Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ: ہسپتال سے یوپی ایس چوری کا معاملہ، 6 ماہ بعد بھی انکوائری جاری ،بااثرچورمحفوظ

    ننکانہ: ہسپتال سے یوپی ایس چوری کا معاملہ، 6 ماہ بعد بھی انکوائری جاری ،بااثرچورمحفوظ

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی(نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں ایک ایسا تہلکہ خیز سکینڈل سامنے آیا ہے کہ جس نے انتظامیہ کی نااہلی اور مبینہ ملی بھگت کے تمام پردے چاک کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال کے کاؤنٹر پرچی پر نصب کمپیوٹرز سے لاکھوں روپے مالیت کے پانچ قیمتی الیکٹرک یو پی ایس پراسرار طور پر غائب ہو گئے ہیں!

    یہ معمولی گمشدگی نہیں بلکہ ایک سنگین سوال ہے کہ ہسپتال جیسی حساس جگہ سے اتنی قیمتی اشیاء کیسے غائب ہو گئیں اور انتظامیہ چھ ماہ تک اندھیرے میں کیوں رہی؟ ڈپٹی کمشنر کے واضح احکامات کے باوجود اس چوری کی انکوائری رپورٹ چھ ماہ گزرنے کے باوجود فائلوں کی گرد میں دبی پڑی ہے!

    یاد رہے کہ 28 اکتوبر 2024 کو ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کے اچانک دورے کے دوران اس گھناؤنے انکشاف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بجلی کی بندش کے باعث مریضوں کو پرچی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری طور پر تین روز میں رپورٹ طلب کی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم صادر فرمایا تھا۔

    مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پہلے سینئر ڈاکٹر محمد افضل نے کام کے دباؤ کا بہانہ بنا کر انکوائری کی سربراہی سے معذرت کر لی اور پھر ڈی ایم ایس ڈاکٹر رابعہ درانی کو انکوائری آفیسر مقرر کیے جانے کے باوجود آج تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ متعدد بار یاد دہانیوں کے باوجود انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی ہے، جس سے نہ صرف انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت عیاں ہوتی ہے بلکہ اس بات کا بھی خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں اس معاملے کو دبانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی؟

    ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی جانب سے جلد انکوائری مکمل کرنے کا دعویٰ محض ایک تسلی بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں میں اس تاخیر پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ فوری طور پر اس معاملے کا سخت نوٹس لیں، ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیں اور انکوائری میں تاخیر کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    کیا یہ محض یو پی ایس کی گمشدگی ہے یا کسی بڑے مالیاتی گھپلے کی ابتدائی کڑی؟ کیا ہسپتال انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑیں اس چوری میں ملوث ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کا ہر شہری منتظر ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پردہ اٹھایا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں سے چلنے والے ہسپتال میں کیا گل کھلائے جا رہے ہیں؟.

  • ننکانہ :دھولر والاقبرستان ،بھنگ کےبیورپاریوں کا اڈا،100سے 200روپے پیالہ کھلے عام بکنے لگا

    ننکانہ :دھولر والاقبرستان ،بھنگ کےبیورپاریوں کا اڈا،100سے 200روپے پیالہ کھلے عام بکنے لگا

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگار احسان اللہ ایاز) مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو چکا ہے ایک سستا اور خطرناک نشہ دھولر والا قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ یہ قبرستان اب بھنگ کے نشے کے عادی افراد کی آماجگاہ بن چکا ہے، جہاں کھلے عام اس زہر کا کاروبار جاری ہے۔

    یہاں سادہ بھنگ کا ایک پیالہ محض 100 روپے اور "انرجی والا” پیالہ 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ بھنگ کا مسلسل استعمال نوجوانوں کے حافظے کو کمزور، ذہنی صحت کو تباہ اور انہیں سنگین جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس نشے نے پہلے ہی کئی خاندانوں کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ مزید نسلوں کو نگل لے گا۔

    تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی حدود میں واقع دھولر والا قبرستان عرصہ دراز سے نشے کا مرکز بنا ہوا ہے لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت نے اس صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق قبرستان اور اس کے گردونواح میں بھنگ کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ نوجوان بڑی تعداد میں اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھنگ کو ایک معمولی نشہ سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نشہ آور منشیات ہے جو نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی کو تباہ، روزگار کے مواقع کو ختم اور گھریلو تنازعات کو جنم دیتی ہے۔

    شہری حلقے اب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور دھولر والا قبرستان کو نشہ فروشوں اور نشے کے عادی افراد سے پاک کرنے کے لیے موثر کارروائی کریں۔ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ ناسور مزید پھیل جائے گا اور پورے علاقے کو بدنامی اور بربادی کی طرف دھکیل دے گا۔ وقت آگیا ہے کہ اس سماجی برائی کے خلاف آہنی ہاتھ اٹھایا جائے اور ہماری نوجوان نسل کو اس زہریلی لت سے بچایا جائے۔

