Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • گوادر میں  یومِ آزادی کا جشن،  پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

    گوادر میں یومِ آزادی کا جشن، پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

    گوادر میں یومِ آزادی کا جشن، خشکی کے ساتھ سمندر پر بھی قومی جذبے کا رنگ نمایاں رہا، بحیرہ عرب پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔

    گوادر کے مشرقی ساحل پر سیکڑوں ماہی گیروں نے قومی پرچموں سے سجی کشتیوں کے ساتھ شاندار ریلی نکالی، جس کے مہمانِ خصوصی سابق نگران وزیر میر نوید جان کلمتی تھے۔ کشتی ریلی فش ہاربر فشنگ جیٹی سے روانہ ہوئی، گوادر پورٹ سے ہوتی ہوئی پاک بحریہ کی اکرم جیٹی تک پہنچی۔کشتیوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے رہے، جبکہ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں سمیت سیکڑوں ماہی گیر پاکستان زندہ باد اور تکبیر کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔یومِ آزادی کی اس منفرد تقریب میں ماہی گیروں نے سمندر کی لہروں پر قومی پرچم بلند کرکے وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔گوادر کے ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ پاکستان ان کی پہچان اور فخر ہے، آزادی کا جشن اسی جوش و جذبے سے مناتے رہیں گے۔

    کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قومی پرچم لہرایا اور قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور اکابرین کی عظیم جدوجہد کا ثمر ہے اور آج تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور جائز سیاسی عمل کے دروازے کھلے ہیں، تاہم تشدد کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے شہدائے بلوچستان، پولیس، افواجِ پاکستان، ایف سی اور سویلین شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔

  • بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان تاقیامت ہے اور رہے گا، کسی کا باپ پاکستان کو نہیں توڑسکتا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جشن آزادی کے حوالے سے پولو گراؤنڈ میں پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کو یاد کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے وطن کیلئے اپنا خون بہایا ، ایف سی ،پولیس اور سویلین سمیت تمام شہدا کو یاد کرتا ہوں،یہ ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ، قربانیوں کا یہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے ، بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں ،فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، تمام شہدا کے لواحقین دکھی ہیں، بلوچستان کے عوام لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں،کچھ لوگ مختلف پروپیگنڈے کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں کو بہکا رہے ہیں ، بلوچستان کے نوجوان اب ان کی ہر چال کو سمجھ چکے ہیں،ہ پاکستان تاقیامت ہے اور رہے گا ، کسی کا باپ پاکستان کو نہیں توڑسکتا، ہم محب وطن پاکستانی تھے، محب وطن پاکستانی ہیں اور محب وطن پاکستانی رہیں گے۔

  • طلبا ریاست مخالف پروپیگنڈے سے دور رہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    طلبا ریاست مخالف پروپیگنڈے سے دور رہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف صوبوں کی جامعات میں اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب بلوچستان کے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی، جس میں ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور دیگر امور پر تفصیلی سوال و جواب ہوا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میرٹ پر منتخب ہونے والے طلبہ و طالبات کی اکثریت غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے، جو حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔میر سرفراز بگٹی نے طلبہ کو محنت، نظم و ضبط اور تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مثبت سوچ اور کردار کو بھی مقدم رکھیں۔ انہوں نے طلبہ کو ریاست مخالف پروپیگنڈے سے دور رہنے اور جہاں بھی جائیں پاکستانیت کا پرچار کرنے کی تلقین کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے یہ طلبہ صوبے کے سفیر ہیں، اس لیے انہیں اپنی صلاحیتوں، کردار اور کامیابیوں کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہوگا۔

  • کوئٹہ میں لڑکیوں کی آزادی میراتھن ریس، کبریٰ نے جیت لی

    کوئٹہ میں لڑکیوں کی آزادی میراتھن ریس، کبریٰ نے جیت لی

    وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیراہتمام جشن آزادی سپورٹس فیسٹیول کے سلسلے میں کوئٹہ میں لڑکیوں کی آزادی میراتھن ریس رن فار فن کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایتھلیٹس، طالبات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی تقریبا دو سو کے قریب لڑکیوں نے حصہ لیا، شرکاء نے ہاتھوں میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تھامے ریس میں حصہ لیا اور قومی جذبے، حب الوطنی اور جوش و خروش کا بھرپور اظہار کیا، ساڑھے تین کلومیٹر پر مشتمل میراتھن ریس شہدا زیارت چوک سے شروع ہوکر ایوب سپورٹس کمپلیکس میں اختتام پذیر ہوئی۔

