بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری میں ملوث 19 سالہ لڑکی کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خضدار کے علاقے گزگی میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست لڑکی پر شبہ ہے کہ وہ ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کی جا سکتی تھی۔ انٹیلی جنس حکام کے مطابق اس کے روابط ایک ایسے شدت پسند کمانڈر سے تھے جو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ابتدائی تفتیش کے دوران حکام نے انکشاف کیا کہ ملزمہ مستقبل قریب میں خودکش حملہ کرنے کے لیے آمادہ تھی، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لڑکی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس کا تعارف اس کے ایک قریبی رشتہ دار (کزن) نے ایک مقامی شدت پسند کمانڈر سے کروایا، جس کے بعد اسے بتدریج شدت پسندی کی جانب مائل کیا گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ نومبر 2025 کے تیسرے ہفتے میں اس نے ایک مبینہ تربیتی کیمپ کا دورہ کیا تھا۔پس منظر کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ملزمہ ایف اے تک تعلیم یافتہ ہے۔ اس کے والد 2007 سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جبکہ خاندان کے معاملات اس کا چچا سنبھالتا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کی شادی اپریل 2024 میں ایک عمر میں بڑے شخص سے بطور دوسری بیوی ہوئی تھی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ملزمہ نے خود کو "ممکنہ خودکش حملہ آور” قرار دیا ہے، تاہم اس نے دیگر شدت پسند سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔









