Baaghi TV

Category: لاہور

  • ڈرون کے ذریعے منشیات بھارت سپلائی کرنیوالا گروہ بے نقاب

    ڈرون کے ذریعے منشیات بھارت سپلائی کرنیوالا گروہ بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈرون کے ذریعے منشیات سپلائی کے مسلسل واقعات سامنے آ رہے تھے جس کے بعد اداروں نے کاروائی کی اور ڈرون کے ذریعے منشیات کی سپلائی کرنے والے گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے،

    ڈرون کے ذریعے منشیات کی سپلائی کرنیوالے گروہ میں پولیس اہلکار بھی ملوث ہے جس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اے این ایف نے ٹھوس شواہد پر مقدمہ درج کیا ہے، ڈی سی آفس کی نظارت برانچ میں تعینات پولیس اہلکار شرافت کو ڈرون کے ذریعے منشیات سمگنگ کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، ڈرون کے ذریعے ہیروئن بھارت سمگل کی جاتی تھی، اے این ایف نے کاروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں چھاپہ مارا اور ہیروئن برآمد کر لی، ہیروئن سمگلنگ کیلئے استعمال ہونے والا ڈرون بھی قبضہ میں لے لیا گیا ،ملوث ملزمان کارروائی کے دوران فرار ہو گئے ہیں.

    واضح رہے کہ لاہور میں ڈرون سے منشیات سپلائی کے ایک ماہ میں کم از کم تین واقعات رپورٹ ہو چکے تھے.

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    دوسری جانب بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ڈرونز سرحد پار پاکستان جاتے ہیں اور وہاں سے منشیات اور دیگر چیزیں لے کر واپس آتے ہیں انہوں نے منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ڈرونز کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے

  • لاہور: نیب کے دو جعلی افسران گرفتار، ملزمان کے قبضہ سے حساس اداروں کے جعلی کاغذات برآمد

    لاہور: نیب کے دو جعلی افسران گرفتار، ملزمان کے قبضہ سے حساس اداروں کے جعلی کاغذات برآمد

    لاہور: نیب لاہور نے شہریوں کو دھوکہ دینے والے جعلی نیب افسران بلاول ہارون اور اکمل کو گرفتار کر لیا-

    باغی ٹی وی: نیب ترجمان کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے حساس اداروں کے جعلی کاغذات، جعلی اسٹمپ، لیٹر پیڈ، سرکاری افسران کے جعلی وزیٹنگ کارڈز،سروس کارڈ، شناختی کارڈز ، جعلی تصاویراور متاثرین سے لوٹا گیا کیش برآمد ہوا ہے گرفتار ہونے والے ملزمان سادہ لوح افراد کو کام نکلوانے کا جھانسہ دے کر خطیر رقوم بھی بٹورتے رہے اور بعد ازاں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

    دریائے سندھ کی نایاب ڈولفن کو نامعلوم دیہاتیوں نے گولی مار دی

    Lahore
    ترجمان کے مطابق ڈی جی نیب لاہورامجد مجید اولکھ نےحالیہ کھلی کچہری میں ملزمان کیخلاف شکایت موصول ہونے پر فوری گرفتاری کا ٹاسک دیا، ملزمان ایک گروہ کی مانند عوام کے سامنے خود کو حساس ادارے کا افسر ظاہر کرکے لاکھوں روپے وصول کرچکے تھے-

    ترجمان کے مطابق چیئرمین نیب لیفٹینٹ جنرل (ر) نزیر احمد کی جانب سے واضع ہدایات ہیں کہ کرپشن کیسز کی تحقیقات میں صرف کال اپ نوٹسز کے ذریعے ہی ملزمان و متاثرین سے رابطہ کیا جائےعوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں نیب لاہور انٹیلی جنس ونگ یا ترجمان آفس و ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، نیب کیجانب سے تاحال 13 ایسے ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے جنہیں ضروری تحقیقات کے بعد پولیس کے حوالہ کردیا گیا-

    لون ایپ کے ذریعے فراڈ کرنیوالا غیرملکی باشندہ گرفتار

  • مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقرر کر دیا۔ ن لیگی رہنما نے نومنتخب کوآرڈی نیٹرز میں نوٹیفکیشن بھی تقسیم کردیئے۔

    باغی ٹی وی: ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر حقیقی قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن اس حقیقت سے نہ صرف با خوبی آگاہ ہے بلکہ اس جماعت نے خواتین کو باختیار بنانے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں منظم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ ضلعی سطح پر خواتین کوارڈینیٹرز کی تقرری بھی پارٹی کی جمہوری ویژن کا عکاس ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائز اورسینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ نون ملک کی حقیقی جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے قائد میاں نواز شریف کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے خواتین کی قومی دھارے میں شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    ضلعی کوارڈینیٹر خواتین نے کہا کہ سیاسی افق پر ن لیگ کی خواتین سیاسی رہنما جس آب و تاب سے چمک رہی ہیں یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج مسلم لیگ ن نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پارٹی کی کوارڈینیٹر مقرر کر کے سیاست میں خواتین کی اہمیت پر مہر ثبت کر دی ہے۔ خواتین کوارڈینٹرز کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح پرکوارڈینیٹر مقرر کرنے سے اضلاع میں خواتین کو فعال کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں مددملے گی۔ تقریب کے اختتام پر مریم نواز 36 اضلاع سےمنتخب ہونے والی کوارڈنیٹرز میں تعیناتی کے نوٹیفیکیشن تقسیم کیے-

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

  • جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو اپنے قافلے میں شامل کر لیا۔

    باغی ٹی وی: استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین سے میاں عثمان رشید اور چوہدری سجاد مہیس سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور پارٹی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا،اس موقع پر مراد راس ، نعمان لنگڑیال، رانا نذیر اور عون چودھری اور پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے جہانگیر ترین نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر استحکام پاکستان کیلئے کام کریں گے۔

    واضح رہے کہ نکلئی برادران نے جہانگیر ترین اعتماد کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

  • فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    بزدار دور حکومت میں سب سے زیادہ کرپٹ بیوروکریٹس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی پنجاب میں دور حکومت کے دوران فرح گوگی اور بزدار کے لیے کام کرنیوالے کرپٹ ترین بیوروکریٹس کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی، عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب گئے تو فرح گوگی کے ذریعے بشری بی بی نے کمائی کی ۔بیورو کریٹ اور پولیس افسران پی ٹی آئی حکومت کے دوران نہ صرف وفاداریاں نبھاتے رہے بلکہ کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے

    ڈاکٹر راحیل صدیق، وزیراعلیٰ کےپرنسپل سیکرٹری (کنکشن- بزدار، فرح خان، جنوبی پنجاب گرڈ، اور شہباز شریف حکومت کے خلاف مخبر)۔ اس نےٹرانسفر پوسٹنگ میں رشوت لینا شروع کی جب اس نےپہلے طارق بخاری پی ایم ایس سےبھاری رقم لی اور دسمبر 2018 میں اسے بطور ڈی سی شیخوپورہ تعینات کیا۔ اس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بھاری رشوت کی وصولی کے بعد لاہور میں شراب کا لائسنس جاری کروانے میں وہ بنیادی کردار تھا اور جہاں ڈی پی او ساہیوال تیمور بزدار نے فرح خان اور بزدار سے حصہ لیا۔ نیب نے ابتدائی طور پر کیس اٹھایا جس میں بزدار اور راحیل صدیق نے اس وقت کے ڈی جی ایکسائز مسٹر گوندل کو قربانی کا بکرا بنایا-

    ڈاکٹر شعیب اکبر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری – (بزدار، فرح خان اور جنوبی پنجاب گرڈ)۔ راحیل صدیق کے جانے کے بعد ڈاکٹر شعیب نے اپنے آقاؤں یعنی بزدار اور فرح خان کی حمایت حاصل کی اور کرپشن میں ملوث ہونے کے نئے طریقے تجویز کئے لاہور رنگ روڈ اراضی اسکینڈل (بحریہ ٹاؤن لاہور شہرت) میں ان کے اور آصف بلال لودھی کےملوث ہونےکی شکایات پر انہیں وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

    طاہر خورشید ، سابق کمشنر ڈی جی خان، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری۔ (کنکشن – بزدار اور ان کا خاندان، فرح خان، احسن گجر، خاور مانیکا، موسٰی مانیکا)۔ اس نے بدعنوانی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور اے سی سےکمشنر اور سیکرٹریز تک کی پوسٹنگ/ ٹرانسفرز اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں پیسے بٹورے اور انہیں بزدار، ان کے بھائیوں، فرح خان اور مانیکاس کے ساتھ شیئر کیا۔

    اس کی منی مائٹنگ اور بدعنوان طریقوں میں مندرجہ ذیل لوگوں کی مدد کی گئی جنہوں نے براہ راست افسران، پراجیکٹس وغیرہ سے پیسے بٹورنے کے لیے مافیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا اور بزدار، فرح، ٹی کے گروپ (عامر جان سیکرٹری انرجی، دی) کی جانب سے پیسہ اکٹھا کرنے والوں کا کردار ادا کیا۔ ان میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت میں کرپٹ ترین افسر، کیپٹن اسد اللہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، نور مینگل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آصف اقبال لودھی کمشنر لاہور، شہریار سلطان سیکرٹری فوڈ/سروسز، صائمہ سعید سیکرٹری سروسز، مبشر ماکن پی ایس او بزدار، حیدر علی پی ایس او وزیراعلیٰ۔ کیپٹن اعجاز پی ایس او کو وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، طاہر فاروق ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، محمد اختر پی ایس او وزیراعلیٰ، احمد رضا سرور سیکرٹری کوآپریٹوز، نعیم بخاری سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، کیپٹن عثمان یونس سیکرٹری صحت، نبیل اعوان سیکرٹری صحت موسیٰ رضا پولیٹیکل اسسٹنٹ ڈی جی خان/ڈی سی بھکر/مظفر گڑھ۔مہتاب وسیم ڈی سی منڈی بہاؤالدین/ڈی سی رحیم یار خان۔خواجہ سہیل ڈی جی ایف ڈی اے/ڈی سی گوجرانوالہ۔دانش افضل ڈی سی لاہور/ڈی سی گوجرانوالہ۔ عامر کریم پی ایس او بزدار اور ڈی سی ملتان۔ مدثر ریاض ملک/ کمشنر ڈی جی خان، ڈی سی لاہور/ ڈی جی سوشل ویلفیئر۔ صالحہ سعید سابق ڈی سی لاہور، ڈی جی ایکسائز اور سپیشل سیکرٹری صحت کرپٹ ترین خاتون رہیں جنہیں قریبی رشتہ دار عائشہ حمید اور عثمان معظم کی مدد ملی، جو فرح خان اور بزدار کے ماتحت کرپٹ گروہ کے دو ارکان ہیں۔

    بابر حیات نے پٹواری نظام کو بحال کرنے اور ایس ایس حکومت کے ڈیجیٹل اقدامات کو ختم کرنے کے لیے رقوم اکٹھی کیں اور پٹواریوں کی بھرتی میں بھاری رقوم اکٹھی کیں۔ احمد عزیز تارڑ ڈی جی ایل ڈی اے، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ جنہوں نے ایل ڈی اے کو اس کرپٹ مافیا کے لیے فروخت کر رکھا تھا۔ سارہ اسلم سابق سیکرٹری تعلیم۔ ارم بخاری سابق سیکرٹری توانائی، سیکرٹری تعلیم اور ٹی کے کے بیچ میٹ۔ (اس گروہ نے پنجاب کے پورے انتظامی سیٹ اپ کو غلام بنا لیا اور یہاں تک کہ اے سی اور اے ڈی سی آر کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کو بھی نہیں بخشا گیا ان سے پیسے بٹورے گئے۔