    ریس کی مہمان خصوصی صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ تھیں جنہوں نے لڑکیوں کا حوصلہ بڑھایا، ان کے ہمراہ سیکرٹری کھیل دُرا بلوچ، ڈائریکٹر جنرل کھیل یاسر بازئی اور بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر گل محمد کاکڑ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ریس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مینا مجید بلوچ نے کہا کہ لڑکیوں کے لیے آزادی میراتھن ریس کا انعقاد دنیا کو ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش ہے۔ بلوچستان کی بچیوں نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ باہمت، پُرعزم اور حوصلہ مند ہیں اور کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں نے اپنے عزم اور حوصلے سے دنیا کو صوبے کا مثبت چہرہ دکھایا ہے۔ بلوچستان کی بچیاں محبِ وطن ہیں اور مثبت سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ ریس کا انعقاد اسی علاقے میں کیا گیا جہاں ماضی میں دہشت گردوں نے ہماری فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم آج اسی علاقے سے خواتین نے امن، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کا پیغام دنیا تک پہنچایا ہے۔ ریس کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کامیاب کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی، انہیں میڈلز پہنائے اور نقد انعامات سے نوازا۔ میراتھن ریس میں کبریٰ نے پہلی، مینا نے دوسری جبکہ ہادیہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی کبریٰ کو ایک لاکھ روپے، دوسری پوزیشن کی حامل مینا کو 50 ہزار روپے جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ہادیہ کو 30 ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔

  • بھرتیوں میں میرٹ اور ضلعی کوٹے پر سختی سے عمل ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان

    بھرتیوں میں میرٹ اور ضلعی کوٹے پر سختی سے عمل ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر میں آل پارٹیز کے وفد سے ملاقات کے دوران عوامی مسائل، علاقائی صورتحال اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سیاسی نمائندوں نے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درجہ چہارم کی آسامیوں کے ٹیسٹ و انٹرویوز مقامی سطح پر کرانے کا مطالبہ کیا۔

    وزیراعلیٰ نے گوادر سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں درجہ چہارم کی آسامیوں کے ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کرنے اور ضلعی کوٹے پر مقامی افراد کی بھرتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھرتیوں میں میرٹ اور ضلعی کوٹے پر سختی سے عمل ہوگا اور کسی مقامی امیدوار کا حق نہیں مارنے دیا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے محکمہ فشریز اور جنگلات گوادر میں غیر مقامی افراد کی تعیناتی کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا، جبکہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو ذمہ داری سونپ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کے عوام کو صاف پانی، صحت، تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے، ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچنا چاہئیں اور وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • گرین پاکستان انیشیٹو، بلوچستان میں ہزاروں ایکڑ غیر آباد زمین قابلِ کاشت، زرعی ترقی میں اہم پیش رفت

    گرین پاکستان انیشیٹو، بلوچستان میں ہزاروں ایکڑ غیر آباد زمین قابلِ کاشت، زرعی ترقی میں اہم پیش رفت

    کوئٹہ: گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت بلوچستان میں زرعی ترقی اور مقامی زمینداروں کی خوشحالی کے لیے متعدد اہم منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    پروگرام کے فیز ون کے تحت دکی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں 3 ہزار 800 ایکڑ غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا، جبکہ زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے 144 شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویل بھی نصب کیے گئے۔ ان منصوبوں سے 74 زمیندار مستفید ہوئے۔گرین پاکستان انیشیٹو کے فیز ٹو کے تحت کوہلو، بارکھان، چمن، نوشکی، ڈیرہ بگٹی، ژوب، مستونگ، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں مزید 8 ہزار 481 ایکڑ زمین کو قابلِ کاشت بنایا گیا، جس سے 214 زمینداروں کو فائدہ پہنچا۔قابلِ کاشت بنائی گئی اراضی پر گندم، کپاس اور مختلف اقسام کے باغات کی کاشت جاری ہے، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں اضافے اور معاشی خودکفالت کو فروغ مل رہا ہے۔

