Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ صاحب: میونسپل ملازمین اور پنشنرز کو 4.7 کروڑ کی ادائیگی

    ننکانہ صاحب: میونسپل ملازمین اور پنشنرز کو 4.7 کروڑ کی ادائیگی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)میونسپل ملازمین اور پنشنرز کو 4 کروڑ 70 لاکھ کی ادائیگی، ڈپٹی کمشنر کو خراج تحسین

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی خصوصی ہدایات پر میونسپل کمیٹی کے ملازمین اور پنشنرز کو 4 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی گئی، جس پر ملازمین اور ضعیف العمر پنشنرز نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

    میونسپل کمیٹی جو مالی مشکلات کا شکار ہے، ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہوں اور 76 کے قریب پنشنرز کو چار ماہ کی پنشن کی عدم ادائیگی کا سامنا تھا۔ اس صورتحال نے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا تھا، حتیٰ کہ نوبت فاقوں تک پہنچ گئی تھی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی راؤ انوار کو خصوصی گرانٹ کے ذریعے ادائیگی کی ہدایات جاری کیں۔ ہدایات کے مطابق 76 پنشنرز کو چار ماہ کی پنشن کی مد میں 80 لاکھ روپے اور میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہوں کی مد میں 3 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

    ملازمین اور پنشنرز نے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے مستقل اقدامات کیے جائیں جن سے اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

  • ننکانہ : بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کا اہم کردار، ICAD پر میڈیا بریفنگ

    ننکانہ : بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کا اہم کردار، ICAD پر میڈیا بریفنگ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) سنٹر فار پیس ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور سانجھ پریت آرگنائزیشن کے زیر اہتمام عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے سلسلے میں ایک میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی صحافیوں کو بدعنوانی کے خلاف اقدامات، نوجوانوں کے کردار، اور عالمی معیارات پر روشنی ڈالی گئی۔

    عالمی یوم انسداد بدعنوانی ہر سال 9 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اور اس سال کا موضوع "نوجوانوں کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف اتحاد: مستقبل کی دیانت کی تشکیل” تھا۔ اس کا مقصد بدعنوانی کے خاتمے اور دیانتداری کو فروغ دینے میں نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

    پاکستان کی پیش رفت اور چیلنجز
    پاکستان نے بدعنوانی کے خلاف اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے حالیہ سالوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) میں پاکستان کی درجہ بندی 2022 میں 140 ویں سے بہتر ہو کر 2023 میں 133 ویں ہو گئی ہے، جبکہ سی پی آئی اسکور 27 سے بڑھ کر 29 ہو چکا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن بھارت، نیپال اور بھوٹان سے کمزور، مگر افغانستان سے بہتر ہے۔ پاکستان میں عوامی شعبے کی بدعنوانی کے خلاف مختلف قوانین نافذ ہیں، جن میں انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 اور قومی احتساب آرڈیننس (NAO) شامل ہیں۔ حالیہ ترامیم کے تحت نیب کے دائرہ کار کو بڑے مقدمات تک محدود کر دیا گیا ہے، جن کی مالیت 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو۔

    بدعنوانی کے خلاف قومی اقدامات
    پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے قومی و صوبائی ادارے متحرک ہیں، جو بدعنوانی کی روک تھام اور عوامی اہلکاروں کی جوابدہی کے لیے سرگرم ہیں۔ ان میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے انسداد بدعنوانی ادارے شامل ہیں۔

    بدعنوانی کا خاتمہ: ایک اجتماعی ذمہ داری
    میڈیا بریفنگ میں مقررین نے زور دیا کہ بدعنوانی کا خاتمہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عوامی شعور اور اجتماعی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ معلومات تک رسائی کے قوانین، مضبوط بلدیاتی حکومتوں، اور شفاف گورننس کے ذریعے بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ممکن ہے۔

    میڈیا کا کردار اور نوجوانوں کی اہمیت
    میڈیا کو بدعنوانی کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار قرار دیتے ہوئے شفافیت کو فروغ دینے اور عوامی شعور بیدار کرنے پر زور دیا گیا۔ نوجوانوں کو بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں شامل کرنے اور ان کے کردار کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔

    عالمی یوم انسداد بدعنوانی پر یہ عزم دہرایا گیا کہ پاکستان کو دیانت اور شفافیت پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔

  • ننکانہ: کرونا ریڈ کمپین تھری کی رقم غائب، محکمہ صحت میں کرپشن کی نئی داستان

    ننکانہ: کرونا ریڈ کمپین تھری کی رقم غائب، محکمہ صحت میں کرپشن کی نئی داستان

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) محکمہ صحت ننکانہ صاحب میں کرپشن کی ایک اور کہانی سامنے آگئی ہے جہاں سی ای او ہیلتھ کے اکاؤنٹ سے کروناریڈ کمپین تھری 2022 کی رقم غائب ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر سے فوری انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریڈ کمپین تھری کے دوران کرونا ویکسی نیشن کے لیے تعینات 1200 سے زائد پیرامیڈیکل اسٹاف، رضاکاروں، ایل ایچ ایس، ایل ایچ ڈبلیو اور دیگر عملے کو تاحال ادائیگی نہیں کی جا سکی۔ یہ رقم پہلے ڈی ایچ او کے اکاؤنٹ سے سی ای او ہیلتھ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی اور پھر پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔

    محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ رقم کی ادائیگی کے لیے تمام فائل ورک مکمل تھا اور ملازمین نے نظرانہ بھی جمع کر لیا تھا لیکن بدعنوانی کے باعث رقم آج تک ملازمین تک نہیں پہنچی۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی اس رقم کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔

    یہ خبر بھی پڑھیں

    ننکانہ: محکمہ صحت کا شرمناک کردار، 1200 کروناوارئر 2 سال سے معاوضے سے محروم
    متاثرہ ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کی جائے اور غائب شدہ رقم کی بازیابی یقینی بنائی جائے تاکہ دو سال سے حق سے محروم ملازمین کو ان کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔

    یہ واقعہ محکمہ صحت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس پر شہریوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ننکانہ:فاطمہ بانو  نے ہمیشہ کام کو ایقان اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا.محمد اکرم پنوار

    ننکانہ:فاطمہ بانو نے ہمیشہ کام کو ایقان اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا.محمد اکرم پنوار

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)فاطمہ بانو کی اچانک وفات پر ریسکیو 1122 میں تعزیتی ریفرنس

    تفصیل کے مطابق ننکانہ صاحب میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن فاطمہ بانو کی اچانک وفات پر ریسکیو 1122 سنٹرل اسٹیشن پر تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار، فاطمہ بانو کے والد پروفیسر شبیر شاہ، بھائی، اساتذہ اکرام، ریسکیو آفیسرز اور ریسکیورز نے بھرپور شرکت کی۔

    ریفرنس کے دوران، ریسکیورز نے دورانِ ڈیوٹی فاطمہ بانو کے ساتھ گزارے لمحوں کا ذکر کیا اور انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ فاطمہ بانو کے کردار اور اعلیٰ کارکردگی کو یاد کرتے ہوئے ہر آنکھ اشکبار تھی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کہا کہ "فاطمہ بانو ہماری ریسکیو فیملی کا حصہ تھیں، ان کا جذبہ انسانیت اور ذمہ دارانہ رویہ مثالی تھا۔ انہوں نے ہمیشہ کام کو ایقان اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا۔

    آخر میں ان کی بلندی درجات کے لئے اجتماعی دعا کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ پسماندگان کو صبر جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

  • ننکانہ : عوامی مسائل کے حل کے لیے اوپن ڈور پالیسی پر عملدرآمد جاری

    ننکانہ : عوامی مسائل کے حل کے لیے اوپن ڈور پالیسی پر عملدرآمد جاری

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ضلع ننکانہ صاحب میں عوامی مسائل کے بروقت حل کے لیے اوپن ڈور پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے عوامی شکایات سننے کے لیے اپنے دفتر کے دروازے کھول دیے۔ انہوں نے روزانہ صبح 10 بجے سے ساڑھے 11 بجے تک شہریوں کے مسائل سنے اور فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات دیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سیوریج، صفائی ستھرائی، ریونیو اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے ضلعی افسران کی مکمل توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے بلا جھجک سرکاری دفاتر کا رخ کریں، کیونکہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا بروقت حل پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور میرے دفتر کے دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے ہیں۔

  • ننکانہ: فیسوں کا بوجھ، تعلیم کا زوال، پرائیویٹ سکول مافیا بے قابو،عوام کی چیخیں

    ننکانہ: فیسوں کا بوجھ، تعلیم کا زوال، پرائیویٹ سکول مافیا بے قابو،عوام کی چیخیں

    ننکانہ صاحب( باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز کی رپورٹ) فیسوں کا بوجھ، تعلیم کا زوال، پرائیویٹ اسکول مافیا بے قابو،عوام کی چیخیں

    تفصیلات کے مطابق پرائیویٹ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی خود مختاری اور من مانے قوانین نے تعلیم جیسے بنیادی حق کو کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ والدین اور طلبہ شدید مالی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
    پرائیویٹ اسکولوں کی بے ضابطگیاں
    1. فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ:
    پرائیویٹ اسکول اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ واچر سلپ، امتحانات اور دیگر نام نہاد اخراجات کے نام پر والدین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اضافی رقوم ادا کریں۔
    2. تعطیلات میں فیس وصولی:
    سرکاری طور پر گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے باوجود اسکول مکمل فیس وصول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اساتذہ کو ان چھٹیوں کے دوران کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی۔
    3. بنیادی سہولیات کا فقدان:
    بیشتر سکولوں میں طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔ کلاس رومز میں ٹوٹی ہوئی میزیں، خراب پنکھے، پانی کی قلت اور گنجائش سے زیادہ طلبہ جیسے مسائل عام ہیں۔
    4. جبری خریداری:
    پرائیویٹ اسکول انتظامیہ طلبہ کے والدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مخصوص ڈیلرز سے کاپیاں، کتابیں اور یونیفارم خریدیں، جن پر اضافی کمیشن وصول کیا جاتا ہے۔
    5. معیار تعلیم کی خرابی:
    تعلیم کے بجائے اسکول صرف پیسہ کمانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی مناسب تربیت اور طلبہ کی تعلیمی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
    6. نفسیاتی اثرات:
    زیادہ فیس یا دیگر اخراجات نہ دے سکنے والے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور نفسیاتی حالت متاثر ہوتی ہے۔
    والدین اور عوام نے حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ:
    1.پرائیویٹ اسکولوں کی خود مختاری ختم کی جائے اور ان کے قوانین کو حکومتی نگرانی میں لایا جائے۔
    2.فیسوں میں اضافے اور غیر ضروری چارجز پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔
    3.اسکولوں کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جائے تاکہ تعلیمی معیار اور سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔
    4.گورنمنٹ اسکولوں کو بہتر بنا کر عوام کو معیاری اور کم خرچ تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے۔
    حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت
    پرائیویٹ اسکولوں کے مسائل صرف ننکانہ صاحب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر سخت قوانین نافذ کرتے ہوئے والدین اور طلبہ کو ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔ گورنمنٹ اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کے فروغ سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    تعلیم کسی کا حق چھیننے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کا ایک وسیلہ ہونا چاہیے۔ حکومت کو اس اہم مسئلے پر فوری ایکشن لینا ہوگا۔

  • ننکانہ: محکمہ صحت کا شرمناک کردار، 1200 کروناوارئر 2 سال سے معاوضے سے محروم

    ننکانہ: محکمہ صحت کا شرمناک کردار، 1200 کروناوارئر 2 سال سے معاوضے سے محروم

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی ،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز کی رپورٹ)محکمہ صحت کی مالی بے ضابطگیاں، 1200 ملازمین کی کرونا ڈیوٹی رقم دو سال سے ادا نہ ہو سکی

