Baaghi TV

Category: لاہور

  • کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ العمل

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ العمل

    لاہور:کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ العمل ہوگیا ہے، اس حوالے سےکرکٹ کی دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ ڈھانچہ پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کےلیے کوئی خاطرخواہ فائدے مند نہیں ہورہا تھا ،کرکٹ ذرائع نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس حوالےسے پچھلے کئی ہفتوں سے بیک دی ڈور مشاورت چل رہی تھی اور وزیراعظم شہبازشریف بھی کچھ یہی چاہتے تھے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بیک دی ڈور مشاورت کے مکمل ہونے کے بعد چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہٹایا گیا اور پھر سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی کو پھر سے چیئرمین لگا دیا گیا،جنہوں نے آتے ہی بڑے فیصلے کردکھائے، فیصلوں کے عمل درآمد کےبعد اب پی سی بی کا موجودہ سیٹ اپ بھی ختم ہوگیا ہے اور موجودہ چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کسی قسم کے اختیارات نہیں رکھتے ہیں

    رمیز راجہ کوچیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ہی پہلے والے تمام شعبہ جات کی سرگرمیاں بھی فی الحال ڈی نوٹیفائیڈ کردی گئیں ہیں ،

    پی سی بی کا موجودہ سیٹ اپ اور آئین 2019 میں تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحت چیف ایگزیکیٹو آفیسر کا عہدہ آئین کا حصہ بنایا گیا تھا جس سے بورڈ کے انتظامی امور کلی طور پر سی ای او کے پاس آگئے تھے۔

    اس سے قبل 2014 کے آئین میں سی او او کا عہدہ تھا جبکہ زیادہ اختیارات چیئرمین کے پاس تھے۔

     

     

    پی سی بی کے گزشتہ نافذالعمل آئین کی سب سے اہم بات چھ صوبائی کرکٹ بورڈز کے تین ارکان بورڈ آف گورنرز کے ممبر تھے جبکہ دو ارکان وزیر اعظم نامزد کرتے تھے اور تین ارکان آزاد حیثیت سے نامزد تھے جن کا تعلق کارپوریٹ اداروں سے تھا۔ اس آئین میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کا کردار ختم کردیا گیا تھا جبکہ 2014 کے آئین میں ڈپارٹمنٹل ٹیمیں بورڈ کا حصہ تھیں اور ان کے چار اراکین بورڈ آف گورنرز کا حصہ تھے۔

    وزیر اعظم نے 2019 کے آئین کو ختم کرکے 2014 کے آئین کی بحالی کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ آئین کے خاتمے کے ساتھ پی سی بی کا موجودہ سیٹ اپ بھی ختم ہوگیا ہے اور موجودہ چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کسی قسم کے اختیارات نہیں رکھتے ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پیٹرن ان چیف شہباز شریف نے بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے 14 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔وزیراعظم کی طرف سے پی سی بی کے معاملات چلانے کیلیے تشکیل دیدی گئی کمیٹی سے متعلق وزارت بین الصوبائی رابطہ کو خط لکھا گیا تھا، جس کو متعلقہ وزارت نے کابینہ اراکین میں سرکولیٹ کردیا گیا ہے۔

    کابینہ کی منظوری کے بعد 14 رکنی کمیٹی پی سی بی کے معاملات چلائے گی جبکہ وزیراعظم پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہوں گے۔کمیٹی کے ارکان میں شاہد آفریدی، شکیل شیخ، گل زادہ، نعمان بٹ، ہارون رشید، ثنا میر، ایزد سید، تنویر احمد، گل محمد کاکڑ، ایاز بٹ، شفقت رانا، مصطفٰی رمدے اور عارف سعید شامل ہیں۔کمیٹی پی سی بی کا 2014 کا آئین بحال کرنے کیلئے 120 روز میں اپنا کام مکمل کرے گی۔

    دوسری جانب وفاقی کابینہ نے پی سی بی کے 2014 والے آئین کو بحال کرکے 2019 کا آئین منسوخ کردیا گیا ہے۔اس سے قبل رمیز راجا کو عہدے سے ہٹائے جانے کی سمری وزیراعظم شہباز شریف کا ارسال کی گئی تھی جبکہ گورننگ بورڈ ممبرز کیلٸے نجم سیٹھی اور شکیل شیخ کے نام سمری میں تجویز کیے گٸے تھے۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ ،پرویز الہٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس محمد اقبال اور مزمل اختر شبیر اور جسٹس عاصم حفیظ شامل تھے آئینی پٹیشن میں گورنر پنجاب، اسپیکر ، حکومت پنجاب، چیف سیکریٹری کو فریق بنایا گیا، موقف اپنایا گیا کہ گورنر پنجاب نے آئین کےآرٹیکل 130سب سیکشن 7کی غلط تشریح کی، گورنر پنجاب نے اختیارات کاغلط استعمال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کیا

    پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ وزیر اعلی ٰالیکشن میں پرویز الہٰی 186 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے،اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 10 ووٹ نکال دئیے، ڈپٹی اسپیکر نے شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ق لیگی ممبران کے ووٹ تصور نہیں کیے معاملہ عدالت گیا جہاں سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اگر گورنر تصور کریں کہ وزیر اعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں تو اعتماد کا ووٹ کے لیے کہہ سکتے ہیں اعتماد کے ووٹ کے لیے گورنر اجلاس سمن کرتا ہے ،گورنر کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے کے لیے ٹھوس وجوہات ہونی چاہیے،آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی ہوں گے ، وزیر اعلی ٰکو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے 20 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ تحریک جمع ہو سکتی ہے، چیف منسٹر کو اسمبلی منتخب کرتی ہے، تعنیات نہیں کیا جاتا ،عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے گورنر عدم اعتماد کے لیے دن اور وقت کا تعین نہیں کر سکتا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب 3سے 7 دن کا وقت ہےتو اعتماد کے ووٹ کے لیے ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے اراکین کو نوٹس دیتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ رولز کے مطابق کیا اسی دن ووٹنگ نہیں ہو سکتی ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو اختیار ہے وہ ایک ہی دن نوٹس اور ووٹنگ کرا سکتا ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک میں ممبران کو مناسب وقت دے سکتے ہیں اسپیکر کے پاس اختیار ہے کہ وہ مناسب وقت جو 10 سے 15 کا ہو دے سکتا ہے، گورنر نے اعتماد کے ووٹ کےلیے اسپیکر کو خط لکھا وزیر اعلی ٰنے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں ،اجلاس اسپیکر نے بلانا ہے وزیر اعلیٰ خود سیشن نہیں بلا سکتا ،اگر اجلاس ہوا ہی نہیں تو پھر گورنر نے خود سے کیسے فیصلہ کرلیا ؟اجلاس بلانے کے اختیارات اسپیکر کے پاس ہیں یہ تو ایسے ہی کہ دو افراد کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں سزا تیسرے کو دے دی جائے ،ضروری ہے کہ اسپیکر ووٹنگ کے لیے دن مقرر کریں ، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر نے اعتماد کے ووٹ کا کہا ہے تو اس پر عملدرآمد تو ہونا چاہیے ،رولز کے مطابق گورنر کو اعتماد کے ووٹ کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا اختیار ہے، تاریخ کتنے دن کی ہوگی وہ الگ بحث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ رولز کے تحت کرسکتا ہے مگر آئین کے تحت نہیں، اجلاس ہوتا تو وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ لیتے وزیر اعلی ٰنے ہوا میں تو اعتماد کا ووٹ نہیں لینا،گورنر کو اختیار نہیں ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو ہٹائے،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتا ہے یہ تو رولز میں ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اسمبلی کا پروسیجز بھی ہے پورے پراسس کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے ،اگر کوئی سیشن ہی نہیں ہے تو وزیر اعلیٰ کہاں ووٹ لے گا ، میڈیا پر خبر آئی کہ ایک وزیر کی پرویز الہٰی کے ساتھ تکرار ہوئی اس نے استعفی ٰدے دیا ،کہا گیا عمران خان نے بیان دیا کہ پرویز الہٰی کی کابینہ میں ایک اور وزیر کا اضافہ ہوا اور انہیں پتا ہی نہیں کن بنیادوں پر عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کا کہا گیا ؟انکو یہ نظر نہیں آتا پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بیان بھی میڈیا پر آیا ، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ٹی وی کون سا دیکھتے ہیں ، جسٹس عاصم حفیظ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا،

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ جب مرضی ووٹ کا کہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پڑوسیوں کی لڑائی میں سزا مجھے کیوں ملے عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ پاس کےاکثریت ہے تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟ یہ سارا بحران ختم ہوسکتا ہے فیصلہ تو اسمبلی نے ہی کرنا ہے ،پرویز الہیٰ کے وکیل نے کہا کہ ہمارا ایشو ہے کہ وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نوٹیفکیشن معطل کر دیں تو کیا اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پرویز الہٰی اسمبلی تحلیل کر دیں گے،

