Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبرپختونخوا حکومت کے تین پن بجلی منصوبے مکمل

    خیبرپختونخوا حکومت کے تین پن بجلی منصوبے مکمل

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے تین پن بجلی منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے۔

    سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد کی زیرصدارت پیڈو ہاؤس میں پن بجلی کے جاری 7 اہم منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا نثار احمد نے کہا کہ سوات کوریڈور پر 40 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے کام میں تیزی لائی گئی، جو آئندہ سال مکمل کر لی جائے گی۔

    چیف ایگزیکٹو پیڈو حبیب اللہ نے بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال 63میگاواٹ کے 3پن بجلی منصوبے مکمل کیے،جن کی بدولت صوبے کو سالانہ 4.4 ارب روپے آمدن حاصل ہو گی ان منصوبوں سے صنعتی شعبے کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جن میں 40.8 میگاواٹ کوٹو دیر، 11.8 میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور 10.2 میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ شامل ہیں 300 میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ، 157 میگاواٹ مدین سوات، 88 میگاواٹ گبرال کالام۔ 84 میگاواٹ ملتان سوات، 69 میگاواٹ لاوی چترال اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین پاور پراجیکٹ تورغر پر بھی کام جاری ہے۔

    سیکرٹری توانائی نے ضلع سوات میں توانائی کے 3 فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے 330 میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ دو برسوں میں شروع کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے،انہوں نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کر لیے جائیں بصورت دیگر کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل قبول ہو گی، محکمہ توانائی موجودہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گین چارٹ کے ذریعے تمام منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہا ہے اور پیڈو افسران کو ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ایف سی ہیڈکوارٹرز حملہ، دہشت گردانہ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف سی ہیڈکوارٹرز حملہ، دہشت گردانہ نیٹ ورک بے نقاب

    پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق حملے میں شامل خودکش حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تھا، جنہوں نے واردات سے قبل پشاور میں چند روز قیام کیا اور شہر کے مختلف راستوں سے مکمل واقفیت حاصل کی۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو نہ صرف رہائش فراہم کی گئی بلکہ خودکش جیکٹس کی تیاری اور دیگر لاجسٹک سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے شہر میں قیام کے دوران حساس مقامات کا جائزہ لیا اور ایف سی ہیڈکوارٹرز تک رسائی کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے سلسلے میں اب تک 150 سے زائد افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، جن میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد، سہولت کار اور رابطہ کار شامل ہیں۔ تفتیشی عمل کے دوران اہم شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریوں اور کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے دوران خودکش بمبار سمیت تین حملہ آور بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور حملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • پشاور میں بائیک سروس کی آڑ میں راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    پشاور میں بائیک سروس کی آڑ میں راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور میں آن لائن بائیک سروس کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس نے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر بائیک سروس فراہم کرنے والوں کا روپ دھار کر شہریوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور مناسب موقع ملتے ہی اسلحے یا دھمکی کے ذریعے شہریوں کو لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان واقعات میں اضافہ ہونے کے بعد پشاور پولیس نے تمام آن لائن بائیک سروس رائیڈرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے، تاکہ راہزنی میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں کے پی پولیس نے ایک مخصوص موبائل ایپ بھی تیار کی ہے، جس کی تفصیلات اور طریقۂ استعمال جلد عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

    ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم میں ملوث جعلی بائیک رائیڈرز کی نشاندہی کے بعد آن لائن بائیک رائیڈرز کی تھانوں میں باقاعدہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی رائیڈر تھانے جا کر اپنی تصدیق اور اندراج کرا سکے گا، جس کے بعد اس کی شناخت پولیس ریکارڈ میں موجود ہوگی۔ایس ایس پی آپریشنز نے مزید کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد وارداتوں میں بائیک رائیڈر خود شہریوں کو لوٹنے میں ملوث پائے گئے، جب کہ 20 سے زائد آن لائن بائیک رائیڈرز کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بائیک سروس استعمال کرتے وقت محتاط رہیں، صرف رجسٹرڈ رائیڈرز کی خدمات لیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس ہیلپ لائن پر دیں۔

  • فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، ایمل ولی خان

    فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، ایمل ولی خان

    پشاور:عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو ان کے جرائم پر حقیقی سزا نہیں ملی ہے-

    صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، چائے کا کپ پکڑ کر کابل میں 40 ہزار دہشت گردوں کو منظم کرنے والا آج بھی بے حساب ہے پختونوں کی دوبارہ نسل کشی کی کوشش پر بھی فیض سے بازپرس نہیں ہوئی، فیض،باجوہ اورعمران گٹھ جوڑ کے سارے "فیض یاب” آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

