Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب میں سیاسی ہلچل: پاکستان تحریک انصاف کا گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کا فیصلہ

    پنجاب میں سیاسی ہلچل: پاکستان تحریک انصاف کا گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کا فیصلہ

    پنجاب میں سیاسی ہلچل: پاکستان تحریک انصاف کا گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق پنجاب کی سیاست میں ہلچل پر پی ٹی آئی بھی متحرک ہوگئی، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل (جمعرات کو) طلب کرلیا۔ گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا جس سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان خطاب کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کیلئے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی جس کے بعد گورنر پنجاب نے بھی چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیا۔

    پنجاب کی سیاسی صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف نے بھی پتے شو کر دیے، پی ٹی آئی گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرہ کرے گی ساتھ ہیاسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کو ہٹانے کیلئے صدر مملکت کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ فواد چوہدری کہتے ہیں صدر گورنر کو ہٹا سکتے ہیں۔پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو شام 5 بجے گورنر ہاؤس کے باہر اکٹھے ہونے کی ہدایت کردی۔

    پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا صوبے کی سیاسی صورتحال پر اجلاس جمعرات کو ہوگا۔

  • پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب کی ايڈوائس نظر انداز کردی گئی۔ پنجاب اجلاس ہوا نہ وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لیا پرويزالہٰی وزيراعليٰ ہيں يا نہيں؟ آئيني اور قانونی سوال اٹھ گئے۔دوسری طرف وزير داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہيں پرويزالہٰی کو اعتماد کا ووٹ تو لينا ہی پڑے گا۔ غیرآئینی اقدام پر پرویزالہٰی چیف منسٹرنہیں رہیں گے۔ گورنر ڈیکلریشن میں کہہ سکتے ہیں کہ آپ منتخب وزیراعلیٰ نہیں رہے۔

    ٹھٹھہ : 24 گھنٹے عوام کی خدمت کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں -منظور احمد خشک

    دوسری جانب گورنرہاؤس لاہور میں اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کاووٹ نہ لینے کے معاملے پر مختلف قانونی نکات پرمشاورت کی گئی۔پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ کے بعد گورنر پنجاب کسی بھی وقت وزیراعلی پنجاب پرویزالہیٰ کوڈی نوٹی فائی کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ مقررہ وقت گزرتا جارہا ہے لیکن ایوان کا اجلاس نہ ہو سکا، پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ تمام نظریں گورنر ہاؤس پر مرکوز ہیں، ایوان وزیر اعلیٰ لاہور کے باہر کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔

    رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو اعلان کردہ ہدف سے3 یا 4فیصد سے کم رہے گی.رپورٹ

    دریں اثنا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کہتے ہیں کہ گورنر پنجاب کے فیصلے کا انتظار ہے، اس کے بعد اگلا لائحہ عمل دینگے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس قانونی آپشن موجود ہیں۔

    اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کیلئے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس جاری ہے، گورنر بلیغ الرحمن نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں تمام قانونی اور آئینی نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو آج شام 4 بجے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر بلیغ الرحمن کی ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

  • ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان کا چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد

    ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان کا چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد

    لاہور:ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان نےوزیراعلیٰ‌ چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد پاکستان مسلم لیگ ق کی پنجاب پارلیمانی پارٹی میں شامل تمام 10 ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی پر اعتماد کا اظہار کردیا۔

    مسلم لیگ ق کی پنجاب پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی اور پارلیمانی لیڈر ساجد بھٹی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے پرویزالٰہی کی قیادت پر بھرپوراعتماد کا اظہار کیا اور تمام فیصلوں کا اختیار پرویز الٰہی کو دے دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں وزیر اعلیٰ، اسپیکراور ڈپٹی اسپیکرکو ووٹ دیں گے۔

    وانا، وزیرستان : وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کمپلینٹ کولیکشن سنٹر کا افتتاح کردیا،

