مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آج چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان ہے۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف ظہور الہٰی روڈ پر چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ آئیں گے۔نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات دوپہر 2 بجےمتوقع ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف چوہدری شجاعت سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے تعاون کی درخواست کریں گے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چار رکنی وفد کی ملاقات جاری ہے،
اسکے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے درمیان بھی آج ملاقات ہو گی جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سے گزشتہ روز ملاقات کی تھی اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
Category: لاہور
-

سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں
-

پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کر دیا
ن لیگ کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کر دیا۔دی نیوز کے مطابق کو نواز لیگ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے سابق وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جمعہ کی رات کو ملاقات کی اور مستقبل میں اتحادی حکومت بنانے پر گفتگو کی۔ہفتہ کو پارٹی ذرائع نے نواز لیگ کے رہنماؤں سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا۔ اس حوالے سے نواز لیگ کی قیادت نے ہفتہ کو ایک اجلاس بھی منعقد کیا جس کی صدارت شہباز شریف نے کی تھی۔اس اجلاس میں سینیٹر اسحٰق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ، خواجہ عمران نذیر اور دیگر نے شرکت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ارکان کو بتایا کہ سابق صدر آصف زرداری نے بات کا آغاز ہی بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے اور مرکزی وزارتی پورٹ فولیوز دینے کے مطالبے سے کیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو مزید بتایا کہ اس کے بدلے میں آصف علی زرداری نے نواز لیگ کو پنجاب میں حکومت سازی کے لیے حمایت دینے کی پیشکش کی۔ نواز لیگ کے صدر نے حکومت سازی کے متعدد آپشنز پر بھی گفتگو کی۔یہ بھی زیر غور آیا کہ اگرچہ نواز لیگ ملک میں ’سب سے بڑی‘ سیاسی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی ہے لیکن یہ اب بھی اپنے تئیں حکومت نہیں بنا سکتی اور اسے دیگر پارٹیوں یا آزاد ارکان کی ضرورت ہوگی۔ -

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری
عام انتخابات 2024ء میں کامیاب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 8 آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ عام انتخابات کے نتائج کے بعد آزاد امیدواروں نے باقاعدہ طور پر سیاسی پارٹیوں میں شمولیت شروع کر دی ہے، این اے 48 سے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز، این اے 54 سے آزاد امیدوار بیرسٹر عقیل ملک اور این اے 146 سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار پیر ظہور حسین قریشی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔ دوسری جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 189 سے آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری، این اے 253 سے آزاد امیدوار بیرسٹر میاں خان بگٹی اور پنجاب کے حلقہ پی پی 48 سے آزاد امیدوار خرم ورک، حلقہ پی پی 49 سے آزاد امیدوار رانا محمد فیاض نے اور پی پی 240 سے آزاد امیدوار محمد سہیل نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔
صوبائی اسمبلی حلقہ PP-240 سے کامیاب آزاد امیدوار محمد سہیل کا باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان۔
صوبائی اسمبلی حلقہ PP-240 سے کامیاب آزاد امیدوار محمد سہیل کا باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان۔#ElectionResult pic.twitter.com/fPXh0B23rg
— PMLN (@pmln_org) February 10, 2024
اسلام آباد کے حلقہ این اے 48 سے جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے قومی اسمبلی کے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں (ن) لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کا مشترکہ امیدوار تھا اب باقاعدہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گیا ہوں اور نئی حکومت کا حصہ ہوں گا، میں اپنے ووٹرز کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہوں انہوں عزم کا اظہار کیا ہے۔
https://twitter.com/pmln_org/status/175644742099133255حلقہ این اے 189 سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دوستوں سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، ہم ریاست کے وفادار ہیں اور اُسی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
قومی اسمبلی حلقہ NA-189 سے کامیاب آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری کا باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان۔#ElectionResults pic.twitter.com/7NEzQn25dl
— PMLN (@pmln_org) February 10, 2024
پسرور پی پی 49 کے کامیاب امیدوار رانا محمد فیاض نے کہا ہے کہ اپنے حلقے کی عوام سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت سے آج ملاقات کروں گا۔
Tweets by pmln_org -

