Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • پنجاب ہائر ایجوکیشن میں سیاسی تعیناتیاں، کالجز انتظامی بحران کا شکار

    پنجاب ہائر ایجوکیشن میں سیاسی تعیناتیاں، کالجز انتظامی بحران کا شکار

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیے گئے انتظامی فیصلوں پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی تعیناتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے باعث تعلیمی اداروں کے انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ضلع ننکانہ صاحب میں مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر کی عدم تعیناتی سے نو بوائز اور گرلز کالجز شدید مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 نومبر 2023 کے بعد سے ننکانہ صاحب میں کوئی بھی مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بجٹ کی منظوری، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تعیناتی اور دیگر بنیادی تعلیمی معاملات میں پرنسپلز کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی فیصلوں میں شفافیت کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایک انتہائی اہم عہدہ ہے جو کالجز کی بہتری اور تعلیمی معیار بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا اس پر سیاسی وابستگی کے بجائے میرٹ پر تعیناتی ہونی چاہیے۔

    کالجز کے پرنسپلز، اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ مستقل ڈپٹی ڈائریکٹر کی غیر موجودگی میں تعلیمی ادارے شدید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق، اگر مسئلے کا جلد از جلد حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ طلبہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ انتظامی خلل کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ بھی احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔

    تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ننکانہ صاحب میں جلد از جلد ایک مستقل، قابل اور غیر جانبدار ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔ مزید برآں، ماہرین نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دینے کی بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر تعلیمی معیار اور میرٹ کو ترجیح دے۔

    اگر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کا سلسلہ بند نہ کیا تو اس کے نتائج نہ صرف تعلیمی معیار پر منفی اثر ڈالیں گے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے بھی مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پنجاب بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

  • بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کی رنگا رنگ تقریب

    بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کی رنگا رنگ تقریب

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گرو نانک یونیورسٹی میں سالانہ اسپورٹس گالا کا شاندار آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ممبرانِ صوبائی اسمبلی آغا علی حیدر اور خان بہادر ڈوگر تھے، جبکہ صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر محمد افضل نے کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ نے شاندار مارچ پاسٹ، بھنگڑا اور ثقافتی پرفارمنسز پیش کیں۔

    اسپورٹس گالا میں طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کھیلوں کو نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد افضل نے کہا کہ ایسے مقابلے ٹیم ورک اور اسپورٹس مین شپ کو فروغ دیتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "جب کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو ہسپتال ویران ہوں گے۔”

  • ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "ہفتہ یکجہتی کشمیر” منانے کا اعلان

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "ہفتہ یکجہتی کشمیر” منانے کا اعلان

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ 31 جنوری تا 5 فروری تک "شہ رگ ہر صورت چھڑائیں گے” کے عنوان سے ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع بھر میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ننکانہ صاحب کے جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت کی قیادت کے حکم پر مختلف عوامی مقامات، چوکوں اور چوراہوں میں یکجہتی کیمپ لگائے جائیں گے۔ مسلم لیگ کے ذیلی شعبہ جات پاک لائرز فورم، مسلم یوتھ لیگ، مسلم ویمن لیگ، مرکزی کسان اتحاد، رابطہ علماء و مشائخ پاکستان اور مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کے زیر اہتمام سیمینار منعقد کیے جائیں گے، جن میں کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔

    ہفتہ یکجہتی کشمیر کے دوران پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے "شہ رگ ہر صورت چھڑائیں گے” کے عنوان سے خصوصی ترانے اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر مبنی ڈاکومنٹری پیش کی جائے گی۔

    یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری) کے دن ضلع بھر میں بڑی ریلیاں نکالی جائیں گی، جن میں سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنما شرکت کریں گے۔ ان ریلیوں کا مقصد کشمیر کاز کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کی طرف مبذول کرانا ہے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

  • ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا مفت آئی کیمپوں کے انعقادکا شیڈول جاری

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا مفت آئی کیمپوں کے انعقادکا شیڈول جاری

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ضلع ننکانہ صاحب میں غریب اور مستحق عوام کے لیے فری آئی کیمپوں کا اعلان کیا ہے۔ جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے بتایا کہ یہ اقدام عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے مشن کا حصہ ہے۔

    کیمپوں میں ماہر ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب ہوں گی، جو آنکھوں کی بیماریوں کا علاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر مفت آپریشنز کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، مریضوں کو مفت عینکیں اور معیاری ادویات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ علاج کے اخراجات کسی کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔

    یہ فری آئی کیمپ 10 فروری سے 16 فروری تک مختلف علاقوں میں لگائے جائیں گے جن میں
    10 فروری: سانگلہ ہل
    11 فروری: شاہکوٹ
    12 فروری: دیہی ننکانہ صاحب اور شاہکوٹ
    13 فروری: واربرٹن
    14 فروری: بچیکی
    15 فروری: موڑکھنڈا
    16 فروری: منڈی فیض آباد

    جنرل سیکرٹری ثاقب مجید نے بتایا کہ یہ کیمپ بالخصوص ان افراد کے لیے ہیں جو مالی مشکلات کی وجہ سے علاج نہیں کروا سکتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ان کیمپوں سے فائدہ اٹھائیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ فری آئی کیمپ اسی مشن کا تسلسل ہیں، اور مستقبل میں مزید منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

  • ننکانہ : زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا تباہ کن سلسلہ جاری

    ننکانہ : زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا تباہ کن سلسلہ جاری

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی)ڈسٹرکٹ کونسل ننکانہ صاحب کی حدود میں زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیر سے غذائی تحفظ اور ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ حکومتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے متعلقہ افسران کی مبینہ ملی بھگت سے زرعی اراضی کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف غذائی پیداوار میں کمی کا سبب بن رہا ہے بلکہ پانی کے ذخائر میں بھی شدید کمی ہو رہی ہے۔ زمین کی قدرتی صلاحیت ختم ہو رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے زرعی زمینوں کو رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن ڈسٹرکٹ کونسل کی پلاننگ برانچ قوانین کو نظرانداز کر رہی ہے۔ ڈی او پلاننگ کی جانب سے ان غیر قانونی اسکیموں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور چیف آفیسر ضلع کونسل اختر بٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ملوث افسران کو جوابدہ بنایا جائے، اور سخت قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ ماحولیاتی اور زرعی نقصان کو روکا جا سکے۔

    یہ مسئلہ نہ صرف مقامی کسانوں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

  • ننکانہ : بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت ڈراپ آؤٹ بچوں کی انرولمنٹ بڑھانے کا عزم

    ننکانہ : بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت ڈراپ آؤٹ بچوں کی انرولمنٹ بڑھانے کا عزم

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت ڈراپ آؤٹ بچوں کی انرولمنٹ بڑھانے کا عزم

    تفصیل کے مطابق عالمی یوم تعلیم کی مناسبت سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت ڈراپ آؤٹ بچوں کی اسکول واپسی کو یقینی بنانے اور بے نظیر وسیلہ تعلیم کے ذریعے انرولمنٹ بڑھانے کے لیے ضلعی دفتر میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت محترمہ طیبہ یاسمین نے کی، جس میں این سی ایچ ڈی، نادرا، سیاسی و سماجی رہنماؤں، اور خواتین ونگ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    وومن ونگ کی ضلعی صدر ذکیہ رانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "بے نظیر وسیلہ تعلیم” کے ذریعے قومی سطح پر ڈراپ آؤٹ ریٹ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے وظیفہ کی رقم میں اضافہ اور ادائیگی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ ہر بچے کے لیے تعلیم کا حق ممکن ہو سکے۔

    محترمہ طیبہ یاسمین نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ پروگرام کے تحت بچوں کی انرولمنٹ بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تمام متعلقہ ادارے اور کمیونٹیز مل کر ڈراپ آؤٹ بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے کوششیں کریں۔

    اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • ننکانہ: زرعی زمینیں غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیوں کے نشانے پر،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    ننکانہ: زرعی زمینیں غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیوں کے نشانے پر،انتظامیہ کی آنکھیں بند

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ کونسل ننکانہ صاحب کی حدود میں زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے قیام نے معیشت اور غذائی تحفظ پر سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ متعلقہ افسران کی خاموشی اور لینڈ مافیا کی ملی بھگت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    یہ ہاؤسنگ اسکیمیں بغیر قانونی منظوری اور بنیادی سہولیات فراہم کیے بغیر زرعی زمینوں کو تیزی سے رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیر قانونی عمل کے نتیجے میں علاقے کی زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، اور ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ کونسل کی شعبہ پلاننگ برانچ کی خاموشی اور کارروائی نہ ہونے پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی افسران کی ملی بھگت سے لینڈ مافیا عوام کو "خوابوں کے شہر” کا جھانسہ دے کر ان کی محنت کی کمائی لوٹ رہی ہے۔

    عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، اور چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل عامر اختر بٹ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس میں ملوث افراد اور افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔

    باشعور حلقوں نے اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومتی ایوانوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ اس کا فوری حل نکالا جا سکے۔

  • ننکانہ:غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کا گورکھ دھندہ،عوام کی زندگیاں تباہ،حکام بے بس

    ننکانہ:غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کا گورکھ دھندہ،عوام کی زندگیاں تباہ،حکام بے بس

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کا گورکھ دھندہ،عوام کی زندگیاں تباہ،حکام بے بس،غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی آڑ میں عوام کو لوٹا جا رہا ہے، زرعی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں اور حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

    ڈسٹرکٹ کونسل ننکانہ صاحب کی حدود میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں زرعی زمینوں کو غیر قانونی طور پر رہائشی منصوبوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان اور متعلقہ افسران کی ملی بھگت کے ذریعے عوام کو سہانے خواب دکھا کر ان سے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔ ان غیر قانونی اسکیموں میں شامل افراد نے لوگوں کو غیر قانونی طور پر زمین فراہم کرنے کے نام پر فیس وصول کی ہے، مگر ان اسکیموں میں عوام کو بنیادی سہولتوں کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ہاؤسنگ اسکیمیں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترقی کر رہی ہیں، اور متعلقہ حکام کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ آفیسر پلاننگ نے ان غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس خاموشی کے باعث ان اسکیموں کے مالکان کی جانب سے عوام کا استحصال جاری ہے۔

