Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور: اے این ایف کا ادویات کی آڑ میں منشیات تیار کرنےوالی فیکٹری پر چھاپہ،مالک گرفتار

    لاہور: اے این ایف کا ادویات کی آڑ میں منشیات تیار کرنےوالی فیکٹری پر چھاپہ،مالک گرفتار

    لاہور: اینٹی نارکوٹکس فورس کی کاروائی ، ادویات کی آڑ میں منشیات تیار کرنے والی فیکٹری پکڑ لی-

    باغی ٹی وی : اے این ایف ترجمان نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پرلاہورمیں ادویات تیارکرنے والی فیکٹری پرچھاپا مارا گیا ملزمان ممنوعہ کیمیکل کیٹامائن سے منشیات تیار کررہے تھے، فیکٹری سے 50 کلو کیٹا مائن اور دو گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی۔

    لاہور میں کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پکڑی گئی

    ترجمان کے مطابق ملزمان دیگر فارما کمپنیوں سے دواسازی کی آڑ میں کیٹامائن خرید کر منشیات بناتے اور اسمگلرز کو بیچتے تھے۔

    ترجمان نے بتایا کہ ادویات کی آڑ میں تیار ہونے والی منشیات تعلیمی اداروں میں طلباء کو فروخت کی جاتی تھی، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    ننکانہ : ایک خاتون سمیت 5 منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار

    قبل ازیں لاہور پولیس نے جعلی نوٹ بناکر ملک بھر میں پھیلانے والا 4 رکنی گینگ گرفتار کرلیاتھا ملزموں کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی جعلی کرنسی برآمد کرلی گئی تھی جعلی کرنسی بنانے میں مہارت رکھنے والا گینک 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں اس مہارت سے بناتا تھا کہ نوٹوں کی پہچان رکھنے والے بھی اسے پکڑ نہیں پاتے تھے۔

    پولیس کے مطابق پرنٹنگ کے شعبہ سے وابستہ ملزمان نے اتنی بڑی تعداد میں جعلی نوٹوں کی چھپائی کی کہ خود بھی نہ گن سکے ہ گرفتار ملزمان گزشتہ 2 سال سے جعلی نوٹوں کا دھندا کررہے تھے، گینگ جعلی نوٹ سپلائی کرنے کیلئے ملک کے پسماندہ علاقوں کا انتخاب کرتا تھا۔

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا…

  • پٔنجاب:یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورزیادہ قیمت پر فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،150 افراد گرفتار

    پٔنجاب:یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورزیادہ قیمت پر فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،150 افراد گرفتار

    محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور زیادہ قیمت پر فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق اس جر م میں ملوث افراد کے خلاف 439 ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث150 افراد کو گرفتار اور5 کروڑ57 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا-

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں کسی جگہ یوریا کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے،صوبہ پنجاب میں ربیع 2022 کے دوران 23 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد کی ضرورت ہے-

    ترجمان کے مطابق کاشتکارصوبہ میں کسی بھی جگہ یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور اوور چارجنگ کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف شکایات بذریعہ ایس ایم ایس/ واٹس ایپ پرفون نمبر0300-2955539 کر سکتے ہیں۔

    ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ کسی کو مہنگی کھاد بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، ذخیرہ اندوزوں اور مہنگی کھاد بیچنے والوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے کے لئے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں-

    آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

  • آل پاکستان انٹربورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں

    آل پاکستان انٹربورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں

    آل پاکستان انٹر بورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیموں نے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    باغی ٹی وی : نشتر سپورٹس کمپلیکس لاہور میں جاری چیمپیئن شپ میں جمعہ کے روز لیگ میچز سمیت دونوں سیمی فائنلز کھیلے گئے۔ پہلے سیمی فائنل میں ڈی آئی خان نے پشاور بورڈ کو تین صفر سیٹ سے مات دی۔

    کراچی:ایچ پی ایل پی ایس ایل 8 کی ڈرافٹنگ جاری

    دوسرا سیمی فائنل لاہور اور بنوں کے درمیان کھیلا گیا جس میں لاہور نے بنوں کو چار ایک سیٹ سے شکست دیکر فائنل کے لیئے کوالیفائی کیا۔ اس سے قبل آخری چھ لیگ میچز کا انعقاد ہوا۔

    ایبٹ آباد ٹیم کو کھلاڑی مکمل نہ ہونے پر ایونٹ سے ڈس کوالیفائی کر دیا گیا، چیمپیئن شپ کا فائنل اور تیسری پوزیشن کا میچ ہفتہ کو کھیلے جائیں گے-