    ایمل ولی خان نے کہا کہ پوری ایک نسل کو اپنے سیاسی مشران کا دشمن بنایا گیا، قوم کو بتایا گیا کہ آپ کے سارے مشیران چور ہیں اور صرف ایک مسیحا ہےجبکہ وفاق اور پنجاب نے تبدیلی 4 سال انجوائے کی اور سب سے زیادہ نقصان پختونوں نے اٹھایا ہےخیبرپختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ کی تیسری بار کی گئی انجینئرنگ نے صوبہ تباہ کیا، جب تک پورے گٹھ جوڑ کا احتساب نہیں ہوتا، امن اور انصاف ممکن نہیں ہے، پختونوں کے خلاف سازشیں بے نقاب کیے بغیر حالات درست نہیں ہوں گے۔

    ہم روس کا اگلا ہدف ہو سکتے ہیں،نیٹو سربراہ کا اتحادیوں کو انتباہ

    واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قید بامشقت سنائی فیصلے میں کہا کہ فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، ریاست کے تحفظ اور مفاد کے لیے نقصان دہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور لوگوں کو غلط طریقے سے نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کو ہوا دینے اور بعض دیگر معاملات میں مجرم کے ملوث ہونے سے الگ سے نمٹا جا رہا ہے، ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔

  • ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل

    ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل

    پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم(جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق چیئرمین پروینشل انسپکشن ٹیم خیام حسن اور ڈی جی پراسیکیوشن جے آئی ٹی میں شامل ہیں،اس کے علاوہ اے آئی جی سونیا شمروز، ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید ، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کےنمائندے بھی جےآئی ٹی کا حصہ ہوں گے،جے آئی ٹی 5 دنوں میں ڈاکٹر وردہ قتل کیس سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔

    ڈاکٹروردہ کو 4 دسمبر کواسپتال کے باہر سے اغوا کیاگیا تھا جس کے 4 دن بعد ان کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے ملی تھی،بعد ازاں ڈی پی او ہارون رشید نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروردہ کو اغواکے ایک گھنٹے بعد ہی قتل کردیاگیا تھا ، ان کو ملزمان پہلےجناح آبادکے زیرتعمیر مکان میں لے گئے جہا خاتون کوگلادبا کرقتل کیاگیا اور لاش ٹھنڈیانی کے قریب دفنا دی گئی تھی۔

    مقتولہ کے والد نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 (اغوا) کے تحت ایف آئی آر درج کرائی، اس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر وردہ مشتاق ہسپتال سے ایک معروف کاروباری شخص کی بیوی کے ساتھ نکلی تھیں اور میرپور تھانے کی حدود میں واقع جادو‌ن پلازہ، منڈیاں گئی تھیں، جس کے بعد ان سے تمام رابطے منقطع ہو گئے، 2023 میں ڈاکٹر وردہ مشتاق نے اپنی سہیلی کے پاس 67 تولے سونا حفاظت کے لیے رکھوایا تھا اور دبئی چلی گئی تھیں، لیکن وہاں رہائش کے مسائل کے باعث واپس آئیں اور سونا واپس مانگا؛ تاہم ملزمہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔

  • چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،گورنر خیبر پختونخوا

    چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جنرل فیض کی سزا سے پاکستان کی سیاست پر اچھا اثر پڑے گا، چائے کی پیالی نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا،فیض حمید کے ساتھ کوئی اور ملوث ہوگا تو ان کو بھی سزا ملے گی

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی آسمان سے نہیں اترے کہ انہیں سزا نہ ہو۔ پنجاب حکومت کو کہوں گا بانی پی ٹی آئی کو کہیں اور شفٹ کریں، اڈیالہ سے صوبہ چلایا جارہا ہے، سیکریٹریٹ اڈیالہ منتقل ہوگیا ہے۔ سیکریٹری پریشان ہیں کہ کس کی بات مانیں اور کس کی نہیں، خیبرپختونخوا حساس صوبہ ہے، وفاق اور صوبےکو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ڈی پی او کو وزیراعلیٰ انگلی دکھائیں تو پولیس کا مورال کہاں ہوگا،افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ امن اور ترقی کے لیے پہلے لاارڈرز پر توجہ ضروری ہے۔ پولیس اور فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں، حملے بڑھ رہے ہیں، اور سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔

  • مولانا محمد طیب قریشی کا افغان علماء کے بیان کا خیرمقدم

    مولانا محمد طیب قریشی کا افغان علماء کے بیان کا خیرمقدم

    چیف خطیب خیبر پختونخوا اور تاریخی مسجد مہابت خان کے امام و خطیب، مہتمم جامعہ اشرفیہ پشاور مولانا محمد طیب قریشی نے افغانستان کے ایک ہزار سے زائد علماء کرام کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔

    افغان علماء نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں امیرالمؤمنین سے سفارش کی ہے کہ وہ عناصر جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں، انہیں ریاستی سطح پر باغی قرار دیا جائے۔مولانا طیب قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے اعلانات دونوں برادر مسلم ممالک کو قریب لانے اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ان کے مطابق پاکستان کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ افغان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔چیف خطیب نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔انہوں نے کہا "تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ ماضی میں پاکستانی حکومت اور دینی مدارس نے طالبان کی ہر طرح سے مدد کی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن طالبان کی حکومت کے بعد جو توقعات تھیں، وہ پوری نہ ہو سکیں۔”ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ پالیسیوں سے سب سے زیادہ نقصان افغان حکومت کو ہی ہوگا، جبکہ اس کا فائدہ ان گروہوں کو پہنچے گا جو افغانستان میں عدم استحکام کے منتظر ہیں۔

    مولانا طیب قریشی نے افغانستان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے معاشی و سفارتی تعلقات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہا ہے۔انہوں نے کہا "جب افغان وزیر تجارت بھارت کے دورے پر تھے، انہی دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے مندر کا افتتاح کیا، جس پر دنیا بھر کے مسلمان احتجاج کر رہے تھے۔ یہ صورتحال مقبوضہ کشمیر اور گجرات کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔”انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تجارت کے لیے افغانستان کو 57 اسلامی ممالک میں سے کوئی دوست ملک نہیں ملا؟چیف خطیب نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی، غلط فہمیوں اور دوریوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں اور خطے کو امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جائیں انہوں نے کہا "وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی گزاریں اور ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کریں۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ آنے والی نسلوں کو وہ مشکلات نہ دیکھنی پڑیں جن کا سامنا آج خصوصاً افغانستان کر رہا ہے۔”

  • شمالی وزیرستان، میر علی میں سرکاری پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    شمالی وزیرستان، میر علی میں سرکاری پرائمری اسکول دھماکے سے تباہ

    شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں گزشتہ رات شدت پسند خوارج نے ایک اور بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے گورنمنٹ پرائمری اسکول ایاز کوٹ خوشخالی کو بم دھماکوں سے تباہ کر دیا۔

    دہشت گردوں کی جانب سے نصب کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے اسکول کی پوری عمارت منہدم ہوگئی، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان پیش نہیں آیا۔عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ دور دور تک آواز سنی گئی، جبکہ اسکول کی عمارت کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرکے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم دشمن عناصر ایک بار پھر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بچوں کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا نہ صرف بزدلی کی علامت ہے بلکہ ترقی کے سفر کو روکنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہے۔شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو بحال رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔مقامی آبادی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دھماکوں اور تخریب کاری کے باوجود وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے دور نہیں ہونے دیں گے اور ترقی کا سفر ہر صورت جاری رکھیں گے۔

  • خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور اسپیکر صوبائی اسمبلی سے عام انتخابات 2024 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے۔

    ملک میں منعقدہ عام انتخابات 2024 میں پشاور سے پی ٹی آئی کے امیدواروں تیمور سلیم جھگڑا، محمود جان، علی عظیم، ارباب جہاندار، ملک شہاب، محمد عاصم، کامران بنگش، ساجد نواز اور حامد الحق نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم کو خط لکھا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے لکھے گئے تین صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے،گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی بروقت تحقیقات کی جاتی تو این اے-18 ہری پور کے ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی نہیں ہوتی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں متعدد نشستیں ہیں جن کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں، جن میں پشاور سے بڑی تعداد میں نشستوں میں غیر معمولی دھاندلی بھی شامل ہےوزیراعلیٰ اور اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت صوبائی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جاسکتی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ تمام پریذائیڈنگ افسران نے دستخط شدہ فارم 45 کے نتائج فراہم کیے لیکن ان نتائج کو بعد میں تبدیل کر دیا گیا، جیسے ہی ابتدائی نتائج پی ٹی آئی کے حق میں آئے، ان اسکرینوں کو بند کر دیا گیا، ڈی آر او پشاور، سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز ان واقعات کے اہم گواہ ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نےکہا ہے کہ سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو قیوم اسٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، اس وقت کے چیف سیکریٹری اور آئی جی آف پولیس مبینہ طور پر کنٹرول رومز میں موجود تھے،مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

  • ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    صوبہ خیبر پختونخوا میں تیل و گیس(oil & gas) کے نئے ذخائر دریافت ہوگئے ہیں۔

    ترجمان او جی ڈی سی ایل (ogdcl)نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں نشپابلاک کوہاٹ سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔براگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ2280 بیرل تیل حاصل ہو گا جبکہ یومیہ 56لاکھ مکعب فٹ گیس پیداوار بھی ہوگی،نشپا بلاک میں کنگریالی فارمیشن سے یہ پہلی ہائیڈروکاربن دریافت ہے، براگزئی ایکس ون کنویں کی ڈرلنگ5170 میٹر گہرائی تک مکمل کی گئی ۔

    نشپا بلاک میں او جی ڈی سی بطور آپریٹر 65 فیصد ، پی پی ایل 30 اور جی ایچ پی ایل 5 فیصد کے حصے دار ہیں،نئی دریافت سے او جی ڈی سی ایل کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو گا جبکہ ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