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالہٰی سے اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی مانگ لی، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کے حکم پر عمل درآمد کیے بغیر آپ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کر لیا، مشورہ کرلیں، 10 منٹ دیتے ہیں، اگر آپ اسمبلی کی تحلیل سے متعلق انڈر ٹیکنگ دیتے ہیں تو پھر اس کو دیکھتے ہیں علی ظفر صاحب آپ اپنے کلائنٹ سے ہدایات لے لیں ہم دوبارہ بیٹھتے ہیں

    گورنر پنجاب کی جانب سے معروف قانون دان خالد اسحاق کمرہ عدالت میں پہنچ گئے چودھری پرویز الہٰی کے وکیل علی ظفربھی دوبارہ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ،چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل علی طفر نے تحریری یقین دہانی سے انکار کردیا ، جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی انڈر ٹیکنگ لینے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی غلط استعمال ناں کر سکے، اگر آپ تحریری یقین دہانی نہیں کرواتے تو عبوری ریلیف دینا مشکل ہوگا علی ظفر نے تحریری یقین دہانی مزید مہلت مانگ لی ،بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ تحریری طور پر یقین دہانی کے لیے کچھ وقت چاہیے، عدالت حکم جاری کر دے کہ اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ ہم ایسا آرڈر کیسے جاری کر سکتے ہیں ؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے حوالے سے یقین دہانی نہیں کراسکتے، عدالت نے مزید ایک گھنٹے کی مہلت دے دی، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے آرڈر کا غلط استعمال ناں ہو،

    واضح رہے کہ ن لیگ نے پرویز الہیٰ کے خلاف عدم اعتماد پیش کی تھی، پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، جس کے بعد گورنر پنجاب نے گزشتہ شب پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے، پرویز الہیٰ عدالت پہنچ چکے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دے دی ہے، درخواست پر آج ہی سماعت ہونی ہے، لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے .ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ گورنر نےآئین شکنی کی اور قانون کا مذاق بنایا،گورنر عوام کے نمائندے کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتے گورنر کی جانب سے آئین شکنی پر ہم صدر کو ریفرنس بھیجیں گے،اگر مستقبل میں آئین کی پاسداری کی توقع ہے تو آئین شکن گورنر کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے،

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

  • اٹھارویں بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی کے انعقاد کا اعلان

    اٹھارویں بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی کے انعقاد کا اعلان

    سیکرٹری ٹورزم پنجاب آسیہ گل نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی طور پر کام کر رہے ہیں

    سیکرٹری ٹورزم پنجاب آسیہ گل کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شہریوں کے لئے پنجاب کا ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ متحرک ہے ، ماہ فروری میں ہم چولستان میں جیب ریلی منعقد کر رہے ہیں، اٹھارویں بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی چھ فروری سے 12 فروری تک جاری رہے گی، اسکے علاوہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت مری اور چکوال میں شہریوں کے لئے فوڈ فیسٹول کا بھی انعقاد کریں گے،پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لئے جدید عصری تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ سیاحوں کو بہترین ماحول میں بین الاقوامی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور وہ صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوں اور نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں سیاحت کو فروغ حاصل ہو

    سیکرٹری ٹورزم پنجاب آسیہ گل کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیاحت کے فروغ سے ٹی دی سی پی کی کھوئی ہوئی شناخت بھی بحال ہوگی پنجاب میں سیاحت کے حوالے سے بے شمار پوشیدہ مقامات کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ سیاحت کے فروغ سے معیشت بھی مزید مضبوط ہوگی اور ملک کے خوبصورت تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور کلچرل مقامات کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

     معروف اداکار فیروز خان نے پندرہویں چولستان جیپ ریلی میں شرکت کی

    16ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی، کون رہا فاتح

  • سلیمان شہباز کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں عبوری ضمانت منظور

    سلیمان شہباز کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں عبوری ضمانت منظور

    احتساب عدالت لاہور نے سلیمان شہباز کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں عبوری ضمانت 7 جنوری تک منظور کرلی

