز ایک لاکھ 8 سو تین ووٹ لے کرجیت گئے تا ہم تحریک انصاف کی آزاد امیدوار عالیہ حمزہ نے ایک لاکھ پانچ ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں،

    این اے 125،126،کھوکھر برادر کامیاب
    این اے 125 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ ،ن لیگ کے افضل کھوکھر65102ووٹ کامیاب لےکر کامیاب ہوگئے ،آزاد امیدوار جاوید عمر51144ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں ،این اے 126 سےن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر67,717 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے،آزاد امیدوار ملک توقیر کھوکھر60,479 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے

    این اے 127، عطا تارڑ جیت گئے، بلاول کا تیسرا نمبر
    این اے 127 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ،بلاول ہار گئے، ن لیگ کے عطا تارڑ جیت گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگی امیدوار عطاتارڑ 98210 ووٹوں کےساتھ کامیاب ہوئے ہیں، آزاد امیدوارملک ظہیر عباس 82230 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو صرف 15005 ووٹ حاصل کرسکے.

    این اے 128، عون چودھری جیت گئے
    لاہور کے حلقے این اے 128 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیا ہے،استحکام پاکستان پارٹی کے عون چوہدری 172576ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ہیں ،سلمان اکرم راجہ 159024ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں تھا، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی تھی،

    این اے 117، علیم خان کامیاب
    این اے 117 سے آئی پی پی کے علیم خان کے 72519ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیںَآزاد امیدوار علی اعجاز 31 ہزار586ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے

    na127

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    آٹھ گھنٹے گزر گئے، الیکشن کمیشن نتائج دینے میں ناکام،آصف زرداری اسلام آباد،نواز گھر چلے گئے

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    صوابی، این اے 20، ادینہ گاؤں میں خواتین ووٹر پر پابندی لگا دی گئی

    سیاسی جماعتوں کی خواتین امیدوار کم ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو کیس بھیج دیا

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

  • دانیال عزیز کوگرفتار کر لیا گیا

    دانیال عزیز کوگرفتار کر لیا گیا

    شکر گڑھ ، آزاد امیدوار دانیال عزیز کو گرفتار کر لیا گیا

    دانیال عزیز چوہدری کو پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار کر لیا ۔ پولیس نے دانیال عزیز چوہدری اور صحافیوں پر تشدد بھی کیا،موبائل فون بھی چھین لیے، دانیال عزیز کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ساڑھے بارہ بجے میرے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا جب وہ پولنگ سٹیشن کا جائزہ لینے گئے، انکو روکا گیا، پولیس کا سخت ناکہ تھا، انکو دھکے مارے گئے، تشدد کیا گیا،اس سب کے پیچھے احسن اقبال کا ہاتھ ہے، الیکشن مہم میں بھی ہمیں تنگ کیا گیا، دانیال عزیز جیت رہے تھے یہ انہیں ہضم نہیں ہو رہا تھا،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے ووٹ کاسٹ کردیا،چیف آرگنائزر (ن)لیگ مریم نواز نے بھی ووٹ کاسٹ کردیا،

