Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان، ایام عاشورہ نہایت مذہبی عقیدت و احترام اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر

    بلوچستان، ایام عاشورہ نہایت مذہبی عقیدت و احترام اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مچھ، سبی، جھل مگسی، نصیر آباد اور جعفر آباد میں ایام عاشورہ نہایت مذہبی عقیدت و احترام اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہو گئے

    یکم سے دسویں محرم الحرام تک پاک فوج، ایف سی بلوچستان (نارتھ)، پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور عزاداروں کو مکمل تحفظ اور پُرسکون ماحول فراہم کیا گیا۔ آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کوئٹہ شہر سمیت مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔کوئٹہ شہر میں عزاداروں کی سہولت اور طبی امداد کے لیے مختلف مقامات پر ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور سول انتظامیہ کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے۔بلوچستان کی تمام امام بارگاہوں اور جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی نگرانی یکم سے دسویں محرم الحرام تک مسلسل جاری رہی۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ نے جون کی شدید گرمی میں عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سول انتظامیہ، ایف سی بلوچستان (نارتھ)، پولیس اور پاک فوج کے جوانوں کی دن رات محنت اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔مقامی عوام اور عزاداروں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان (نارتھ)، پولیس اور سول انتظامیہ کے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کو سراہتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنے کی کاوشوں پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا۔

  • بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ضلع سبی میں زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 42 کلومیٹر تھی۔ حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز سبی شہر سے 57 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔دوسری جانب ضلع کوہلو میں زلزلے کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کوہلو شہر سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی جانب نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • بلوچستان میں‌تعلیم اور صحت کی سہولیات میں اضافے کیلئے حکومتی عزم اقدامات میں تبدیل

    بلوچستان میں‌تعلیم اور صحت کی سہولیات میں اضافے کیلئے حکومتی عزم اقدامات میں تبدیل

    بلوچستان میں عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے حکومتی عزم عملی اقدامات کی صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کرکے عوامی بہبود کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق بلوچستان نے فی کس تعلیمی اور صحت بجٹ کے لحاظ سے دیگر صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صوبے کی ایک کروڑ 48 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے 144 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جو فی کس 9 ہزار 668 روپے بنتا ہے۔اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے 96 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو فی کس 6 ہزار 445 روپے کے مساوی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت انسانی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔

    حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں یہ تاریخی سرمایہ کاری صوبے کے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری، انسانی وسائل کی ترقی اور پائیدار سماجی و معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں فی کس بنیادوں پر صحت اور تعلیم کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص کرنا بلوچستان حکومت کے عوامی بہبود کے عزم کا واضح ثبوت ہے، جس کے مثبت اثرات آنے والے برسوں میں صوبے کی مجموعی ترقی پر مرتب ہوں گے۔

  • چاغی،ایف سی کی کاروائی،بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد

    چاغی،ایف سی کی کاروائی،بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد

    چاغی: ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں دہشتگردوں کے ایک مبینہ ٹھکانے پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے برابچہ کے علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے زیر استعمال ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا۔برآمد ہونے والے سامان میں 2 عدد آئی ای ڈیز، 3 عدد ایس ایم جیز، ایک اے کے-47 رائفل، ایک ایم فور رائفل، ایک ایم پی فائیو ایس ایم جی، 2 ہینڈ گرینیڈ، 2 ڈیٹونیٹنگ فیوز، 3 یو بی جی ایل راؤنڈز اور مختلف اقسام کے 846 راؤنڈز شامل ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ممکنہ طور پر کسی بڑی دہشتگرد کارروائی کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں مزید سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • بلوچستان میں بین المذاہب ہم آہنگی ،بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم

    بلوچستان میں بین المذاہب ہم آہنگی ،بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم

    بلوچستان میں بین المذاہب ہم آہنگی ،بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم ہو گئی ہے

    کوئٹہ میں ایک صدی سے قائم بین المذاہب ہم آہنگی معاشرے میں پرامن بقائے باہمی کو مضبوط کر رہی ہے ،صدربلوچستان شیعہ کانفرنس عاشق حسین ہزارہ کا کہنا ہے کہ تمام مکاتب فکر کیساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، ہر بار سکیورٹی فورسز اور حکومت اطمینان بخش انتظامات کرتی ہیں، محرم الحرام کے انتظامات بارے اجلاس میں تمام مکاتب فکر اور مسیح برادری بھی شریک ہوتی ہے، مذہبی اسکالر ڈاکٹر موسیٰ حسینی کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کو مذہبی عقید ت کیساتھ منایا جاتا ہے،تمام مکاتب فکر شرکت کرتےہیں، کوئٹہ میں ہر محرم الحرام پر محبت،بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم کی جاتی ہے ،

    صوبائی پیغام امن کمیٹی کے رکن پادری سائمن بشیر نے بھی مسلمانوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ مسیحی برادری محرم کے جلوسوں میں ہر ممکن تعاون کرتی ہے،تفرقہ پھیلانے کی ہر سازش کو ناکام کیا جائےگا، مولانا سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ امام حسینؓ کی عظیم قربانی ہمیں صبر، استقامت اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے، محرم کے پُرامن انعقاد اور صوبے میں امن کیلئے تمام مکاتبِ فکر، تاجر اور علماء متحد ہیں،