    پارلیمانی پارٹی کا کہنا تھاکہ پرویز الٰہی کی قیادت میں ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی متحد اور یکجان ہے، پرویز الٰہی کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ق لیگ پارلیمانی پارٹی کا کہنا تھاکہ پارلیمانی، سیاسی اور عوامی قوت کے ساتھ پرویزالٰہی کے شانہ بشانہ ہیں، اختلافات کا پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم عزائم ناکام ہوں گے۔

    حکومت کے ساتھ قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وسائل کی بچت کرے. وفاقی وزیر

    اس موقع پر پرویز الٰہی کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ق متحد ہے اور رہے گی، افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    پاکستان نیوزی لینڈ سیریز، قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ادھر اس سے پہلے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران گورنر نے ایڈوائس جاری کر کے مس کنڈکٹ کیا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے صدر کو خط لکھ دیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں گورنر کے غیر آئینی اقدام کی نشاندہی کی گئی، سپیکر نے صدر مملکت سے گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی، گورنر صدر کا نمائندہ ہے اسے آئین شکنی پر مبنی اقدامات سے روکا جائے۔

    صوبائی وزیر قانون نے سپیکر کی جانب سے صدر کو خط لکھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے مس کنڈکٹ کے خلاف سپیکرپنجاب اسمبلی نے صدر مملکت کو خط لکھ کر گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔

  • گورنر پنجاب نے ایڈوائس جاری کر کے مس کنڈکٹ کیا، سپیکر نے صدر کو خط لکھ دیا

    گورنر پنجاب نے ایڈوائس جاری کر کے مس کنڈکٹ کیا، سپیکر نے صدر کو خط لکھ دیا

    لاہور: پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران گورنر نے ایڈوائس جاری کر کے مس کنڈکٹ کیا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے صدر کو خط لکھ دیا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں گورنر کے غیر آئینی اقدام کی نشاندہی کی گئی، سپیکر نے صدر مملکت سے گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی، گورنر صدر کا نمائندہ ہے اسے آئین شکنی پر مبنی اقدامات سے روکا جائے۔

     

    وانا، وزیرستان : وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کمپلینٹ کولیکشن سنٹر کا افتتاح کردیا،

    صوبائی وزیر قانون نے سپیکر کی جانب سے صدر کو خط لکھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے مس کنڈکٹ کے خلاف سپیکرپنجاب اسمبلی نے صدر مملکت کو خط لکھ کر گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔

    راجہ بشارت نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا خط میں گورنر کے غیر آئینی اقدام کی نشاندہی کی گئی ہے، آئین کے آرٹیکل 101سب آرٹیکل 3 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ گورنر کو گھر بھیج دیں۔

    پاکستان نیوزی لینڈ سیریز، قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ادھر اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ گورنر جب چاہیں وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی جو مرضی کر لے آئین سے مزاحمت نہیں کر سکتی، بلیغ الرحمان گورنر راج کے نفاذ کیلئے وزیراعظم کو درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں اگر ہیں تو اعتماد کا ووٹ لے لیں، حمزہ شہباز ہی وزیر اعلیٰ کے متفقہ امید وار ہیں، میرے علم میں نہیں کہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی سے کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں۔

  • پاکستان نیوزی لینڈ سیریز، قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    پاکستان نیوزی لینڈ سیریز، قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    کراچی:پاکستان کرکٹ کا سیزن پھر شروع ہونے کو ہے اور اس سلسلےمیں‌ نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کیلیے پاکستان کے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا، اسکواڈ میں مڈل آرڈر بلے باز کامران غلام اور فاسٹ بولر حسن علی کو شامل کیا ہے۔

     

     

    دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ 26 دسمبر سے نیشنل بینک کرکٹ ایرینا کراچی (نیشنل اسٹیڈیم) میں کھیلا جائے گا، کامران غلام کوٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے سابق قومی کپتان اظہر علی کی جگہ شامل کیا گیا ہے جبکہ حسن علی نے محمد علی کی جگہ لی ہے،جنہیں فہیم اشرف کی طرح کراچی میں جاری پاکستان کپ میں شرکت کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    کراچی ٹیسٹ میں ٹاس ہارکر بولنگ کرنا ایک چیلنج تھا،بین اسٹوکس

     

    انجری کا شکارحارث رؤف کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، وہ راولپنڈی ٹیسٹ میں فیلڈنگ کے دوران لگنے والی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم کندھے کی تکلیف کی وجہ سے ملتان اور کراچی ٹیسٹ سے باہر ہونے والے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو فٹ قرار دے کر پاکستان اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔

     

    ٹیم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا، بابر اعظم

    اسکواڈ

    بابر اعظم (کپتان)، عبداللہ شفیق، ابرار احمد، حسن علی، امام الحق، کامران غلام، محمد نواز، محمد رضوان، وسیم جونیئر، نسیم شاہ، نعمان علی، سرفراز احمد، سلمان علی آغا، سعود شکیل، شان مسعود اور زاہد محمود پر مشتمل ہے۔

    70 سال میں پہلی بار پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش

     

    ٹیسٹ اور ون ڈے کیلیے امپائرز پینل کا اعلان

    پاک نیوزی لینڈ ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے لیے امپائرز کا بھی اعلان کیا گیا یے، پہلے ٹیسٹ میں ایلکس وارف اور علیم ڈار (آن فیلڈ)، احسن رضا (تھرڈ امپائر)، آصف یعقوب (فورتھ امپائر) اور محمد جاوید ملک (میچ ریفری) ذمہ داری ادا کریں گے جبکہ 3 تا 7 جنوری کھیلے جانے والے دوسرے ملتان ٹیسٹ میں ایلکس وارف اور علیم ڈار (آن فیلڈ)، احسن رضا (تھرڈ امپائر)، راشد ریاض (فورتھ امپائر)، ڈیوڈ بون (میچ ریفری) فرائض انجام دیں گے۔

     

    کراچی میں 10 جنوری کو کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں علیم ڈار اور آصف یعقوب (آن فیلڈ)، احسن رضا (تھرڈ امپائر)، فیصل آفریدی (فورتھ امپائر)؛ ڈیوڈ بون (میچ ریفری) جبکہ 12 جنوری کو دوسرے ون ڈے میں علیم ڈار اور راشد ریاض (آن فیلڈ)، آصف یعقوب (تھرڈ امپائر)، فیصل آفریدی (فورتھ امپائر)، ڈیوڈ بون (میچ ریفری) اسی طرح 14 جنوری کو تیسرے ون ڈے میں علیم ڈار اور احسن رضا (آن فیلڈ)، راشد ریاض (تھرڈ امپائر)، فیصل آفریدی (فورتھ امپائر)؛ ڈیوڈ بون (میچ ریفری) کے فرائض انجام دیں گے۔

  • اینٹی کرپشن؛ گاڑیوں کی بوگس انٹری میں ملوث افسران کےخلاف جوڈیشل کارروائی کا حکم

    اینٹی کرپشن؛ گاڑیوں کی بوگس انٹری میں ملوث افسران کےخلاف جوڈیشل کارروائی کا حکم

    لاہور:محکمہ اینٹی کرپشن نے 4 ہزار 397 گاڑیوں کی بوگس انٹری میں ملوث افسران کے خلاف جوڈیشل کارروائی کا حکم دے دیا۔محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے گاڑیوں کی بوگس انٹری میں ملوث کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے لئے محکمہ ایکسائز کو خط لکھ دیا ہے۔

    اینٹی کرپشن کی جانب سے 4 ہزار397 گاڑیوں کی بوگس انٹری میں ملوث پانچ ڈائریکٹرز سمیت 12 افسران کی نشاندہی کی گئی ہے، اور ان کے خلاف جوڈیشل جوڈیشل کارروائی کا حکم دیا ہے۔