    لیگی قائدین نےاین اے128میں ووٹ کاسٹ کیا، نواز شریف اور مریم نواز ووٹ دینے پہنچے تو عون چودھری نے ان کا استقبال کیا،نواز شریف اور مریم نواز نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر شیر پر مہر نہیں لگائی بلکہ عقاب کے نشان پر مہر لگائی اور آئی پی پی کے عون چودھری کو ووٹ دیا.اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو گا، لوگ خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے،چیزیں سستی کریں گے، لوگوں کو ان کی دہلیز پر چیزیں میسر کریں گے، ووٹ سے ملک میں بدتہذیبی کا خاتمہ ہو گا،ملک میں ایک جماعت کومینڈیٹ ملناچاہیے مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہےحمزہ شہباز اور مریم نواز نےجیلیں کاٹیں ہیں بدتمیزی اور بدتہذیبی کا کلچر ختم کرناہےعوام ووٹ ڈالنےباہر نکلیں۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ ٹھیک چل رہا تھا اسکو ضرب پہنچائی گئی، ہم اسکو ٹھیک کریں گے، آپ ہمارا منشور پڑھیں سب چیزیں تفصیل سے لکھی ہوئی ہیں، صحافی نے سوال کیا تو نواز شریف نے کہا کہ خدا کے لئے مخلوط حکومت کا نام نہ لیں، ملکی مسائل حل کرنے ہیں تو ایک پارٹی کو پورا مینڈیٹ ملنا چاہئے، مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالہ سے سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ نتائج کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی میں اکیلا نہیں کر سکتا، مریم نے پارٹی میں بہت کام کیا ، جدوجہد ہے، شہباز شریف کا بھی بہت کام ہے، حمزہ نے بھی جیلیں کاٹیں، قربانیاں دے کر ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • جکارتا میں کھڑا پی آئی اے کا دوسرا طیارہ بھی پاکستان پہنچ گیا

    جکارتا میں کھڑا پی آئی اے کا دوسرا طیارہ بھی پاکستان پہنچ گیا

    لاہور: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں کھڑا پاکستان ایئرلائن (پی آئی اے) کا دوسرا طیارہ بھی پاکستان پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی: ایئرلائن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر بس اے 320 طیارہ جکارتا سے رات 11:14 بجے کراچی پہنچا،خصوصی پرواز پی کے 9897 نے بینکاک میں ری فیولنگ کیلئے اسٹاپ کیا، رجسٹریشن اے پی بی ایل وائی طیارے کی تکنیکی مرمت دو ہفتے سے جاری تھی۔

    ستمبر 2021 سے لیزنگ کمپنی سے تنازعہ کے باعث طیارے جکارتا میں پھنسے تھے، پی آئی اے نے اکتوبر 2023 میں لیزنگ کمپنی سے مالی تنازعہ طے کیا، لیزنگ تنازعہ کے حل کیلئے کمپنی نے 13 ملین ڈالر کی ادائیگی کی، لیزنگ کمپنی سے سوا 2 سال سے تنازعہ کا شکار پہلا طیارہ دسمبر میں واپس پہنچا، طیارے کی شمولیت سے پی آئی اے میں ایئربس طیاروں کی تعداد 16 ہوگئی۔

    کبھی کبھی توقعات سے برعکس بھی نتائج آ جاتے ہیں،بیرسٹر گوہر

    اس سے قبل ملائیشیا کے ایئر پورٹ پر بھی پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ لیز تنازع کی وجہ سے روکا گیا تھا، ملائیشین عدالت نے روکے جانے کا اقدام معطل کر کے قومی ایئر لائن کے طیارے کو وطن واپسی کی اجازت دی تھی، بوئنگ 777 روکے جانے سے لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا، 26 مئی 2023 کو ملائیشیا کی مقامی عدالت نے بغیر پی آئی اے کو طلب یا نوٹس کیے طیارہ روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، جس کے بعد طیارہ روکنے کے احکامات 29 مئی کو طیارے کی روانگی سے چند منٹ قبل پی آئی اے اور ایئر پورٹ حکام کو وصول کروائے تھے۔

    ملک کے 12 ویں عام انتخابات کیلئے آج پولنگ ہوگی

    کراچی عباسی شہید اسپتال کا عملہ الیکشن ڈیوٹی کے لیے طلب،اسپتال بند

  • ملک کے  12 ویں عام انتخابات کیلئے آج پولنگ ہوگی

    ملک کے 12 ویں عام انتخابات کیلئے آج پولنگ ہوگی

    لاہور: پاکستان میں 1970 کے بعد آج 12ویں جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ کے زریعے ووٹرز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 855 حلقوں میں امیدوار چنیں گے ملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ 17 ہزار 816 امیدوار میدان میں ہیں، 882 خواتین امیدوار، 4 خواجہ سرا بھی جنرل نشستوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے، اور جمہوری عمل کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ڈیوٹی دے گا-

