Baaghi TV

Category: لاہور

  • الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1500 مسیحی خاندانوں میں کرسمس تحائف تقسیم

    الخدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے 1500 مسیحی خاندانوں میں کرسمس تحائف تقسیم

    لاہور:کرسمس کی تقریبات ہوں یا مسیحی برادری کی خدمت کی ضرورت،الخدمت فاونڈیشن نے ہمیشہ خدمت میں پہل کی ، کچھ ایسا ہے آج ہوا ہے جس میں الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت لاہور میں 1500 نادار اور مستحق مسیحی خاندانوں میں کرسمس تحائف اور راشن پیک تقسیم کیے گئے۔

    اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے نائب صدر سید احسان اللہ وقاص نے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک دیتے ہوئے کہا کہ خوشیاں منانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے، ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے افراد کا خیال رکھیں جن کی خوشیاں وسائل نا ہونے کے باعث مانند پڑ جاتی ہیں۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ یوکرین روس جنگ میں‌ اب براہ راست شریک ہوچکا:روس

    انہوں نے کہا کہ الخدمت جس طرح عیدین کے مواقع پر مستحق اور نادار افراد میں عید تحائف تقسیم کرتی ہے، بالکل اسی طرح دیوالی اور کرسمس کے موقع پر بھی تحائف تقسیم کا کام کیا جاتا ہے۔ الخدمت سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی مسیحی متاثرہ خاندانوں میں کرسمس تحائف کی تقسیم کر رہی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی منافرت کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے اور رواداری ومذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب خدمات سر انجام دے رہی ہے۔تقریب میں شامل سکینہ بی بی نے بتایا کہ کہ الخدمت ہر سال کرسمس کے موقع پر ہمارے لیے تقریب کا انعقاد کرتی ہے، مہنگائی کے دور میں ہمارے لیے یہ تحفہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس کےلیے ہم الخدمت کے شکر گزار ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی چودھری شجاعت حسین سے ملاقات؛ سیاسی صورتحال زیر بحث

    الخدمت اقلیتی امو ر ٹاؤن شپ کے ذمہ دار پاسچر وقاص نے اِس موقع پر بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن گزشتہ 20سال سے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری میں تحائف تقسیم کا اہتمام کرتی ہے۔ تحائف کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے الخدمت کے رضاکار علاقے کا سروے کرتے ہیں اور مستحق افراد کو کوپن جاری کرتے ہیں۔

    الخدمت کیمونٹی سروسز کے نیشنل ڈائریکٹر عامر محمود چیمہ نے اِس موقع پر کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے ایسی تقریبات دنیا کے لئے ایک پیغام ہیں کہ ایک روادار معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی خوشی غمی کے ساتھی ہیں۔

  • پرویز الٰہی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کا سن کرشہبازگل ہسپتال سے بھاگ گئے

    پرویز الٰہی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کا سن کرشہبازگل ہسپتال سے بھاگ گئے

    لاہور:پرویز الٰہی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کا سن کرشہبازگل ہسپتال سے بھاگ گئے:سواتی اپنی بات سے ہی مُکرگئے،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسے انکشافات سامنے آرہے ہیں جن سے بڑی ہی دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے ، بتایا جارہاہے کہ شہبازگل ہسپتال میں زیرعلاج تھے لیکن جب یہ سنا کہ بچانے والا خود نہیں بچ پایا تو ہسپتال سے فرار کو ہی غنمیت جان لیا

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب وہ معمول کےمطابق وارڈز کا وزٹ کررہے تھے توبیڈ پر شہباز گل نہیں تھے ،ارد گرد کے لوگوں سے معلوم ہوا کہ شہبازگل جو جب بتایا گیاکہ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ‌ نہیں رہے تو بیمار شہباز گل وہاں سے بھاگ نکلا ،ڈاکٹروں کا یہ بھی ماننا ہےکہ شہباز گل اس وقت تک ہسپتال واپس نہیں آئے جبتک کہ شہبازگل کو یہ یقین نہ ہوگیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو بحال کردیا گیا ہے وہ ہسپتال نہ آئے