  • شرپسند بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مسنگ پرسنز ڈرامہ بے نقاب،ایک اور لاپتہ”دہشتگرد”نکلا

    شرپسند بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مسنگ پرسنز ڈرامہ بے نقاب،ایک اور لاپتہ”دہشتگرد”نکلا

    شرپسند بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مسنگ پرسنز ڈرامہ بے نقاب، ایک اورلاپتہ شخص فتنہ الہندوستان کادہشت گرد نکلا

    فتنہ الہندوستان کی پروردہ بی وائی سی کے مسنگ پرسنز ڈرامہ کی حقیقت اب واضح طورپرآشکار ہورہی ہے،فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عادل کوبی وائی سی نے 09 نومبر2024 کوجبری گمشدہ شخص کے طورپرظاہر کیا،
    بی وائی سی کے دھرنے میں دہشت گرد عادل کو جبری گمشدہ قراردیکراس کا الزام ریاست پرلگایا گیا ،فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عادل نے 2024 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیارکی تھی جس کوبی ایل اے نے خود تسلیم کیاحقیقت یہ ہے کہ فتنہ الہندوستان کا دہشت گرد عادل16 فروری2026 کوآواران میں دہشت گردی کرتے ہوئے ہلاک ہوا تھا۔

  • علی بلوچ اور شیر محمد کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی اپنی بیٹیوں سے لاتعلقی کا اظہار

    علی بلوچ اور شیر محمد کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی اپنی بیٹیوں سے لاتعلقی کا اظہار

    گوادرسے تعلق رکھنے والے علی بلوچ اور شیر محمد نے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی اپنی بیٹیوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا

    گوادر سے تعلق رکھنے والے علی بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی اقرا گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہے اوراس کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔علی بلوچ نے کہا کہ تمام رشتہ داروں اورجاننے والوں نے ممکنہ مقامات پراس کی تلاش کی، تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ علی بلوچ نے واضح کیا کہ وہ اورانکے خاندان کے تمام افراد اقرا کے کسی بھی غیرقانونی،ریاست مخالف یا غلط اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔گوادر کے شہری شیرمحمد نے بھی پریس کانفرنس میں اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی حنیفہ2 جون2026 سےلاپتہ ہے، تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہیں ملا۔بیٹی نے قانون،ریاست یا معاشرتی اقدارکیخلاف راستہ چنا تو خاندان ذمہ دارنہیں ہوگا۔حنیفہ کے حوالے سے کیے جانے والے کسی بھی پروپیگنڈے سے ہمارا تعلق نہیں۔ شیر محمد کا کہنا تھا کہ میں ایک محب وطن پاکستانی شہری ہوں،آئین وقانون کااحترام کرتاہوں۔

  • شوہر نے  بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرل

    شوہر نے بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرل

    کوئٹہ میں شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی ہے۔

    پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ کوئٹہ کی وحدت کالونی میں ایک گھر کے اندر پیش آیا، جہاں شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کی جان لے لی، واقعے کے بعد ملزم نے بھی خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے،اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    حکام کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں جب کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقا ت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • ماہرہ خان کا کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے پر برہمی کا اظہار

    ماہرہ خان کا کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے پر برہمی کا اظہار

    پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ماہرہ خان نے کوئٹہ کے اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    اداکارہ نے اپنی انسٹا اسٹوری پر لکھا کہ ایک خاتون دوسروں کی زندگیاں بچانے کیلئے گئی اور کسی نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا میں تصور بھی نہیں کرسکتی، ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر اسپتال میں حملہ کیا گیا، یہ وحشیانہ عمل اور برائی ہے، میں غصے سے کانپ رہی ہوں، یہ عورت مکمل حفاظت کی مستحق ہے، اس ظالم شخص نے خاتون ڈاکٹر کو تقریباً زندہ جلا دیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے پاس ایک ڈاکٹر کی زندگی کو تباہ کرنے کا حق ہے، یہ وقت صرف خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہے کہ بولیں اپنی آواز بلند کریں اور غصے کا اظہار کریں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں ایک شخص نے لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا تھا جس وہ شدید متاثر ہوئیں،متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو اسپتال میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جس کے بعد انہیں علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر بہتر سہولیات اور علاج کیلئے ائیر ایمبولینس سے کراچی منتقل کیا گیا۔

    اس ہولناک تیزاب گردی کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی۔

    مظاہرین نے سول ہسپتال میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت بلوچستان، ایم ایس اور سیکیورٹی انچارج سول ہسپتال کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا۔

  • کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزم مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

    کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر اسپتال کے لفٹ آپریٹر کو ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ ایک اور شخص بھی کر زخمی ہوا۔

    صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھاجبکہ وزیر صحت نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرے گی خاتون ڈاکٹر پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، زخمی ڈاکٹر کو مزید علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کی پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ فرار ہونے کی کوشش میں سریاب روڈ کے بس اسٹینڈ پہنچا، جہاں پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی، اسی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور چار گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں،جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