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کے حوالے تمام سامان کی ترسیل مکمل ہوچکی ہے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہے گا ،ووٹ ڈالنے کیلئے ووٹرز کو اصل شناختی کارڈ دکھانا لازم ہوگا، قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید بیلٹ پیپر ہو گا،تمام حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جو ریٹرننگ افسر کے دفاتر سے جاری ہوں گے۔

    عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا ، ملک بھر میں 16 ہزار 766 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس ،29 ہزار 985 حساس جبکہ 44 ہزار 26 پولنگ سٹیشنز نارمل قرار دیئے گئے ہیں انتہائی حساس قرار دیے پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہوگی پنجاب میں 5 ہزار 624 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے ہیں جن پر فی پولنگ اسٹیشن 5 اہلکار تعینات ہوں گے اسی طرح سندھ میں 4 ہزار 430 حساس پولنگ اسٹیشنز پر فی اسٹیشن 8 اہلکار ہوں گے خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 265 حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 9 اہلکار فی پولنگ اسٹیشن، جبکہ بلوچستان میں 1047 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 9 اہلکار ہوں گے۔

    5 لاکھ سکیورٹی اہلکار عام انتخابات میں ڈیوٹی پرتعینات ہوں گے، پولیس پہلے درجے پر، پیرا ملٹری فورسز دوسرے درجے، آخری اور تیسرے درجے میں پاک فوج بطورکوئیک رسپانس فورس تعینات ہوگی۔

    اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی کی 297 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی کی 130، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی کی 115 جبکہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر پولنگ ہو گی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جن پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

    پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور بلوچستان اسمبلی کی 51 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے ہیں اور الیکشن کے دن ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • رواں ماہ کے آخر تک لاہور میں پانی کے میٹرز نصب کردیے جائیں گے،واسا

    رواں ماہ کے آخر تک لاہور میں پانی کے میٹرز نصب کردیے جائیں گے،واسا

    لاہور: واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) نے لاہور ہائیکورٹ کا آگاہ کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک لاہور میں پانی کے میٹرز نصب کردیے جائیں گے، صارفین جتنا پانی استعمال کریں گے اتنا ہی بل دیں گے۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کیلئے دائر درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا،عدالت نےفیصلےمیں لکھا ہے کہ واسا رپورٹ کے مطابق اس ماہ کے آخر تک پانی کے میٹرز نصب کردیے جائیں گے، صارفین جتنا پانی استعمال کریں گے اتنا پانی کا بل ادا کریں گے ، واسا رپورٹ کے مطابق جوہر ٹاؤن میں کیفیز کے خلاف ایکشن کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔

  • عوام کی انتھک خدمت ہماری سیاست کامحور ہے،جان محمد رمضان

    عوام کی انتھک خدمت ہماری سیاست کامحور ہے،جان محمد رمضان

    شہرلاہور کے صوبائی حلقہ پی پی146سے آزاداورزندہ ضمیر امیدوار جان محمدرمضان نے کہا ہے کہ عوام کی انتھک خدمت ہماری سیاست کامحور ہے۔کئی دہائیوں سے اپنے حلقہ کی عوام کے دکھ سکھ میں شریک رہا ہوں،میدان سیاست میں "ابابیل” کی آمد سے اس عہد کے ہرایک سیاسی ابلیس خوفزدہ ہونافطری ہے۔حکمران پارٹیوں کے نمائندوں نے ووٹرز کااستحصال کیا،ان میں سے کوئی کامیابی کے بعد حلقہ میں نہیں آیا۔پی پی146 کی مجموعی طورپر پسماندگی اورمحرومی اس حلقہ سے منتخب ہونیوالے سیاستدانوں کے بے رحم عوامی احتساب کی متقاضی ہے۔آج ابابیل کے نشان پراپنے اعتماد کی مہرثبت کرتے ہوئے ظلم کاہرنشان مسترد کردیں۔عوام شیر یاتیر نہیں تدبیر اور تعمیر کی سیاست کاساتھ دیں،میں عوام میں سے ایک ہوں اورہمارے درمیان کوئی دراڑ یانفاق پیدانہیں کرسکتا۔