  • ننکانہ:بابا گورو نانک یونیورسٹی  میں "سسٹین ایبل انرجی” پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد

    ننکانہ:بابا گورو نانک یونیورسٹی میں "سسٹین ایبل انرجی” پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار: احسان اللہ ایاز)بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں شعبہ فزکس اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے اشتراک سے دو روزہ سمپوزیم بعنوان "سسٹین ایبل انرجی” کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و تحقیقی تقریب کا مقصد پائیدار توانائی سے متعلق آگاہی، تحقیق اور قومی و عالمی سطح پر قابلِ عمل مکالمے کو فروغ دینا تھا۔

    سمپوزیم کے پہلے روز ممتاز ماہرین تعلیم اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے پائیدار توانائی کے موضوع پر مفصل خطابات کیے۔ مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر یاسر جمیل، ڈاکٹر حفیظ انور، محمد فاروق (ایکسین، این ٹی ڈی سی)، اور ڈاکٹر لاریب کرن شامل تھے۔ ان ماہرین نے ایس ڈی جی اہداف، پاکستان کے توانائی بحران، بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور شمسی توانائی جیسے موضوعات پر مفصل روشنی ڈالی۔

    پہلے روز کے اختتامی اجلاس میں چیئرمین شعبہ فزکس ڈاکٹر نصیب احمد نے مہمان مقررین کا شکریہ ادا کیا جبکہ رجسٹرار جناب مبشر طارق نے معزز مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کیں۔

    دوسرے روز طلبہ کی جانب سے پوسٹر پریزنٹیشنز کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ فزکس کے طلبہ نے پائیدار توانائی سے متعلق تحقیقی منصوبے پیش کیے۔ پوسٹر مقابلے کے ججز میں ڈاکٹر قدسیہ مشتاق (شعبہ زولوجی)، ڈاکٹر عدیل غفار (شعبہ بوٹنی)، اور محترمہ عمارہ ارشاد (شعبہ کیمسٹری) شامل تھیں، جنہوں نے طلبہ کی پیشکشوں کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا۔

    اس کامیاب سمپوزیم کے انعقاد میں ڈاکٹر ہاشم فاروق (اسسٹنٹ پروفیسر) اور جناب ارسم دانش (لیکچرار شعبہ فزکس) نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اختتامی تقریب میں شریک طلبہ کو اسناد سے نوازا گیا، جنہیں ان کی تحقیقی محنت اور جذبے کا اعتراف قرار دیا گیا۔

    یہ دو روزہ علمی سرگرمی نہ صرف طلبہ کے لیے علم کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی بلکہ توانائی کے شعبے میں تحقیق، تعلیم، صنعت اور پالیسی سازی کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم بھی ثابت ہوئی۔

  • بابا گورو نانک یونیورسٹی میں یومِ ثقافتِ پنجاب کا رنگا رنگ انعقاد

    بابا گورو نانک یونیورسٹی میں یومِ ثقافتِ پنجاب کا رنگا رنگ انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں یومِ ثقافتِ پنجاب کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں پنجاب کی بھرپور تہذیبی، ثقافتی اور روایتی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلبہ، طالبات اور اساتذہ نے پرجوش انداز میں شرکت کی۔

    تقریب کے دوران طلبہ نے پنجاب کے متنوع ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے دلکش ثقافتی اسٹالز لگائے۔ ان اسٹالز میں سکھ ثقافت، روایتی ڈیرے کی ثقافت، لکڑی کے دیدہ زیب دستکاری کے نمونے اور خواتین کی روایتی سرگرمی "ترنجن” کی منظر کشی شامل تھی۔ اس کے علاوہ پنجابی کھانوں کے خصوصی اسٹالز بھی لگائے گئے، جن میں لسی، ساگ، مکئی کی روٹی، گڑ والے چاول اور چٹخارے دار گول گپوں نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔

    تقریب کا ایک اہم اور دلکش حصہ بابا گورو نانک یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے روایتی پنجابی رقص تھے، جنہوں نے ماحول کو روایتی رنگوں سے سجا دیا اور حاضرین کو مسحور کر دیا۔

    یومِ ثقافتِ پنجاب کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات شعبہ پنجابی نے شعبہ انگریزی کے تعاون سے بخوبی سرانجام دیے۔ تقریب میں معزز اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن میں شعبہ پنجابی سے ڈاکٹر غضنفر حسین بخاری اور ڈاکٹر رضوان علی، شعبہ انگریزی سے ڈاکٹر قاسم شفیق، محترمہ عالیہ علی، جناب نعمان بن صفدر، جناب آصف ندیم اور محترمہ سعدیہ شمشاد نمایاں تھے۔ شعبہ ریاضی کی نمائندگی ڈاکٹر شاہد مبین، محترمہ مریم شفیق اور محترمہ اقرا نیاب نے کی، جبکہ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن سے ڈاکٹر عمر فاروق اور ڈاکٹر فیصل عباس، شعبہ تعلقاتِ عامہ سے جناب محمد حارث سلیمی اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل سے جناب علی رضا نے شرکت کی۔

    یومِ ثقافتِ پنجاب نہ صرف طلبہ کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا بلکہ اس نے نوجوان نسل کو اپنی شاندار تہذیب و تمدن سے جڑنے، ثقافتی شعور بیدار کرنے اور اپنی علاقائی شناخت پر فخر محسوس کرنے کا قیمتی موقع بھی فراہم کیا۔

  • ننکانہ : آئرلینڈ کی سفیر اور وزیر مملکت کا گوردوارہ جنم استھان کا دورہ

    ننکانہ : آئرلینڈ کی سفیر اور وزیر مملکت کا گوردوارہ جنم استھان کا دورہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پاکستان میں تعینات آئرلینڈ کی سفیر میری اونیل مولونے نے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل کے ہمراہ گوردوارہ جنم استھان کا دورہ کیا۔

    گوردوارہ جنم استھان پہنچنے پر سفیر اور وزیر مملکت کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور سکھ رہنماؤں نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ آئرلینڈ کی سفیر نے گوردوارہ جنم استھان کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور انہیں گوردوارہ کی تاریخی اہمیت اور سکھ مذہب کی تعلیمات سے آگاہ کیا گیا۔ مہمانوں نے سکھ مذہب کی رسومات کی ادائیگی کا بھی مشاہدہ کیا۔

    اس موقع پر آئرلینڈ کی سفیر میری اونیل مولونے اور وزیر مملکت کو یادگاری سروپا بھی پیش کیے گئے۔ سفیر میری اونیل مولونے نے گوردوارہ جنم استھان کی شاندار اور تاریخی عمارت دیکھ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو اکٹھا دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ انہوں نے شاندار استقبال اور بہترین مہمان نوازی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  • ننکانہ : غزہ کے مظلوموں کے حق میں بار اور پریس کلب کا سیمینار، ریلی

    ننکانہ : غزہ کے مظلوموں کے حق میں بار اور پریس کلب کا سیمینار، ریلی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب اور ننکانہ صاحب پریس کلب کے زیر اہتمام فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کے اختتام پر انجمن تاجران، سول سوسائٹی، صحافی برادری اور وکلاء نے مشترکہ طور پر ایک ریلی نکالی۔

    یہ ریلی ڈسٹرکٹ بار ننکانہ صاحب سے شروع ہوئی اور پریس کلب سمیت شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی گولچکر پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں وکلاء، صحافیوں کے علاوہ سیاسی، سماجی اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے جوش و خروش سے شرکت کی۔

    شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی کا بنیادی مقصد شہریوں کو اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دینا اور حکومت وقت کو اس بات کا احساس دلانا تھا کہ وہ دیگر مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ (UN) اور آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (OIC) میں اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائیں، فلسطینی بھائیوں تک فوری طور پر غذا اور ادویات کی فراہمی کے لیے آواز بلند کریں، جنگ بندی کروائیں اور ان کی بحالی کے عمل کا آغاز کریں۔

  • ننکانہ :ڈپٹی کمشنر کا بیساکھی میلہ مثبت کوریج پر صحافیوں کو خراج تحسین

    ننکانہ :ڈپٹی کمشنر کا بیساکھی میلہ مثبت کوریج پر صحافیوں کو خراج تحسین

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے بیساکھی میلے کے دوران مثبت صحافتی کوریج پر ننکانہ کی صحافی برادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی صحافیوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھایا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بیساکھی میلے کے موقع پر ننکانہ صاحب کے شہریوں، صحافیوں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران و اہلکاروں نے مثالی مہمان نوازی اور بھرپور تعاون کے ذریعے یاتریوں کے لیے ایک خوشگوار اور محفوظ ماحول فراہم کیا، جو قابل تحسین ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں نے بھی انتظامات اور مقامی عوام کی مہمان نوازی کو سراہا، جو ننکانہ کے عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ ملکی و غیر ملکی مہمانوں کا استقبال اور خدمت جاری رکھی جائے گی۔

