Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    کوئٹہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جرگے میں قبائلی عبائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ اور بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بلکہ یہ اب کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے دشمن کی ہر اندرو نی و بیرونی سازش کو ناکام بنائیں گے اور پاکستان آرمی ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، بلوچستان میں امن ناقابل سودے بازی ہے اور پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔

    بھارتی وفد عالمی سطح پر مزاق بن گیا

    انسانیت کیخلاف جرائم کا مقدمہ ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    پاکستان و افغان وزرائے خارجہ کا رابطہ ، اعتماد کے فروغ کیلئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

  • بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4 ارب 15 کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جو 2017 سے 2022 کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں درج ہے۔

    دستاویزات کے مطابق وظائف کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کی غیر شفاف ادائیگی کی گئی ہے جبکہ لیب ٹیسٹ کے بغیر ایک ارب 93 کروڑ روپے کی ادویات کی خریداری کی گئی۔ آڈٹ ٹیم کو 38 کروڑ 22 لاکھ روپے کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ ادویات کی خریداری میں 28 کروڑ 13 لاکھ روپے کے بے قاعدہ اخراجات سامنے آئے ہیں، جبکہ اینٹی ربیز ویکسین کی مہنگی خریداری سے ساڑھے 12 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    اسپتال فیس کی مد میں 5 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع نہیں کروائے گئے۔ بولان میڈیکل کمپلیکس کی پانچ سالہ خصوصی آڈٹ رپورٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کی گئی ہے، جسے مزید تحقیقات کے لیے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ

  • وزیراعظم کا بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں سے بلوچستان کا حصہ 250 ارب روپے ہوگا، اور ضروری ہے کہ یہ فنڈز مکمل شفافیت کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں شرکت کے موقع پر مشکور ہیں اور تمام شرکاء کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 6 اور 7 مئی کو بھارت کی جانب سے کیے گئے حملے کے دوران پاک فوج کی بہادری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث دشمن کو ایسی شکست دی گئی جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ وہ ان واقعات کے خود عینی شاہد ہیں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرأت مندانہ قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف جنگ جیتی بلکہ 1971 کے دکھ کا ازالہ بھی کیا۔ پاکستان نے جب ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کیا تو پانچ بھارتی دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کیے، اور یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کے ہاتھوں کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ میں مقامی رہنماؤں نے قائداعظم کی قیادت کو تسلیم کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنایا۔ اگر کسی کو شکوہ ہے تو اُسے بھائی چارے کے ماحول میں بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔دہشت گرد عناصر پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار ہیں اور ملک کی ترقی کے مخالف ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اگر کوئی خامی ہے تو وہ بلوچستان کے مشورے سے دُور کی جائے گی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب نے اپنے حصے سے بلوچستان کو حصہ دیا، جس کی بنیاد پر 2010 میں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق ہوا۔ نواز شریف کے دور میں بلوچستان میں نمایاں ترقی ہوئی اور اب نئے بجٹ میں 250 ارب روپے بلوچستان کے لیے رکھے گئے ہیں۔چند ماہ قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھا کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے کمی کی گئی، جو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے بنی، اور یہ رقم این-25 ہائی وے کی اپ گریڈیشن کے لیے مختص کی گئی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بدامنی اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت ایسی ہے کہ یہاں ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی حکومت بلوچستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاشی یا سماجی ناانصافی کا تصور بھی نہیں رکھتی۔جو لوگ راہ بھٹک چکے ہیں، انہیں سب کو مل کر واپس لانا ہوگا تاکہ ملک میں مکمل امن اور خوشحالی کا قیام ممکن ہو سکے۔

    کوئٹہ ، کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

  • کوئٹہ ،  کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

    کوئٹہ ، کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

    کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہنہ اوڑک کلی منگل میں مسلح افراد نے کوئلہ کان پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں قبائلی رہنما اپنے بھائی سمیت جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنہ اوڑک تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نوید اختر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے سے دو سگے بھائی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔حملہ آوروں نے کان میں موجود سامان کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ان کے مطابق حملے کا نشانہ قبائلی رہنما سردار عبدالسلام تھے، جو کوئلہ کان کے مالک اور معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ انہیں مبینہ طور پر ایک کالعدم گروہ کی جانب سے بھتے کی دھمکیاں دی گئی تھیں، جس پر انہوں نے متعلقہ پولیس تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔

    بھتہ نہ دینے کی صورت میں ان کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے۔ایس ایچ او نوید اختر کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد 100 سے زائد تھی اور وہ جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ قبائلی شخصیت کے پہنچنے پر دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جب کہ حملہ آوروں نے کوئلہ کان کے اردگرد بم بھی نصب کیے تھے، جن کے پھٹنے سے جانی نقصان ہوا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد

  • وزیراعظم آج کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    وزیراعظم آج کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    وزیراعظم آج کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے، جہاں وہ ایک اہم جرگے میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق جرگے میں اعلیٰ عسکری قیادت، وفاقی وزراء، گورنر بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزراء بھی شریک ہوں گے جرگے میں ارکان اسمبلی، قبائلی رہنما اور مختلف سیاسی جماعتوں کے عمائدین کو بھی مدعو کیا گیا ہے اجلاس میں بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال اور مجموعی سیاسی و سماجی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جرگے کے دوران صوبے کے عمائدین کو مختلف اہم امور پر اعتماد میں لیں گے اور جاری حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے، یہ دورہ بلوچستان میں قیامِ امن اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کا سعودی وزیر خارجہ کو رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

    لاڑکانہ: سیشن جج کے اسکواڈ پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار کی موت

    دبئی،بھکاریوں کیخلاف کاروائی،41 افراد گرفتار،46لاکھ نقدی برآمد

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے آج کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسٹوڈنٹ افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔اس موقع پر کوئٹہ پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر کوئٹہ اور کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج نے کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے آپریشن "بنیان مرصوص” کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت کے تحت پاکستانی عوام مادرِ وطن کے دفاع کے لیے فولادی دیوار بن گئے۔ انہوں نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "معرکۂ حق” میں کامیابی ہماری قومی عزم، اتحاد، اور قومی طاقت کے تمام عناصر کی ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا جائے گا۔

    انہوں نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کو غیرقانونی اور ناقابل قبول قرار دیا۔آرمی چیف نے پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھارتی ریاستی کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ قوم دہشتگردی کی تمام اقسام کے خلاف کامیابی حاصل کرے گی۔

    قیادت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے طلباء افسران کو اپنے فرائض جذبے، عزم اور دیانتداری سے ادا کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے تخلیقی سوچ اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کو مستقبل کے عسکری رہنما تیار کرنے پر سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تربیت موجودہ حالات کی عکاسی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے میدانِ جنگ کے لیے بھی ہمیں تیار کرے — جو چُستی، جدت اور ناقابل شکست عزم کا تقاضا کرتا ہے۔”

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    دفاع اور وفا کرنے والوں کی کردار کشی بدترین جرم ہے۔ ملی ادبی پنچائیت

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    لیہ: مریم نواز کا لیپ ٹاپ و اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، طلبہ کا پرتپاک استقبال

  • بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک درجنوں مسلح دہشتگردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب پر حملہ کر کے مختصر وقت کے لیے مختلف سرکاری اداروں اور شاہراہوں پر قبضہ کر لیا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا اور دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق 30 مئی کی صبح 100 کے قریب مسلح شدت پسندوں نے شہر کے اہم انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں لیویز چوکیاں، بینک، سرکاری دفاتر، قومی شاہراہ N-25، اور شہر کے داخلی و خارجی راستے شامل ہیں۔ حملہ آوروں نے شہر میں گشت اور اسنیپ چیکنگ بھی کی، لیویز و پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا، اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

    کالعدم بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس حوالے سے ویڈیوز اور تصاویر بی ایل اے سے منسلک ٹیلیگرام چینل "ساگر میڈیا” کے ذریعے جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر سوراب کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے علاقے کا کنٹرول بحال کر لیا ہے اور آپریشن کے دوران دو دہشتگرد مارے گئے۔ شہر میں اب حالات معمول پر آ رہے ہیں۔

    اس واقعے پر بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مبینہ طور پر پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جس کا مقصد ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دینا بتایا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقیاتی عمل کو روکنا ہے، تاہم ریاست دشمن عناصر کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    بلنک کیپیٹل مینجمنٹ کے سی ای او حسن مقصود مبینہ طور پر خودکشی کر کے جاں بحق

    وزیرِ اعظم کا کوئٹہ کا دورہ طے، قبائلی جرگے میں شرکت کریں گے

    لاہور میں دوسرا ٹی20؛ پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، تعلیمی ادارے جلانے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو پاکستان نے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بی ایل اے آزادی کے نام پر بلوچستان میں دہشت و خوف کی فضا قائم کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم عوام کے نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔ترجمان کے مطابق سوراب پر کنٹرول کا دعویٰ دراصل یرغمالی بنانے، سرکاری املاک کو آگ لگانے، اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کی یہ بوکھلاہٹ دراصل ان کی ناکامی کا اظہار ہے۔

    جب پاکستان حکومت بلوچستان میں اسکولز، سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے، تو بی ایل اے انہیں تباہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہ بغاوت نہیں بلکہ کھلی تخریب کاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی آزادی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی پراکسی ملیشیا ہے، جو فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہے۔ "فتنۃ الہند” کو نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں اور تاریخ میں بھی شکست دی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز دہشتگردی کے کھلے اعترافات پر مشتمل ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز پر قبضے، عوامی راستوں کی بندش اور شہریوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ادارے علاقے کا کنٹرول بحال کر رہے ہیں، اور بی ایل اے کے مسلح عناصر راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو فرار نہ ہونے دیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر صرف امن، ترقی اور قومی پرچم کا راج ہو گا۔ جہاں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، وہاں بی ایل اے کا جھوٹ دفن ہو گا۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،  فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے دو مختلف اضلاع، لورالائی اور کیچ میں کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 28 مئی کو بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ دو علیحدہ آپریشنز کیے گئے۔ ضلع لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ یہ دہشت گرد 26 اگست 2024 اور 18 فروری 2025 کو کیے گئے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 30 معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔ یہ تمام عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔دوسری کارروائی ضلع کیچ میں کی گئی، جہاں ایک اور دہشت گرد مارا گیا.

    فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ملک دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کو دہراتی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہماری سیکیورٹی فورسز شب و روز سرگرم ہیں۔

    کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کبھی دستبردار نہیں ہونگے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

  • بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان/تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) بلوچستان کے ضلع بولان میں قومی شاہراہ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی "سدا بہار” مسافر کوچ دوسا چوکی کے قریب بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے میں چار مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، خاص طور پر تنگوانی میں اس وقت کہرام مچ گیا جب معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مقامی نوجوان نظام الدین ولد غلام سرور بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کوچ صادق آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی، جس کے دوران ڈرائیور کی غفلت، تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث دوسا چوکی کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف انسانی لاشیں، زخمی مسافر اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، ایف سی اہلکار، لیویز فورس اور ہائی وے پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا جا سکتا ہے۔

    اس حادثے میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں امداد علی ولد غوث بخش (ٹھل سے کوئٹہ جانے والا)، نظام الدین ولد غلام سرور (کشمور کے علاقے تنگوانی کا رہائشی) شامل ہیں جبکہ دو دیگر جاں بحق افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ تنگوانی میں جب نظام الدین کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدین پر غشی کے دورے پڑے اور اہلِ محلہ سوگ میں ڈوب گئے۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے 28 مسافروں کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ صادق آباد سے خیر احمد، عبداللہ اور امتیاز زخمی ہوئے. ٹھل سے شیر احمد، گل میر، غلام مصطفی، گلزار، نیاز احمد، غفار، خادم حسین، انور، ابوبکر اور منیر شامل ہیں. کندھ کوٹ سے سلیمان، کشمور سے یاسر، سکھر سے نعمان، گمبٹ سے محمد عامر اور عنایت اللہ، رحیم یار خان سے روحیل، محمد عارف اور ماجد جبکہ علی آباد سے ثناء اللہ، سجاد علی، حبیب خان، گنج بخش، انور اور محمد اکرم زخمی ہوئے۔ ایک مسافر مینگل ولد عمر دین کا علاقہ درج نہیں ہو سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیویز فورس بالاناڑی اس حادثے کی تمام تفصیلات جمع کر رہی ہے اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی حکام نے ڈرائیور کی غفلت کو ابتدائی وجہ قرار دیا ہے، تاہم کوچ کی فٹنس، کمپنی کی نگرانی اور ممکنہ تکنیکی خرابی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد، زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری حلقوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسافر کوچز کی ناقص نگرانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری توجہ دیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر بین الصوبائی شاہراہوں پر جاری ٹریفک نظم و ضبط کی بدترین صورتحال، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ اور سڑکوں کی حالتِ زار کو عیاں کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات روز کا معمول بن جائیں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