Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال معاشی مقتل گاہ میں تبدیل، ڈاکٹر صارم جاوید کی دوائیوں اور ٹیسٹوں کے نام پر کھلی لوٹ مار، حکام کب جاگیں گے؟

    ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال معاشی مقتل گاہ میں تبدیل، ڈاکٹر صارم جاوید کی دوائیوں اور ٹیسٹوں کے نام پر کھلی لوٹ مار، حکام کب جاگیں گے؟

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈی ایچ کیو ہسپتال معاشی مقتل گاہ میں تبدیل، ڈاکٹر صارم جاوید کی دوائیوں اور ٹیسٹوں کے نام پر کھلی لوٹ مار، حکام کب جاگیں گے؟

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب غریب مریضوں کے لیے علاج گاہ نہیں بلکہ عذاب خانہ بن چکا ہے۔ ٹی این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر صارم جاوید کے مبینہ راج نے مریضوں کو لوٹ مار کا شکار بنا دیا ہے، جبکہ درجنوں شکایات ضلعی محکمہ صحت کی مجرمانہ بے حسی کی نذر ہو چکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر صارم جاوید ہر مریض کو بازار کی مہنگی دوائیوں اور ہزاروں روپے مالیت کے ٹیسٹوں کی پرچیاں تھما دیتے ہیں۔ غریب مریض سرکاری ہسپتال آ کر علاج کی آس لے کر آتے ہیں لیکن جب مہنگی ادویات اور ٹیسٹوں کے اخراجات سنتے ہیں تو علاج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صارم کے رویے سے یوں لگتا ہے جیسے وہ سرکاری اسپتال نہیں بلکہ کسی پرائیویٹ کاروبار کی دکان پر آ گئے ہوں۔

    ہسپتال کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر صارم کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر شکایات موصول ہوتی ہیں مگر ایم ایس، ضلعی ہیلتھ افسران اور محکمہ صحت کے ذمہ داران نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ملازمین کے بقول ہسپتال میں ڈاکٹر صارم کا نام لینا بھی مشکل ہے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ ان کے خلاف بولنا اپنے لیے مصیبت مول لینا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہیلتھ وژن کے ساتھ کھلا مذاق اور ضلعی انتظامیہ کی بدترین نااہلی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے شکایات کو مسلسل نظر انداز کر کے غریب مریضوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔

    سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکریٹری صحت نادیہ ثاقب، ڈی جی ہیلتھ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر صارم جاوید کے خلاف فوری سخت ترین کارروائی کی جائے اور انہیں ہسپتال سے ہٹا کر غریب مریضوں کو اس اذیت سے نجات دلائی جائے۔

  • ننکانہ صاحب : سیلاب متاثرین میں فارمز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے خصوصی تعاون سےراشن تقسیم

    ننکانہ صاحب : سیلاب متاثرین میں فارمز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے خصوصی تعاون سےراشن تقسیم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں راشن تقسیم کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، ممبر صوبائی اسمبلی مہر کاشف پڈھیار، اور ڈی ڈی سوشل ویلفیئر محمد شبیر نے متاثرہ خاندانوں میں راشن بیگز تقسیم کیے۔

    فارمز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے تعاون سے 100 سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں کو امدادی سامان فراہم کیا گیا۔ ہر راشن بیگ میں آٹا، چینی، دالیں، گھی، صابن سمیت 21 ضروری اشیاء شامل تھیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، دریائی حدود میں سیلابی پانی سے 121 دیہات اور 36 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، 40 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔

    ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 11 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 9 مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپ اور 30 مقامات پر میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی مہر کاشف پڈھیار نے کہا کہ حکومت پنجاب سیلاب متاثرین کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا۔

  • ننکانہ: چوہدری عبدالخالق گجر بین الاقوامی فیوچر پروجیکٹ فورم میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    ننکانہ: چوہدری عبدالخالق گجر بین الاقوامی فیوچر پروجیکٹ فورم میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز): کیپ ڈسٹرکٹ ننکانہ صاحب کے کوآرڈینیٹر چوہدری عبدالخالق گجر بین الاقوامی فیوچر پروجیکٹ فورم میں پاکستانی وفد کی نمائندگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ فورم 8 سے 10 ستمبر 2025 تک سعودی کنٹریکٹرز اتھارٹی (SCA) کے زیر اہتمام ریاض میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس فورم میں دنیا بھر سے تعمیراتی صنعت کے ماہرین اور ادارے شرکت کر رہے ہیں۔

    پاکستانی وفد کی اس شرکت کا مقصد تعمیراتی صنعت میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے چوہدری عبدالخالق گجر نے کہا کہ یہ فورم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس فورم میں شرکت کے ذریعے ہمیں اپنی تعمیراتی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز اور تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فورم پاکستان کے کنٹریکٹرز اور انجینئرز کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔

    چوہدری عبدالخالق گجر نے کہا کہ پاکستان کی تعمیراتی صنعت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایسے عالمی فورمز میں شرکت سے ہمارے ملک کے وقار میں اضافہ ہوگا۔

  • واربرٹن: سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز

    واربرٹن: سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز

    واربرٹن (نامہ نگار عبدالغفار چوہدری) حکومتِ پاکستان کی جانب سے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایک خصوصی ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ مہم 15 ستمبر سے 27 ستمبر تک پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں بیک وقت جاری رہے گی۔ اس پروگرام کے تحت 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی تاکہ آئندہ نسلوں کو اس مہلک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    اس قومی مہم کا ایک اہم حصہ آگاہی اور شعور بیداری ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر چوہدری روحیل اختر (چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ننکانہ صاحب) اور ڈاکٹر محمد کامران واجد (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ننکانہ صاحب) کی ہدایت پر پورے ضلع میں تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں اور کمیونٹیز میں معلوماتی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں، ورکرز ویلفیئر گرلز ہائی اسکول، لیبر کالونی چاندی کوٹ میں ایک آگاہی سیشن منعقد ہوا۔

    سیشن میں اسکول کی طالبات، خواتین اساتذہ اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین محمد اجمیر اعظم، ریاض بانو اور شہناز قیوم نے شرکت کی۔ سیشن کی صدارت پرنسپل میڈم حماء ذیشان نے کی، جنہوں نے حکومتی اقدام کو سراہا اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

    حافظ عبدالحمید (اسکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر) اور محترمہ شازیہ اشرف (لیڈی ہیلتھ سپروائزر) نے لیکچر پیش کیا، جس میں طالبات کو سروائیکل کینسر، اس کے اسباب، احتیاطی تدابیر اور ویکسینیشن کی افادیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ طالبات اور اساتذہ نے سوالات کیے جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

    طالبات نے بڑی توجہ سے لیکچر سنا اور سوالات کے ذریعے اپنی دلچسپی کا بھرپور اظہار کیا۔ خواتین اساتذہ نے بھی اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور اس کے دور رس مثبت اثرات پر روشنی ڈالی۔ پرنسپل میڈم حماء ذیشان نے کہا کہ یہ اقدام مستقبل کی نسلوں کو صحت مند بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ آگاہی سیشن نہ صرف طالبات کے لیے معلوماتی ثابت ہوا بلکہ اساتذہ اور کمیونٹی کے لیے بھی ایک مثبت پیغام لے کر آیا۔ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی یہ قومی مہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں اسکول انتظامیہ اور ہیلتھ ٹیم کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔

  • ننکانہ صاحب:بابا گورو نانک یونیورسٹی میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد

    ننکانہ صاحب:بابا گورو نانک یونیورسٹی میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز ) بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں عشرہ رحمت للعالمین ﷺ کی مناسبت سے سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں طلبہ، اساتذہ اور معزز مہمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اہم خطابات اور موضوعات
    کانفرنس کے مہمان مقررین نے سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی:

    پروفیسر ڈاکٹر فیروز الدین شاہ: انہوں نے "سوشل میڈیا کے مفید استعمال” پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا مثبت اور تعمیری استعمال سکھانا ریاستی ذمہ داری ہے۔

    ڈاکٹر محمد سمیع اللہ فراز: انہوں نے موجودہ دور کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    مختلف مقابلوں کا انعقاد
    کانفرنس کے سلسلے میں مختلف مقابلے بھی منعقد کیے گئے جن میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا:

    مقابلہ تلاوت قرآن
    مقابلہ نعت رسول ﷺ
    تقریری مقابلہ
    کوئز مقابلہ
    مضمون نویسی

    ان مقابلوں کے ذریعے طلبہ نے قرآن کی تلاوت، نعت خوانی، تقریروں، اور علمی مضامین کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اجاگر کیا۔ منتظمین کے مطابق، ایسی سرگرمیاں طلبہ کو نہ صرف سیرت النبی ﷺ سے قریب کرتی ہیں بلکہ انہیں جدید تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہ کانفرنس ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی۔

  • ننکانہ صاحب: خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں تیز

    ننکانہ صاحب: خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں تیز

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں تیز

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی ہدایت پر ضلع بھر میں فوڈ پوائنٹس اور یونٹس کی چیکنگ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق، فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے 1 ہزار 870 سے زائد فوڈ پوائنٹس کا معائنہ کیا۔ اس دوران، خوراک کے معیار اور صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائیاں کی گئیں۔

    اہم کارروائیاں:
    8 یونٹس سیل: ناقص اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر 8 فوڈ یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔

    10 لاکھ 49 ہزار کے جرمانے: 155 فوڈ پوائنٹس اور یونٹس کو مجموعی طور پر 10 لاکھ 49 ہزار روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
    4 مقدمات درج: قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر 4 مقدمات درج کیے گئے۔

    بڑی مقدار میں اشیاء تلف: 170 لیٹر غیر معیاری دودھ، 180 کلو ناقص گوشت، 150 کلو ناقص مربہ، اور 2 من سے زائد بیکری آئٹمز، گھی اور دیگر ممنوعہ اشیاء کو تلف کیا گیا۔

    24 سیمپل لیے گئے: مختلف اشیاء کے 24 سیمپلز تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے۔

    فوڈ اتھارٹی کے افسران کا کہنا ہے کہ جو یونٹس پہلے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے، ان کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد شہریوں کو صاف ستھری اور معیاری خوراک فراہم کرنا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خوراک میں ملاوٹ یا جعلسازی کی کسی بھی اطلاع پر فوری طور پر 1223 پر رابطہ کریں۔

  • ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال انفیکشس ویسٹ کا ڈمپنگ پوائنٹ بن گیا

    ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال انفیکشس ویسٹ کا ڈمپنگ پوائنٹ بن گیا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں ویسٹ مینجمنٹ کے سنگین مسائل نے مریضوں، ہیلتھ ملازمین اور قریبی آبادی کی زندگیوں کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ ہسپتال انفیکشس ویسٹ کا ڈمپنگ پوائنٹ بن چکا ہے جہاں ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ لاہور کے بڑے ہسپتالوں کا انفیکشن ویسٹ بھی ننکانہ صاحب ڈی ایچ کیو لا کر جلایا جا رہا ہے، جس کے دھوئیں اور بدبو نے ماحول کو شدید آلودہ کر دیا ہے۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق ارار انوویشن ویسٹ مینجمنٹ کمپنی گزشتہ ایک ماہ سے ییلو بیگ فراہم کرنے میں ناکام ہے، جس کے باعث انفیکشن ویسٹ ہسپتال کے اندر دو سے تین دن تک جمع رہتا ہے۔ اگست کے آغاز میں ویسٹ تلف تو کیا گیا تھا، لیکن ویسٹ روم اب بھی مکمل طور پر بھر چکا ہے۔ اس تعفن اور بدبو کے باعث ہسپتال کی رہائشی کالونی میں مقیم ملازمین اور ان کے اہل خانہ ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں۔

    قانونی ایس او پیز کے مطابق ویسٹ کی بروقت لفٹنگ اور تلفی لازمی ہے لیکن نہ تو بیگز بروقت فراہم کیے جا رہے ہیں، نہ ہی ویسٹ کو عالمی معیار کے مطابق جلایا جا رہا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے ورکرز کو ہراساں کرتی ہے اور جو بھی خلاف ورزی کی نشاندہی کرے اسے برخاست کر دیا جاتا ہے۔

