مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ دہشتگردی، انتشار،فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خاتمے کے لئے قوم متحد ہے، قائد کے پاکستان کو مضبوط و مستحکم کریں گے، حکمرانوں کی ترجیحات انکی عیاشیاں لیکن مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے، ملک بھر میں یونین کونسل سطح پرانٹرا پارٹی انتخابات کروائے، عید کے بعد بلدیاتی نظام کی بحالی و فعالی کے لئے متحرک ہوں گے،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان کے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ ملتان کے ضلعی سیکرٹری جنرل رانا عبدالرحمان،ترجمان مرکزی مسلم لیگ پنجاب احمد اجمل نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ اس وقت تین بڑے چیلنجز سے دوچار ہے،اسلاموفوبیا، صیہونیت اور ہندوتوا، ایک جانب مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب اسلام کے خلاف منظم انداز میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے، حالانکہ اسلام امن، رواداری اور انسانیت کا دین ہے۔ بالخصوص ماہِ رمضان ہمیں صبر، برداشت، تحمل اور اتحاد کا درس دیتا ہے، اور مسلمانوں کو اجتماعی جدوجہد کے لیے مجتمع ہونے کی تلقین کرتا ہے،پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک ہے، ہمارا عزم ہونا چاہیے کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلام کا مضبوط قلعہ بنایا جائے۔ پاکستان کی بقا دراصل اُمت کی بقا سے وابستہ ہے، اس لیے اسے محفوظ، مستحکم اور متحد رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن عناصر ملک میں دہشت گردی پھیلا کر اسے عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قومیت، صوبائیت اور لسانیت کو ہوا دے کر قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تشدد، تکفیر اور خارجی فتنے سر اٹھا چکے ہیں، جن کا سدباب ناگزیر ہے۔ دہشت گردی اور فتنۂ خوارج و فتنۂ ہند کا مقابلہ محض سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے بجائے اگر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کر کے لگژری طیارے خریدے جائیں تو یہ قابلِ قبول نہیں۔ ہم حکمرانوں کی عیاشیوں اور قومی وسائل کے بے جا استعمال کو مسترد کرتے ہیں، اور اس حوالے سے قوم کو متحد اور بیدار کریں گے،عید کے بعد بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔








