خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں
ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حالیہ تخریب کاری کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی کے سابق رہنما اسلم بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی برسی سے ہو سکتا ہے، جو کل منائی جا رہی ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آج بلوچستان میں ٹرین سروس معطل رہے گی، جبکہ سیکیورٹی فورسز متاثرہ ریلوے ٹریک پر تحقیقات اور مرمتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مسافروں کی حفاظت اور جلد از جلد ٹرین آپریشن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
کالعدم بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے ترجمان، جس نے اپنا نام دوستین بلوچ بتایا، نے ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بیان کے مطابق گروہ کے مسلح افراد نے ریلوے لائن پر بارودی مواد نصب کر کے دھماکہ کیا جس سے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کا عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہلو میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردوں کی شناخت اور وابستگی جانچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق رات کے وقت ضلع ٹانک کے علاقے شادی خیل کے قریب گاؤں مغزی/رغزی میں ایک دینی مدرسے کو نامعلوم ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مدرسے کے نو طالب علم زخمی ہو گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر کے قریبی اسپتالوں منتقل کیا۔ مقامی حکام نے حملے کی مذمت کی اور مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے بچوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ حملے کا مقصد اور ذمہ داران کی شناخت تاحال زیرِ تفتیش ہے۔
حکام کے مطابق میران علی کے علاقے فقیران چوک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گشت پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے ضلع لکی مروت میں مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت برکت عرف برکتی اور ابوذر کے نام سے ہوئی، جو متعدد جعلی شناختوں کے تحت منظم دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہ دہشت گردی، سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری سمیت دس سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ سابق لیویز اہلکار ہدایت اللہ، کانسٹیبل حافظ زینت اللہ اور دیگر افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔ آپریشن وانڈہ امیر خان کے نواحی علاقے میں کیا گیا۔ امن کمیٹی کے مقامی رضاکاروں نے بھی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں ان کا سرغنہ دلاور بھی شامل تھا۔ دلاور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر حکومت نے 40 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران کالعدم گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک خودکش بمبار ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت مہدی کے نام سے ہوئی، جو گزشتہ دو سال سے خودکش حملوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ وہ تنظیم جیشِ فرسانِ محمد اور اس کی خودکش ونگ خالد بن ولید یونٹ کا رکن تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھات لگا کر حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر کے علاقے بارہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس کے دوران کالعدم تنظیم کے مقامی کمانڈر خمیم کے گھر سمیت متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے بسی خیل تھانے کی حدود میں پولیس نے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی پر وہ پسپا ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری جدید اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچی، جس پر حملہ آور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے موٹر سائیکلیں تحویل میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