    جان محمدرمضان نے مزید کہا کہ مجھے اپنے حلقہ انتخاب کے دیرینہ اورپیچیدہ مسائل کاادراک اورہمارے پاس راہ حل موجود ہے۔میں اپنے حلقہ کے شہریوں کی مشاورت سے اجتماعی رائے کی روشنی میں تعمیراتی منصوبوں کوپایہ تکمیل تک پہنچایاکروں گا۔انہوں نے کہا کہ میں کامیابی کے بعداپنے حلقہ انتخاب کے ووٹرز کے ساتھ انتخابی وعدوں کووفا کرنے کیلئے کوئی کسرنہیں چھوڑوں گا، ان شاء اللہ دن رات محنت کر کے عوام کو مایوسی اور محرومی کے گہرے کنویں سے باہر نکال دوں گا۔ انتخابی مہم کے دوران اہلیان پی پی 146کی طرف سے مجھے جو محبت اور پذیرائی ملی ہے میں اُسے فراموش نہیں کر سکتا۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے عزیز کو جتوانے کیلئے حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن کوشکایت موصول

    وزیراعلیٰ پنجاب کے عزیز کو جتوانے کیلئے حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن کوشکایت موصول

    پری پول دھاندلی کی پہلی شکایت الیکشن کمیشن کو موصول ہو گئی، امیدوار برائے حلقہ پی پی 31 گجرات مدثر رضا نے الیکشن کمیشن کو درخواست دے دی،

    درخواست گزار کا الزام لگایا کہ حلقے میں نگران وزیراعلی پنجاب کے قریبی عزیز شافع حسین کو جتوانے کے لیے حکومتی مشینری استعمال ہو رہی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں جعلی پوسٹل بیلٹ پیپرز تیار کر لیے گئے ہیں۔بیلٹ پیپرز پر ٹریکٹر کے نشان پر مہر لگا کر جعلی بیلٹ باکس میں بند کر کے تیار کر لیے گئے ہیں۔جعلی بیلٹ بکس کو اصلی بیلٹ باکس سے تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ سائل کے حلقہ میں امیدوار شافع حسین جو نگران وزیر اعلیٰ کے قریبی عزیز ہے اسی حکومتی آشیر باد بھی حاصل ، مذکورہ امیدوار الیکشن میں ناجائز اور غیر قانونی ووٹ پول کروانے کے لیے حکومتی مشینری اور ، ریٹرننگ آفیسر ، پریذائیڈنگ آفیسر اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہزاروں کی تعداد جعلی پوسٹل بیلٹ پیپرز ٹریکٹر کے نشان پر جعلی مہریں لگا کر جعلی بیلٹ باکس میں بند کرنے کے لیے تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیے ہیں، تاکہ مذکورہ امیدوار شافع حسین کو فائدہ پہنچانے کے لیے اصلی بیلٹ باکسز سے تبدیل کیے جا سکتے ہیں،

    درخواست گزار نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شافع حسین نے اپنے من پسند افسران کو اپنے حلقہ میں تعینات کروا رکھا ہے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار امیدوار پولیس کے سیکورٹی پلان کے تحت الیکشن والے دن سائل کے پولنگ ایجنٹ اور الیکشن ایجنٹ کو پولنگ سٹیشن پر نہیں آنے دیا جائے گا، جس سے نا صرف الیکشن کے عمل کی شفافیت متاثر ہو گی بلکہ الیکشن کے نتائج بھی سائل کے پولنگ ایجنٹوں اور الیکشن ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں نتائج تبدیل کر دئیے جائیں گئے۔

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • انتخابات 2024:  ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی،جائزہ رپورٹ

    انتخابات 2024: ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی،جائزہ رپورٹ

    لاہور: ایک سرکاری تنظیم کی جائزہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی-

    باغی ٹی وی : انگریزی اخبار دی نیوز سے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ سرکاری تنظیم نے پولیس ذرائع، ریونیو ڈپارٹمنٹ، مزدور یونینز اور مختلف شعبوں میں پیشہ ور افراد کے انٹرویوز کے ذریعے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر یہ تجزیہ پیش کیا ہے یہ جائزہ پولیس اسٹیشن اور یونین کونسل کی سطح پر کیا گیا ہے-

    دی نیاز کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ غلط اندازوں کے امکان کو دور کرنے کیلئے یہ سروے سائنسی انداز میں کیا گیا ہے، اگرچہ اب تک کیے گئے سروے میں ن لیگ کی مقبولیت کی شرح کے حوالے سے ایک پُرامید اندازہ لگایا گیا ہے کیونکہ نواز شریف کی واپسی کے بعد سے پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی نے یہ جائزہ پیش نہیں کیا کہ پارٹی کتنی نشستیں جیت سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے بھی نواز شریف کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا ہے لیکن کیا وہ سادہ اکثریت حاصل کر پائیں گے یا نہیں اس کا جواب نہیں ہے لیکن اس سرکاری جائزے کے مطابق ن لیگ کو 115 سے 132 کے درمیان قومی اسمبلی کی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو شامل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پارٹی کے پاس سادہ اکثریت کے ساتھ تنہا حکومت بنانے کا موقع ہوگا، جہاں تک صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا تعلق ہے، جائزے کے مطابق پنجاب اسمبلی میں انہیں 297 میں سے 190 کے قریب نشستیں مل سکتی ہیں یعنی ن لیگ کو صوبائی اسمبلی میں مکمل اکثریت مل سکتی ہے ن لیگ چند اضلاع کے علاوہ پنجاب میں کلین سوئپ کر سکتی ہے۔

    سرکاری اندازوں کے مطابق ن لیگ پنجاب میں ممکنہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ن لیگ مخلوط حکومتیں بنانے کامیاب ہوجائے گی جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف سندھ میں حکومت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کو 35 سے 40 کے نشستیں مل سکتی ہیں جبکہ تحریک انصاف کے آزاد امیدوار 23 سے 29 کے درمیان سیٹیں حاصل کر سکتے ہیں، ایم کیو ایم کو 12 سے 14 نشستیں مل سکتی ہیں، جے یو آئی قومی اسمبلی کی 6 سے 8 نشستیں، ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کو قومی اسمبلی میں دو سے تین نشستیں ملنے کی توقع ہے۔

  • تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آٹھ فروری، ملک بھر میں عام انتخابات، تاہم سب کی نظریں لاہور پر جمی ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، بلاول،علیم خان سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں، لاہور سے کون جیتے گا؟ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں.

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقے ہیں، سب امیدواروں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی، لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول زرداری سمیت سب نے جلسے کئے، ریلیز نکالیں، کارنر میٹنگز کیں،تا ہم اب کل آٹھ فروری کو ووٹر فیصلہ سنائیں گے کہ لاہور کس کا؟لاہور میں پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے، ریٹرنگ افسران نے پریزائڈنگ افسر کو سامان حوالے کیا ،پولنگ اسٹیشنز پر سامان پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں منتقل کردیا گیا ،لاہور میں مجموعی طور پر 4 ہزار 3 سو 54 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے، لاہور میں 1120 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے،حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 3110 بتائی گئی ہے،نارمل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 127 ہے۔

