Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں وہ بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف جمعرات کو ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ان کا استقبال کیا وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ بھی کوئٹہ پہنچے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیور ٹی صورتحال، امن و استحکام کے لیے جاری اقدامات اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری قیادت بھی شریک ہوگی، جبکہ بلوچستان میں امن و امان کو مزید مؤثر بنانے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے اہم فیصلوں پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ پہنچیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ پہنچیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچیں گے، جہاں وہ نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچیں گے، جہاں ان کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی موجود ہوں گے وزیراعلیٰ سیکر ٹریٹ کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوگا، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری اور سول قیادت شرکت کرے گی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کی امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور صوبے میں سیکیورٹی کی موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اجلاس کے دوران امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری بھی متوقع ہے بلوچستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی قیادت کے درمیان اہم مشاورت بھی اجلاس کا حصہ ہوگی۔

  • بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک اور پرامن صوبہ بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک اور پرامن صوبہ بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے زیارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایم پی اے زیارت،ہرنائی، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور آئی جی پولیس بلوچستان کے ہمراہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان رابطہ کاری اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور امن و امان کی بحالی کے لیے کیے جانے والے انتظامات پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر ہدایت کی کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت بلوچستان، سول انتظامیہ، پولیس، لیویز، سیکیورٹی فورسز اور عوام دہشت گردی کے خلاف ایک صفحے پر ہیں اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک بلا تعطل جاری رہے گا، جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر قسم کے دہشت گرد نیٹ ورکس کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرتے رہیں گے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں امن کے دشمن عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون سے بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک اور پرامن صوبہ بنایا جائے گا۔

  • کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی

    کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی

    کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کے حملے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 8 دیگر زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

    واقعے کے خلاف مشتعل مظاہرین نے ائیرپورٹ روڈ پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور علاقے میں مؤثر سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی۔

    دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے رات گئے ہنہ اوڑک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کلی بابری میں قبائلی عمائدین اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قبائلی رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مشترکہ سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ادھر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بھی ہنہ اوڑک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے مقامی قبائلی افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔

  • کوئٹہ سیشن کورٹ سمیت عدالتوں پر  خودکش  حملے کا تھریٹ الرٹ جاری

    کوئٹہ سیشن کورٹ سمیت عدالتوں پر خودکش حملے کا تھریٹ الرٹ جاری

    ‏کوئٹہ سیشن کورٹ پر خودکش حملے کا تھریٹ الرٹ جاری ہو گیا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ خطرناک دہشتگرد شہر میں آ گیا ہے کوئٹہ کی سیشن کورٹ سمیت عدالتوں پر خودکش دہشتگرد حملے کا شدید خطرہ ہے، تمام ادارے احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں، ایک سینیئر وکیل کے مطابق محکمہ داخلہ نے عدالتوں، ججوں اور وکلا کو مراسلے بھیجے ہیں جن میں ممکنہ خودکش حملے کے خدشے کی نشان دہی کی گئی ہے اور غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی خود کش دہشتگرد ونگ مجید بریگیڈ کا خودکش دہشتگرد حوران اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئٹہ آیا ہے۔ حوران کئی خودکش دہشتگردوں کے ساتھ سریاب کے علاقے میں موجود ہے جہاں سے وہ کوئٹہ شہر میں دہشتگردی کی کارروائی کرنے والا ہے امکان ہے کہ مجید بریگیڈ کے تربیت یافتہ خودکش دہشتگردوں کا یہ گروہ کوئٹہ سیشن کورٹ اور دیگر عدالتوں کو یا کچہری مین پر ہجوم علاقوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

  • جیوانی حملہ،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور "لاپتہ”بازیاب ہو گیا،جہنم واصل

    جیوانی حملہ،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور "لاپتہ”بازیاب ہو گیا،جہنم واصل

    گوادر: بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد حملہ آور کی شناخت سے متعلق سامنے آئی ہے،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور لاپتہ بازیاب ہو گیا