    حکام کے مطابق ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ضلعی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں کی نگرانی میں مکمل ہونے والے یہ منصوبے بلوچستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور مقامی آبادی کی معاشی خوشحالی کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت اقدامات کا مقصد غیر آباد اراضی کو زرعی مقاصد کے لیے بروئے کار لانا، مقامی زمینداروں کو سہولیات فراہم کرنا اور بلوچستان کو سرسبز و خوشحال بنانے میں معاونت کرنا ہے۔

  • یومِ شہداء پولیس، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی شہدا کےلواحقین سے ملاقاتیں

    یومِ شہداء پولیس، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی شہدا کےلواحقین سے ملاقاتیں

    کوئٹہ: یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور مقامی کمانڈرز نے صوبے کے مختلف اضلاع میں شہدائے پولیس کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں، شہداء کے مزارات پر حاضری دی، پھول چڑھائے، سلامی پیش کی اور خصوصی فاتحہ خوانی میں شرکت کی۔

    اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور مقامی کمانڈرز نے بلوچستان پولیس ہیڈکوارٹرز اور مختلف تھانوں کے دورے بھی کیے، جہاں انہوں نے پولیس افسران اور جوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔تقریب کے دوران بلوچستان پولیس کے شہداء کے درجات کی بلندی، ملک کی سلامتی اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے اپنے خطاب میں بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، غیرمتزلزل عزم اور دہشت گردی کے خلاف دی گئی لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے، امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور بلوچستان پولیس کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ شہدائے پولیس کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی لازوال خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ ان کے اہلِ خانہ کی عزت، تکریم اور ہر ممکن معاونت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • کوہلو میں جدید آئی ٹی سنٹر قائم، نوجوانوں کی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت

    کوہلو میں جدید آئی ٹی سنٹر قائم، نوجوانوں کی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت

    بلوچستان کے ضلع کوہلو میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سنٹر کا قیام نوجوانوں کی ڈیجیٹل خودمختاری اور بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) فیز ٹو کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق منصوبہ حکومتِ بلوچستان، پاک فوج، ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی باہمی مشاورت، نگرانی اور تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔کوہلو جیسے دور افتادہ ضلع میں جدید آئی ٹی سنٹر کے قیام کا مقصد نوجوانوں کو معیاری تکنیکی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری اور بلوچستان کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید آئی ٹی سہولیات کی فراہمی سے نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں استعداد کار بڑھے گی، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

  • بلوچستان میں ترقی کا نیا باب، سبی میں 98 ترقیاتی منصوبے مکمل

    بلوچستان میں ترقی کا نیا باب، سبی میں 98 ترقیاتی منصوبے مکمل

    سبی: بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت صوبہ بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف اضلاع میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

    بی ایس ڈی آئی کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت بلوچستان کے گرم ترین ضلع سبی میں مجموعی طور پر 98 ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جنہیں ریکارڈ مدت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔منصوبوں کی تکمیل سے علاقے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مختلف شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع میسر آئے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری متوقع ہے بلکہ علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کو بھی نئی رفتار ملے گی۔حکام کے مطابق بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت مکمل ہونے والے یہ منصوبے عوامی فلاح، پائیدار ترقی اور صوبے کی مجموعی خوشحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ مستقبل میں بھی مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • 
کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    
کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری

    ‎کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے دیگر کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی دشوار حالات میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ مزدوروں تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں۔
    ‎صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ریسکیو اہلکار جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں اور کان کے اندر موجود مزدوروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مزدوروں تک رسائی حاصل نہیں ہو جاتی۔
    ‎صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور حکومت بلوچستان ریسکیو کارروائیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی اور تمام متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
    ‎میر شعیب نوشیروانی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی مزدور کو 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ محنت کش مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے کوئلہ کانوں میں ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مستقل حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سورینج میں پیش آنے والے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
    ‎اس حادثے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کی جانوں کے تحفظ اور حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