     

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے بحال ہوتے ہی شہبازگل واپس ہسپتال آگئے

    ادھر ایک اور پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کے متعلق بھی انکشافات سامنے آئےہیں ،کہا جارہاہے کہ اعظم سواتی کے وکیل بابراعوان نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی نے تو سابق فوجی سربراہ کے خلاف ٹویٹ ہی نہیں اور نہ ہی وہ ان کے خلاف بولے ہی نہیں اور نہ ہی یہ اکاونٹ اعظم سواتی کا ہے

    بابر اعوان کے اس بیان پر عوام الناس بھی حیران ہیں‌ کہ یہ لوگ کیسے ہیں کہ ایک طرف ببانگ دہل جرم کرتےہیں اورانکی زبان سے دھمکیاں اور اپنے مخالفین کے خلاف پراپیگنڈہ ہوتا ہے اور جب عدالت میں جاتے ہیں تو یہ لوگ انکاری ہوجاتےہیں‌ جیسا کہ وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے

    اعظم سواتی نے جوکچھ کہا وہ ہرپاکستانی نے جان لیا ، سن لیا مگرعدالت کوسچ نہیں بتایا جارہا مگریہ کب تک ایسا چلے گا

  • اعظم سواتی جیل سے باہر آنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لینے لگے

    اعظم سواتی جیل سے باہر آنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لینے لگے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اپنی بات سے مکر گئے

    تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی جنہوں نے نہ صرف ٹویٹر بلکہ اپنی تقریروں میں بھی اداروں پر تنقید اپنا وطیرہ بنا لیا تھا، ان پر مقدمہ بنا، گرفتاری ہوئی، ضمانت پر رہائی ہوئی لیکن وہ باز نہ آئے، اعظم سواتی پر دوبارہ مقدمہ بنا، دوبارہ گرفتاری ہوئی لیکن رہائی نہ ہو سکی،دوبارہ جرم کرنے کی وجہ سے عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد اعظم سواتی نے آج پھر درخواست ضمانت دائر کی ہے

    آج کی جانیوالی درخواست ضمانت میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی اپنی کہی بات سے مکر گئے ، سواتی کے رجسٹرڈ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کئی گئے ٹوئٹ اب بھی پروفائل پر موجود ہے، اسکے باوجود سواتی نے عدالت کے سامنے غلط بیانی کی ، بد زبانی کر کے مکر جانا پی ٹی آئی لیڈر شپ کا وطیرہ بنتا جا رہا ہے
    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

    اعظم سواتی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست ضمانت میں جھوٹ بولاگیا، کیا اعظم سواتی جھوٹ بول کر ضمانت حاصل کرنا چاہتے ہیں، ریاست مدینہ کے دعویدار عمران خان کے ساتھ جیل کیا گئے ، جھوٹوں کے انبار ہی لگا دیئے، شاید وہ اپنے لیڈر کے ہی طرز عمل پر چل رہے ہیں، کیونکہ عمران خان اپنے بیان بدلنے کو یوٹرن کہتے ہیں اور اعظم سواتی بھی اس ٹویٹ کو یوٹرن کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا ثبوت موجود ہے، اعظم سواتی کا ٹویٹر اکاؤنٹ کوئی اور کیسے استعمال کر سکتا ہے، اعظم سواتی کے اصلی ٹویٹر اکاؤنٹس سے ٹویٹ کی گئی ہیں

    اعظم سواتی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیا مؤقف پیش کرتے ہوئے متنازعہ ٹویٹس سے لاتعلقی کا اظہارکیا ہے، اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ مجھ پر جن ٹویٹس کا الزام ہے وہ میں نے نہیں پوسٹ کہیں،

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

     

  • سپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے کر پنجاب کو کرپشن سے بچائے، وزیر داخلہ

    سپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے کر پنجاب کو کرپشن سے بچائے، وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ نے گزشتہ روز کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے، لاہور میں ن لیگ کے اہم اجلاس کے بعد ن لیگی رہنماؤں وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ فیصلے کو ہم قانونی فورم پر چیلنج کریں،آئین یہی کہتا ہے کہ جس کے پاس اکثریت ہے وہ حکومت کرے

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں کسی کی انا اور ضد میں توڑنے کی بات کی جارہی ہے،اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں، ان کے ساتھ مذاق نہیں ہونی چاہیے گورنر نے اپنا آئینی حق استعمال کیا،پرویزالہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، لاہورہائی کورٹ نے فیصلہ کیا ،کبھی ایسے نہیں ہوتا کہ انٹیرم ریلیف میں الٹی میٹ ریلیف دے دیں، 18دن میں ایک ایک دن پنجاب کے خزانے پر بھاری گزرے گا، کرپشن کا بازار گرم ہو گا،ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہوگا،ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت عظمی ٰکو نوٹس لینا چاہیے، سپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے کر پنجاب کو کرپشن سے بچائیں، حکم امتناعی پر ان کو مکمل اختیار دینا ظلم کے مترادف ہے،اگر بندے پورے ہیں تو اعتماد کا ووٹ لے لیں،خیبرپختونخوا اسمبلی کیوں نہیں توڑی یہ ملک دشمن ایجنڈے پر گامزن ہیں، قومی اسمبلی میں استعفے دینے کیلئے پیش کیوں نہیں ہوئے؟

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے ملک کے مفاد میں بڑا فیصلہ کیا، ہم نے ملک کو سنبھالااتحادی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ہے، وزیراعظم دن رات ملک کیلئے محنت کررہے ہیں،عدالت عالیہ اور عظمیٰ سے مطالبہ ہے کہ سو موٹو ایکشن لیا جائے، عدالت کرپشن اور لوٹ مار پر روک لگائیں، عوام کو اس کا ادراک اور شناخت کرنا چاہیے،ہمیں الیکشن کا کوئی خوف نہیں، وہ اپنے وقت پر ہوگا، ہم نے پنجاب میں الیکشن کی تحریک شروع کر دی ہے، پہلے یہ اعتماد کاووٹ لیں،پھراسمبلیاں توڑے اور میدان میں آئیں، یہ اپنے لوگوں کو2،2 ارب روپے کی آفر کررہے ہیں، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بدترین صورتحال ہے،

    پنجاب حکومت کو اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے،خواجہ سعد رفیق
    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کے ساتھی اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،گورنر نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کو کہا مگر انہوں نے نہیں لیا،وزیراعلیٰ نے گورنر کےنوٹیفکیشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،گزشتہ روز کے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے میں قانونی خلا موجود ہے،پرویز الہٰی کو عدالت نے سویٹ آپشن دیا کہ اگر چاہے تو ووٹ لیں ،اسمبلیاں بچوں کا کھیل نہیں ،جب چاہے بنادیا اور چاہا تو توڑ دیا پنجاب حکومت کو اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے خیبر پخونخوا اسمبلی بھی توڑی جاسکتی تھی لیکن سارے خرچے کون اٹھائے گا،جب بھی ہم کام کرنے لگتے ہیں عمران خان رکاوٹیں ڈالنا شروع کرتے ہیں ،گورنرکے نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے پر غورکررہے ہیں،عمران خان چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمینٹ سیاست میں ملوث ہوگزشتہ روز عمران خان نے اسٹیبلشمینٹ کو سیاسی مداخلت کےلیے دعوت دی ادارے کہہ چکے ہیں کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے،

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا،شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی پی ڈی ایم کا مؤقف ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں،ہم آئینی تبدیلی کے بعد حکومت میں آئے تھے،عدالت کے گزشتہ روز کے فیصلے میں سقم موجود ہیں،پرویزالہٰی کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں امکان ہے کہ فیصلے کو ہم قانونی فورم پر چیلنج کریں،آئین یہی کہتا ہے کہ جس کے پاس اکثریت ہے وہ حکومت کرے آج یا 18رہ دن بعد اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا،ہم وفاق میں ہیں مگرکسی کو ڈسٹرب نہیں کیا،عمران خان کی صوبوں کی میں حکومت ہےعوام کی خدمت کریں،صوبائی اسمبلیاں توڑنا ہوتیں تو آغاز کے پی کے سے ہوسکتا تھا،

