Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان،ایک سال میں  1200 بند اسکول فعال کیے گئے: سرفراز بگٹی

    بلوچستان،ایک سال میں 1200 بند اسکول فعال کیے گئے: سرفراز بگٹی

    وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چیلنجز کے باوجود موجودہ حکومت نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور صرف ایک سال میں 8 ہزار 500 اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا۔

    عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ 1200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کیے گئے ہیں، جس سے 90 ہزار بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوئے۔وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید 1200 کمیونٹی اسکول قائم کیے جائیں گے۔

    ان کے مطابق اس اقدام سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل ہوگی۔

    قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 8 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے

    علی امین گنڈاپور کا پشاور میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان

    غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

    پاکستان میں دوسرا چاند گرہن، سپر بلڈ مون کا دلکش نظارہ

  • گریڈ 21 کے افسر محمد طاہر نئے آئی جی بلوچستان مقرر

    گریڈ 21 کے افسر محمد طاہر نئے آئی جی بلوچستان مقرر

    کوئٹہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے گریڈ 21 کے سینئر پولیس افسر محمد طاہر کو بلوچستان کا نیا انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس تعینات کر دیا ہے۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محمد طاہر فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔محمد طاہر اس وقت خیبر پختونخوا پولیس میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ایک تجربہ کار افسر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل وہ پولیس کے مختلف شعبوں میں اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، جن میں آپریشنز اور ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی تعیناتی کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اور صوبے میں پولیس کے آپریشنل ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔ نئی قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ صوبے میں امن قائم رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔

    دریائے چناب اور ستلج میں سیلاب، جلال پور پیر والا زیر آب، مساجد میں اعلانات

  • کوئٹہ میں موبائل فون انٹرنیٹ ڈیٹا سروس بحال

    کوئٹہ میں موبائل فون انٹرنیٹ ڈیٹا سروس بحال

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موبائل فون کی انٹرنیٹ ڈیٹا سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔

    محکمۂ داخلہ بلوچستان کے مطابق کوئٹہ میں یہ سروس 12 ربیع الاول کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بند کی گئی تھی۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں عوامی تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔اب محکمہ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ میں سروس بحال ہونے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی موبائل فون انٹرنیٹ ڈیٹا کی بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ضروری حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ صارفین بلا تعطل سروس استعمال کر سکیں۔

    اس پیش رفت کے بعد صوبے کے شہریوں نے سروس کی بحالی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ موبائل انٹرنیٹ کی بحالی سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ تعلیمی اور سماجی رابطوں میں بھی آسانی ہوگی۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران احتیاطی اقدامات پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں۔

    ارشد ندیم ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے لیے فٹ قرار

    سرینگر: حضرت بل درگاہ میں اشوکا کی کندہ کاری پر تنازع، تختی توڑ دی گئی

    عید میلاد النبی ﷺ: قیدیوں کی سزا میں 180 روز کی خصوصی معافی منظور

    ہنی مون کے دوران شوہر کا قتل، بیوی سمیت ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    مودی کا ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم، امریکا بھارت تعلقات کو مثبت قرار دے دیا

  • بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس  بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع بشمول کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 سے 6 ستمبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بند رکھی جائے۔مراسلے کے مطابق پانچوں اضلاع میں 5 ستمبر سہ پہر 5 بجے سے 6 ستمبر رات 9 بجے تک انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔محکمہ داخلہ نے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات پر مذکورہ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی، تاہم اب دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت بلوچستان نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر 5 ستمبر (11 ربیع الاول) کو عام تعطیل کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    حیدر علی کی معطلی،پی سی بی کا لائحہ عمل قانونی کارروائی کے بعد طے ہوگا

    میڈرڈ میں تکنیکی خرابی سے ہائی اسپیڈ ٹرین سروس شدید متاثر

    بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں اضافہ، مزید پانی آنے کا خدشہ

    اندرونی اختلافات،سنی اتحاد کونسل کے 26 اراکین نے استعفیٰ نہیں دیا، فہرست منظرعام پر

  • سریاب خودکش حملہ: نیشنل پارٹی کا 3 روزہ سوگ، حب کا جلسہ ملتوی

    سریاب خودکش حملہ: نیشنل پارٹی کا 3 روزہ سوگ، حب کا جلسہ ملتوی

    سربراہ نیشنل پارٹی و سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ہونے والے خودکش حملے کے خلاف 3 روزہ سوگ کا اعلان کردیا۔

    تربت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 14 ستمبر کو حب میں غوث بخش بزنجو اور حاصل بزنجو کی برسی پر منعقدہ جلسہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سریاب روڈ پر بی این پی کے جلسے کے اختتام پر خودکش حملہ بزدلانہ اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، ایسے حالات میں جمہوری سیاسی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی ہر حال میں اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    پاکستان سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ

    ایف آئی اے کی کارروائی، کراچی اور کوئٹہ سےحوالہ ہنڈی میں ملوث 4 ملزمان گرفتار

    دریائے چناب اور ستلج میں سیلابی صورتحال، درجنوں علاقے زیرِ آب

  • منتظمین کی ضد پرجلسے کی اجازت دی،  ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان

    منتظمین کی ضد پرجلسے کی اجازت دی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ جلسے کی اجازت نہیں دے رہے تھےلیکن منتظمین کی ضد پر اجازت دی، جلسے کی این او سی 3 بجے کے لیے دی گئی تھی لیکن جلسہ رات 9 بجکر 45 منٹ پر ختم ہوا تھا-

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس یں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات ور پولیس حکام نے بتایا کہ گزشتہ شب دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے،، دھماکا خودکش تھا اور 8 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، تھریٹس تھے اور جلسے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن منتظمین جلسہ کرنے پر بضد تھے، حکومت نےمجبور ہوکرجلسہ منعقد کرنے کےلیے این او سی جاری کیا۔

    حمزہ شفقات نے کہا کہ جلسہ کے منتظمین کو مغرب سے قبل ہی جلسہ ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، مگر جلسہ رات پونے 10 بجے ختم ہوا، خود کش حملہ آور کی شناخت تاحال نہ ہوسکی ہے، سخت سیکورٹی کے باعث خودکش حملہ آور جلسہ گاہ کے اندر نہیں جاسکا، اس وقت کوئٹہ کوسخت تھریٹس کاسامناہے،عیدمیلاد النبی پرسیکورٹی کےسخت انتظامات کررہےہیں، خودکش دھماکے کا واقعہ قابو سے باہر تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے جتنی کوششیں کرسکتے تھے انہوں نے کی۔

    سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    عالمی بینک پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا

    وینزویلا کی ’منشیات بردار‘ کشتی پر امریکی فوج کا حملہ، 11 افراد ہلاک

  • سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، میرسرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی،نےکہاکہ،کسی کو بھی بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس نے شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کی تفصیلات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی،وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحالی امن کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام و میڈیا کو حکومتی اقدامات اور حقائق سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، کیونکہ موجودہ تھریٹس الرٹ میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہےانہوں نے واضح کیا کہ شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی کو بھی بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔

    عالمی بینک پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانحے کے شہدا کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ زخمیوں کو بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ شدید زخمیوں کو فضائی سروسز کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کا فوری بندوبست کیا جائےوزیر اعلیٰ نے 12 ربیع الاول کے پروگرامز کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان تیار کرنے کی ہدایت بھی دی اورعوام سے اپیل کی کہ جلوسوں اور اجتماعات کے دوران حکومت اور اداروں سے بھرپور تعاون کریں۔

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع

  • آئندہ مغرب کے بعد جلسےجلوسوں کی اجازت نہیں دی جائےگی،حمزہ شفقات

    آئندہ مغرب کے بعد جلسےجلوسوں کی اجازت نہیں دی جائےگی،حمزہ شفقات

    ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ سریاب واقعہ کنٹرول سے باہر تھا اور اس کی روک تھام ممکن نہیں تھی جب کہ کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے سے قبل منتظمین کو 3 دفعہ جلسہ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن اسے سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

    کوئٹہ میں پولیس حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے کہا کہ خودکش حملہ آور کی عمر 30 سال سے کم تھی تاہم حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی،جلسے کے لیے سکیورٹی دی گئی تھی، واقعہ جلسہ گاہ کے اندر ہوتا تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، دھماکےکےذمہ داروں کا تعین کرنا ہماری ذمہ داری ہے، باربار گزارش کررہےہیں کہ 6 ستمبر کو اپنی موومنٹ کنٹرول رکھیں.خودکش حملہ جلسہ گاہ سے 500 کلو میٹر دور ہوا، جلسے کا وقت 3 بجے تھا لیکن واقعہ رات 9 بجے پیش آیا، واقعہ جلسہ ختم ہونےکے 45منٹ بعد پیش آیا، جلسےکےمنتظمین کو 3 بار کہاگیاتھا کہ جلسہ ختم کریں، سکیورٹی صورتحال سے متعلق سیاسی جماعت کو آگاہ کیا تھا، انتظامیہ کی سکیورٹی تھریٹ کو سنجیدہ لیناچاہیے، منتظمین اس کو سنجیدہ لیتے تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔

    ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ سریاب واقعہ کنٹرول سے باہر تھا، اس کی روک تھام ممکن نہیں تھی، بی این پی کے جلسے پر 120 پولیس اہلکار تعینات تھے، 12 ربیع الاول کے موقع پر بھی سکیورٹی تھریٹ الرٹ ہے، آئندہ مغرب کی نماز کے بعد جلسےجلوسوں کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

