احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
ننکانہ صاحب، ضلعی محکمہ صحت میں ایک سال میں 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول کا معمہ17 سرکاری گاڑیوں کے لیے ایک سال میں 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا، فیلڈ عملہ تاحال واجبات سے محروم،ذرائع
چھ ماہ کے پی او ایل بل تیار ہونے کے باوجود بجٹ نہ ہونے کا جواز دے کر واپس کر دیے گئے،ذرائع
ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ فوری نوٹس لیں، پی او ایل فنڈ کا ریکارڈ طلب کر کے شفاف تحقیقات کرائیں
فیلڈ میں خدمات سر انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جائیں
ننکانہ صاحب ، محکمہ صحت پنجاب کے آئی آر ایم این سی ایچ اینڈ نیوٹریشن پروگرام میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHS) کو پی او ایل (Petrol, Oil & Lubricants) فنڈ کی عدم فراہمی سے متعلق سنگین مالی و انتظامی سوالات سامنے آ گئے ہیں،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 26 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز تعینات ہیں، جن میں سے 17 سپروائزرز کو سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں ان گاڑیوں کے لیے محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے 120 لیٹر ماہانہ پیٹرول مقرر ہے۔ اس حساب سے 17 گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 2,040 لیٹر جبکہ مالی سال یکم جولائی 2025 تا 30 جون 2026 کے دوران مجموعی طور پر 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے چھ ماہ کے پی او ایل واجبات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ بل تیار کر لیے گئے تھے اور تمام انتظامی کارروائی مکمل ہو چکی تھی، تاہم جون 2026 کے اختتام سے چند روز قبل یہ بل یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے کہ بجٹ دستیاب نہیں ہے،ذرائع کے مطابق خبر کی اشاعت کے بعد سی ای او ہیلتھ ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اختر چوہدری نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنی تعیناتی کے عرصے کے واجبات ادا کریں گے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی،
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر عبید حسین کی مبینہ انتظامی غفلت، مؤثر نگرانی کے فقدان اور محکمانہ لاپرواہی کے باعث یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا، ذرائع کے مطابق اگر بروقت متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا اور فنڈز کے اجرا کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے تو فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو اپنے جائز حق سے محروم نہ ہونا پڑتا،ضلعی محکمہ صحت کے ذرائع نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نادیہ ثاقب، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب، پروگرام ڈائریکٹر آئی آر ایم این سی ایچ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی سیکرٹری لیول پر غیر جانبدارانہ انکوائری، خصوصی آڈٹ اور ذمہ دار افسران کے تعین کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال کی حقیقت سامنے آ سکے اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جا سکیں،ذرائع نے بالخصوص ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کریں، حقائق کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اگر کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے،اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 24,480 لیٹر پیٹرول کا حساب کون دے گا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