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ویسٹ اسٹوریج روم سے چند فرلانگ کے فاصلے پر سی ای او ہیلتھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفاتر و رہائش گاہیں، ایم ایس ہسپتال کی رہائش اور انچارج آئی آر ایم این سی ایچ کا دفتر بھی موجود ہے۔ باوجود اس کے، حکام کی خاموشی ان کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    شہریوں اور ہیلتھ ملازمین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری صحت نادیہ ثاقب، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ننکانہ:مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    ننکانہ:مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)مون سون اور سیلاب کا دہرہ وار، گلیاں ڈوب گئیں، ہیڈ بلوکی پر خطرے کی گھنٹی

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں مون سون بارشوں اور دریاؤں کی طغیانی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کی گلیاں اور بازار کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ ڈاکٹر والا بازار، حرا چوک، ڈھولر چوک، ڈی ایچ کیو اسپتال اور ڈی سی آفس کے سامنے پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیوریج کے ناقص انتظامات اور میونسپل کمیٹی کے افسران کی غفلت نے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی فریادیں حکام تک نہیں پہنچ رہیں، جبکہ گندے پانی سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیوریج سسٹم کو بحال کیا جائے۔

    دوسری جانب ہیڈ بلوکی میں دریائے راوی کی سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے جس کے نتیجے میں 15 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے 26 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف ٹیموں میں 600 سے زائد افسران اور اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

    میجر جنرل محمد فیصل رانا نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ہیڈ بلوکی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے پاک فوج کے افسران کو سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پاک فوج کے افسران نے ریلیف کیمپس کا معائنہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی اور ان میں راشن بھی تقسیم کیا۔ افسران کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور سول ادارے ہر مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ ہیں۔

  • ہیڈ بلوکی پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ننکانہ کے کئی دیہات زیر آب آگئے

    ہیڈ بلوکی پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ننکانہ کے کئی دیہات زیر آب آگئے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) دریائے راوی میں سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ چون ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پانی کا اخراج ایک لاکھ چوالیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور شاہدرہ سے آنے والا بڑا ریلا تیزی سے ہیڈ بلوکی کی طرف بڑھ رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رات تک پانی کی آمد دو لاکھ کیوسک تک جا سکتی ہے۔

    سیلابی پانی ضلع ننکانہ صاحب کے متعدد دیہات میں داخل ہو گیا ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں بھرپور آپریشن میں مصروف ہیں۔ اب تک 32 سو سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 43 سو سے زائد مال مویشیوں کو بھی سیلابی پانی سے نکالا گیا ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق متاثرہ کئی دیہات خالی کرائے جا چکے ہیں جبکہ 139 دیہاتوں کے رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شام سے پہلے ممکنہ سیلابی علاقے خالی کر دیں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

  • واربرٹن: لین دین کے تنازع پر نوجوان بےدردی سے قتل، علاقہ سوگوار

    واربرٹن: لین دین کے تنازع پر نوجوان بےدردی سے قتل، علاقہ سوگوار

    واربرٹن (نامہ نگار) سٹی پریس کلب رجسٹرڈ واربرٹن کے فنانس سیکرٹری رانا اسد تیمور کے چھوٹے بھائی رانا صہیب کو شیخوپورہ میں بےدردی سے قتل کردیا گیا۔ مقتول کی نعش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا اور علاقہ سوگوار ہو گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق واربرٹن مکہ کالونی کے رہائشی رانا زاہد محمود شاد کا 30 سالہ بیٹا رانا صہیب کا شیخوپورہ شرقپور روڈ کے رہائشی یاور الطاف ورک کے ساتھ لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔ گزشتہ شب رانا صہیب موٹر سائیکل پر شیخوپورہ گیا لیکن واپس نہ آیا۔ اہل خانہ کی تلاش پر رانا طارق خاقان، رانا اسد تیمور اور وقار احمد یاور ورک کے ڈیرے پر پہنچے تو وہاں رانا صہیب کی خون میں لت پت نعش پڑی ہوئی تھی جبکہ یاور ورک اور دو نامعلوم افراد موقع سے فرار ہوگئے۔

    پولیس نے رانا اسد تیمور کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے نعش پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی۔ مقتول رانا صہیب کی نماز جنازہ واربرٹن میں ادا کی گئی جس میں معززین علاقہ، عزیز و اقارب اور سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

    عوام نے اس اندوہناک قتل پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