  • کوئٹہ دھماکہ،اموات 15 ہو گئیں، لاشیں ورثا کے حوالے

    کوئٹہ دھماکہ،اموات 15 ہو گئیں، لاشیں ورثا کے حوالے

    کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھماکے میں ہلاکتیں 15 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    محکمۂ صحت کے میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق سریاب میں دھماکے کا ایک اور زخمی سول اسپتال میں دم توڑ گیا،صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سول اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں 38 افراد زخمی ہوئے ہیں، اس وقت ٹراما سینٹر میں 8 زخمی زیرِ علاج ہیں،ہ واقعہ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کی وجہ سے خودکش حملہ آور جلسہ گاہ تک نہیں پہنچ سکا۔

    دوسری جانب ڈاکٹر وسیم بیگ نے کہا کہ سریاب دھماکے میں تمام جاں بحق افراد کی میتیں ورثاء کے حوالے کردی گئی ہیں ،جاں بحق افراد کا تعلق کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، دالبندین، قلات، خضدار سمیت مختلف علاقوں سے تھا، ایک جاں بحق شخص کی میت سندھ کے علاقے سانگھڑ روانہ کی گئی ہے۔

  • کوئٹہ دھماکا،دفعہ 144 کے باوجود جلسہ کیوں،دہشت گردوں کی سہولت کاری؟

    کوئٹہ دھماکا،دفعہ 144 کے باوجود جلسہ کیوں،دہشت گردوں کی سہولت کاری؟

    کوئٹہ میں اختر مینگل کے جلسے کے اختتام پر مبینہ طور پر خودکش حملہ میں5 جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے ہیں،

    سیکیورٹی اداروں کی سختی اور حساس حالات کے باوجود بلوچ نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئٹہ میں جلسہ کیا۔ یہ جلسہ ان کے والد عطا اللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر شاہوانی اسٹیڈیم، کیچی بیگ، سریاب روڈ پر منعقد کیا گیا تھا۔کوئٹہ میں دہشت گردی کا خطرہ تھا، دفعہ 144 نافذ تھی اس کے باوجود جلسہ کیا گیا، جس میں اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی جیسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ جلسہ شام 4 بجے شروع ہوا اور تقریباً 9:30 بجے اختتام پذیر ہوا۔ تاہم، جب لوگ جلسہ گاہ سے باہر نکل رہے تھے، تبھی 9:45 بجے ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

    بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور پراکسی جنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی نازک ہے۔ بھارت معرکہ حق میں شکست کے بعد بلوچستان میں انتشار پھیلانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں استعمال کر رہا ہے۔ اس دوران اختر مینگل کی جانب سے ریاست کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے جلسہ کرنا اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنا، سیکیورٹی حلقوں کے لیے ایک تشویش کا باعث ہے۔را بلوچستان میں عدم استحکام کے لئے ہر وقت تیار ہے، اس کو موقع چاہئے تھا اور یہ فراہم کر دیا گیا، دہشت گردی کی اس کارروائی کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاسی کشیدگی بڑھانا ہے۔ اسی نوعیت کا حملہ اس سال 30 مارچ کو لَک پاس میں بھی ہوا تھا،

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اختر مینگل اس طرح کے جلسوں اور سیاسی حربوں سے اپنی سیاسی حیثیت کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت انہیں مسترد کر چکی ہے۔ یہ حملہ اور جلسہ دونوں ایک خطرناک سیاسی حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد بلوچ عوام میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔بلوچ عوام کی طرف سے اس طرح کے حملوں اور سیاسی کھیلوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ اختر مینگل کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے معصوم عوام کی جانوں کے ضیاع پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

    صحافی حسن ایوب کہتے ہیں کہ شاہوانی اسٹیڈیم، کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے اختتام پر خودکش حملہ، 4 شہید، 8 زخمی۔اختر مینگل اور محمود اچکزئی جلسہ ختم ہوتے ہی نکل گئے اور صرف 15 منٹ بعد دھماکہ ہوا۔یہ محض اتفاق ہے یا منصوبہ بندی؟ 30 مارچ لَک پاس حملے کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں اختر مینگل "محفوظ” نکلے جبکہ عام بلوچ خون میں نہا گئے۔کیا عوامی ردِعمل سے مایوس اختر مینگل اب بے گناہ بلوچوں کے خون سے سیاست چمکانا چاہتے ہیں؟کیا یہ سب کچھ صرف اپنے سیاسی وجود کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے؟بلوچستان مزید قربانیاں نہیں دے سکتا،عوامی تحقیقات اور جواب دہی ناگزیر ہے!