    دستاویز میں ڈائریکٹر قمر، آصف، رضوان اور سہیل ارشاد کے نام شامل ہیں، جب کہ کلرک عدیل،آی ڈی او ضیغم اور اسکیننگ آفیسر ناصر کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔دستاویز میں انسپکٹرایکسائزعبدالوحید، انسپکٹر شہزاد صفدر، ای ٹی اوعدیل اور ندیم قادر کے خلاف بھی جوڈیشل ایکشن کا حکم دیا گیا ہے۔

    ادھر پاکستان میں پہلے ہی آٹو انڈسٹریز کو بحران کا سامنا ہے ،پاکستان میں ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ نے 10 دنوں کیلئے اپنا پروڈکشن پلانٹ مکمل طور پر بند کر دیا۔ ایس ای سی پی کو آگاہ کردیا گیا۔ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی نے پیر کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف کمیشن کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ کمپنی 10 روز کیلئے اپنا پروڈکشن پلانٹ مکمل طور پر بند کررہی ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے متعارف کرائے گئے طریقۂ کار کے تحت آٹو انڈسٹری کو بیرون ملک سے ’کمپلیٹلی ناک ڈاؤن‘ کٹس اور کاروں کی دیگر اشیاء درآمد کرنے کیلئے پیشگی اجازت لینے کیلئے کہا گیا تھا۔

  • آج رواں برس کی طویل ترین رات  اور دن مختصر ترین ہوگا

    آج رواں برس کی طویل ترین رات اور دن مختصر ترین ہوگا

    22 دسمبر کو سال کی طویل ترین رات ہوگی اور مختصر ترین دن ہوگا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 22 دسمبر سال 2022ء کی طویل ترین رات اور مختصر ترین دن ہوگا رات کا دورانیہ تقریباً 14 گھنٹے اور دن کا دورانیہ 10 گھنٹوں پر محیط ہوگا ،سورج پانچ بج کر ایک منٹ پر غروب ہوگا۔

    23دسمبر سے دن کا دورانیہ بڑھنے لگے گا جبکہ رات کا دورانیہ کم ہونا شروع ہو جائے گا،جنوبی پنجاب میں رات کا دورانیہ13گھنٹے 58منٹ اور دن 10گھنٹوں پر محیط ہو گا تاہم 21 اور 22 مارچ کو دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا۔

    خیال رہے کہ 21 دسمبر کے بعد سے راتیں مختصر اور دن طویل ہونا شروع ہوجائیں گے اور 21 جون کو سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہوگی۔

  • 4 بجے کے بعد پرویز الٰہی وزیر اعلٰی پنجاب نہیں رہیں گئے:رانا ثناءاللہ وفاقی وزیر داخلہ

    4 بجے کے بعد پرویز الٰہی وزیر اعلٰی پنجاب نہیں رہیں گئے:رانا ثناءاللہ وفاقی وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ چودھری پرویز الہٰی 4 بجے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں رہیں گے۔اطلاعات کے مطابق اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گورنر پنجاب 4 بجے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیں گے، 4 بجے کے بعد چودھری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو درخواست بھی کر سکتے ہیں کہ گورنر راج لگا دیا جائے، گورنر جب چاہیں وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ گورنر جب چاہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں، اور آئین کا آرٹیکل 130 بڑا واضح ہے، آئین میں لکھا ہے اعتماد کا ووٹ نہ لیں تو پرویزالہٰی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے حمزہ شہباز ہی وزیراعلیٰ کے متفقہ امیدوار ہیں، میرےعلم میں نہیں کہ پرویزالہیٰ سے کوئی ڈائیلاگ ہو رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کچھ بھی کرلے آئین سے مزاحمت نہیں کرسکتی، مزاحمت جاری رہی تو بلیغ الرحمان وفاق کو گورنرراج کا کہہ سکتے ہیں، آرٹیکل 234 کے تحت گورنر وفاق کو لکھیں گے کہ آئین پرعمل نہیں ہورہا۔

