Baaghi TV

Category: پشاور

  • مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر قانونی سگریٹ کی پیداوار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مردان میں واقع ایک سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 62 کارٹن بغیر ٹیکس ادا کیے گئے سگریٹس اپنے قبضے میں لے لیے۔ کارروائی کے بعد فیکٹری کو سیل کر دیا گیا جبکہ مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو کے ذرائع کے مطابق ٹیم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں بڑی تعداد میں ایسے سگریٹس تیار کیے جا رہے تھے جن پر حکومتی ٹیکسز اور لیویز ادا نہیں کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ضبط شدہ سگریٹس کی مارکیٹ ویلیو بھی کروڑوں روپے میں بنتی ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس فیکٹری کو سیل کیا گیا ہے وہ مبینہ طور پر سینیٹر دلاور خان کی ملکیت ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثرورسوخ کے باوجود ایف بی آر کی ٹیم نے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔

    ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے حکم کے مطابق ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف آپریشن جاری ہے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں جو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔حکام کے مطابق پاکستان کو ہر سال 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے باعث برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ غیر قانونی سگریٹ کی تیاری میں مسلسل اضافہ قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سینیٹر دلاور خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دنوں گاؤں میں موجود نہیں ہیں اور انہیں اپنی فیکٹری پر چھاپے سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل

    خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل

    خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ بلدیات نے نیا لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

    محکمہ بلدیاتی، انتخابات و دیہی ترقی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی کو کمیشن کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن مقامی حکومت ایکٹ 2013 کے تحت اپنے فرائض انجام دے گا۔دیگر ارکان میں ایم پی اے محمد ادریس، ایم پی اے احمد کُنڈی، ٹیکنوکریٹ حفیظ الرحمان اور خاتون ٹیکنوکریٹ عائشہ بانو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فنانس ڈپارٹمنٹ کا نمائندہ بھی کمیشن کا حصہ ہوگا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ کمیشن کے سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

    اعلامیے میں کمیشن کو فوری طور پر کام سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیشن لوکل گورنمنٹ کے امور اور کارکردگی کی نگرانی کرے گا

    بانی پی ٹی آئی سے کوئی خوف نہیں، ملاقات ہونی چاہیے: رانا ثناء اللّٰہ

    پاکستان کی بنگلادیش کو چاول برآمدات، ٹینڈر کھل گیا

    امریکا کی ویزا پابندی پر ایران کا 2026 ورلڈکپ ڈرا تقریب کا بائیکاٹ

  • ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ضلع ٹانک میں دہشت گردی کی نئی لہر نے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا لیا۔ عسکریت پسندوں نے مختلف علاقوں میں دو سرکاری اسکولوں کو بارودی مواد سے اڑا کر تباہ کردیا،

    تفصیلات کے مطابق تھانہ گل امام کی حدود میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول گاؤں اکبری کو گزشتہ شب نامعلوم شدت پسندوں نے طاقتور دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ اسکول کی کئی کمروں کی دیواریں منہدم ہوگئیں اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے واقعہ کے وقت اسکول خالی تھا جس کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کڑی عمر خان میں بھی اسی نوعیت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ انتہائی علی الصبح کیا گیا تاکہ زیادہ تباہی اور خوف پھیلایا جا سکے۔ اسکول کی عمارت مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل ہوگئی ہے۔مقامی پولیس نے دونوں مقامات کا محاصرہ کرکے شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں تعلیمی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور اس سلسلے میں شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    علاقے کے عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملے ترقی اور امن کے دشمنوں کی کارستانی ہیں۔ والدین میں بھی شدید تشویش پائی جارہی ہے اور لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بڑھائی جائے۔ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر تعمیر نو اور سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں آئینی ترمیم کیلئے تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کردیں۔

    اے این پی ترجمان کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے۔ اے این پی صوبے کے نام کو ’’پختونخوا‘‘ تسلیم کرنے کے مطالبے کو دہراتی ہے تاکہ اس خطے کی تاریخی، لسانی اور تہذیبی شناخت کو آئینی حیثیت ملے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں تمباکو کاشتکاروں کے تحفظ اور صوبائی محصول کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کو آئینی ضمانت دی جائے۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ آرٹیکل 140 اے کے مطابق ملک بھر میں ہر چار سال بعد باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور انہیں آئینی تحفظ دیا جائے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی انتظامی اتھارٹی کو ان اداروں کو معطل، تحلیل یا ان کی جگہ لینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ آئین میں کسی بھی ترمیم کا مقصد عوامی مفاد، صوبائی حقوق کا تحفظ اور وفاقی جمہوریت کی مضبوطی ہونا چاہیے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی ایسی کسی بھی ترمیم کی پارلیمان اور عوامی سطح پر بھرپور مزاحمت کرے گی۔