    ان اسکیموں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پانی، بجلی، اور سیوریج جیسی سہولتوں کا فقدان ان علاقوں میں مزید مسائل پیدا کر رہا ہے۔ عوام نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور چیف آفیسر ضلع کونسل عامر اختر بٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں جو زرعی زمینوں کو تباہ کر کے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں بنا رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور ان اسکیموں کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ اگر یہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں اسی طرح چلتی رہیں تو نہ صرف زرعی زمینوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ شہریوں کو بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہونا پڑے گا۔

  • ننکانہ : ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ کی انسولین چوری، کرپٹ سی ای او کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج

    ننکانہ : ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ کی انسولین چوری، کرپٹ سی ای او کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 70 لاکھ روپے مالیت کی انسولین چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کرپٹ سی ای او طلحہ شیروانی پر شدید الزامات عائد کیے ہیں، جنہیں بدعنوانی کے سابقہ ریکارڈ کے باوجود اہم عہدہ دیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سی ای او نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس روکے رکھے ہیں اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت فوری کارروائی کرے، ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے 70 لاکھ روپے مالیت کی انسولین کی چوری کا انکشاف ہوا ہے، جس نے محکمہ صحت کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پنجاب اور محکمہ صحت پر کڑی تنقید کی ہے۔

    سی ای او پر کرپشن کے الزامات
    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر سلمان حسیب، ڈاکٹر شعیب نیازی اور دیگر عہدیداران نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ سی ای او طلحہ شیروانی، جو ماضی میں بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں، انسولین چوری اور دیگر کرپشن کے اسکینڈلز میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلحہ شیروانی جو پہلے میو ہسپتال میں تعینات تھے، وہاں بھی کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔

    ڈاکٹروں نے شکایت کی کہ سی ای او نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کئی ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس کی تجدید روک رکھی ہے۔ بی ایچ یو اور آر ایچ سی میں تعینات ڈاکٹرز شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں بلاجواز انتظار کروایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سی ای او دفتر میں لیڈی ڈاکٹروں کو بھی گھنٹوں انتظار کرواتا ہے اور منتھلی رشوت کے بغیر کام نہیں کرتا۔

    پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 70 لاکھ روپے کی انسولین چوری ہو چکی ہے، جو غریب مریضوں کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ سی ای او اور دیگر افسران نے اس چوری پر پردہ ڈال رکھا ہے اور کسی قسم کی تفتیش یا کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس چوری کے باعث غریب مریض انسولین کی فراہمی سے محروم ہو چکے ہیں، جو ان کی زندگیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹروں نے پنجاب حکومت اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ سی ای او طلحہ شیروانی کے خلاف فوری انکوائری کی جائے۔میو ہسپتال سے ان کا سابقہ ریکارڈ طلب کیا جائے۔ڈاکٹروں کے ایڈہاک کنٹریکٹس فوری طور پر تجدید کیے جائیں۔انسولین چوری کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلحہ شیروانی، جو سنٹرل پارک ہسپتال میں بھی ملازمت کر رہے ہیں، کے خلاف وہاں جا کر بھی احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سی ای او کو دوہری ملازمت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    پریس کانفرنس کے آخر میں صوبائی قیادت نے ڈاکٹر عدنان اقبال گجر کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب کا نیا صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈاکٹروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے۔

    ڈاکٹروں نے صحافی برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے مطالبات کی حمایت کریں کیونکہ ہسپتال عوام کی ملکیت ہے اور اس میں کرپشن اور بدعنوانی سے عوام ہی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کے حق کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

  • ننکانہ صاحب: گرلز کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز، خواتین کی تعلیم میں انقلابی قدم

    ننکانہ صاحب: گرلز کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز، خواتین کی تعلیم میں انقلابی قدم

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز محمد ارشد چوہدری کی قیادت میں ضلع ننکانہ صاحب کے 6 گرلز کالجز میں بی ایس پروگرامز کا آغاز کیا گیا ہے۔

    اس اقدام سے پہلے طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور یا فیصل آباد جانا پڑتا تھا، جس سے والدین کو مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا تھا۔ محمد ارشد چوہدری کی کاوشوں سے اب طالبات کو مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی سہولت میسر ہوگی، جو علاقے میں خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

    بی ایس پروگرام کا آغاز نہ صرف طالبات کو تعلیم یافتہ بنانے میں مدد کرے گا بلکہ انہیں سماجی اور معاشی طور پر خودمختار بھی بنائے گا۔ تعلیم یافتہ خواتین اپنے خاندانوں کی بہتر تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

    طالبات اور ان کے والدین نے اس اقدام کو بے حد سراہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اب طالبات کو دوسرے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، اور یہ فیصلہ علاقے کی ترقی میں ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر کی خدمات کو خراج تحسین
    محمد ارشد چوہدری نے اپنی قیادت سے ثابت کیا کہ عزم اور نیت سے بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ننکانہ صاحب کے لیے ایک تعلیمی انقلاب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ
    یہ فیصلہ خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے فروغ کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، جو صوبے بھر کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