    رانا ثناللہ کا کہنا تھا کہ پرویزالہٰی خود کہہ چکے ہیں کہ 99 فیصد ارکان اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں، اس کا مطلب وہ ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی مبینہ آڈیو سے متعلق سوال پر وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جو آڈیو ہے یہ حقیقت ہے، عمران خان کی ویڈیو بھی موجودہیں جو آڈیو میں ہے وہ ویڈیو میں ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کردیا، گورنر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کیلئے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس جاری ہے، گورنر بلیغ الرحمن نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں تمام قانونی اور آئینی نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو آج شام 4 بجے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر بلیغ الرحمن کی ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

  • بابر اعظم ہی کپتان رہے گا،یہی ٹیم پاکستان کو 2023 اور 2024 کا ورلڈکپ جتوائے گی،شاہین شاہ آفریدی

    بابر اعظم ہی کپتان رہے گا،یہی ٹیم پاکستان کو 2023 اور 2024 کا ورلڈکپ جتوائے گی،شاہین شاہ آفریدی

    انگلینڈ کے خلاف تین میچوں میں بدترین شکست کے بعد کپتان بابراعظم کی حمایت میں قومی ٹیم کے کھلڑیوں شاہین شاہ آفریدی اور حارث روؤف نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کراچی ٹیسٹ جیت کر انگلش کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر 70 سال میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کیا، جس کے بعد تجزیہ کاروں اور کرکٹ حلقوں میں یہ بات زیر گردش تھی کہ بابراعظم کی جگہ کسی اور کو کپتان نامزد کیا جائے۔

    دوسری جانب کپتان بابراعظم کی سپورٹ میں فاسٹ بولر شاہین آفریدی اور حارث رؤف نے بابر اعظم کی سپورٹ کے حوالے سے ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے ٹوئٹ کیا-


    حارث رؤف نے کپتان بار اعظم کے ساتھ اپنی تصویر شئیر کرتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’بابراعظم ہمارے کپتان ہیں اور ہمیشہ رہیں گے‘‘-

    اسی طرح شاہین آفریدی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ بابراعظم ہماری اور پاکستان کی شان، جان اورپہچان ہے، وہ ہمارا کپتان ہے اور رہےگا، شاہین نے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بابر کے علاوہ کچھ اور سوچنا بھی منع ہے-
    https://twitter.com/iShaheenAfridi/status/1605234846070378496?s=20&t=lLLyWSir5CbcR3hruy0DJQ
    شاہین شاہ آفریدی نے مطالبہ کیا کہ اس ٹیم کو سپورٹ کریں ،یہی ٹیم ہمیں جتائے گی ،کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی-

    دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میرا ری ہیب کافی اچھا چل رہا ہے ویٹ اور میڈیکل پلاننگ کے ساتھ ری ہیب کررہا ہوں۔ اگلے ہفتے سے بالنگ کا آغاز کردوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے کھیلنے کے لیے ہمیشہ مثبت سوچنا ہوتا ہےٹیم جیتتی بھی ہے اور ہارتی بھی، ہمیشہ اپنے ہیروز کو سپورٹ کرنا چاہیے ہمارا 2021 اور 2022 کا سال کافی اچھا گزرا ہے ہم نے جنوبی افریقہ، سری لنکا کو ہرایا ہے۔ ہماری اسی ٹیم نے اوپننگ میں دو دو سو کا ہدف حاصل کیا بیس وکٹیں بھی لی۔

    ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی ٹیم پر مشکل وقت آجاتا ہے۔ پلئیرز ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اچھا پرفارم کریں۔ مجھے پتہ ہے کہ فینز چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ جیتیں اس وقت ہمیں پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے یہی ٹیم پاکستان کو 2023 اور 2024 کا ورلڈکپ جتوائے گی آگے پی ایس ایل اور نیوزی لینڈ سیریز آرہی ہے 2023 میں کافی لمبی کرکٹ ہے یہی پلئیرز فٹ ہوں گے تو پاکستان کو جتوائیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کی منتخب شدہ ٹیم سے مطمئن ہوں مقامی پلئیرز جتنے اچھے ہوں گے اتنا ہی ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے۔ ہیری بروک اگر دستیاب ہوئے تو ٹیم کے لیے اچھا ہوگا سکندر رضا، لائم ڈوسن اور جارڈن کوک بھی اچھے کھلاڑی ہیں فینز کو مزہ آئے گا۔

    انہوں نے کہا ہے کہ میڈیا پر دیکھ کر حیران ہوں کہ لوگوں کو میری شادی کی تاریخ کا بھی پتا ہے ابھی نکاح کی حتمی تاریخ مجھے بھی معلوم نہیں جب بھی نکاح ہوگا تو میں ضرور سب کو بتاوں گا-

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر ٹوئٹر پر کئی شائقین کرکٹ نے سوال اٹھایا کہ بابراعظم کو کپتان برقرار رکھنا ہے یا نہیں اسکا فیصلہ ٹیم منجمنٹ، چیئرمین پی سی بی کریں گے یا کھلاڑی؟۔


    https://twitter.com/FantomLeap/status/1605396902807306240?s=20&t=-_sKQcGFoGs6Gi7bw0R1IA
    https://twitter.com/_UnrealDaniel/status/1605258197106827277?s=20&t=-qeakEOaTI6-2XyOO6TYew


    https://twitter.com/tooba_Kareem_/status/1605255460868816896?s=20&t=e3Bu4-8JvyuepR-Y7LUiMQ

  • آئی جی پنجاب بھی پنجاب چھوڑ گئے

    آئی جی پنجاب بھی پنجاب چھوڑ گئے

    لاہور: آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا دیا ہے، جس کے بعد وہ اقوام متحدہ میں بطور ایڈوائزر پولیس کا چارج سنبھالیں گے۔

    آئی جی پولیس کی جانب سے چارج چھوڑنے کے حوالے سے رپورٹ سیکرٹری سروسسز کو ارسال کردی گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے تاحال کسی بھی افسر کو آئی جی پنجاب کا چارج نہیں دیا گیا۔

    دوسری طرف کامران علی افضل کی جگہ عبداللہ سنبل کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کے انکار اور مسلسل چھٹیوں کے باعث اب عبدللہ سنبل کو چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے، اور ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    عبداللہ سنبل اس سے قبل قائمقام چیف سیکرٹری پنجاب تھے، اور کامران علی افضل کی طویل رخصت کے باعث عہدہ مستقل چیف سیکرٹری سے خالی تھا۔

    گوجرہ: ایک سیاسی شخصیت کی طرف سے میرے رقبہ پر ناجائز قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے…

    سابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 17ستمبر سے اب تک 105روز کی رخصت مکمل کرچکے ہیں اور ان کی رخصت پانچویں مرتبہ 120 دن کی منظور ہوئی تھی، جب کہ وہ وفاقی کو متعدد بار پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرچکے تھے۔

    کامران علی افضل اس سے پہلے بھی مختلف سرکاری عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ انہیں دسمبر 2020میں بطور وفاقی سیکرٹری خزانہ تعینات کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مینجمنٹ پر کنٹرول رکھنے والے بیوروکریٹ ہیں۔

    ڈی آئی خان:ٹول پلازہ کے قریب مسافر ویگن اور ڈمپر میں ٹکر،4 خواتین سمیت 18 افراد…

    سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے پانچ سالوں میں تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کی گئے تھے، مگر موجودہ حکومت نے تین سالوں میں ہی یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پنجاب میں پانچ چیف سیکرٹری اور سات آئی جی پولیس تبدیل ہو چکے ہیں۔ اور اگر موجودہ پنجاب میں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کاجائزہ لیں تو آج پھرچیف سیکرٹری کو تبدیل کردیا گیا ہے اور یوں پنجاب حکومت میں 2018 سے لیکراب تک 6 چیف سیکرٹریز آزما لیے ہیں‌