    پوسٹ پرحملہ کرنے والا والا خودکش حملہ آور عطا اللہ ولد گاجی خان تھا، جسے "جبری لاپتہ شخص” قرار دے کر ریاست مخالف مہمات میں بطور مثال پیش کیا جاتا رہا۔ 3 جولائی 2026ء بروز جمعہ شام تقریباً 6 بج کر 32 منٹ پر گوادر کے علاقے جیوانی کے پانوان سیکٹر میں واقع پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر بارود سے بھرے مزدا ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا،
    ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد حملہ آور کے جسم کے اعضا اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی شناخت عطا اللہ ولد گاجی خان کے نام سے ہوئی عطا اللہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کے کیمپ سے وابستہ تھا۔

    ادھر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے مجید بریگیڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عطا اللہ کی تصویر ماضی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور PAANK کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھی۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عطا اللہ کو 27 فروری 2025ء کو ضلع آواران سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ حملہ آور کی شناخت سامنے آنے کے بعد ان دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن کے تحت بعض افراد کو لاپتہ قرار دے کر مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کی مہمات کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    بعض کالعدم تنظیموں کے سہولت کار اور ہمدرد نیٹ ورکس نوجوانوں کی بھرتی، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ماضی میں بھی بعض دہشت گرد حملوں کے بعد حملہ آوروں کے بارے میں ایسے دعوے سامنے آئے جنہیں پہلے مختلف حلقوں کی جانب سے "لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کیا گیا تھا،

  • بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    دھانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد پولیس نے تھانہ شیرانی میں ٹرانسپورٹ کمپنی اور کوچ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کوچ کمپنی کو سیل کر دیا ہے، جبکہ حادثے کی جامع تحقیقات کی ذمہ داری سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ٹرانسپورٹ کمپنی کی قانونی حیثیت، کوچ کی فٹنس، ڈرائیور کی اہلیت، حفاظتی اقدامات اور حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تحقیقات کی رپورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام جاں بحق افراد کی میتیں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

  • ژوب ،مسافر بس کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق

    ژوب ،مسافر بس کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق

    ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک المناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق حادثہ ژوب کے علاقے داناسر میں پیش آیا، جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں 24 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 14 زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال ژوب منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔ امدادی ٹیموں نے دشوار گزار علاقے میں کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور مسافروں کو ملبے اور کھائی سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔حکام نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کے بریک فیل ہونے کے باعث یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

  • پنجگور میں آئی ای ڈی نصب کرتے ہوئے دھماکا، 2  دہشت گرد ہلاک

    پنجگور میں آئی ای ڈی نصب کرتے ہوئے دھماکا، 2 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گوارگو کے گاؤں مورتن میں مبینہ طور پر بارودی مواد نصب کرتے ہوئے دھماکا ہونے کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو افراد دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) نصب کر رہے تھے کہ اچانک بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے باعث دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے "فتنہ الہندوستان” قرار دیے جانے والے گروہ سے بتایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گرد علاقے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئی ای ڈی نصب کر رہے تھے،واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچ گئے

    بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچ گئے

    مرکزی مسلم لیگ نے بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیاہے، خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ضلع بارکھان، کوہلو و دیگر زلزلہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے،

    مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدرعقیل احمد کی ہدایت پر خدمت خلق کے رضاکاران بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں ضلع بارکھان ،کوہلو میں‌پہنچ چکے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے ابتدائی سروے کے بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، خدمت خلق کی ٹیمیں امدادی سامان کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں پہنچی ہیں،زلزلہ متاثرہ علاقوں میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل جاری ہے، میڈیکل ٹیمیں بھی علاقہ میں مریضوں کاعلاج معالجہ کر رہی ہیں، صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان عقیل احمد کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں‌میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں متاثرین کی بحالی تک جاری رہیں گی،متاثرہ گھروں‌کی تعمیر بھی کریں گے