  • خودکش حملہ آور بارےاطلاع دینے والے کیلئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    خودکش حملہ آور بارےاطلاع دینے والے کیلئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    تیراہ میں خودکش حملہ آور بارے حکومت کو صحیح اطلاع دینے والے کے لئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیا گیا

    (خوارج) کالعدم لشکرِ اسلام اور ٹی ٹی پی نے تیراہ میں بدامنی پھیلانے کے لیے ایک خودکش گاڑی تیار کی ہے۔ یہ گاڑی پہلے نوے باغ اور بعد ازاں زرانچہ کے علاقوں میں دیکھی گئی ہے۔ خوارج نے اس کاروائی کے لیے آصف افغانی، جو آصف مہمند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو تیار کیا ہے۔ مقامی آبادی میں چھپے خودکش حملہ آور کے بارے میں حکومت کو درست اطلاع فراہم کرنے والے افراد کے لیے 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے.

  • بنوں پولیس ،ہاتھی خیل قوم کا دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن ، تین دہشتگرد ہلاک

    بنوں پولیس ،ہاتھی خیل قوم کا دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن ، تین دہشتگرد ہلاک

    بنوں، ترخے اوبہ حدود تھانہ احمد زئی میں فتنہ الخوارج اور مقامی شہریوں کے درمیان شدید فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایت پر SP Rural
    ، SDPOs، QRF، RRF، APCs,اور آرمی یونٹ نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کاروائی کا آغاز کیا۔

    طویل فائرنگ کے تبادلے اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں علاقے میں سرچ آپریشن مکمل کیا گیا، جس کے دوران تین دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جن کی لاشیں قانونی کاروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔آپریشن کے دوران ہاتھی خیل قوم کے بہادر شہریوں نے بنوں پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شدید فائرنگ کے باوجود پولیس نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

    ڈی آئی جی بنوں سجاد خان نے کہا کہ علاقے کا امن ہر صورت بحال رکھا جائے گا، سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دہشتگردوں کے خلاف گھیرا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے کہا کہ عوام متحد ہیں، پولیس اور مقامی لوگ ایک مشترکہ محاذ پر ہیں۔ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

  • پشاور میں گولیاں چل گئیں، معروف عالم دین کی موت

    پشاور میں گولیاں چل گئیں، معروف عالم دین کی موت

    پشاور: معروف عالم دین کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا

    مدرسہ جامعہ عصریہ سفید ڈھیری کے معلم اور اہلحدیث جماعت کے مولانا عزت اللہ ولد عزیز خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ بورڈ بازار میں پیش آیا جب وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ حادثے کے وقت ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی موجود تھا جو فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر کے علاج معالجے کے لیے داخل کیا گیا،پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات کر رہی ہیں اور مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔مولانا عزت اللہ یتیم بچوں کی کفالت کے لیے جانے جاتے تھے۔

  • امن و امان خراب کرنیوالوں کو انجام تک پہنچائیں گے،  آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید

    امن و امان خراب کرنیوالوں کو انجام تک پہنچائیں گے، آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید

    انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے آج ضلع ہنگو کا اچانک دورہ کیا۔ پولیس لائنز ہنگو پہنچنے پرکمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ہنگو ڈاکٹر رضوان منظور، آر پی او کوہاٹ عباس مجید خان مروت، کمشنر کوہاٹ ریجن معتصم باللہ شاہ، ڈی پی او ہنگو خان زیب مہمند، ایس پی انویسٹگیشن عبدالصمد خان، دپٹی کمانڈنٹ مزمل خان اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالنصیر خان نے انکا استقبال کیا۔ آر پی او بنوں سجاد خان، پی ایس او ٹو آئی جی پی شہزادہ کوکب فاروق بھی انکے ہمراہ تھے۔