پی ایم ایل این اور ایم کیوایم کی ملاقات میں کیا طے پایا؟
سیاسی بیٹھک میں نئی حکومت سازی ، آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم قائدین میں سیاسی تعاون پر اتفاق کیا گیا .ترجمان مسلم لیگ ن کے ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور ایم کیوایم قیادت کے درمیان مل کر چلنے پر اصولی اتفاق ہوگیا ،اور ملک اور قوم کے مفاد کے لئے مل کر چلا جائے گا، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم میں بنیادی نکات طے پاگئے ،مریم اورعنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے محمد نوازشریف اور ایم کیوایم کی طرف سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی قیادت کی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، مریم نواز ، اسحاق ڈار ، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، رانا مشہود بھی ملاقات میں شریک تھے ایم کیوایم وفد میں گورنر سندھ کامران ٹسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال شامل تھے دونوں جماعتوں کے قائدین میں مشاورت کا سلسلہ تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہا ملاقات میں صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور تجاویز کا تبادلہ ہوا اور راہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال اور اب تک ہونے والے رابطوں کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا .قبل ازیں رائیونڈ آمد پر مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، صدر شہباز شریف نے پارٹی رہنماوں کے ہمراہ ایم کیو ایم قائدین کا استقبال کیا ،
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم قائدین میں سیاسی تعاون پر اتفاق
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور ایم کیوایم قیادت کے درمیان مل کر چلنے پر اصولی اتفاق ہوگیا
ملک اور قوم کے مفاد کے لئے مل کر چلا جائے گا، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم میں بنیادی نکات طے پاگئے… pic.twitter.com/j8WYga15Ne
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) February 11, 2024
-

نوازشریف کی دعوت پر ایم کیوایم پاکستان کا وفد لاہور پہنچ گیا
لاہور: مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف کی اتحادی حکومت بنانے کی دعوت پر ایم کیوایم پاکستان کا وفد لاہور پہنچ گیا۔
باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد میں گورنرسندھ کامران ٹیسوری، خالد مقبول صدیقی ،مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار شامل ہیں، ملاقات میں سیاسی حکمت عملی پر بات چیت ہوگی، شہباز شریف متحدہ وفد سے وفاق میں مشترکہ حکومت سازی کیلئے تعاون کی درخواست کریں گے۔
گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملک کیلئے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی،انہوں نے کہا کہ ہم سب پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، چاہے وہ پارٹی ہے یا آزاد لوگ ہیں، ان کو بھی دعوت دیتے ہیں زخمی پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو، ہمارا ایجنڈا صرف اور صرف خوشحال پاکستان ہے۔
نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان
اس وقت ملک کو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے،حسن روؤف
وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلےکے جھٹکے
-

حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہوگا،شہباز شریف
لاہور: پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہوگا۔
باغی ٹی وی :میاں محمد شہباز شریف نے حکومت سازی کے حوالے سے بلائے گئے اہم پارٹی اجلاس میں قائد محمد نواز شریف کی ہدایت پر مختلف جماعتوں سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا، اجلاس میں حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر مشاورت کی گئی۔
دوران اجلاس پارٹی رہنماؤں نے 8 فروری کے انتخابات میں کامیابی پر پارٹی صدر کو مبارک باد دی شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور عوام کی حمایت سے مسلم لیگ (ن) عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہوگا، لیگی رہنما نے مزید کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہوگا۔
مجلس وحدت المسلمین کی عمران خان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان
اجلاس میں اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ اور خواجہ عمران نزیر شریک تھے۔
این اے 48 سے جیتنے کے بعد راجہ خرم شہزادنواز ن لیگ میں …
انتخابات 2024: ایسے لوگوں کو جتوا یا گیا جن کا حلقے میں نام تک نہیں …
-

بھارتی میڈیا کا نواز شریف کی حکومت سازی کے حوالے سے بڑا دعویٰ
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف حکومت سازی کے لیے دو منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
باغی ٹی وی : انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار 100 نشستیں لے کر سب سے آگےہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے73 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17، مسلم لیگ (ق) تین، استحکام پاکستان پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام دو دو نشستیں اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی ہے۔
نواز شریف نے ایک بار پھر پاکستان میں مخلوط حکومت بنانے کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور شہباز شریف کو اتحادیوں سے رابطوں کا ٹاسک سونپا ہے اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف حکومت سازی کے لیے دو منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پلان اے تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اورع دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی جائے، حکومت سازی کیلئے جادوئی اکثریتی تعداد اکٹھی کرنے کے لیے ن لیگ دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کر رہی ہےپلان بی کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف پی ٹی آئی حمایت یافتہ 60 آزاد ارکان اسمبلی سے رابطے میں ہیں نواز شریف اور ان کی صاحبزا د ی مریم نواز ان ارکان اسمبلی کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
-

نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان
لاہور: نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان تھا تاہم دونوں رہنماؤں کی ملاقات ملتوی ہو گئی-
باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ آج جاتی امرا میں ہونے والی ملاقات میں آصف زرداری کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری ہوں گے، جب کہ ن لیگ کی جانب سے مریم نواز، شہباز شریف اور اسحاق ڈار موجود ہوں گے، ملاقات میں حکومت سازی کے لیے بات چیت کی جائے گی، دونوں جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے وزیراعظم کا نام دئیے جانے کا بھی امکان ہے، سربراہان فیصلہ کریں گے کہ کس جماعت کا صدر اور کس جماعت کا وزیراعظم ہوگا۔
آصف زرداری اور بلاول اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں جو جلد لاہور روانہ ہوں گے، توقع ہے کہ ملاقات آج ہی ہوگی، ملاقات کے لیے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی سرگرم ہیں،اگر دونوں جماعتیں متفق نہیں ہوئیں تو آزاد امیدوار اپنی حکومت بنالیں گےجس کےخلاف لائحہ عمل طےکرنے کے لیے ہی آج دونوں جماعتیں جمع ہوں گی، اطلاعات ہیں کہ گزشتہ بات چیت کے حوالے سے اسحاق ڈار نواز شریف کو بریفنگ دے چکے ہیں اور یہ باتیں میڈیا پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے درمیان اندرونی ملاقات کی کہانی …
تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سے آج نواز شریف کی ملاقات کا امکان نہیں ہے،آج آصف علی زرداری اسلام آباد جائیں گے، دونوں رہنماؤں کے درمیان کل ملاقات ہونے کا امکان ہے،کل دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی، دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومت سازی کے معاملات پر بھی مشاورت ہو گی۔
قومی اسمبلی کی نشستوں پرکامیاب سات آزاد امیدواروں کا پیپلز پارٹی سے رابطہ
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین حکومت سازی کے لئے سرگرم ہیں، اس حوالے سے پارٹی کے مرکزی صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پراہم ملاقاتیں ہونے جا رہی ہیں ایم کیوایم کا وفد شہباز شریف سے ملاقات کیلئے لاہور روانہ ہوگیا ہے،شہباز شریف کی رہائش گاہ پر سردار ایاز صادق، اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، طلحہ برکی، مریم اورنگزیب اورعطاء اللہ تارڑ موجود ہیں۔
شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اسحاق ڈار آزاد امیدواروں سے کئے گئے رابطوں بارے بریفنگ دیں گے، اعظم نذیر تارڑ آزاد امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت کے متعلق قانونی امور پر بریفنگ دیں گے، دوسری جانب لاہور جانے والے ایم کیوایم کے وفد میں خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری شامل ہیں ایم کیو ایم اور ن لیگ کی ملاقات میں سیاسی حکمت عملی پر غور ہوگا۔
ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانونی جنگ لڑیں گے،حافظ نعیم الرحمان
-

آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے درمیان اندرونی ملاقات کی کہانی سامنے آ گئی
لاہور: سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
باغی ٹی وی : گزشتہ روز لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی ملاقات ہوئی تھی،ذرائع کےمطابق شہباز شریف نےآصف زرداری سےملاقات میں قائد ن لیگ نواز شریف کا پیغام پہنچایا، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں حکومت سازی پر تبادلہ خیال ہوا، جماعتوں کا مل کر ساتھ چلنے اور حکومت سازی کے لیے رابطہ اور ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ اب ہمیں حکومت سازی کے لیے معاملات کو طے کرنا چاہیے، جمہوریت میں استحکام کے لیے مل کر فارمولا طے کرنا ہو گا، شہباز شریف سے ملاقات میں آصف زرداری نے کہا کہ ہم اپنی جماعت سےمشاورت کرتے ہیں اور آپ بھی کرلیں، شہبازشریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانونی جنگ لڑیں گے،حافظ نعیم الرحمان
قومی اسمبلی کی نشستوں پرکامیاب سات آزاد امیدواروں کا پیپلز پارٹی سے رابطہ
انتخابات جیتنے والاپہلا آزاد امیدوار مسلم لیگ ن میں شامل
-

میں اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی فیصلے کااعلان کرسکوں،بلاول بھٹو
لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ وفاق،بلوچستان اورپنجاب میں پیپلزپارٹی کےبغیرحکومت نہیں بن سکتی۔
باغی ٹی وی : بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں، پہلے مکمل نتائج سامنے آجائیں اس کے بعد سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلاکر مل کر اتفاق رائےسےفیصلہ کریں گے،میں اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی فیصلے کااعلان کرسکوں،جوہونا تھا وہ ہوچکا، ملک کےمفاد میں ہےکہ سیاسی طورپر اتفاق پیداکرنے کی کوشش کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اکیلے تو حکومت نہیں بناسکوں گا مگر وفاق،بلوچستان اورپنجاب میں پیپلزپارٹی کے بغیرحکومت نہیں بن سکتی، انہوں نے کہا کہ آزاد امیدوار کیا فیصلے کرتے ہیں،اس پر بھی عوام کی نظر ہے سیاسی عدم استحکام کو حل کیے بغیر بننے والی حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے میں مشکل ہوگی، ہم نےاسپتال،اسکول پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کےتحت قائم کیے، میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پریقین رکھتاہوں۔