Baaghi TV

Category: پشاور

  • میرا باپ کون؟ کیپٹن ر صفدر نے ایسا نام لے لیا کہ مریم بھی ..

    میرا باپ کون؟ کیپٹن ر صفدر نے ایسا نام لے لیا کہ مریم بھی ..

    میرا باپ کون؟ کیپٹن ر صفدر نے ایسا نام لے لیا کہ مریم بھی ..

    پشاور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد کیپٹن (ر) محمد صفدرنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کی طرح پنڈورا سے ہوا نکل جائے گی ۔

    کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ پانامہ سے اقامہ بن گیا تھا اور جھوٹے مقدمے میں نواز شریف پرکیس ہوا ۔ قومی سطح پر کمیشن بن جائے پھر حقیقت سامنے آسکتی ہے ۔میاں برادران اور ان کے بچوں میں کوئی اختلافات نہیں ۔شہباز شریف میرے والد ہیں ۔ اختلافات کی بات پھیلانے والا شیخ رشید ہے ۔شہباز شریف میاں صاحب کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے ۔

    کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں،زمینوں پر غلط طریقے سے ان لوگوں نے قبضے کئے ہیں ، خیبر پختونخواہ میں قبضہ مافیا کام دکھا رہا ہے کیپٹن ر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ آج وزرا یہ کہہ رہے ہیں کہ اس الیکشن کمیشن کو آگ لگا دیں،ایک وزیر سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کوئی کسی فصل کی باقیات نہیں جسے آگ لگا دی جائے اگر وزرا اپنے اداروں کو اس طرح آگ لگانے کی بات کریں کیا ان پر اے 124 نہیں لگتا ؟ یہ بغاوت ہے 2018 کے عام انتخابات میں لوگوں نے شیر کو ووٹ دیا تھا لیکن پھر بھی بلا جیت گیا کنٹونمنٹ انتخابات میں کوئی تعویز گنڈا نہیں چل سکا یہاں کوئی جادو نہیں چل سکا، یہاں ووٹ کی طاقت تھی

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    بشیر میمن کے انکشاف کے بعد عمران خان کیخلاف مقدمہ بنایا جائے،مریم اورنگزیب

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کیخلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کرانیکا اعلا

    مزار قائد کی بے حرمتی، شیخ رشید بھی میدان میں آ گئے

    کیپٹن ر صفدر نے وزیراعظم کا "سیکنڈل” میڈیا کو بتا دیا

    کوئی شہر ایسا نہیں جہاں میرے خلاف مقدمہ درج نہ ہو،کیپٹن ر صفدر

  • ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے لوگوں نے جمعیت علمائے اسلام سے امیدیں لگا لی ہیں،