    این اے 130،نواز شریف بمقابلہ یاسمین راشد
    سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہاریں، اب یاسمین راشد نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، اور نواز شریف مقدمات سے بری ہو کر بھر پورمہم چلا چکے، نواز شریف نے مریم نواز کے ہمراہ این اے 130 کا دورہ کیا تھا،نواز شریف کی بھر پور مہم اور یاسمین راشد کا جیل میں ہونا،اسکے علاوہ یاسمین راشد کی مہم چلانے والوں کو روکے جانا، بھی دھاندلیوں میں شامل ہے،یاسمین راشد کو انتخابی نشان لیپ ٹا پ ملا ہے، جبکہ نواز شریف کا پارٹی نشان شیر ہے، این اے 130 سے نواز شریف جیت جائیں گے،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، جو پانچ سے چھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال احمد خان اور جماعت اسلامی کے صوفی خلیق احمد بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 130 سے کل 18 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 130لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 170، پی پی 173 اور پی پی 174 کے علاقے شامل ہیں۔این اے 130 لاہور میں انار کلی،سنت نگر،مزنگ،اسلام پورہ،گلشن راوی۔ساندہ۔ہال روڈ شامل ہیں، اس حلقے کی کل آبادی 8لاکھ 93ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 8ہزار ہے، جن میں‌سے مرد ووٹرز – 3لاکھ 23ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 85ہزار ہیں، اس حلقے میں کل پولنگ اسٹیشن – 376 بنائے گئے ہیں.

    این اے 127، بلاول زرداری بمقابلہ عطا تارڑ
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ کو دہرانے کیلئے این اے 127 لاہور سے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں،بلاول زرداری اس بار لاڑکانہ اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لیاری سے نہیں لڑ رہے اس حلقے میں ن لیگ کے عطا تارڑ امیداور ہیں، پی ٹی آئی کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اس حلقے سے امیدوار ہیں جن کا انتخابی نشان گھڑیال ہے،جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص،تحریک لبیک کے مطلوب احمد اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 127 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار خالد نیک ہیں، پیپلز پارٹی امیدوار بلاول کی اس حلقے میں مسلم لیگ ق، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء پاکستان ،جمعیت اہلحدیث نے حمایت کر رکھی ہے، اس حلقے میں پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیٹ جیت جائیں تا ہم ماضی میں اس حلقے سے ن لیگ جیتتی رہی ہے، اب اس حلقے میں بلاول اور عطا تارڑ کا مقابلہ ہے،اس حلقے کی کل آبادی 972,875 ہے، جہاں 519,150 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 274,000 جب کہ 245,000 خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ PP-157، 160، 161، اور صوبائی اسمبلی کے 162 حلقوں پر مشتمل ہے، ماڈل ٹاؤن، بہار کالونی، قینچی، چونگی امرسدھو جیسے علاقے بھی اس حلقے میں شامل ہیں،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 27ہزار ہے، جس میں مرد ووٹرز – 2لاکھ 73ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 54ہزار ہیں، این اے 127 میں کل پولنگ اسٹیشن – 337بنائے گئے ہیں.

    این اے 123 ، شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ
    این اے 123، سابق وزیراعظم شہباز شریف ن لیگ کی جانب سے اس حلقے میں امیدوار ہیں تو وہیں جماعت اسلامی کے امیر لیاقت بلوچ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں،تحریک انصاف کے افضال عظیم پاہٹ، پیپلز پارٹی کے محمد ضیاء الحق، جے یو آئی کے حیدر علی،تحریک لبیک کے امجد نعیم اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 123 لاہورمیں کماہاں روڈ۔بیدیاں روڈ،ڈیفنس ،گجو متہ شامل ہیں،کل آبادی – 8لاکھ 87ہزار 5سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 38ہزار 780ہے جن میں سے مرد ووٹرز – 1لاکھ 87ہزار 830،خواتین ووٹرز – 1لاکھ 50ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 222 بنائے گئے ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد سولہ ہے،این اے 123 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 157، پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 164 کے مختلف علاقے شامل ہیں۔