    آئی جی خیبر پختونخوا نے ضلع ہنگو میں یادگارِ شہدا پر حاضری دی اور شہداء کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی جبکہ ملک و قوم کی سلامتی اور شہداء پولیس کے لئے خصوصی دعا مانگی گئی۔اس موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار نے پولیس جوانوں کے ایک دربار میں شرکت کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے درمیان موجودگی کا مقصد آپ کے حوصلے بلند رکھنا ہے اور ہم ہر مقام پر آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ ہنگو پولیس ہمت والی پولیس ہے، کسی محاذ پر پیچے نہیں ہٹے گی اور ہمیشہ کی طرح بہادری اور قربانی کی روایات کو قائم رکھے گی۔ ہنگو پولیس کھلے دل سے اپنی زمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ لازوال قربانیاں بھی دے رہی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگو پولیس کے تمام مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے تاکہ اہلکار مزید مؤثر انداز میں فرائض منصبی ادا کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے پولیس ویلفیئر کے بجٹ میں تقریباً تین گنا اضافہ کیا گیا ہے، متعدد نئی سکیمیں شروع کی گئی ہیں اور اہلکاروں کے بچوں کیلئے صحت کی مد میں بہترین ہسپتالوں جبکہ تعلیم کیلئے اچھے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں تاکہ پولیس کے بچوں کوبہترین علاج معالجہ اور اچھی تعلیم فراہم کی جا سکے ۔ اور کہا کہ یہ سب اسی مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے کہ موجودہ ملکی اور صوبائی صورتحال و حالات میں پولیس اہلکاروں کا مورال مزید بلند ہو۔

    آئی جی پی کا مزید کہنا تھا کہ ملک اور صوبے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سازشیں جاری ہیں مگر ہم دشمن کے خلاف جہاد پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج کے دور میں خارجی دہشتگرد جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں ایسا اسلحہ جو عالمی سطح پر بھی نہایت جدید سمجھا جاتا ہےلیکن ہم بھی ہر جدید ایکوپمنٹ استعمال کرتے ہوئے ان فتنہ پرور عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

    بعد ازاں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید پولیس ٹریننگ کالج ہنگو بھی گئے جہاں انہوں نے گزشتہ روز دہشتگردوں کے حملے میں شہید پولیس اہلکاروں کے ورثاء سے ملاقات کی۔ انہوں نے دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے میں شہادت کا عظیم رتبہ پانے والے اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور شہدائے پولیس کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ صوبائی پولیس سربراہ نے کہا کہ دشمن انتہائی شاطر اور مکار ہے جس نے رات کی تاریکی میں پولیس انفراسٹرکچر اور اہلکاروں پر حملہ کیا جس کا ہمارے دلیر جوانوں نے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں نے اپنے خون کے آخری قطرے تک دشمن کو روکے رکھا اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے، آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انکے خون سے امن و آشتی کی بہاریں آئیں گی۔ انہوں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ جو بھی امن وامان خراب کرنے کی کوشش کریگا ان کوانجام تک پہنچائیں گے۔

  • پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور کے علاقے حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار دے دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکا ریمورٹ کنٹرول بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، بارودی مواد ڈیڑھ کلو گرام وزنی تھا،پولیس نے پھٹنے والی گیس پائپ لائن کے مقام کا معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک آئی ای ڈی پائپ لائن کے ساتھ چھوڑ کر گئے تھے، چھوڑا گیا ڈیڑھ کلو گرام بارودی مواد بھی ناکارہ بنا دیا گیا ۔

    واضح رہے کہ حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ دھماکے سے 24 انچ گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث کے پی کے مختلف شہروں کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی،صوبہ کے3 اضلاع میں اب بھی گیس کی فراہمی معطل ہے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے صوبائی دارالحکومت پشاور کی ترقی کے لیے اہم اور بڑے فیصلوں کا اعلان کردیا۔ 7 دسمبر کو پشاور میں بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کے ساتھ ساتھ شہر کے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرینڈ میٹنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت پشاور کے پارلیمنٹرینز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ و سابق اراکین اسمبلی، پشاور کے منتخب نمائندگان اور سینئر سیاسی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں شہر کے ترقیاتی وژن، مسائل اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران 7 دسمبر کو پشاور میں ایک بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پشاور ہماری شناخت، ہمارا چہرہ اور صوبے کا دل ہے۔ اس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔””شہر کے میگا پروجیکٹس، انفراسٹرکچر کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی، خوبصورتی اور عوامی سہولیات کے تمام منصوبوں میں تیزی لائی جائے گی۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پشاور کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے پر مشتمل میگا ڈویلپمنٹ پلان تیار کیا جارہا ہے، جس کے لیے آئندہ ہفتے ایک گرینڈ میٹنگ طلب کی جائے گی جس میں تمام متعلقہ اداروں، ماہرین، منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کو مدعو کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے زور دیا کہ حکومت پشاور کے دیرینہ مسائل کے حل اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ یہ منصوبے نہ صرف پشاور کا انفراسٹرکچر جدید بنائیں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