    تفصیل کے مطابق ننکانہ صاحب میں محکمہ صحت کے مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ دو سال گزرنے کے باوجود ریڈ کمپین تھری کرونا ویکسی نیشن کے دوران خدمات انجام دینے والے 1200 سے زائد ملازمین کو ان کی معاوضہ رقم ادا نہیں کی جا سکی۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود سی ای او ہیلتھ ننکانہ صاحب کی جانب سے رقم کی منتقلی نہ ہونا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایل ایچ ایس و ایل ایچ ڈبلیو کی صدر رخسانہ یاسمین نقوی نے انکشاف کیا کہ سی ای او ہیلتھ کے اکاؤنٹ میں رقم موجود ہونے کے باوجود اسے منتقل نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران پیرا میڈیکل سٹاف، رضاکاروں، اور دیگر عملے نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر خدمات سرانجام دیں، مگر دو سال گزرنے کے باوجود انہیں ان کا حق نہیں دیا گیا۔

    رخسانہ نقوی نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ پنجاب سے ملاقات کے بعد 22 اپریل 2024 کو دوبارہ احکامات جاری کیے گئے، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ، اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تاکہ ان ملازمین کو ان کا حق مل سکے اور مالی بے ضابطگیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  • ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انستھیزیا مشینیں 30 روز سے خراب، میجر آپریشن بند

    ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انستھیزیا مشینیں 30 روز سے خراب، میجر آپریشن بند

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انستھیزیا مشینیں 30 روز سے خراب، میجر آپریشن بند

    تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث آپریشن تھیٹر کی بے ہوشی کی مشینیں گزشتہ 30 دنوں سے خراب ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں اور ڈاکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ ہسپتال جو ضلع کا سب سے بڑا سرکاری طبی مرکز ہے، انتظامی نااہلی اور وسائل کی کمی کے باعث مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ قائم مقام ایم ایس سرجن ڈاکٹر رانا افتخار محی الدین محدود وسائل میں ہسپتال کی حالت بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن بے ہوشی کی مشینوں کی خرابی نے مریضوں اور عملے کے لیے حالات مزید سنگین کر دیے ہیں۔

    متعلقہ انجینئرز کی غفلت کے باعث یہ مشینیں تاحال ٹھیک نہیں کی جا سکیں۔ مریضوں کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہسپتال کے مسائل حل کیے جائیں۔

  • ننکانہ :بابا گورونانک کی تقریبات سجانے والے ایم سی ملازمین3 ماہ کی تنخواہوں سے محروم

    ننکانہ :بابا گورونانک کی تقریبات سجانے والے ایم سی ملازمین3 ماہ کی تنخواہوں سے محروم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کے ملازمین جنہوں نے بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات محنت کی، گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے نہ ہونے سے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب ہمیشہ مسائل کا شکار رہی ہے، جہاں کبھی فنڈز کی کمی تو کبھی اضافی اخراجات کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ چیف آفیسر کی جانب سے تاحال کوئی عملی اقدام نہ ہونے سے ملازمین کے مسائل حل نہیں ہو سکے۔

    ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کی مالی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ دوکانداروں نے راشن دینا بند کر دیا ہے۔ ملازمین نے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر تین ماہ کی تنخواہیں ادا کی جائیں تاکہ ان کے معاشی مسائل حل ہو سکیں اور قرضوں کے بوجھ سے نجات مل سکے۔

  • ننکانہ:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے 5  یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    ننکانہ:ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے 5 یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    ننکانہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سے پانچ یوپی ایس غائب، انکوائری رپورٹ تاخیر کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں کرپشن کی سنگین کہانی سامنے آئی ہے، جہاں کمپیوٹرز کے استعمال کے لیے نصب لاکھوں روپے مالیت کے پانچ یوپی ایس پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کے سخت احکامات کے باوجود تحقیقات ایک ماہ بعد بھی مکمل نہ ہو سکیں، جس سے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے 28 اکتوبر کو دورہ ہسپتال کے دوران انکشاف ہوا کہ پرچی کاؤنٹرز پر موجود یوپی ایس غائب ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے فوری تحقیقات اور تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ضلعی محکمہ صحت نے اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد افضل کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں ایڈمن آفیسر وقاص سرور اور ڈی این ایس ارشاد بیگم شامل تھے۔ تاہم یہ کمیٹی تاحال رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ غائب یوپی ایس کو فائلوں میں ڈھونڈنے میں مصروف ہے لیکن اس پراسرار معاملے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین غفلت کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کریں تاکہ مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور کرپشن کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