    این اے 119، مریم نواز بمقابلہ شہزاد فاروق
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف امیدوار ہیں، صنم جاوید پی ٹی آئی امیدوار مریم نواز سے مقابلے میں‌دستبردار ہو گئیں جس کے بعد پی ٹی آئی کے اب امیداور شہزاد فاروق ہیں،پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ، جماعت اسلامی کے ذولفقار علی ، جمعیت علماء اسلام کے راشد احمد خان اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 119 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقے پی پی 149, پی پی 150, پی پی 151، پی پی 152 اور پی پی 170 شامل ہیں۔حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 119 لاہورمیں گڑھی شاہو، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، باغبانپورہ شامل ہیں، حلقے کی کل آبادی – نو لاکھ تینتیس ہزار دو سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار 829 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 77ہزار 172جبکہ خواتین ووٹرز – 2لاکھ 43ہزار 657 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 338 بنائے گئے ہیں.حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی خواتین نے گھر گھر جا کر مریم نواز کی کامیابی کے لئے مہم چلائی ہے، قوی امکان ہے کہ مریم نواز سیٹ جیت جائیں گی.

    این اے 122، خواجہ سعد رفیق بمقابلہ لطیف کھوسہ
    این اے 122 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ آمنے سامنے ہیں۔این اے 122 سے مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں،جماعت اسلامی کی جانب سے اس حلقے میں ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد اکیس ہے،این اے 122 لاہور میں بھٹہ چوک ،ڈیفںس،بیدیاں روڈ ،آرے بازار۔کینٹ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 53ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 70ہزار 536 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 95ہزار اور خواتین ووٹرز- 2لاکھ 75ہزار 50 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 361بنائے گئے ہیں،این اے 122 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 155، پی پی 156 ، پی پی 157, پی پی 160 اور پی پی 170 کے مختلف علاقے شامل ہیں، 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑے تھے اور جیت گئے تھے تاہم عمران خان نے بعد ازاں یہ سیٹ چھوڑی، تو ضمنی انتخابات میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دیا جو خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہار گئے تھے.

    این اے 117، علیم خان بمقابلہ علی اعجاز
    این اے 117 پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی )کے امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ آزاد امیدوار علی اعجاز سے ہے، ن لیگ نے اس حلقے سے امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ علیم خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد، اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 117 میں کل امیدواروں کی تعداد 20 ہے،این اے 117 لاہورمیں شاہدرہ،بادامی باغ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ دو ہزار پانچ سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 82ہزار،خواتین ووٹرز – دو لاکھ 38ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 329بنائے گئے ہیں.این اے 117 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 145، پی پی 146 اور پی پی 147 شامل ہیں

    حلقہ این اے 120 پر مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق انتخابی میدان میں اترے ہیں، ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار عثمان حمزہ کامیابی کیلئے زور لگائیں گے۔

    این اے 128، عون چودھری بمقابلہ سلمان اکرم راجہ
    این اے 128پر استحکام پارٹی کے امیدوار عون چودھری کو آزاد امیدوار سلمان ا کرم راجا کا سامنا ہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی ہے،پیپلز پارٹی کے عدیل غلام محی الدین ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،جے یو آئی کے غضنفر عزیز اس حلقے سے امیدوار ہیں، اس حلقے سے کل 22 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 128 لاہور میں گلبرگ،ماڈل ٹاون۔فیروز پور روڈ۔گارڈن ٹاون،علامہ اقبال ٹاون،فیصل ٹاون۔گلاب دیوی ہسپتال شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 52ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 78ہزار ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 48ہزار ہیں،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 30ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 433بنائے گئے ہیں،این اے 128 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 156، پی پی 161، پی پی 169، پی پی 170 اور پی پی 171 کے مختلف علاقے شامل ہیں.