    پی ایس ایل8: پشاورمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے فیصلے پر جاوید آفریدی…

  • آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے کہا ہے کہ آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا-

    باغی ٹی وی : ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 8 بجے جلسے سے خطا ب کریں گے جس میں عمران خان خطاب میں ملکی سیاسی مستقبل سے متعلق اعلان کریں گے،عمران خان کے خطاب کو مختلف شہروں میں بڑی اسکرین پر بھی دکھایا جائے گا-

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حالت بگڑتی جا رہی ہے،سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں،موجودہ صورتحال میں فوری الیکشن ہی واحد حل ہیں،شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپوں کی ٹی ٹیاں آتی رہیں،عدالت کے پوچھنے پر جواب میں یہی کہتے رہے کہ پتہ نہیں، پیسے کہاں سے آرہے تھے-

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف

    مسرت جمشید نے کہا کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی رقوم وفاق نے ضبط کرلیں،فارن ریزرو 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے وہ بھی دوست ممالک کے ہیں،جب عمران خان کو ہٹایا گیا اس وقت خزانے میں 22 ارب ڈالر تھے،سفارت خانوں کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں جبکہ وزیر خارجہ بلاول کے دوروں پر 2 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں-

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنےکا اعلان

  • ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال نے فیصلے میں لکھا کہ 7 دن میں جواب داخل نہ کرنے پر دفاع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

    جسٹس چوہدری اقبال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو شہباز شریف کے سوالات کے جواب کے لیے نقول دیں، جوابات دینے کے بجائے عمران خان نے اعتراضات داخل کردیے جس پر ٹرائل کورٹ نے اعتراضات مسترد کرکے عمران خان کو جواب دینے کی ہدایت کی۔

    عدالت اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عمران خان نے پھر بھی جواب داخل نہیں کیا جس پر ٹرائل کورٹ نے ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست تھا۔

    بلاول بھٹو کے مودی کو ‘قصائی’ کہنے پر بی جے پی مشتعل، احتجاج کی کال…

    عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ میں رشوت کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس پر شہباز شریف نےعمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کادعویٰ سیشن کورٹ میں دائر کیا تھا،سیشن عدالت نے عمران خان کا حق دفاع کا دعویٰ خارج کر دیا تھاجس پر عمران خان نےسیشن عدالت کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے سوالات کے جواب نہ دینے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کردیا تھا،اپیل میں استدعا کی گئی کہ عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعویٰ میں دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    قبل ازیں شہباز شریف کے ہتکِ عزت کے دعوے کا وزیرِ اعظم عمران خان نے عدالت میں جواب جمع کرایا تھا۔عمران خان نے عدالت سے شہباز شریف کا ہتکِ عزت کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کی تھی-

    عمران خان کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ عمر فاروق نامی شخص نے بتایا کہ آفر ہے،بتایا کہ اگر عمران خان پاناما لیکس کی پیروی چھوڑ دیں تو وہ بھاری رقم دینے کو تیار ہے۔رقم کی پیشکش نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے ڈائریکٹ نہیں بلکہ کسی کے ذریعے آئی تھی نواز شریف اور شہباز شریف نے ماضی میں ادارے کے اعلٰی افسر کو بی ایم ڈبلیو گاڑی دینے کی کوشش بھی کی تھی۔

    خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

  • ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔

    لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے، جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہ ہےدریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، ”باغِ دل کشا“ تھا، جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے، جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:

    پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
    کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
    کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
    کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے

    اداس فضاؤں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے ”دختر جمہور“ قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی، جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔

    اس خاتون کی طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی ،جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر، جس کا نام کندہ تھا۔ یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے، جس کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوابیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔

    قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد ”نورِ محل“ اور پھر ” نورِجہاں“ کا خطاب دیا ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے ،جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی، یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی ،جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری ،جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔

    مہر النساکے دادا ایرانی شاہ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کو ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔

    مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا، جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئیں۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

    رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسہ ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اس سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں، مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

    ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گئےجب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سےکروا دی بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے اپنےپہلے شوہرکی بیٹی، جس کا نام لاڈلی بیگم تھا،کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔

    شہنشاہ جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تو بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔

    شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود رہتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی، جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔

    خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جائے۔ اسی کے باعث، شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی ،جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔

    اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی، کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔

    آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، ”شاہ جہاں“ کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

    شہنشاؤں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا۔مثلاََکھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔

    ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھیں۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت جو عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہیں۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھیں۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔

    اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگمرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے، بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔

    ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے، جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔\”چاندنی\” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔

    ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا، نہ صرف یہ بلکہ ،جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ ان کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہذکر \”تزک جہانگیری\” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا ،جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا اور ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔

    یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ انہوں نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھیں جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

    اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہیں۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔

    ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی ان ہی کے پہلو میں ہے۔

    ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔

    ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ تھیں اور مخفی تخلص تھا، ان کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو ان کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
    برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
    نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

    مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے۔

  • اسمبلیوں کی تحلیل،پرویزالٰہی ہمارے کہنے پرعمل کرینگے:عمران خان

    اسمبلیوں کی تحلیل،پرویزالٰہی ہمارے کہنے پرعمل کرینگے:عمران خان

    لاہور:اسمبلیوں کی تحلیل، پرویز الٰہی ہمارے کہنے پر عمل کرینگے، اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اختیارات ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں کچھ دیر اور چلیں تاہم جو ہم انہیں کہیں گے وہ اس پر عمل کرینگے، ملک بچانے کیلئے انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں تجزیہ کاروں سے ملاقات میں کہا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، پاکستان کے تمام چور اکٹھے ہوچکے ہیں، موجودہ حکومت نے 1100 ارب روپے کا دوسرا این آر او لے لیا، معاشی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ دسمبر کے مہینے میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی، چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں، اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا چوہدری پرویز الٰہی اس کی مکمل تائید کریں گے۔

    لاہور میں بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 8 ماہ پہلے قومی اسمبلی سے ایک سازش کے تحت رجیم چینج کرائی گئی، نیلامی کے ذریعے ایک منڈی لگائی گئی، پہلے سازش کے تحت ان کو مسلط کیا گیا، پھر انہوں نے سب سے پہلے اپنے کرپشن کیسز ختم کیے، مغربی جمہوریت کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون تھا، پاکستان میں جنگل کا قانون بن گیا ہے، نوکروں کے نام پر 16 ارب روپے لئے گئے، ماڈل ٹاؤن سے حوالہ ہنڈی سے پیسہ باہر بھیج دیا جاتا تھا، باہر سے چینی ، پاپڑ والے کے نام پرپیسہ منگوا تے تھے، ان کیخلاف کیسز ہمارے دور میں نہیں بنے تھے ۔

  • برطانیہ سے رقم کی منتقلی، نیب نے زلفی بخاری کوالقادریونیورسٹی کےریکارڈسمیت طلب کرلیا

    برطانیہ سے رقم کی منتقلی، نیب نے زلفی بخاری کوالقادریونیورسٹی کےریکارڈسمیت طلب کرلیا

    قومی احتساب بیور (نیب) نے برطانیہ سے 190 ملین پاؤنڈز کی منتقلی کے معاملے پر زلفی بحاری کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اطلاعات کے مطابق نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ القادر یونیورسٹی کو ملی زمین میں زلفی بخاری کا کردار اہم ہے، زلفی بخاری نیب کی تحقیقات کا محور ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بحریہ ٹاؤن اور القادرٹرسٹ کے درمیان معاملات مبینہ طور پر زلفی بخاری نے طے کرائے۔اس معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کو سوالات بھیجے ہیں تاہم ان کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی نیب راولپنڈی نے اسی کیس کے سلسلے میں القادر یونیورسٹی سے متعلق ریکارڈ طلب تھا ،ملک ریاض کوبھی اس وقت نیب راولپنڈی نے تمام ریکارڈ سمیت یکم دسمبرکو طلب کیا تھا

    اعلامیے کے مطابق قومی احتساب بیورو نے القادر یونیورسٹی سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔ نیب راولپنڈی نے القادر یونیورسٹی کے معاہدے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں،القادر یونیورسٹی کی زمین کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے

    نوٹس میں کہا گیا کہ القادر یونیورسٹی کی ٹرانسفر ڈیڈ بھی ہمراہ لائیں ، القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹیز کی تفصیلات بھی ساتھ لائیں ، القادر یونیورسٹی کی زمین منتقلی کے علاوہ دئیے جانے والے تحائف کی تفصیلات بھی ہمراہ لائیں ، ملک ریاض ، بحریہ ٹاون اور خاندان کے کسی فرد نے جو کوئی تحفہ دیا ہو ، اسکی تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں۔


    انسداد بدعنوانی کے سب سے بڑے نگران ادارے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے انگلینڈ سے 190 ملین پاؤنڈز کی پاکستان واپسی میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ذلفی بخاری کو ایک بارپھر طلب کیا ہے۔ بخاری جو کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی رہ چکے ہیں اور سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی کابینہ کے رکن تھے