    احتساب عدالت لاہور نے سلیمان شہباز کی عبوری ضمانت 5لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی احتساب عدالت لاہور نے سلیمان شہباز کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ،جج نے وکیل کوہدایت کی کہ سلیمان شہباز کا شناختی کارڈ عدالت میں پیش کیا جائے، سلیمان شہباز نے جواب دیا کہ میرے پاس شناختی کارڈ ابھی موجود نہیں ہے ،جج نے سلیمان شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کی آج ضرورت تھی یہ تو ہر وقت ساتھ ہونا چاہیے شناختی کارڈ ہی ہماری اصل شناخت ہے،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت لاہور میں سلیمان شہباز نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی،سلیمان شہباز نے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے ضمانت احتساب عدالت لاہور میں دائر کی تھی منی لانڈرنگ کیس میں نامزد سلیمان شہباز درخواست ضمانت دائر کرنے کے لیے اسپیشل کورٹ سینٹرل پہنچے جہاں انہوں نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کرتے ہوئے ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا ،عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں بلاجواز نامزد کیا عدالت میں طلبی کے نوٹس موصول نہیں ہوئے اور بغیر اطلاع اشتہاری قرار دیا گیا اشتہاری قرار دینے سے قبل قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، منی لانڈرنگ مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کے لیے عبوری ضمانت منظور کی جائے

    سلیمان شہباز رواں ماہ ہی لندن سے پاکستان پہنچے تھے اور انہوں نے اپنے خلاف دائر منی لانڈرنگ کے مقدمات کا سامنا کرنے کا اعلان کیا تھا،پاکستان پہنچنے سے قبل عدالت نے سلیمان شہباز کی ضمانت منظور کی تھی،

  • گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ

    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ

    لاہور:وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری ہوسکتا ہے ، اس حوالے سے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ گورنر پنجاب آج رات ڈی نوٹیفائی کیلئے ڈیکلریشن جاری کریں گے، لیٹر ایشو ہوتے ہی پرویزالہٰی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، یہ خبر ہے کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دیدیں گے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا جواب دے دیا ہے، سبطین خان کو ان کی غلطی کی اصلاح کیلئے دیا گیا ٹائم گزر گیا۔ان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو اب اپنی رائے کا اظہار کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ آج رات تک گورنر پنجاب وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کیلئے ڈکلیئریشن جاری کریں گے، لیٹر ایشو ہوتے ہی پرویزالہٰی وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہیں گے۔

    وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ خبر ہے ہوسکتا ہے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی استعفیٰ دے دیں، پرویز الٰہی کی پوزیشن بدلتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے گورنر ہاؤس پر احتجاج میں 500 سے 700 آدمی تھے، میں نے وزیراعلیٰ ہاؤس سیل کرنے کی بات نہیں کی تھی۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ گورنر ہاؤس میں جاری اجلاس میں اہم پیش رفت، وفاقی وزارت قانون سمیت لیگل ٹیم نے گورنر کو وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے کی تجویز دیدی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے بھی گورنر پنجاب کو وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے فی الحال روک دیا ہے، وزیراعظم شہبازشریف نے گورنر کو لیگل ٹیم سے مزید مشورہ کرنے کی ہدایات کر دیں۔

    لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے سے انکار نہیں کیا تو کیسے ڈی نوٹیفائی کرسکتے ہیں، گورنر ہاؤس میں قانونی اور آئینی معاملات پر مشاورت جاری ہے۔

  • عمران خان ہمارے لیڈر، ان کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے: چودھری پرویز الہٰی

    عمران خان ہمارے لیڈر، ان کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے: چودھری پرویز الہٰی

    لاہور: یوزوزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ عمران خان ہمارے لیڈر ہیں، ان کی ہر آواز پر لبیک کہیں گے، پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ چودھری پرویزالہٰی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 7واں اجلاس ہوا جس میں 21 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    کابینہ کے اجلاس کے موقع پر چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق میں دراڑیں ڈالنے کی ہر کوشش ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگی، کوئی بھی سازش ہمیں عوام کی خدمت سے نہیں روک سکتی، سازشی عناصر کو منہ کی کھانا پڑے گی۔

    اس سے پہلے سینیئرصحافی مبشرلقمان سے بات کرتے ہوئےسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوگی۔