    ٹی کے گروپ کے اہم ممبران میں طاہر خورشید گروپ دوسرے امیر جان، شہریار سلطان، کیپٹن عثمان یونس تھے۔ ، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل، احمد رضا سرور وغیرہ گروپ بعد میں حامد ش، افتخار سہو، ثاقب ظفر، ظفر اقبال کی شمولیت کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔ کمشنر بہاولپور، جاوید بخاری، ڈاکٹر فرح، دانش افضال، بابر تارڑ، علی مرے کرپٹ زنجیر کا حصہ تھے جن کی سرپرستی بزدار، راجہ بشارت، آصف نقی، ہاشم ڈوگر کیپٹن اسد سی اینڈ ڈبلیو کے سڑے ہوئے انڈے تھے، ان تمام کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا گیاپنکی، فرح، بزدار اور پنکی، مانیکاس اور گجر کے لیے مالیاتی خدمات کے لیے باری باری وزیر اعلیٰ آفس کی سرپرستی کی۔

    شیریار سلطان ( بشریٰ پنکی، فرح خان اور ٹی کے) گدی نشین ہونے کی وجہ سے اس کے بشریٰ بی بی اورعمران خان سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ مبینہ طور پر وہ بشریٰ بی بی کا جاسوس تھا اورعمران خان کو ایس ایس فیملی کے بارے میں معلومات بھی دیتا تھا۔ وہ فوڈ سکینڈل میں ملوث تھے اور انہوں نے بطور سیکرٹری فوڈ اور اس سے قبل ڈائریکٹر فوڈ کے طور پر بھاری رقوم حاصل کیں۔ انہوں نے سیکرٹری کوآپریٹو کے طور پر بھی کام کیا اور TK کے ٹول کے طور پر اپنے، خاندان کے افراد، بشریٰ پنکی، فرح خان اور بزدار کے لیے مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز میں تقریباً 40 پلاٹوں کا انتظام کیا یہ ایک کرپٹ آدمی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

    جاوید اختر محمود، سابق کمشنر ملتان ( بزدار، ٹی کے اور فرح خان ) انہوں نے بزدار فیملی اور ٹی کے کو سنبھالا اور کمشنر ملتان کی حیثیت سے انہیں ماہانہ بھاری رقم ادا کی۔

    6. *نور مینگل، سابق ڈی سی لیہ، ساہیوال* (بزدار، فرح خان اور ٹی کے)۔ انہوں نے بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے ادا کئے۔ اس نے روپے کمائے۔ دونوں سلاٹسں سے 30 کروڑ۔ اس نے ابتدائی طور پر پنجاب میں اترنے کے لیے بلوچی گرڈ کا استعمال کیا اور پھر فرح خان اور ٹی کے کو بھاری رقوم دے کر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی پوسٹنگ اور پھر کمشنر پنڈی کی حیثیت سے ٹی کے/ فرح خان چین کا حصہ بن گئے۔

    7. ذیشان جاوید بزدار۔ ( عثمان بزدار، عمر بزدار) انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر ڈی سی سیالکوٹ لگایا گیذ انہوں نے گزشتہ سال سیالکوٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ وہ بزدار کا فرنٹ مین تھا اور اس کے لیے پیسے جمع کرتا تھا۔

    8. بابر بشیر۔ (کنکشن – عثمان بزدار اور عمر بزدار) اس نے روپے ادا کئے۔ بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے دیئے دونوں سلاٹس سے 30 کروڑ روپے بٹورے-

    9. امیر عقیق۔ (کنکشن – فرح خان گروپ) کو فرح گروپ کو بھاری رشوت دینے کے بعد ڈی سی اوکاڑہ اور پھر ڈی سی پنڈی تعینات کیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں ان کے خلاف اے سی ای پنجاب نے مقدمہ درج کیا تھا۔

    ڈاکٹر ذیشان ڈی ایس ٹو سی ایم۔ وزیراعلیٰ سابق اے ڈی سی آر ٹوبہ ٹیک سنگھ امیر جان سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ کے فرنٹ مین تھے جنہوں نے پیسے اور آئی فون لے کر کئی افسران کی پوسٹنگ کا انتظام کیا۔ اس نے رشوت لے کر کئی اے ڈی سی آرز کی تعیناتی کی۔

    رانا عبدالشکور۔ رجسٹرار کوآپریٹوز پنجاب۔ (رابطے – بزدار، فرح خان، راجہ بشارت اور مونس الٰہی)۔ راجہ بشارت اور مونس الٰہی کی حمایت سے شکور نے ایک میڈیا ٹائیکون اور راجہ بشارت منسٹر کوآپریٹو کی ایجنسی کے ذریعے فرح خان کے ساتھ معاہدہ کیا اور رجسٹرار کوآپریٹوز کے طور پر ان کی تعیناتی کے لیے 5 کروڑ ادا کیے۔ اس نے اپنے پیشرو رجسٹرار کوآپریٹوز کو معزول کر دیا جو پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر تعینات تھے اور فرح خان کی سربراہی میں اس گروپ کے پلاٹوں کے غیر قانونی مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    منظور ناصر، ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن-بزدار، فرح خان، بزدار برادران، فیاض چوہان، راجہ جہانگیر انور)۔ وہ پیسے اور مشہوری کی خاطر اپنی ماں کو بیچنے کے لیے مشہور ہے۔ انہیں راحیل صدیقی نے ڈی سی گوجرانوالہ اور بعد ازاں ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور سی ای او ٹیوٹا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پھر فرح، بزدار برادران اور شہزاد اکبر کی مداخلت پر ڈی جی اے سی ای کے طور پر تعینات کیا تھا۔

    انہوں نے شیخ رشید کی ہدایت پر راولپنڈی سے پی ایم ایل این کے سینیٹر کو گرفتار کیا۔ منظور ناصر نے ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک، سی ای او ٹیوٹا اور ڈی جی اینٹی کرپشن کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے مختلف اوقات میں 4 کروڑ ادا کیے۔ واضح رہے کہ سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پولیس نے منظور ناصر کو جگہ دینے سے قبل اپنے دو سال کے دور میں ایک ارب روپے سے زائد کمائے تھے۔

    گوہر نفیس، سابق ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن- شہزاد اکبر، سابق ڈپٹی چیئرمین نیب)۔ وہ شہزاد اکبر اور نیب کے کٹھ پتلی رہے ہیں اور پی ایم ایل این کی قیادت کے خلاف انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ پنجاب میں اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور سرکاری ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اور بڑی خوشیاں وصول کیں۔ ان کا کیس نیب نے اٹھایا لیکن شہزاد اکبر کے کہنے پر ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔

    بلال حیدر، کمشنر PESSI (کنکشن- ٹی کے، بزدار، فرح خان) نے بھی بھرتی ہونے کیلئے روپے ادا کیے فرح خان کو دو بار کمشنر PESSI تعینات کرنے پر دو کروڑ ادا کئے-

    ساجد ظفر اقبال، سابق کمشنر ڈی جی خان، سابق سیکرٹری ٹو سی ایم۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان)پہلے دور میں شہباز شریف کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد، انہوں نے بزدار حکومت کے ساتھ ہاتھ ملایا اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کوآرڈینیشن بن گئے جس کے بعد ان کی تعیناتی کمشنر ڈی جی خان کی گئی۔ وہ شہباز شریف کے دور حکومت کے خلاف آئی کے کو مخبر تھا۔

    سہیل زمان وٹو، کین کمشنر، سابق ڈی سی ساہیوال۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی اور فرح خان سے قریبی تعلق)۔ وہ ایک اوسط درجے کے پیشہ ور تھے جنہیں انتہائی سیاسی طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں شہباز شریف نے ڈی سی بھکر کے طور پر رکھا تھا لیکن شکایات پر ہٹا دیا گیا جب اس نے بھکر میں بشریٰ بی بی کے رشتہ داروں کو زمین الاٹ کی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت میں، انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر کین کمشنر کے طور پر شوگر ملوں کو خراب کرنے کے لیے رکھا گیا۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے ساتھ انہوں نے رمضان شوگر ملز کی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ گڈ گڈی کر کے اپنا دوستانہ امیج بنانا شروع کر دیا –

    آصف بلال لودھی، سیکرٹری کوآرڈینیشن اور کمشنر لاہور (کنکشن- بزدار، فرح خان)۔ انہیں ابتدائی طور پر بزدار کے سیکرٹری کوآرڈ ینیشن کے طور پر رکھا گیا تھا۔ وہاں سے اسے کمشنر لاہور کے طور پر لانچ کیا گیا اور پی ٹی آئی کی مدد سے اس نے بحریہ ٹاؤن کے لیے فوائد حاصل کیے اور اپنے اور فرح خان اور بزدار کے لیے بھاری رقم وصول کی۔ انہیں بلوچستان کے حوالے کر دیا گیا لیکن بعد میں حال ہی میں دوبارہ چیئرمین پی آئی ٹی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

    رانا سقراط امان، سابق سیکرٹری کوآرڈینیشن ٹو سی ایم۔ (کنکشن- ٹی کے گروپ بعد میں بزدار اور فرح خان کے ساتھ شامل ہوا)۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے ۔ ٹی کے نے اسے مقامی حکومت کے پروجیکٹ کے پی ڈی کے طور پر اور بعد میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے طور پر اپنا ایجنٹ بنا لیا۔ اسے اس کے بیچ کی ساتھی عائشہ حمید سکریٹری کے ذریعے ٹی کے بیٹیوں کی شادی اور آسیہ گل، فیاض موہل اور خواجہ سہیل سمیت چند ڈی سی کی پوسٹنگ کے لیے دولت اکھٹی کرنے کے بدعنوان طریقوں میں ملوث کیا گیا۔

    رانا محمد ارشد، پراجیکٹ ڈائریکٹر رنگ روڈ لاہور، سابق ڈی سی قصور۔ (کنکشن- بزدار فیملی)۔ وہ کرپٹ تھا اور شراب نوشی اور زنانہ حرکات جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس نے بھیXEN ہائی وے فیاض بزدار کو 3 کروڑ روپے ادا کئے، وزیراعلیٰ بزدار کے فرنٹ مین اور رنگ روڈ پراجیکٹس کے PD کے طور پر پوسٹنگ حاصل کی جہاں سے انہوں نے روپے کمائے۔ مختلف لینڈ مافیا کی طرف سے 12 کروڑ روپے۔ اس سے قبل ڈی سی قصور کی حیثیت سے انہوں نے ایک ارب مالیت کی سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا تھا اور بھاری رقم وصول کی تھی۔ ACE پنجاب میں ایک کیس ابھی زیر التوا ہے لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی تعینات رہے-

    طارق بخاری، پی ایم ایس آفیسر۔ (کنکشن- بزدار، راحیل صدیق، جاوید قیصرانی) ڈی جی خان میں پولیٹیکل ایجنٹ رہنے کے بعد، اس نے بزدار اور خاندان اور ان کے دوستوں کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کیے ہیں جن میں وہ ابتدائی افسران میں شامل تھے بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی جی کوہ سلیمان اتھارٹی بنانے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    اصغر جوئیہ۔ (کنکشن- بزدار، شہزاد اکبر، فرح خان) انہیں 2019 میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے طور پر رکھا گیا تھا اور وہاں سے انہوں نے شہزاد اکبر اور فرح خان کے ساتھ پی ایم ایل این کے سیاسی پیتل کو نچوڑنے کے لیے اپنے تعلقات استوار کیے تھے۔ اس نے بھی ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی سی سرگودھا بننے کے لیے 3 کروڑ روپے رشوت دی شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے۔

    سید موسیٰ رضا۔ (کنکشن- بزدار اور فرح خان) 1.5 کروڑ روپے دے کر پولیٹیکل ایجنٹ ڈی جی خان بنااور پھر ٹی کے اور بزدار کو ڈی سی بھکر اور بعد میں ڈی سی مظفر گڑھ بننے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    رانا شکیل پی ایم ایس۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی کے بھائی، فرح اور بزدار، موسیٰ مانیکا)۔ پتوکی قصور سے تعلق رکھنے والے رانا شکیل جن کے والد 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے امیدوار تھے۔ وہ اس سے قبل بشریٰ پنکی کی تحصیل دیپالپور کے اے سی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پنکی فیملی کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے موسی مانیکا کو پہلے ڈی سی پاکپتن اور پھر ڈی سی شیخوپورہ تعینات کرنے پر 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    عمر شیر چٹھہ۔ (کنکشن- بشریٰ پنکی اور فرح خان) عمر عاشر چٹھہ اپنے دور میں شہباز شریف کے ڈپٹی سیکرٹری اور پی ایس او رہے۔ بعد ازاں اس نے بشریٰ پنکی اور احسن گجر سے تعلقات استوار کیے اور پہلے ڈی سی سیالکوٹ، اس کے بعد میانوالی اور پھر لاہور میں BS-18 بننے کے لیے 3 کروڑ ادا کیے۔ وہ عمران خان کا شہباز شریف کے خلاف مخبری تھا۔

    ذوالفقار گھمن۔ (کنکشن-احسن گجر، بشریٰ پنکی اور فرح خان) اصل میں پراپرٹی ڈیلر ذوالفقار گھمن نے احسن سلیم گجر کے ساتھ پراپرٹی کا مفاد بڑھایا اور زمین کے سودوں میں فرح خان اور احسن گجر کےفرنٹ مین کا کردار ادا کیا جہاں اس نےکمشنرلاہور اور کمشنر گوجرانوالہ دونوں کے طور پر لاہور، قصور اور گوجرانوالہ میں ان کے حق میں زمین کے لین دین کی سہولت فراہم کی۔

    کیپٹن عثمان یونس، سابق سیکرٹری صحت اور کمشنر لاہور۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان، شہزاد اکبر)۔ کیپٹن عثمان نے بڑی چالاکی سے ان کا بھیس بدل کر عمران خان کے خاص آدمی کا روپ دھار لیا، اب وہ پی ایم ایل این کی طرف جھکنا شروع ہو گئے ہیں اور ان کی طرف فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ ڈی سی لاہور تھے اور اپنے آپ کو حمزہ شہباز کے ساتھی کے طور پر پیش کرتے تھے جو جونیئر افسران کو دھمکیاں دیتے تھے۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت کے آتے ہی رخ بدل لیا اور 4 سال ڈی سی لاہور رہ کر حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خلاف مخبر بن گئے۔ وہ تشہیر کا بھوکا ہے اور اس نے خود کو ترین خان گروپ کے ساتھ جوڑ دیا اور کووڈ 19 کی مدت کے دوران سیکرٹری صحت کی حیثیت سے کرپشن کے راستے کی قیادت کی۔ وہ طاہر خورشید گروپ کے بنیادی رکن تھے دیگر میں امیر جان، شہریار سلطان، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل ،احمد اور رضا سرور سغیرہ شامل تھے۔

    رفاقت نسوانا، سابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور اب بطور رجسٹرار کوآپریٹوز تعینات ہیں۔ (کنکشن- فرح خان، ٹی کے گروپ، راجہ بشارت اور مونس الٰہی) ابتدائی طور پر انہوں نے رجسٹرار کوآپریٹوز کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے راجہ بشارت کے ذریعے فرح خان کو 2 کروڑ اور ڈی جی فوڈ بننے کے لیے مزید2 کروڑ ادا کیے تھے۔

    عبداللہ سنبل چیئرمین پی اینڈ ڈی۔ (کنکشن – عمران خان کا آدمی)۔ میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیازیوں کی ذیلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبداللہ سنبل نے خود کو عمران خان کا زیادہ وفادار ثابت کیا اور عمران خان کا معتمد تھا۔ انہوں نے عمران خان کو شہباز شریف اور فیملی کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان تمام کمپنیوں کے بارے میں بصیرت فراہم کی جن پر نیب نے کارروائی کی لیکن کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے میانوالی اور لیہ کے تمام منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے جبکہ باقی پنجاب میں ترقی پر سمجھوتہ کیا۔

    احمر سہیل کیفی، ڈی سی پاکپتن۔ (کنکشن- چیئرمین نیب اور بشریٰ پنکی) چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنے داماد کے بھائی احمر سہیل کیفی کو پہلے ڈائریکٹر ACE لاہور اور پھر ڈی سی پاکپتن کےعہدے پر تعینات کیا احمر کیفی کے والد پی پی ایس سی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں اور بہو سمیت کئی پی ایم ایس اور دیگر افسروں کے انتخاب میں ملوث ہیں۔