    این اے 126 سیف الملوک کھوکر،بمقابلہ ملک توقیر کھوکھر
    این اے 126 لاہور سے ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے ملک توقیر کھوکھر، پیپلز پارٹی کے امجد علی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم، مرکزی مسلم لیگ کے عمران لیاقت،تحریک لبیک کے محمد احمد مجید امیدوار ہیں، اس حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد – 19 ہے،این اے 126 لاہور میں شادیوال ۔جوہر ٹاون۔جوڈیشل کالونی۔ایکسپو سنٹر،واپڈا ٹاون۔ویلنشیا شامل ہیں،کل آبادی 9لاکھ 78ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 50ہزار ہے جس میں مرد ووٹرز – 1لاکھ 78ہزار جبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 71ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 223بنائے گئے ہیں.این اے 126 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 162، پی پی 164، پی پی 167 اور پی پی 168 کے مختلف علاقے شامل ہیں

    این اے 125، 19 امیدوار میدان میں
    این اے 125 لاہور سے مسلم لیگ ن کے محمد افضل کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے جاوید عمر، پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالغفور میو، جے یو آئی کے نظام دین، تحریک لبیک کے خرم شہزاد، جماعت اسلامی کے ذبیح اللہ بلگن امیدوار ہیں،اس حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 125 میں ضمیر ٹاون، مانگہ منڈی، موہلنوال۔رائیونڈ روڈ، بھوبتیاں شامل ہیں،اس حلقے کی کل آبادی – 9لاکھ ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 40ہزار 6سو ہے ، مرد ووٹرز – 1لاکھ 86ہزار 2سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 54ہزار 4سو ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 214بنائے گئے ہیں.این اے 125 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 164، پی پی 165 ، پی پی 166 کے علاقے شامل ہیں۔

    این اے 124 سے 13 امیدوار میدان میں
    این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے رانا مبشر اقبال،تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ ضمیر، تحریک لبیک کے عرفان بھٹی، مرکزی مسلم لیگ کے محمد امین ، جماعت اسلامی کے محمد جاوید امیدوار ہیں، اس حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد 13 ہے،این اے 124 لاہور میں ہلوکی۔سادھوکی۔ویلنشیا ،پاک عرب سوسائٹی،باگڑیاں۔ چونگی امر سدھو شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 78ہزار 8سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 10ہزار 116 ہے،مرد ووٹرز – 1لاکھ 69ہزار 6سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 40ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 198 بنائے گئے ہیں،این اے 124 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 ، پی پی 163، پی پی 164 اور پی پی 165 کے مختلف علاقے شامل ہیں،

    این اے 121 لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر،پی ٹی آئی کے وسیم قادر، پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد، جماعت اسلامی کے عامر صدیقی، ایم کیو ایم کے عمران اشرف امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 15 ہے،این اے 121 لاہورمیں ہربنس پورہ۔سلامت پورہ۔تاج پورہ۔داروغہ والا۔فتح گڑھ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 2ہزار 6سو ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 4لاکھ 67ہزارہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 47ہزار 571،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 19ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 299بنائے گئے ہیں،این اے 121 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 149، پی پی 152، پی پی 153 اور پی پی 154 شامل ہیں۔

    این اے 118، حمزہ شہباز بمقابلہ عالیہ حمزہ
    این اے 118 لاہور ن لیگ کے حمزہ شہباز ، پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ، پیپلز پارٹی کے شاہد عباس، جے یو آئی کے محمد افضل، تحریک لبیک کے عابد حسین،جماعت اسلامی کے محمد شوکت امیدوار ہیں، اس حلقے سے 13 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 118 لاہورمیں بادامی باغ، شاد باغ، دلی دروازہ۔ شیرانوالہ گیٹ۔ مستی گیٹ ، موچی گیٹ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 7لاکھ 35ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 94ہزار ہے،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 41ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 463بنائے گئے ہیں،این اے 118 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 147 پی پی 148 اور پی پی 149 شامل ہیں۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جماعت اسلامی، جے یو آئی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک لبیک کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی، پیپلز پارٹی این اے 127 والی واحد سیٹ جیت سکتی ہے، ن لیگ لاہور سے اکثر سیٹیں جیتے گی، آزاد امیدوار ن لیگ کا مقابلہ کریں گے.