    سپیکر سبطین خان نے مزید کہا کہ یہ جو گنجل ڈلے ہیں ان کو نکالنا ہے، ابھی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، ابھی نوٹس ہونے ہیں، معاملہ جنوری کے پہلے ہفتے تک جائے گا، تحریک عدم اعتماد آچکی ہے، کل اسمبلی نہیں ٹوٹ سکتی، گورنرصاحب چاہتے ہیں ہم عوام کے پاس نہ جائیں، ہمارے چیئرمین چاہتے ہیں کہ ہم عوام کے پاس جائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سیشن چل رہا ہو یا نہ چل رہا ہو، گورنرسپیشل سیشن بلاسکتے ہیں، ڈی نوٹی فائیڈ نہیں کرسکتے، اگر وہ ڈی نوٹی فائیڈ کی طرف جاتے تو ہم صدر مملکت کو لیٹر لکھتے، فی الحال صدر مملکت والا لیٹر روک لیا ہے، آج پھر گورنر صاحب کو لیٹر بھیج رہا ہوں، میں نے آئین و قانون کی پاسداری کرنی ہے، گورنرصاحب کو کہوں گا ان لیگل آرڈر پاس نہ کریں۔

    سپیکر نے کہا کہ گورنر ایک آئینی ادارے کی نمائندگی اور میں بھی کر رہا ہوں، اس طرح کلیش نہیں کرنا چاہیے، وزیراعلیٰ آفس سیل اور کینٹینر لگانے والی بچوں والی باتیں نہ کریں، سپیکرکی ہدایت پربلایا گیا سیشن اس وقت چل رہا ہے، مسلم لیگ (ق) کے دس اراکین نے پرویز الہیٰ پراعتماد کا اظہارکیا، پرویز الہیٰ پر الزامات کا تعلق گورنر سے نہیں ہے۔

  • بتایا جائے کیوں ہماری چلتی ہوئی حکومت کو گرایا گیا،عمران خان

    بتایا جائے کیوں ہماری چلتی ہوئی حکومت کو گرایا گیا،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آج جو حالات ہیں میں نے 70سال کی زندگی میں نہیں دیکھے،

    عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کہتے تھے اسمبلیاں تحلیل کریں الیکشن کیلئے تیار ہیں، ہمیں اسمبلیاں تحلیل کرنے کیلئے باربارچیلنج کیا جارہا تھا جب اسمبلیاں تحلیل کرنےکا اعلان کیا تو دو ،دو تحریکیں آگئیں،بتایا جائے کیوں ہماری چلتی ہوئی حکومت کو گرایا گیا،ملک اندھیروں میں ڈوبا جا رہا ہے، ان پاکستانیوں سے بات کررہا ہوں جن کاجینا مرنا پاکستان میں ہے،ملک جس تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے سب کے ہاتھ سے نکل جائے گا، ہماری حکومت میں ملک کی گروتھ ریٹ بڑھ رہی تھی،ایک آدمی نے ہماری حکومت کو گرایا،یہ جنگ عمران خان کی نہیں ہم سب کی ہے، اگر جلدی الیکشن نہ کرائے گئے تو ملک ہاتھ سے نکل جائے گا،وزیرخارجہ پوری دنیا گھوم لیا مگر افغانستان نہیں گیا،سب سے زیادہ ضرورت افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے کی ہے، آج پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی کا ہی مسئلہ ہے، اگر ملک میں انصاف قائم نہیں ہوگا تو ہم تباہی کی طرف جائیں گے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں پولیسنگ پر پیسے خرچ نہ کیے گئے تو حالات اور گھمبیر ہونگے، پنجاب میں مذاق ہورہا ہے،ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم الیکشن کروائیں، ہم اپنی دو حکومتوں میں الیکشن کروانے کو تیار ہیں،کبھی کہتے ہیں 2صوبوں میں الیکشن کرائیں گے کبھی گورنر راج کی بات کرتے ہیں،پہلے کہتے تھے اسمبلیاں تحلیل کریں، الیکشن کیلئے تیار ہیں،سیاسی استحکام آنے تک معاشی استحکام نہیں آ سکتا،

    عمران خان سے مونس الٰہی کی زمان پارک میں ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں سیاسی صورتحال اور مستقبل کی پلاننگ پر غورکیا گیا، مونس الٰہی نے عمران خان کے ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    دوسری جانب وزیر مملکت اور ترجمان پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی نے عمران خان کی تقریر پر رد عمل میں کہا ہے کہ عمران خان گھبراہٹ کے شکار ہیں ہیں ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا ہے،عمران خان احتساب سے بچنے کے لیے ڈرامے کر رہا ہے،بلاول بھٹو زرداری پہلے وزیر خارجہ ہیں جو بیرونی ملک کے دوروں کے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، عمران خان گرفتاری کے خوف سفارتی استثناء لیکر امریکہ جاتے تھے ،عمران اور مودی دونوں سفارتی استثناء لیکر امریکہ گئے پی ٹی آئی کے بہت سارے اسمبلی ممبر عمران خان کی قید سے آزادی چاہتے ہیں،

  • کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان اسمبلی توڑنے سے گریزاں،عمران خان ناراض

    کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان اسمبلی توڑنے سے گریزاں،عمران خان ناراض

    پشاور:کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان اسمبلی توڑنے سے گریزاں،عمران خان ناراض ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی دو صوبائی حکومتوں کی تحلیل ایک مسئلہ بن گئی ہے ، اطلاعات ہیں‌ کہ وزیراعلیٰ‌ کے پی محمود خان نے جمعہ کے روز اسمبلی کی تحلیل سے گریزا‌ں ہیں اور یہ شرط عائد کردی ہے کہ جب تک پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں ہوتی اس وقت تک کے پی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جائے گا

     

    اعظم سواتی نے ضمانت پر رہائی کے باوجود اسی جرم کا ارتکاب دوبارہ کیا،تفصیلی فیصلہ

     

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عمران خان محمود خان کے اس فیصلے پر کچھ خوش دکھائی نہیں دیتے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ عمران خان بہت جلد کے پی کے وزیراعلیٰ‌ کو لاہوربلا رہے ہیں‌، تاکہ ان کے ساتھ اسمبلی کی تحلیل کو حتمی شکل دی جاسکے

    اس سے پہلے آج خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی کی صورت حال واضح ہونے کے بعد پارٹی قیادت کی ہدایت پر عمل کروں گا۔حیات آباد سپورٹس کمپلکس پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے پنجاب اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ابھی پنجاب اسمبلی کے معاملے پر غور جاری ہے، پارٹی قیادت اور عمران خان پنجاب اسمبلی کا فیصلہ کریں گے اور اس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل پر بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل پر بات ہوگی تو فیصلہ ہوگا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہوں لیکن ابھی تک عمران خان نے مجھے اسمبلی تحلیل سے متعلق کوئی ہدایت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ آج عمران خان سے رابطہ ہوگا مگر پہلے پنجاب اسمبلی کے معاملات دیکھے جائیں گے۔

    اس سے قبل وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل عمران خان کے حکم کے مطابق ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اس امپورٹڈ حکومت کو الیکشن کے لیے مجبور کرنا ہے۔

