Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • چمن اور گردونواح میں 3.6 شدت کا زلزلہ

    چمن اور گردونواح میں 3.6 شدت کا زلزلہ

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 11 کلومیٹر تھی۔محکمہ کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن شہر سے جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔ حکام نے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے تقریباً 65 کلومیٹر مغرب میں تھا

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان سے بدترین شکست،بھارت کا 300 نئے میزائل خریدنے کا فیصلہ

  • ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر کوہلو، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں کوھلو کے علاقے میں عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے اور عوامی مسائل کا بروقت اور فوری حل ہماری اولین ترجیح ہے, بلوچستان کی عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، اور ہم سب نے مل کر وطن کو دشمن عناصر کے ناپاک عزائم اور سازشوں سے نجات دلانی ہے ۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔

    اس موقع پر قبائلی عمائدن کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)   کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کوہلو بازار کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کا مقصد علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا، عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور مقامی لوگوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا تھا۔

    دورے کے دوران آئی جی ایف سی نے بازار میں موجود دکانداروں، مقامی شہریوں اور نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔ انہوں نے لوگوں سے علاقے میں امن و امان، کاروباری ماحول اور دیگر عوامی سہولیات کے متعلق دریافت کیا۔ شہریوں نے انہیں مختلف مسائل سے آگاہ کیا، جنہیں میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے توجہ سے سنا اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔عوام نے ایف سی بلوچستان اور پاک فوج کی جانب سے کوہلو سمیت پورے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایف سی کی موجودگی سے علاقے میں نہ صرف امن بہتر ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

    مقامی لوگوں نے آئی جی ایف سی کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں۔ بازار میں موجود ضعیف شہریوں اور نوجوانوں نے ان سے مصافحہ کیا اور اپنے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کا یہ دورہ عوام کے ساتھ قریبی رابطے، زمینی حقائق سے آگاہی اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایف سی کے مضبوط عزم کی واضح مثال سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے دورے عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان فاصلے مزید کم کریں گے اور علاقے میں امن و ترقی کے سفر کو مزید تقویت بخشیں گے۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر سوئی میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈ کوارٹر سوئی میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر سوئی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں درپیش مسائل کے حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔

    قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔

    کھلی کچہری کے دوران مقامی عمائدین نے تعلیم وصحت اور ڈیر بگٹی و کشمور روڈ کی حالتِ زار اور سیکورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

  • گوادر میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 14 ملزمان گرفتار

    گوادر میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 14 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گوادر نے مختلف کارروائیوں کے دوران سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 14 افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے ہے، جن میں گوجرانوالہ سے 4، فیصل آباد اور حافظ آباد سے 2، لوئر دیر سے 5 جبکہ صوابی، مردان اور مالاکنڈ سے ایک، ایک شخص شامل ہے۔ ملزمان کو جیوانی کے علاقے سے پکڑا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر ایران پہنچ کر وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے تھے۔ ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے

    کے الیکٹرک کی ملکیت،لڑائی عدالتوں سے عوام تک پہنچ گئی

    ہنگو ،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، تین اہلکار شہید

    امریکا کا القاعدہ برصغیر کے دو رہنماؤں پر انعام کا اعلان

    فوجی بغاوت، صدر معزول، سرحدیں بند، کرفیو نافذ

  • اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، بچوں کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    صوبے میں پرائمری سطح پر بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح 59 فیصد ہے، جن میں 61 فیصد لڑکے اور 59 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ معاشی مسائل، بچوں سے مزدوری، اسکولوں تک طویل فاصلے اور بنیادی سہولیات کی کمی اس تشویشناک صورتحال کی اہم وجوہات قرار دی جاتی ہیں۔تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں ارلی وارننگ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو کسی بھی وجہ سے اسکول چھوڑنے کے خطرے کا شکار ہوں، تاکہ انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے اور ان کا تعلیمی سفر جاری رہے۔

    اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے ساتھ مل کر 2016 سے 2021 تک ایک تفصیلی سروے کیا، جس میں بچوں کے اسکول چھوڑنے کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ انہی نتائج کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم راحیلہ امین درانی کے وژن کے تحت یہ نظام تیار کیا گیا ہے۔

    ارلی وارننگ سسٹم کے تحت ہر طالب علم کی کارکردگی، رویے اور حاضری کو ایک جدید سافٹ ویئر کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر کسی بچے کی کارکردگی میں کمی، سیکھنے میں عدم دلچسپی یا مسلسل غیر حاضری سامنے آئے گی تو سسٹم خودکار طور پر اسے ’ہائی رسک‘ کے طور پر ظاہر کرے گا، جس کے بعد متعلقہ عملہ بروقت اقدام کرے

    سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

  • مرکزی مسلم لیگ کا کوئٹہ میں خواتین کیلیے 20 نئے سلائی سنٹرز قائم کرنے کا فیصلہ

    مرکزی مسلم لیگ کا کوئٹہ میں خواتین کیلیے 20 نئے سلائی سنٹرز قائم کرنے کا فیصلہ

    کوئٹہ: مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق نے خواتین کو باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شہر بھر میں ایک بڑے فلاحی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے نہ صرف 20 نئے سلائی سنٹرز قائم کیے جائیں گے بلکہ 10 مفت ڈسپنسریوں کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔

    مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ ڈویژن حافظ ادریس، صدر شعبہ خدمتِ خلق بلوچستان ڈاکٹر احسان، اور دیگر رہنماؤں ڈاکٹر ہارون، میر شاہجہان گرگناڑی، بخت خلجی، میر شکر خان رئیسانی، خدائے دوست کاکڑ، ملک اسلم بازئی، حاجی جمعہ گل اور ملک فہیم بڑیچ نے اس اقدام کو خواتین کی خود مختاری اور معاشی استحکام کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔ حافظ ادریس نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی مخدوش ہیں، ایسے حالات میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنا امن کے قیام کے لیے بھی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی مسلم لیگ پہلے ہی خواتین کے لیے سلائی اور بیوٹیشن سنٹرز چلا رہی ہے، جن میں سینکڑوں خواتین ہنر سیکھ رہی ہیں۔

    پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ اب شہر کے 10 سے زائد علاقوں میں نئے سلائی سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جہاں خواتین کو نہ صرف سلائی سکھائی جائے گی بلکہ مستحق خواتین کو تربیت کے بعد سلائی مشینیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ یہ سنٹرز خواتین کو اپنے گھروں میں باعزت روزگار کمانے کے قابل بنائیں گے۔ مزید برآں، خواتین کے مدارس میں بھی سلائی سنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ طالبات دینی تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سیکھ سکیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ اقدامات معاشی بہتری، خواتین کے بااختیار ہونے اور بلوچستان میں ایک خوشحال اور پُرامن معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔

  • زیارت میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 5 دہشت گرد گرفتار

    زیارت میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 5 دہشت گرد گرفتار

    بلوچستان کے ضلع زیارت میں لیویز فورس اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    کارروائی میں سپیرارغہ علاقے سے 5 دہشت گرد گرفتار کیے گئے جن کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔گرفتار افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد ہوا، جن میں 11 دستی بم، 3 ایس ایم جیز، 2 ایم فور رائفلز، ایک گرینیڈ لانچر، ایک کلو بارودی مواد، 6 وائرلیس سیٹ، 4 موبائل فون، 2 آر پی جی، 13 ایمونیشن بیگ، 15 ایس ایم جی گرینیڈ، ایک کیری وین اور موٹر سائیکل شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کامیاب کارروائی پر زیارت کی ضلعی انتظامیہ اور لیویز فورس کو سراہا ہے

    پنجاب ضمنی انتخابات: مسلم لیگ ن کی برتری، واضح سبقت

    افغانستان سے سمگلنگ ،سالانہ 3.4 کھرب روپے کے نقصانات

    ایشیا کپ رائزنگ اسٹار : پاکستان شاہینز نے تیسری بار ٹائٹل جیت لیا

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا امکان مسترد

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا امکان مسترد

    پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما اور صوبائی وزیر سلیم کھوسہ اور پیپلزپارٹی کے رہنما اور رکن اسمبلی علی مدد جتک نے صوبے میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی تبدیلی کے امکان کو خارج ازامکان قرار دے دیا،

    بلوچستان اسمبلی میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر اراکین کے لیے ان کیمرہ بریفنگ کے لیے آمد کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسلم لیگ ن بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر وصوبائی وزیر سلیم کھوسہ کا کہناتھا کہ ان کا مسلم لیگ ن کی قیادت سےرابطہ ہوا ہے اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کےحوالے سےکوئی بات زیرغور نہیں۔تاہم سلیم کھوسہ کا کہناتھا کہ انہوں نے سنا ہےکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ڈھائی، ڈھائی سال کا معاہدہ ہے۔ن لیگ کے پارلیمانی رہنما کا یہ بھی کہناتھا کہ بلوچستان حکومت میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے اور ہم سب کا وزیراعلی سرفراز بگٹی پراعتماد ہے، وہ صوبے میں امن اور ترقی کےلئےکام کررہے ہیں، اور صوبے میں جلد مثالی امن قائم ہوجائےگا۔اسی طرح اس موقع پر رہنما پیپلز پارٹی و رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ دوستین ڈومکی کے بیانات کو سنجیدہ نہ لیا جائے،بلوچستان حکومت میں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے، سرفرازبگٹی کو صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کا اعتماد حاصل ہے اور مرکزی قیادت کے فیصلے کے بغیر بلوچستان میں تبدیلی نہیں آسکتی، وزیراعلیٰ کےخلاف بیانات دینے والے لوگ خود کو میڈیا میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔

  • امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر لورالائی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندو خیل ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ،آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، سابق گورنر بلوچستان گل محمد جوگیزئی، آئی جی پولیس، کمشنر لورالائی ڈویژن اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    جرگے کے دوران علاقے کی سلامتی، ہم آہنگی، قبائلی روابط اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقامی قبائل نے پاک فوج ،فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کی جانب سے امن کے قیام اور بحالی کے لیے کی گئی عملی کوششوں کو سراہا.گورنر بلوچستان نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے ریاستی اداروں کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

    وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور خطے میں پائیدار امن، سماجی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اور علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے ۔

    کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔

    جرگے کے اختتام پر تمام قبائلی عمائدین نے حکومت بلوچستان ,پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امن کے قیام بالخصوص دکی کول مائنز اور این 70 کی سیکیورٹی کو خوش ائند قرار دیا اور اس عزم کو دہرایا کہ وہ علاقائی امن، سماجی اتحاد اور ترقی کے سفر میں ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