    پی ٹی اراکین بھی نہیں چاہتے کہ ایک سال پہلے اسمبلی ٹوٹے،طارق بشیر چیمہ
    ق لیگی رہنما طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی اراکین بھی نہیں چاہتے کہ ایک سال پہلے اسمبلی ٹوٹے،ق لیگ کے 10 اراکین میں سے ایک چودھری پرویزالہٰی ہیں،اعتماد کے ووٹ کے دن پتہ چلے گا کتنے لوگ چودھری شجاعت اور کتنے پرویز الہٰی کیساتھ ہیں

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

    اعتماد کا ووٹ نہ لینے سے جنوری میں پنجاب سے پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جائے گی

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی، لاہور سے سات دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، لاہور سے سات دہشتگرد گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش حملے کے بعد پنجاب میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے، اس دوران سی ٹی ڈی نے سات دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے ، گرفتار دہشت گردوں کی شناخت خالد ، محسن ،عثمان ، شیر محمد ، لقمان اور فاروق کے طور پر ہوئی

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے گرفتار کئے گئے دہشتگردوں سے بارودی مواد، اسلحہ، ممنوعہ لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے ملزمان پنجاب میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں، ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں اس ہفتے 443 کوبنگ آپریشن کئے ہیں،

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

    دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان نے دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کے پیش نظر صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ صوبائی دارالحکومت لاہورسمیت تمام اضلاع میں حساس و عوامی مقامات کے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جائیں۔ آئی جی پنجاب نے تمام اضلاع کے فیلڈ افسران کو سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آر پی اوز اور ڈی پی اوز اپنے اضلا ع میں اہم تنصیبات، عبادت گاہوں، ہسپتالوں اور پارکوں سمیت دیگرحساس مقامات کے سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنائیں۔ عامرذوالفقار خان نے کہاکہ تمام اضلاع میں سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے اور بین الصوبائی اور بین الاضلائی چیک پوسٹوں پر چیکنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ اسپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں تیزی لائیں اور سماج دشمن و شدت عناصر کے قلع قمع میں ضلعی پولیس ٹیموں کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں

  • معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
    اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘

    ’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا
    ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
    ۔۔۔
    ’اے دِل کسی کی یاد میں
    ہوتا ہے بے قرار کیوں‘

    سنہ 1946میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔
    ’آ میرے پیار کی خوشبو
    منزل پہ تجھے پہنچائے
    آ میرے پیار کی خوشبو‘

    ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔
    آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

    ’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہریالی
    گجر
    جلترنگ
    روزن
    جھومر
    مطربہ
    چھتنار
    گفتگو
    پیراہن
    آموختہ
    ابابیل
    برگد
    گھنگرو
    سمندر میں سیڑھی
    پھوار
    صنم
    پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • پاکستان کرکٹ بورڈ نےپاکستان سپرلیگ 8 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نےپاکستان سپرلیگ 8 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی نے پاکستان سپرلیگ سیزن 2023 کے میچز کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کردیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں سیزن کے میچز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کرانے کا اعلان کمیٹی سربراہ نجم سیٹھی نے مینجمنٹ کمیٹی کی پہلی مینٹنگ کے بعد نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