  • سکولوں میں 25 ہزاراساتذہ کی بھرتی کی منظوری

    سکولوں میں 25 ہزاراساتذہ کی بھرتی کی منظوری

    سکولوں میں 25 ہزاراساتذہ کی بھرتی،عام آدمی کوانصاف کی فراہمی کیلئے فری لیگل ایڈ کی منظوری
    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی کابینہ کا 7 واں اجلاس منعقدہوا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کی خدمت کے فریضے کو بخوبی سرانجام دے رہی ہے۔ہم سب ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔عمران خان ہمارے لیڈر ہیں، ان کی آواز پر لبیک کہیں گے۔پی ٹی آئی اور مسلم لیگ قائداعظم کا اتحاد مضبوط ہے، دراڑیں ڈالنے کی ہر کوشش پہلے کی طرح ناکام ہوگی۔ ہمارا اتحاد عوام کی خدمت کیلئے ہے۔ کوئی بھی سازش پنجاب کے عوام کی خدمت سے ہمیں روک نہیں سکتی۔سازشیں کرنے والے منہ کی کھائیں گے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن میں 25ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ سکولوں میں 25 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی درخواست ملالہ یوسف زئی نے ملاقات میں کی تھی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ 25 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل جلد ازجلد شروع کیا جائے۔ پنجاب کابینہ نے عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کے لئے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے عام آدمی کو فری لیگل ایڈفراہم کرنے کی منظوری دی اور اس ضمن میں پنجاب پبلک ڈیفنڈر سروس بل، 2022 کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ کم وسائل رکھنے والے افراد کو پنجاب حکومت فری لیگل ایڈ دے گی اور پنجاب پبلک ڈیفنڈر سروس بل کی منظوری سے ایک ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔پنجاب کابینہ نے کاشتکاروں کے لئے سولر پمپس کی فراہمی کے پروگرام کا دائرہ کار صوبہ بھر میں بڑھانے کی منظوری دی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ سولر پمپس کی فراہمی کے پروگرام سے زرعی شعبہ ترقی کرے گا۔ کاشتکار کو پانی کی فراہمی یقینی بنا ئی جا سکے گی او رزرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ پنجاب کابینہ کے اجلاس میں کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لئے نئی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو جلد ازجلد نئی پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ پنجاب کابینہ نے2 ارب روپے کا سپورٹس انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دے دی۔چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ انٹرنیشنل کوچز کو مقامی کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے پاکستان بلایا جائے گا۔ انڈوومنٹ فنڈ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ ہوگا۔اجلاس میں IRMNCH اور نیوٹریشن پروگرام پنجاب کی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو خصوصی الاؤنس دینے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے خصوصی الاؤنس کو 5ہزار روپے تک بڑھانے کی منظوری دی۔اجلاس میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر (PILAC) کیلئے25کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں پنجابی زبان او رکلچر کو فروغ دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ نظرثانی شدہ پنجاب گورنمنٹ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2020 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کا شہباز شریف نے بیڑا غرق کیا۔قومی اخبارات کے ساتھ علاقائی اخبارات کو بھی اشتہارات کا مناسب کوٹہ ملنا ضروری ہے۔4ماہ میں جتنا کام کیا،10سال میں نہیں ہوا۔ اشتہارات کے ذریعے ہی عوام کو آگاہی حاصل ہوسکے گی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سوشل میڈیا پر خصوصی فوکس کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دور ڈیجیٹل میڈیاکا ہے، ڈی جی پی آر میں سوشل میڈیا ونگ کو مزید موثر بنایاجائے۔ کابینہ نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2022-23 کے لیے اضافی وسائل کی فراہمی کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ چند ماہ میں پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حجم میں 50ارب روپے کا اضافہ کیاہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کاحجم 685 ارب روپے سے 726ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔پنجاب کی تاریخ میں رواں مالی سال کے 5ماہ کے دوران ترقیاتی فنڈ کے گزشتہ برس کے مقابلے میں 85ارب روپے زائد خرچ ہوئے ہیں۔اجلاس میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایکٹ 2022میں ترامیم کی منظوری دی گئی اور سرکاری کالجز میں گریڈ 19تک کے پرنسپل کے عہدے پر تقرری کااختیار محکمہ ہائر ایجوکیشن کو دینے کی منظوری دی گئی۔پنجاب کابینہ نے لاہور میں 300ماحول دوست ہائبرڈ بسیں خریدنے کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ 300 ماحول دوست بسوں کی خریداری پر 15 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ لاہور میں خواتین کے لئے علیحدہ بس سٹاپ بنائے جائیں گے اور علیحدہ بسیں چلائی جائیں گی۔نابینا اوردیگر معذور افراد کے لئے بسوں میں دروازے کے ساتھ خصوصی نشستیں مخصوص کی جائیں گی۔ محمد ساجدکی قائمقام جنرل منیجر پنجاب پنشن فنڈ کے عہدے پر تقرری کی منظوری دی گئی۔