    عاصم جاوید ڈی سی چنیوٹ۔ (کنکشن-عامر جان، بزدار، فرح خان) وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ رہے اور ڈی سی چنیوٹ کی پوسٹنگ کے لیے ایک کروڑ ادا کیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی گروپ۔ سیف، جو دو بار ڈی سی گجرات اور پھر ڈی سی جہلم تعینات رہےاس نے مونس الٰہی کو ان کی تین پوسٹنگ کے لیے 7 کروڑ روپے ادا کئے-

    خرم شہزاد نے مونس الٰہی کو بطور ڈی سی گجرات، ڈی سی رحیم یار خان اور پھر دوبارہ ڈی سی گجرات کے عہدے پر تعیناتی کے لیے 9 کروڑ ادا کیے گئے جبکہ مہتاب وسیم نے مونس الٰہی کو ڈی سی منڈی بہاؤالدین اور ڈی سی رحیم یار خان کی تعیناتی کے لیے 6 کروڑ ادا کیے تھے۔

    پولیس سروس کرپٹ افسران – بزدار فائلیں۔

    اشفاق خان (PSP/DIG)۔ احسن گجر کا پیسہ اکٹھا کرنے والا بندہ۔ دو بار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رہے، ایک بار آر پی او فیصل آباد، آر پی او سرگودھا اور آر پی او راولپنڈی رہے 3 سالہ دور حکومت میں ایک دن بھی انعامی پوسٹنگ نہیں کی گئی اور بزدار کو 10 کروڑ روپے، فرح خان کو 15 کروڑ ادا کیے گئے۔ اسے مری میں ہونے والی کئی ہلاکتوں میں کلین چٹ دی گئی تھی۔ عمران خان کوشہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    رانا فیصل (ڈی آئی جی پی ایس پی)۔ وزیراعلیٰ بزدار بھائی کے کہنے پر بطور آر پی او ڈی جی خان اور سرگودھا تعینات ہوئے عمران خان کو کو شہباز شیرف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیںجبکہ عمران محمود ڈی آئی جی۔ امیر تیمور سابق ایس ایس پی اور عثمان بزدار کے چچا کو ادائیگی کے بعد پوسٹ کیا گیا۔

    زعیم اقبال شیخ۔ سابق ڈی آئی جی 3 سال تک ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ رہے جس کے دوران وہ بنیادی طور پر کرپٹ تھے اور BS-21 بورڈ میں ترقی کے لیے مسترد کر دیے گئے۔عمران خان کو شہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    بی اے ناصر ایڈیشنل آئی جی۔ احسن گجر نے سابق پاکستان رخصت پر کرپٹ پولیس افسر عظیم ارشد کے ذریعے نیٹ استعمال کیا۔ عظیم ارشد ڈی آئی جی وہ شخص تھا جس نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو مقامی پولیس کے ساتھ جھگڑے میں خاور مانیکا کی مدد کرنے کے لیے فون کیا اور پھر مسٹر گوندل کی سیٹ حاصل کی-

    مبشر مکن مرکزی شخص تھا جو عثمان بزدار کی آنکھ اور کان تھے اور عمر سعید ایس ایس پی کو ان کے آبائی شہر میں ڈی پی او کے طور پر تجویز کیا تھا۔ وہ بزدار سے فرح خان کے گھر پیسے پہنچاتا تھا۔

    مسٹر عاطف ایس ایس پی سی ایم سیکرٹریٹ میں رہے جنہوں نے پولیس کے بہت سے معاملات میں ہیرا پھیری کی اور پوسٹنگ کے لیے رشوت دینے پر درمیانی آدمی کے طور پر کام کیا۔

    محمد اختر پی ایس پی نے بزدار کے لیے پی ایس او کے طور پر خدمات انجام دیں اور فرح خان اور بزدار کے لیے پیسے جمع کرنے والے ایجنٹ تھے جبکہ منتظر مہدی PSP نے بطور CTO لاہور تعیناتی کے لیے 4 کروڑ ادا کیے۔ ان کی سفارش فرح خان نے کی تھی۔

    جی ایم ڈوگر سابق سی سی پی او لاہور نے فرنٹ مین مسٹر افتخار بوڈا کے ذریعے وزیراعلیٰ بزدار کو بھاری رقم ادا کی اور اپنی پوسٹنگ کروائی۔ اس نے خرم جانباز ایس ایس پی کی مدد سے انتہائی کرپشن کی اور ان کے ٹرانسفر ہونے تک بہت پیسہ لوٹا۔

    ذیشان اصغر۔ گجر خاندان سے تعلق رکھنے والے کرپٹ سابق چیف سیکرٹری بلوچستان کے بہت قریب اور اپنے قریبی دوست مبشر ماکن کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہیرا پھیری کرکے لاہور میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا اور کرپشن کرکے اپنے کیرئیر کا نام روشن کیا اور بڑے بڑے وگوں کو رائفلیں پیش کیں جو کہ رقم تھی۔ ایک پٹواری کا بیٹا ہونے کے ناطے لاکھوں روپے لوٹے-

    12. زاہد مروت پی ایس پی نے بطور ڈی پی او اپنے تین ادوار کے لیے مبشر ماکن اور ایس ایس پی عاطف کے ذریعے بھاری رقم ادا کی جبکہ مستنصر فیروز نے فرح خان اور بشریٰ بی بی کو بطور ڈی پی او تین پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم ادا کی۔