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری آواز پر لوگوں کا سمندر امڈ آتا ہے،ہم نے حکومت کو تسلیم کیا نہ کریں گے،ہم عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے،سہارے پر چلنے والی حکومت عوام کو کچھ نہیں دے سکتی،دھاندلی سے آنے والی حکومت ہمیں شفاف انتخابات کا درس دے رہی ہے، اسمبلی سے غیر اسلامی قوانین منظور کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ اس وقت اپنے قریبی دوست ہمسایہ ممالک کو ناراض کردیا گیا ہے، ہزاروں گھروں کے چولہے بجا دیئے گئے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کرنے والوں نے لاکھوں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا، مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، عوام خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، پاکستانی عوام نے نااہل حکومت کو ووٹ نہیں دیا، موجودہ حکومت کو چوری کے الیکشن سے لایا گیا اور مخصوص ایجنڈے پر عمل کرایا جارہا ہے حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن نے اعتراض کردیا ہے،اوورسیز پاکستانی اپنےملک کے لیے جدوجہد کرتے ہیں وہ وفادار ہیں،پہلے نوجوان نسل کو دھوکا دیا گیا آج اوورسیز پاکستانیوں کو جھانسہ دیا جا رہا ہے، ہمارا مؤقف بڑا واضح ہے،ہم ان لوگوں کو انتخابی اصلاحات کا حق دینے کیلئے تیار نہیں، حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،حکومت نے معیشت تباہ و برباد کر دی ہے، چین سے آنے والی سرمایہ کاری کو موجودہ حکومت نے تباہ و برباد کر دیا،اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ افغا نستان کی صورتحال یقیناً قابل توجہ ہے، اور عالمی برادری کے لیے قابل توجہ ہے، وہ قوم جو چالیس سال سے حالت جنگ میں ہے چالیس سال سے جی، روس کے خلاف، پھر انکی اپ کی لڑائیاں، پھر ایک ط ال ب ان کا دور، پھر بیس سال امریکہ سے لڑائیاں نیٹو سے لڑاٸیاں۔ پورا افغا نستان جو ہے اس وقت کھنڈر ہے کھنڈر، اور ایک کھنڈر ملک اس وقت ط ال ب ان کو ملا ہے۔ اب یہ تو نہیں کہ فتح یابی کے اگلے دن افغا نستان جو ہے وہ سرسبز و شاداب بن جائے اور ہر گھر میں گھی اور شہد کی نہریں بہنے لگ جاٸے۔ ابھی اس کو بنانا ہے، عالمی برادری نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، نیٹو نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، امریکہ نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، اس ملک کو آباد کرنے کی ذمہ داری بھی اب انہی کے اوپر ہے۔ کہ وہ افغا ن ستان پر اتنا خرچ کریں کہ افغا ن ستان بن جائے۔ ایسے شرائط رکھنا طا ل ب ا ن کے سامنے کہ دوحہ معاہدے سے تجاوز ہو اس میں اضافہ ہو، اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، اور ہم نے ان سے کہا ہے کہ اپ جو شرائط رکھ رہے ہیں ایک تو اس امن معاہدہ میں اضافہ ہے۔ آپ انسانی حقوق کی بات کرتے ہے آپ خواتین کی حقوق کی بات کرتے ہیں، انکی تعلیم کی بات کرتے ہیں، اداروں میں انکی ملازمتوں کی بات کرتے ہیں۔ جبکہ طا لبا ن ابھی حالت جنگ میں ہے، اور پھر جو سخت گیر قسم کے لوگ جو مورچوں میں رہے ہیں اور بیس سال مورچوں میں لڑ کر اترے ہیں ظاہر ہے کہ اس ماحول پر ان کے اثرات غالب ہے۔ لہٰذا پہلے امن کا استحکام، اس سے آگے بڑھے پھر سیاسی استحکام، ایک نظام وہاں پر موجود ہونا۔ پھر اس سے آگے جائے تو پھر ان کی معیشیت اور اسکے مستقبل کو معاشی لحاظ سے مستحکم کرنے کی بات کرے۔

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

    @MumtaazAwan

  • ڈینگی کے وار مسلسل جاری ،پشاور میں مزید 371 کیسز رپورٹ

    ڈینگی کے وار مسلسل جاری ،پشاور میں مزید 371 کیسز رپورٹ

    پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں ڈینگی مچھر کے وار جاری ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پشاور کے دو اسپتالوں میں مزید 371 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے اسلام آباد میں ڈینگی وائرس سے مزید 54 افراد بیمار ہوئے ہیں جس کے باعث دارالحکومت میں ڈینگی مریضوں کی تعداد 463 ہوگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب سے ڈینگی کے 173 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، 125 مریض لاہور اور 26 مریض راولپنڈی سے سامنے آئے ہیں۔

    پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    کورونا وبا کے بعد پہلی بار مسجد حرام کے بیرونی صحن میں نماز کی تیاری

  • صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سرکاری افسران سے انٹرویو نہیں لے سکے گا، ڈپٹی کمشنر مردان

    صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سرکاری افسران سے انٹرویو نہیں لے سکے گا، ڈپٹی کمشنر مردان

    محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونحوا کی جانب سے سرکاری افسران سے انٹرویومیڈیا ٹاک کیلئے ضابطہ اخلاق جاری، محکمہ اطلاعات کا کارڈ نہ رکھنے والا کوئی صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سرکاری افسران سے انٹرویو نہیں لے سکے گا.

    ڈپٹی کمشنر مردان حبیب اللہ عارف نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ احکامات پرعملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر، جملہ ضلعی اور وفاقی محکموں کو انٹرویو میڈیا ٹاک کیلئے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پرعملدرامد کرنے کیلئے اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا کے مطابق سرکاری دفاتر میں داخلے اور صرف سوشل میڈیا کی بنیاد پر اپنے آپ کو صحافی ظاہر کرنے پر پابندی عائد، محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا کے کارڈ حامل صحافی حضرات ضلع کے کسی سرکاری محکموں کے سربراہان کے تقریبات میٹینگز میں شرکت کے مجاز ہوں گے، جس رپورٹرز، نامہ نگاران کے پاس محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا کا ایکریڈیشن کارڈ نہ ہو وہ سرکاری محکموں کے سربراہان کے کسی تقریب میٹینگز یا پریس کانفرنس میں نہ شرکت کرسکے گے اور نہ کوریج۔

    حبیب اللہ عارف ڈپٹی کمشنر مردان نے کہا کہ صحافیوں کیلئے جاری کردہ قواعد وضوابط پرعمل درآمد یقینی بنائیں گےسوشل میڈیا ایکٹویسٹ یا فیس بک پیجز چلانے والے کو صحافی تصور نہیں کیا جائیگا، سوشل میڈیاایکٹویسٹ اور فیس بک پیجز چلانے والے مردان کے کسی سرکاری محکمے کے افیسر سے انٹرویو لینے کے مجاز نہیں ہونگے، محمکہ اطلاعات کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائنگے۔

    صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور حقیقی صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان تصور کئے جاتے ہیں اور معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات سے عوام الناس کو باخبر رکھتے ہیں۔صحافت ہی کے ذریعے مظلوم اور ظالم میں تفریق ممکن ہے لیکن محکمہ اطلاعات کی جاری کردہ احکامات کی روشنی میں سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور فیس بک پیج چلانے والوں کو سرکاری آفیسزز سے انٹرویو لینے یا میڈیا ٹاک کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔جس پر عملدرامد یقینی بنانا ہمارا فرض ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور فیس بک پیج چلانے والے بھی اپنے آپ کو صحافی ظاھر کرکے مختلف محکموں کے آفسران سے انٹرویو لے رھے ہیں حالانکہ ان کو صحافی تصور کرنا صحافت کے شعبے اور اصل صحافیوں کیساتھ زیادتی ہوگی۔حبیب اللہ عارف ڈپٹی کمشنر مردان

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لئے اہم قدم

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لئے اہم قدم

    پشاور: کھیلوں کے فروغ کے لئے وزیر اعلی محمود خان نے خیبر پختونخوا اسکول کرکٹ چیمپئن شپ 2021 کے انعقاد کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی :وزیر اعلی محمود خان کی زیر صدارت اسکول کرکٹ چیمپئن شپ کے انعقاد کے سلسلے میں اجلاس ہوا جس میں پی سی بی کے ذیلی ادارے خیبر پختونخوا کرکٹ بورڈ اور محکمہ اسپورٹس کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیراعلی نے کہا کہ ہاکی لیگ 2021 اور اسکول کرکٹ چیمپئن شپ کا انعقاد ان کھیلوں کو دوبارہ سے فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔

    کمرہ عدالت سے اغوا کیا گیا نوبیاہتا جوڑا بازیاب

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ اسکول کرکٹ چیمپئن شپ ملکی سطح پر کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، جس میں صوبہ بھر کے اسکولوں سے 4000 طلبہ پر مشتمل 276 ٹیمیں شرکت کریں گی چیمپئن شپ تین مرحلوں پر مشتمل ہوگی جو ایک مہینے میں اختتام پذیر ہوگی۔

    پہلے مرحلے میں 510 میچز، دوسرے مرحلے میں 50 جبکہ تیسرے مرحلے میں 21 میچز کھیلے جائیں گے اگلے مہینے کی 7 تاریخ سے اس کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز متوقع ہے۔ چیمپئن شپ کے لئے اسکولوں اور گراؤنڈز کی نشاندہی کر لی گئی ہے 16 اور 16 سال سے کم عمر طلبہ اس چیمپئن شپ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

    یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    چیمپئن شپ کے اختتام پر بیٹنگ ، باؤلنگ اور کیپنگ کے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 20، 20 کھلاڑیوں کو مزید ٹریننگ کے لئے شارٹ لسٹ کیا جائے گا ٹرائلز کے بعد ان 20 کھلاڑیوں میں سے منتخب دس کھلاڑیوں کی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں کوچنگ کی جائے گی۔

    ان منتخب کھلاڑیوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور کرکٹ کھیلنے کے لئے معاونت فراہم کی جائے گی اسکول کرکٹ چیمپئن شپ پاکستان کرکٹ بورڈ، محکمہ اسپورٹس اور محکمہ تعلیم کی باہمی اشتراک سے منعقد کیا جائے گا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کسانوں کی بھی سن لی

  • بیرون ملک سے آنیوالے کورونا کا شکار مسافروں کی تعداد میں اضافہ، باچا خان ایئر پورٹ پراقدامات مزید سخت

    بیرون ملک سے آنیوالے کورونا کا شکار مسافروں کی تعداد میں اضافہ، باچا خان ایئر پورٹ پراقدامات مزید سخت

    بیرون ملک سے آنے والے کورونا کا شکار مسافروں کی تعداد میں اضافہ، باچا خان ایئر پورٹ پر انتظامیہ نے اقدامات مزید سخت کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے ذرائع کے مطابق بیرون ممالک سے آنے والے کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، بغیر کورونا ٹیسٹ کئے مریض پشاور پہنچ جاتے ہیں-

    محکمہ صحت کے مطابق کئی بیرون ملک ایئر پورٹس پر کورونا ٹیسٹنگ کا نظام معیاری نہیں غیر معیاری ٹیسٹ کے باعث خیبرپختونخوا اور پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے باعث باچا خان ایئے پورٹ پر انتظامیہ نے اقدامات مزید سخت کر دیئے ہیں۔

    کوویڈ ویکسین سائنو ویک کے استعمال کی افادیت پر نئی تحقیق

    ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران بیرون ملک سے آنے والے 150 سے زائد کورونا سے متاثرہ افراد پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پہنچے، گزشتہ روز دوحا سے پاکستان پہنچنے والے 140 مسافروں میں سے 30 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جن میں خواتین اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں متاثرہ افراد کو 1122 کے ذریعے قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید42 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44ہزار 712کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزیدایک ہزار780کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح میں کمی

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ38ہزار668 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 27 ہزار566 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 3.98 فیصد رہی۔

    کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

    سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

    پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے-

    سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا

  • سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    پنجاب بھر کے میڑک اور انٹرمیڈیٹ کلاس کا رزلٹ کب جاری ہو گا؟ تاریخ سامنے آ گئی

    خیال رہے کہ دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قد یم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر میڈیا میں پابندی لگ جائے تو فیک نیوز کا خاتمہ ہو جائے گا رانا ثنا…

    اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

    اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

    مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے کہ کسی حکومتی شخصیت نے میری تیمارداری نہیں کی ڈاکٹر…

    ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

    اداکارہ ایمن سلیم نے اچانک شوبز چھوڑنے کے راز سے پردہ اٹھا دیا

    زلزلے کی اقسام

    زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

    چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

    زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

    امریکہ میں عمر شریف کا علاج اداکارہ ریما خان کے شوہر کریں گے

  • پشاور: تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 افراد جاں بحق

    پشاور: تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 افراد جاں بحق

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : خیبر پختون خوا میں ہزارہ ڈویژن کے ضلع تورغر کے گاؤں جھٹکا کے قریب کنڑا میں آسمانی بجلی گرنے اور شدید بارشوں کے باعث 3 مکانات تودے تلے دب گئے۔

    پولیس کے مطابق حادثے میں 8 خواتین اور بچیوں سمیت 14 افراد جاں بحق اور 2 خواتین زخمی ہوگئیں حادثہ تیز بارش کے بعد آسمانی بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پیش آیا ہے –

    پولیس اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے اب تک 11 لاشیں نکال لی ہیں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مزید 3 لاشوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج اور غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کو ہنگامی طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

  • پشاور:گھر سے بھاگی لڑکی کوپناہ دینے والی خاتون کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان  گرفتار

    پشاور:گھر سے بھاگی لڑکی کوپناہ دینے والی خاتون کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان گرفتار

    پشاور: کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے گھر سے بھاگنے والی لڑکی کوپناہ دینے والی خاتون کے قتل میں ملوث سفاک ملزمان کو گرفتار کر لیا-

    باغی ٹی وی : تھانہ پہاڑی پورہ پولیس نے گزشتہ روز خاتون کو قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے جن کے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی گھر چھوڑ کر مقتولہ کے ساتھ رہائش اختیار کی تھی-

    ملزمان میں سے ایک گھر چھوڑنے والی خاتون کا سابقہ شوہر جبکہ ایک بھائی ہے جن کو اپنی ہمشیرہ مسماۃ (ع) کے گھر چھوڑنے کا رنج تھا، دونوں ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے-

    تفصیلات کے مطابق مدعی جہانگیر خان ولد ظفر خان نے تھانہ پہاڑی پورہ پولیس کو رپورٹ کی تھی کہ ملزمان صدام ولد نور محمد اور نور حسین ولد محمد عمر ساکنان افغانستان نے اس کی ہمشیرہ مسماۃ (ن) کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے جس کی رپورٹ پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی-

    ایس ایچ او تھانہ پہاڑی پورہ شکیل خان نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملزمان کے ٹھکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا جبکہ گزشتہ روز مصدقہ اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان صدام ولد نور محمد اور نور حسین ولد محمد عمر کو گرفتار کر لیا جنہوں نے ابتدائی تفتیش کےدوران اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بیان کیا کہ ملزم نور حسین کی ہمشیرہ مسماۃ (ع) نے گھر چھوڑ کر مقتولہ کے گھر میں پناہ لی تھی جس کا ملزمان کو رنج تھا،-

    ملزم صدام گھر چھوڑنے والی خاتون مسماۃ (ع) کا سابقہ شوہر ہے جس نے مسماۃ (ع) کے بھائی ملزم نور حسین کے ساتھ مل کر پناہ دینے والی خاتون کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، دونوں ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے-

  • توہین عدالت کیس:مسلسل غیر حاضری پر عدالت فردوس عاشق اور فواد چوہدری پر برہم، کیا ریمارکس دیئے؟

    توہین عدالت کیس:مسلسل غیر حاضری پر عدالت فردوس عاشق اور فواد چوہدری پر برہم، کیا ریمارکس دیئے؟

    پشاو ر ہا ئی کورٹ نے توہین عدالت کے کیس میں پیش نہ ہونے پر فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان پر برہمی کا اظہار کیا.

    باغی ٹی وی : پشاورہائی کورٹ میں سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی سزا کے خلاف وفاقی وزرا کی توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی عدالت کی جانب سے سماعت کے دوران پیش نہ ہونے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سابق ترجما ن پنجاب حکومت فردوس عاشق اعوان پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین بار نوٹس جاری کئے مگر یہ پیش نہیں ہوئے کیوں نہ ان کے خلاف وارنٹ جاری کردیئے جائیں ۔

    پشاورہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ لوگ جان بوجھ کر پیش نہیں ہورہے یا پھر شرم آرہی ہے،توہین آمیز زبان استعمال کرکے پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کی گئی جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال ناقابل برداشت ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم ، شہزاد اکبر اور سابق اٹارنی جنرل توہین آمیز رویہ پر معافی مانگ چکے ہیں لیکن فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان کی معافی کو قبول کرنا ہے یانہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

    وکلا کی جانب سے آئندہ سماعت پر دونوں کی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعدعدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی ۔