    پشاور میں اسٹیڈیم بن رہا ہے ،6ماہ تکمیل کے لیے درکارہے ،نجم سیٹھی

    انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے کوئٹہ میں بھرہور سکیورٹی کی یقین دہانی کرادی گئی ہے، اسی لیے کوئٹہ میں میچز کرانے کا فیصلہ کیا۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کل کیا جاسکتا ہے جب کہ انہوں نے قومی ٹیم لیے لیے تجربہ کار غیرملکی کوچز بھی لانے کا عندیہ بھی دے دیا۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی سربراہ نے بتایا کہ ایجنڈے میں بہت کچھ تھا جو مکمل نہیں ہوسکا، اب ہفتے کو دوبارہ اجلاس ہوگا، فی الحال ہم نے سلیکشن کمیٹی سمیت تمام کمیٹیاں ختم کردی گئی ہیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ڈومیسٹک میں پاکستان کپ شیڈول کے مطابق ہوگا تاہم دوسرے تمام پروگرام روک دئیے گئے ہیں اور ڈومیسٹک کوچز کو بھی فارغ کیا جارہا ہے۔

    نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ چھ ریجنل ایسوسی ایشنز کو ختم کردیا گیا ہے، بورڈ ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کریں گے جب کہ باقی پورے سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اسٹارز کرکٹرز ہمارا اثاثہ ہیں، ان کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں گے تاہم قومی ٹیم کے لیے تجربہ کار غیرملکی کوچز کی تقرری کریں گے۔

    پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    کمیٹی سربراہ نجم سیٹھی نے پریس بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ ماضی میں بھی غیرملکی کوچز کی تعنیاتی کا تجربہ کامیاب رہا تھا، کرکٹ کو درست سمت پر گامزن کریں گے۔

  • پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ ترمیمی بل منظور

    پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ ترمیمی بل منظور

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں خاتم النبیینؐ یونیورسٹی، قرآن ایکٹ کا ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاتم النبیینؐ، یونیورسٹی اور قرآن ایکٹ کا بل پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں، متفقہ طور پر بل کی منظوری پر سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ تمام اراکین اسمبلی کی جانب سے بل کی منظوری سے مثبت اور اچھا پیغام گیا ہے، تمام سرکاری و نجی سکولوں میں ایف اے تک ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے، اس ضمن میں صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن مراد راس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

     

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ہماری حکومت کے دور میں دین کی سربلندی اور ختم نبوتؐ کے حوالے سے تاریخ ساز قانون سازی ہوئی ہے، اللہ تعالٰی نے دین کی خدمت کی سعادت عمران خان، پی ٹی آئی اور ہمیں دی ہے، اللہ تعالٰی نے ہمیں یہ حکومت محمدؐ کے صدقے عطا کی ہے، اللہ تعالٰی ہی اس کی حفاظت کرے گا، بلاشبہ جو دین کا کام کرتے ہیں اللہ تعالٰی ان کی حفاظت کرتا ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ دشمن جو مرضی کر لے یہ حکومت قائم رہے گی، تمام مخالفین کو ندامت اٹھانا پڑے گی، انشاء اللہ دین کے دشمن ہمیشہ ناکام رہے ہیں اور رہیں گے، ہم کسی سے نہیں مانگتے، صرف اللہ تعالٰی اور اللہ کے پیارے نبیؐ سے مانگتے ہیں۔

    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دین دار طبقے کی دعا ہے کہ ہم دین کی خدمت کے کام کو جاری رکھیں، انشاءاللہ ہم اور ہماری نسلیں دین کی خدمت کے کام کو جاری و ساری رکھیں گی، عام آدمی کو فری لیگل ایڈ کی فراہمی کے لئے پنجاب پبلک ڈیفنڈر سروس بل کی منظوری بھی تاریخی اقدام ہے۔
    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے عام آدمی کو پنجاب حکومت فری لیگل ایڈ دے گی، عام آدمی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی، جس سے کم وسائل رکھنے والے افراد کو بہت ریلیف ملے گا اور ایک ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ،عمران خان کےفیصلے پرمکمل عملدرآمد ہوگا۔: پرویزالٰہی

    اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ،عمران خان کےفیصلے پرمکمل عملدرآمد ہوگا۔: پرویزالٰہی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو مبارک ہو، آج عدالت نے گورنر کی آئین شکنی کا راستہ روک دیا، اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے، عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔

    اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں منتخب حکومت پر شب خون کی کوشش ناکام ہوگئی ہے، امپورٹڈ حکومت کے سلیکٹڈ گورنر نے آرٹیکل 58(2) بی بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا راستہ روک دیا گیا ہے، اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ حتمی ہے، عمران خان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کو بحال کردیا

    انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو عوام کے کٹہرے میں پیش کریں گے اور حتمی فیصلہ عوام کا ہو گا، گورنر کے خلاف آج صوبائی اسمبلی کی قرارداد اہمیت کی حامل ہے، اس قرارداد کی روشنی میں صدر سے درخواست کر رہے ہیں کہ گورنر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔

    ہیکر پھر میدان میں، آڈیوز، ویڈیوز کی برسات پنجاب ،کٹا کھل گیا،پرویز الہی فارغ۔

    یاد اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب کی جانب سے چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔

    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے اسمبلی نہ توڑنے کے بیان حلفی پر گورنر کا نوٹیفکیشن معطل کیا، عدالت نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان ، اٹارنی جنرل اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیا اور سماعت گیارہ جنوری تک معطل کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے دوبارہ سماعت کا آغاز کیا تو بیرسٹر علی ظفر نے پرویز الٰہی کا دستخط شدہ بیان حلفی جمع کرا دیا، مونس الہی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

  • ڈینگی مکاؤ پروگرام میں گھوسٹ ورکرزکی بھرتیوں اور خلاف قانون ادائیگیوں کا انکشاف

    ڈینگی مکاؤ پروگرام میں گھوسٹ ورکرزکی بھرتیوں اور خلاف قانون ادائیگیوں کا انکشاف

    لاہور ڈینگی مکاؤ پروگرام میں مبینہ کرپشن، بوگس بھرتیوں، فرضی مہم، بے ضابطگیوں اور مبینہ ہزاروں گھوسٹ ورکرز کو ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 3 سال میں17 ہزار 57 ڈینگی ورکرز بھرتی کیے گئے۔ مذکورہ ورکرز کو ایک ارب کی خلاف قانون ادائیگیاں کی گئیں جبکہ مجموعی طورپرایک ارب 70کروڑ کی ادائیگیاں کی گئی۔

    بینظیربھٹو کی استاد اورکانونٹ جیسز اینڈ میری اسکول کی سابق پرنسپل انتقال کرگئیں

    رپورٹ کے مطابق ورکرز کی بھرتیوں میں قانون پرعمل نہیں کیا گیا جبکہ 70 فیصد ورکرز کو کیش پیمنٹ کی گئی۔ کروڑوں کے کیش کی تقسیم کا ریکارڈ بھی نہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے,دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 10 زون زون کے سیمپل سروے میں متعدد ورکرزڈینگی مہم سے بالکل لاعلم نکلے۔ کئی علاقوں میں جعلی ڈینگی مہم دکھائی گئی۔

    ننکانہ:ریسکیو1122کا حالیہ موسمِ سرما اور شدید دھند کی وجہ سے بڑھتے ہوئے حادثا ت کے…

    راوی زون میں 50لاکھ کے 60چیک بوگس نکلے، علامہ اقبال زون میں 30سال میں 29 کروڑ کی خلاف ضابطہ ادائیگیاں کیش میں کی گئیں۔

    اسلام آباد میں سی ٹی ڈی کا آپریشن،ایک ملزم گرفتار،بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد

    پاکستان میں ہر سال ڈینگی وائرس کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ ڈینگی ان علاقوں میں بھی پھیل سکتا ہے جہاں یہ وائرس پہلے نہیں تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق گلوبل وارمنگ کے سامنے آنے والے خوفناک اثرات، ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور مستقبل میں مون سون موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کے پیش نظر پاکستان کے ان علاقوں میں بھی ڈینگی وائرس پھیلنے کے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جن علاقوں میں یہ وائرس پہلے کبھی نہیں پھیلا تھاوہاں بھی اب اس کا پھیلاو جاری ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ وائرس مزید علاقوں میں پھیل رہا ہے