  • پاکستان اورایران کے درمیان سیاحوں کی تعداد بڑھنی چاہیے، ایرانی وزیر سیاحت

    پاکستان اورایران کے درمیان سیاحوں کی تعداد بڑھنی چاہیے، ایرانی وزیر سیاحت

    لاہور کے دورے پر آئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر سیاحت، آثار قدیمہ و دستکاری آقائے سید عزت اللہ ضرغامی نے زور دیا ہے کہ ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اور ایران کے درمیان سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔ کم سے کم دس لاکھ پاکستانی اور دو لاکھ ایرانی سیاح ایک دوسرے کے ملک جانے چاہئیں۔ وہ مقامی ہوٹل میں محکمہ سیاحت پنجاب کے زیراہتمام باہمی سیاحت کے فروغ کیلئے پاک ایران ٹورازم فورم سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی نمائندگی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ و سوشل ویلفیئر پروفیسر ڈاکٹر اکرم جاوید نے کی۔ سیکرٹری ٹورازم پنجاب آصف بلال لودھی، محکمہ سیاحت ایران کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمدی قاسمی، ایرانی قونصل جنرل لاہور مہران موحدفر، محکمہ سیاحت کے افسروں، ٹور آپریٹرز اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

    ایرانی وزیر سیاحت سید عزت اللہ ضرغامی نے کہا کہ پاک ایران ٹورازم فورم کے انعقاد کا مقصد سیاحت کیلئے سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس 93 لاکھ 11 ہزار غیرملکی سیاحوں نے ایران کی سیاحت کی۔ پاکستان سے گزشتہ سال 2 لاکھ 20 ہزار افراد نے ایران کی سیر کی جبکہ 65 ہزار ایرانیوں نے سیاحت کیلئے پاکستان کا رخ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں بادشاہی مسجد، مزار علامہ اقبال، شاہی قلعے اور دیگر تاریخی مقامامت کا دورہ کر کے نہایت خوشی ہوئی۔ عزت اللہ ضرغامی نے بتایا کہ دونوں ملک ایک عقیدے اور مشترکہ ثقافت کے رشتے میں بندھے ہیں۔ اس لئے دونوں طرف کے عوام کو قریب آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قونصل جنرل لاہور مہران موحدفر ویزوں کے اجرا میں سہولیات بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں اور مزید آسانیاں پیدا کریں گے۔

    صوبائی وزیر صحت و سماجی بہبود پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے پاک ایران ٹورازم فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے دل آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ مذہبی سیاحت کے ساتھ عمومی سیاحت کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ فروغ سیاحت کیلئے وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیسیوں ممالک کی سیر کی پاکستان جیسا خوبصورت ملک کہیں نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی سیاحت کے ان گنت مواقع موجود ہیں۔ اس فورم کے انعقاد سے پاک ایران سیاحت کے فروغ کی نئی راہیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاک ایران ٹورازم فورم کے انعقاد پر وزیر سیاحت، سیکرٹری ٹورازم تحسین اور ٹوور آپریٹرز تحسین کے مستحق ہیں۔

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سیاستدان جب تک مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک پاکستان آگے نہیں جائے گا،سعد رفیق

    سیاستدان جب تک مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک پاکستان آگے نہیں جائے گا،سعد رفیق

    لاہور: وزیرر یلوے خواجہ سعد رفیق نے ہزارہ ایکسپریس حادثے کو وسائل کی کمی کا شاخسانہ قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں شرکت اور 1200 طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیےاس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) بحران کی بڑی وجہ میرٹ پر فیصلوں کا نہ ہونا ہے، انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر سب کو بتا دیا ہے کہ پی آئی اے نے ایسے نہیں چلنا اس کو بدلنا ہو گا،ٹرین حادثے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، چند روز بعد نگران حکومت آجائے گی مگر پھر بھی اس حادثے کی تحقیقات چلتی رہیں گی ملکی ترقی کیلئے سیاسی استحکام ازحد ضروری ہے، مارشل لاز نے ملک کے حالات بہت خراب کیے، سیاست دان جب تک مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک پاکستان آگے نہیں جائے گا۔

    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور …

    وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق نے نیوز کنفرنس میں کہا کہ خصوصی حکومتی دلچسپی کے باعث تاریخی سبی ہرنائی ریلوے سیکشن پر ریلوے ٹرین کا آغاز ہو گیا ہےعوام کو سفری سہولیات کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گاسبی ہرنائی ریلوے ٹریک سترہ سال بعد مکمل ہو ا کوشش ہے کہ ایم ایل ون منصوبے پر جلد کام شروع ہو گا ریلوے ہزارہ ایکسپریس حادثے کی ابتدائی رپورٹ آچکی ہے تاہم تفصیلی رپورٹ ایک ہفتےمیں آئے گی۔

    مکافاتِ عمل ، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر …

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے ٹھٹھہ میں انٹرنیشنل میڈیکل اینڈ ٹیکنیکل کالج کا افتتاح کیا اور اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نواب شاہ ٹرین حادثے کے متاثرین کی مالی معاونت کا اعلان کیا ہےانہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ اور زیر علاج زخمیوں کو 2 سے 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی پنجاب میں اکثریت کا دعویٰ نہیں لیکن پیپلزپارٹی کی سیٹیں ہوں گی۔ بلوچستان اور کے پی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہوگی سندھ حکومت نے ہر شعبے میں عوام کی خدمت کی ہے، عوام میں جاکر اپنی غلطیوں کا بھی معلوم کریں گے۔

    عمران خان اٹک جیل میں قید ہونے والے پہلے سابق وزیراعظم

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع

    ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع

    لاہور: سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع کر دی۔

    باغی ٹی وی: انسدادِ دہشتگردی عدالت میں 4 مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر پیش کیا گیاانسدادِ دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے مقدمات کی سماعت کی پولیس کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کا جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے، عدالت جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کا حکم صادر کرے عدالت نے پولیس کو مقدمہ کا چالان جلد مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے، ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17 اگست تک توسیع کر دی۔

    انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے دوسری بار چیف سلیکٹر تعینات

    یاد رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد پر جناح ہاؤس، (ن) لیگ کے دفتر اور عسکری ٹاور پرحملے کروانے اور تھانہ شادمان کو جلانے کا الزام ہے، ملزمہ کیخلاف گلبرگ، شادمان، ماڈل ٹاؤن اور سرور روڈ تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کا فیصلہ

  • میجر (ر) طاہر صادق کی فیملی کی ملکیت ہوٹل میں قحبہ خانہ،ہوٹل سیل

    میجر (ر) طاہر صادق کی فیملی کی ملکیت ہوٹل میں قحبہ خانہ،ہوٹل سیل

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گلبرگ میں تحریک انصاف کے رہنما کے میجر (ر) طاہر صادق کی فیملی کی ملکیت ہوٹل سیل کر دیا گیا

    ہوٹل نائن ٹری میں "بلس سپا اینڈ سیلون” قائم کر کے ہوٹل آڑ میں قبحہ خانہ چلایا جا رہا تھا ،شکایت پر پولیس نے چھاپہ مارا اور دو مرد اور خاتون رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ،پولیس نے ہوٹل سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد کیں ،بلس سپا اینڈ سیلون لاہور گلبرگ کے علاقے نائن ٹری ہوٹل کے ساتویں فلور پر موجود ہے

    واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،مقدمہ سب انسپکٹرکی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مخبر خاص نے اطلاع دی کہ جنید نامی شخص نائن ٹری ہوٹل میں بلس سپا اینڈ سیلون کی آڑ میں قحبہ خانہ چلایا جا رہا ہے،اگر فوری ریڈ کیا جائے تو پکڑا جا سکتا ہے،مخبر کی اطلاع پر ٹیم کے ہمراہ ہوٹل نائن ٹری کے ساتیوں فلور پر بلس سپا اینڈ سیلون میں پہنچے ،ایک کیبن میں دو مردوزن برہنہ حالت میں پائے گئے،جنکو کپڑے پہننے کا موقع دیا گیا،ملزمان سے شراب بھی برآمد ہوئی،دوسرے کیبن سے بھی برہنہ مرد و عورت ملے جن کو بھی کپڑے پہننے کا موقع دیا گیا،دو افراد سیلون میں صوفہ پر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے،کاؤنٹر پر موجود جنید قیصر سکنہ لاہور کی جامہ تلاشی لی گئی،جس سے ایک موبائل فون، رقم ملی اور کاؤنٹر کا رجسٹر چیک کیا،کیبن سے گرفتار خاتون زویا شفیع نے بتایا کہ جنید قیصر ہم سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتا ہے.،

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    بھکاری کا روپ دھار کی سابقہ بیوی نے سابق شوہر کے ساتھ ایسا گھناؤنا کام کر دیا کہ سن کر روح کانپ اٹھے

    برہنہ تصاویر بنا کر آٹھ سال تک خاتون کو بلیک میل کر کے زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    کوکین کے پیسوں کے لین دین پر دوستوں نے دوست کی جان لے لی

    nine tree fir

  • 81 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چوری کی گئی گاڑیاں برآمد

    81 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چوری کی گئی گاڑیاں برآمد

    لاہور پولیس کے اینٹی وہیکل لفٹنگ سٹاف نے رواں سال میں 81 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی کاریں، موٹر سائیکلز و دیگر وہیکلز برآمدکیں اور موٹر سائیکل وگاڑیاں چھیننے اور چوری کی وارداتوں میں ملوث 78 گینگز کے690 کارندے گرفتار کئے ہیں۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ 172کاریں، 7198موٹر سائیکلز اور409دیگر وہیکلز جبکہ 195 ٹمپرڈ شدہ وہیکلز پکڑی گئیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سٹی ڈویژن میں 19کاریں،1441موٹر سائیکلز،79دیگر وہیکلزاور 17ٹمپرڈ شدہ وہیکلز چوروں سے برآمد کی گئیں۔ سول لائنز ڈویژن میں 16کاریں،882موٹر سائیکلز، 54دیگر وہیکلز اور 24 ٹمپرڈ شدہ وہیکلز برآمد کی گئیں۔کینٹ ڈویژن میں 18کاریں،985موٹر سائیکلز،57دیگر وہیکلزاور 15 ٹمپرڈ شدہ وہیکلز پکڑی گئیں جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 39کاریں،1214موٹر سائیکلز،62دیگر وہیکلزاور 45ٹمپرڈ شدہ وہیکلز برآمد کی گئیں۔اسی طرح صدر ڈویژن میں 46کاریں،1424موٹر سائیکلز،90دیگر وہیکلزاور 49ٹمپرڈ شدہ وہیکلز پکڑی گئیں جبکہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 34کاریں،1252 موٹر سائیکلز،67دیگر وہیکلزاور 45ٹمپرڈ شدہ وہیکلز برآمد کی گئیں۔اس دوران اینٹی وہیکلز لفٹنگ سٹاف نے 146اشتہاری ملزمان، 31سنگین مقدمات میں ملوث اشتہاری، 438 عدالتی مفروراور266ٹارگٹ آفینڈرز بھی گرفتار کرکے قانون کے حوالے کئے۔

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے 1کلو گرام افیون اور 5کلو گرام چرس برآ مدکی گئی۔اشتہاری ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انہیں قرار واقعی سزائیں دلوائی جا رہی ہیں۔ سی سی پی او نے اینٹی وہیکلز لفٹنگ سٹاف کوموٹر سائیکل چورگینگز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی اور کہا کہ موٹر سائیکل چوری، ڈکیتی اور جھپٹاگینگ کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل چوری کے ہاٹ سپاٹس پر سادہ لباس میں نفری تعینات کی جائے۔ اسی طرح مارکیٹوں،کمرشل زونزاور عوامی مقامات کی موثر ویجیلنس و موثر مانیٹرنگ کی جائے۔