  • ننکانہ:جنم خالصہ تقریبات، ریسکیو عملہ الرٹ، 75 یاتریوں کو طبی امداد دی گئی

    ننکانہ:جنم خالصہ تقریبات، ریسکیو عملہ الرٹ، 75 یاتریوں کو طبی امداد دی گئی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں 326 ویں بیساکھی میلے کی جنم خالصہ تقریبات کے دوران کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 250 ریسکیو افسران اور ریسکیورز مرکزی گردوارہ جنم استھان میں ہمہ وقت تیار تھے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ تین روزہ تقریبات کے دوران دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کو ریسکیو کور فراہم کیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے عملے نے اس دوران 56 یاتریوں کو موقع پر ہی فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی جبکہ مزید 19 یاتریوں کو بہتر علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اہم مقامات پر ریسکیو موبائل ٹیمیں، میڈیکل ریسکیو پوسٹیں، فائر سیفٹی پوسٹیں، دریائے راوی پر واٹر ریسکیو پوسٹ اور ریپڈ ریسپانس ٹیمیں مکمل طور پر ہائی الرٹ رہیں اور انھوں نے مکمل ریسکیو کور فراہم کیا۔

    دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے ریسکیورز کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہمہ وقت اور بروقت بھرپور معاونت کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے اس بین الاقوامی میگا ایونٹ کے کامیاب اختتام پر ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں فرائض سرانجام دینے والے تمام ریسکیورز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں سنٹرل اسٹیشن پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں انھیں تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔

  • ننکانہ: گندم کی  قیمت کے تعین نہ ہونے پر کسانوں کا ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا

    ننکانہ: گندم کی قیمت کے تعین نہ ہونے پر کسانوں کا ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کیے جانے کے خلاف کسانوں نے چوک یادگار سے ریلی نکالی جو نعرہ بازی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنے میں تبدیل ہو گئی۔ ریلی کی قیادت کسان رہنماؤں رائے ناصر اور حسنین نے کی جبکہ وکلاء برادری کی نمائندگی سابق صدر ڈسٹرکٹ بار رائے قاسم مشتاق کھرل اور جنرل سیکریٹری رائے شجر عباس نے کی۔

    ریلی میں شریک کسانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ گندم کی فی من قیمت 4 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ ان کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرغی کا گوشت 900 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ان کی محنت سے اگائی گئی گندم 50 روپے فی کلو کے نرخ پر بھی قبول نہیں کی جا رہی۔

    کسانوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں مہنگی بجلی اور کھاد دی جا رہی ہے، جس سے کاشتکاری کا خرچہ بڑھ چکا ہے اور موجودہ ریٹس پر گندم فروخت کرنے سے ان کا نقصان ہو رہا ہے۔ کسانوں نے اعلان کیا کہ جب تک کوئی حکومتی نمائندہ آ کر ان کے مطالبات نہیں سنتا، وہ ڈی سی آفس کے سامنے اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ احتجاج بدستور جاری ہے اور کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

  • ننکانہ : ویساکھی میلہ اختتامی دعا کے ساتھ اختتام پذیر، سکھ یاتری کرتارپور روانہ

    ننکانہ : ویساکھی میلہ اختتامی دعا کے ساتھ اختتام پذیر، سکھ یاتری کرتارپور روانہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار: احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب میں جاری ویساکھی میلے کی تقریبات ارداس اور اختتامی دعا کے ساتھ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گئیں۔ اختتامی دعا میں پاکستان کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ سکھ یاتری ننکانہ صاحب سے کرتارپور کے لیے روانہ ہو گئے۔

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس نے سکھ یاتریوں کو الوداع کہا۔ روانگی کے وقت یاتریوں کو سخت سیکیورٹی حصار میں رخصت کیا گیا، جس پر یاتریوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ انتظامات کو سراہا۔

    سکھ یاتریوں نے رہائش، لنگر، سیکیورٹی اور ٹرانسپورٹ کے بہترین انتظامات پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ وہ بابا گورونانک کی دھرتی سے محبت، اخوت اور پیار کا پیغام لے کر واپس جا رہے ہیں۔ پاکستان میں ان کو جو عزت و احترام ملا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔

    یاتریوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے افراد بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کا خیال رکھنا پاکستان کی روایت کا حصہ ہے اور ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی اُن کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بابا گورونانک کی تعلیمات انسانیت، پیار اور رواداری پر مبنی ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر ہم معاشرے میں امن و بھائی چارے کو فروغ دے سکتے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں آزاد ہیں اور ان کے مذہبی جذبات کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔ ویساکھی میلے میں شریک یاتریوں کی حفاظت کے لیے ضلعی پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ یاتری بغیر کسی خوف و خطر کے اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