    کابینہ نے مینجمنٹ کمیٹی کو جنرل منیجر پنجاب پنشن فنڈ کے عہدے پر مستقل بنیادوں پر تقرری کے لئے ریکروٹمنٹ کا عمل شروع کرنے کی اجازت دی۔ پنجاب کابینہ نے کمرشل اکاؤنٹس میں موجود فنڈز کو استعمال میں لانے اور انوسٹمنٹ کی پالیسی اور کیش مینجمنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دے دی۔کیش مینجمنٹ فنڈ کے ذریعے حکومتی سکیورٹیز میں انوسٹمنٹ کی جا سکے گی۔فنڈز کے تمام امور کا جائزہ انوسٹمنٹ مینجمنٹ کمیٹی لے گی۔سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے پرافٹ کو ڈویلپمنٹ پر خرچ کیاجائے گا۔سرگودھا میں چودھری انور علی چیمہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام اور سکیم کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ چودھری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور میں علاج معالجہ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے تھلیم سکین اور ضروری مشینری خریدنے کی منظوری دی گئی۔ پنجاب کابینہ نے بار ایسوسی ایشنز کے لئے 27کروڑ روپے کی گرانٹ کے اجراء کی منظوری دی۔ جناح پبلک سکول اینڈ کالج حافظ حیات، گجرات کے مین گیٹ سے ملحقہ اراضی کے حصول کے لیے 129.49 ملین روپے کے فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی۔ پنجاب انوائرمینٹل ٹربیونل رولز 2012 کے تحت پنجاب انوائرمینٹل ٹربیونل کے ممبر (جنرل) محمد عرفان کی مدت میں توسیع، رحیم یار خان میں مینگو ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے سرکاری اراضی کی نشاندہی اور منتقلی،پنجاب مائننگ کنسیشن رولز، 2002کے تحت معدنی ذخائر کے بہتر استعمال کے لیے لائم سٹون پالیسی اور راک سالٹ یونیفارم پالیسی 2022 اور پنجاب مائننگ کنسیشن رولز 2002 کی متعلقہ دفعات میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔محکمہ تعلقات عامہ کے افسروں اور ملازمین کے لئے خصوصی الاؤنس کی اصولی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ آفس میں کام کرنے والے سکیورٹی عملے کیلئے اعزازیہ کی منظوری بھی دی گئی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی اورپنجاب کابینہ نے مستقل چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل اور نئے انسپکٹر جنرل پولیس عامر ذوالفقار کیلئے نیک خواہشات کااظہارکیا۔ سینئر صوبائی وزیرمیاں اسلم اقبال، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی

  • جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

    جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

    جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے جنرل ہسپتال میں جدید سہولیات سے آراستہ بریسٹ کینسرکلینک کاافتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس مرض میں مبتلا خواتین کیلئے یہ سہولت بہت بڑی نعمت ہے جہاں وہ اپنے مرض کی تشخیص علاج کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

    اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی و اے ایم سی پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آؤٹ ڈور میں قائم بریسٹ کلینک میں خواتین کو تمام سہولیات بشمول سکریننگ کیلئے جدید مشینری نصب کی ہے اور طبی معائنہ کیلئے گائنی و سرجری کے ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود رہیں گے۔ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ز صاحبان، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم بھی تقریب میں موجود تھے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر جیسے محنتی، فرض شناس اور قابل افسر قوم کا اثاثہ ہیں، حکومت ایسے افراد کی مکمل حوصلہ افزائی کرے گی۔ بعدازاں صوبائی وزیر صحت نے اکیڈمک کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمک کونسل میں بیٹھاہرپروفیسراپنے سٹوڈنٹس کیلئے رول ماڈل ہے۔ حکومت کا فرض ہسپتالوں کیلئے جدید عمارات کے ساتھ ساتھ ماڈرن طبی آلات و مشینری کی تنصیب شامل ہے جو حکومت مہیا کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تاہم میڈیکل ایجوکیشن کے اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹرز، نرسز دو دیگر سٹاف کو مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے، ان کی بہترین دیکھ بھال یقینی بنانے کیلئے اپنا پیشہ وارانہ و اخلاقی فریضہ سر انجام دیں۔ انہوں نے پی جی ایم آئی، امیر الدین میڈیکل کالج میں بہترین تعلیم و تربیت،تحقیق اور لاہور جنرل ہسپتال میں کوالٹی ہیلتھ کئیر کی فراہمی یقینی بنانے پر پرنسپل الفرید ظفر، فیکلٹی ممبران اور ہسپتال انتظامیہ کو شاباش دی اور توقع ظاہر کی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے۔

    پرنسپل پروفیسرڈاکٹرسردارظفرالفرید نے صوبائی وزیر صحت کوجنرل ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی تفصیلات بارے آگاہ کیا۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کابہترعلاج ومعالجہ اولین ترجیح ہے۔صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ہرآنے والامریض ہمارے لئے وی آئی پی ہے۔ہمارے دورمیں ہم روزانہ اپنے انچارج کو ہرمریض کی حالت بارے بتاکرگھرجاتے تھے۔ڈاکٹرکی خوش اخلاقی ہی مریض کی بیماری دورکردیتی ہے۔سرکاری ہسپتال عوام کے بجٹ سے بنائے جاتے ہیں اورپنجاب کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجہ میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعد ازاں پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال نے صوبائی وزیر صحت کو شیلڈ پیش کی۔

    اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟

    ڈاکٹر عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم روکنے کے حکم امتناعی میں سندھ ہائیکورٹ نے مزید توسیع کر دی ہ

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