    نیب راولپنڈی کی طرف سے جاری سمن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد 20 دسمیبر کو دن دوپہر ایک بجےاسلام آباد نیب آفس پیش ہوں اور القادر یونیورسٹی کے متعلق سارا ریکارڈ بھی پیش کریں‌

    یاد رہے کہ القادر یونیورسٹی کی زمین جہلم کے علاقے سوہاوہ کے نواحی قصبے بکرالا میں ظاہر کی گئی ، نیب کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ 176 کنال 14 مرلے زمین جو ظاہر کی گئی ہے اس کی خریداری کی رسیدیں بھی پیش کی جائیں

  • عمران خان حملہ کیس، جے آئی ٹی نے رانا ثنا، مریم اورنگزیب کوطلب کرلیا

    عمران خان حملہ کیس، جے آئی ٹی نے رانا ثنا، مریم اورنگزیب کوطلب کرلیا

    لاہور: عمران خان حملہ کیس میں جے آئی ٹی نے لیگی رہنماؤں کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق وزیر آباد میں عمران خان پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے سے متعلق تفتیش کیلیے جے آئی ٹی نے رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب کو طلبی کا نوٹس جاری کیا۔

    چمن بارڈر فائرنگ،افغان حکومت یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو،وزیراعظم

    جے آئی ٹی نے لیگی رہنماؤں کو 17 دسمبر کو صبح گیارہ بجے سی سی پی او آفس لاہور پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی تینوں افراد سے الگ الگ بیانات ریکارڈ کرے گی اور عمران خان پر حملے سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے۔

    چوہنگ:پارک ویو سوسائٹی میں روڈا اینٹی انکروچمنٹ ٹیم اور اے سی سٹی پرحملہ کرنے…

    اس سے پہلے عمران خان حملہ کیس میں پولی گرافک ٹیسٹ کرایا گیا ہے جس میں ملزمان کے بیانات کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا گیا۔عمران خان حملہ کیس میں جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں، مرکزی ملزم نوید اور دیگر دو ساتھیوں کا پولی گرافک ٹیسٹ کروالیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولی گرافک ٹیسٹ میں تینوں ملزمان اپنے پہلے بیان پر قائم رہے، پولی گرافک ٹیسٹ مشین نے تینوں ملزموں کے بیانات غیر تسلی بخش قرار دیے۔
    تفتیشی ٹیم نے پولی گرافک ٹیسٹ کے بعد باقاعدہ میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دائر کردی، میڈیکل بورڈ اور پولی گرافک ٹیسٹ کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید اور عمران اسماعیل جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، جے آئی ٹی سیکیورٹی گارڈز سمیت متعدد رہنماؤں کے بیانات قلم بند کرچکی ہے۔

  • پی ٹی آئی نے استعفوں کی تصدیق کیلیے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا

    پی ٹی آئی نے استعفوں کی تصدیق کیلیے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ارکان کے استعفوں کی تصدیق کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف بڑی مشکلات میں گھری ہوئی اور اسے کوئی سمجھ نہیں آرہی ، شاید یہی وجہ ہے جوسوچتے ہیں وہ الٹ ہوتا ہے ، زمان پارک لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپریل میں جب سازش کے ذریعے مداخلت کے نتیجے میں ہماری حکومت ختم کی گئی تو ہم نے اسمبلی اور نظام سے لاتعلق ہونے کا فیصلہ کیا۔

    پشاور زلمی کے سابق کپتان ڈیرن سیمی کا زلمی ہیڈ کوارٹرکا دورہ:پی ایس ایل کی یادیں…

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفوں کے حوالے سے انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پارٹی فیصلہ بتایا، اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ہمارے استعفے منظور کرکے انہیں الیکشن کمیشن بھجوانے کی ہدایت کی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

    رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ اسپیکرنے ہمارے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کا حکم صادر کیا، اگر ہم نے اجمتماعی طور پر استعفوں کا اعلان کیا تھا تو استعفے بھی ایک ساتھ ہی منظور کئے جانے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

    اینٹی انکروچمنٹ ٹیم پر حملے کا مقدمہ درج،انتہائی مطلوب ملزمان گرفتار

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارٹی کے وائس چیئرمین اور قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے میں اسپیکر کو استعفوں کی منظوری کے لئے دوبارہ خط لکھ دیا ہے۔ وہ ہمیں بلائیں، ہم اجتماعی طور پر آجائیں گے اور اگر وہ اپنی تسلی کے لئے الگ الگ بلانا چاہتے ہیں تو ہم فرداً فرداً بھی پیش ہوجائیں گے۔