Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • لورالائی کے قریب مسافروں کے اغواء کی اطلاع، فورسز کا سرچ آپریشن جاری

    لورالائی کے قریب مسافروں کے اغواء کی اطلاع، فورسز کا سرچ آپریشن جاری

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع لورالائی کے قریب بعض مسافروں کے اغواء کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ قلات، مستونگ اور لورالائی میں دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” سے وابستہ عناصر نے حملے کیے، جن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔شاہد رند کے مطابق عوام کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لیے فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی پشت پناہی سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے ایک بار پھر انسانیت سوز کارروائی کرتے ہوئے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے دس بے گناہ پاکستانی شہریوں کو اغوا کر لیا ہے۔ یہ واردات لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیانی علاقے میں اُس وقت پیش آئی جب دہشت گردوں نے زبردستی سڑک پر غیرقانونی ناکہ لگا کر گاڑیوں کو روکا اور شناخت کی بنیاد پر مخصوص افراد کو زبردستی ساتھ لے گئے۔

    یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین نوعیت کی دہشت گردی ہے، بلکہ نسلی امتیاز پر مبنی نفرت، تعصب اور شدت پسندی کی بدترین شکل بھی ہے۔ اس نوعیت کی اغوا کاری محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی نسلی دشمنی کی عملی مثال ہے۔ بی ایل اے کے یہ اقدامات جبری گمشدگی، نسلی تعصب اور شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں — اور یہ تمام عوامل بین الاقوامی قوانین کے مطابق نسلی ظلم و ستم (Ethnic Persecution) کی واضح تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

    ریاستی اداروں، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کو اس سفاکیت پر یک زبان ہو کر مذمت کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے جرائم نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اذیت ناک ہیں بلکہ ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔

    استنبول: خاتون سیاح کو ہراساں کرنے پر آئس کریم فروش گرفتار، دکان سیل

    2 لاکھ سے زائد نقد لین دین پر 20.5 فیصد ٹیکس کی خبر بے بنیاد

    وزیراعظم سے علی بابا وفد کی ملاقات، پاکستانی مصنوعات کی عالمی مانگ کا اعتراف

    پی آئی اے کا بعد از حج آپریشن مکمل، 41 ہزار سے زائد حجاج وطن واپس پہنچے

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد گرفتار

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد گرفتار

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد حساس تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، اور ان سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں پولیس موبائل کو ہائی وے پر بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

    حالیہ کارروائی کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

    یزیدِ وقت اور غزہ کا کربلا ، امت کی خاموشی پر سوال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی سستی، نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا، پولیس شہداء پیکیج اور یونیفارم الاؤنس میں نمایاں اضافہ

    ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ سمیت بڑی جامعات پر دباؤ، غیر ملکی طلبہ کا ریکارڈ طلب

  • بلوچستان: سیکیورٹی، اسمگلنگ اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    بلوچستان: سیکیورٹی، اسمگلنگ اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کے 19ویں اجلاس میں سیکیورٹی، اسمگلنگ، غیر قانونی ترسیلات زر اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، اسمگلنگ، غیر قانونی مالی لین دین اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اپیکس کمیٹی نے اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اسمگلنگ میں ملوث ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ڈرائیورز کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوں گی۔کمیٹی نے ایف آئی اے کو غیر قانونی ترسیلات زر اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہدایت جاری کی۔

    سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے رولز کو جلد حتمی شکل دی جائے گی اور احتجاج کے نام پر کسی بھی اہم شاہراہ کو بند ہونے سے روکا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں بولان روٹ کی توسیع، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس اور کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس شامل ہیں۔ این ایچ اے کو ویسٹرن بائی پاس منصوبہ 25 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ پٹ فیڈر کینال کو ایف سی سیکیورٹی فراہم کرے گی۔

    وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کرپشن، بھتہ خوری اور غیر قانونی ترسیلات زر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی اور منشیات سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ریاست کے خلاف کسی کو سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اپیکس کمیٹی نے 78ویں یوم آزادی اور ”مارکۂ حق“ کو بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان بھی کیا۔

    کراچی میں بدترین ٹریفک جام، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

    اربوں روپے کے فراڈ کا نیٹ ورک بے نقاب، 149 ملکی و غیر ملکی افراد گرفتار

    افغان طالبان کا بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس فلیٹ سے برآمد، طبعی موت کا شبہ

    پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

  • ماہ رنگ بلوچ سمیت  دیگر رہنماؤں کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

    ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

    کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے منگل کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے دیگر عہدیداران کو مزید 10 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا-

    مارچ میں ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر ارکان کو ’سول ہسپتال کوئٹہ پر حملے‘ اور ’عوام کو تشدد پر اکسانے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، ان گرفتاریوں سے ایک دن قبل ان پر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے کریک ڈاؤن کیا تھا، بلوچ یکجہتی کمیٹی 2018 سے جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم ایک مزاحمتی و سماجی تنظیم ہے۔

    ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ کی ہُدا ڈسٹرکٹ جیل میں پبلک آرڈر برقرار رکھنے کے قانون (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت رکھا گیا ہے، یہ قانون حکام کو عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو بغیر مقدمہ گرفتار رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پی ٹی آئی سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم

    ایڈووکیٹ جبران ناصر  نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’3 ماہ اور 15 دن کی حراست کے بعد آج ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بی بو بلوچ، گلزادی، بیبرگ، صبغت اللہ اور عبدالغفار کو اے ٹی سی کوئٹہ میں پیش کیا گیا،ان تمام افراد کو 10 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جن دیگر منتظمین کو آج انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 10 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا ہے، ان میں صبغت
    اللہ شاہ، بیبرگ بلوچ، غفار بلوچ، گلزادی اور بیبو بلوچ شامل ہیں۔

    https://x.com/SammiBaluch/status/1942479536131834165

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن سمی دین بلوچ نے ایک بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کارکنوں کو بغیر ثبوت عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے،ایسے اقدامات نہ صرف ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس کے اپنے قانونی اور عدالتی نظام کو بھی غیر مؤثر اور بے معنی بنا دیتے ہیں-

    واضح رہے کہ ماہ رنگ کی بہن نادیہ بلوچ نے جون میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی بہن کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف دائر درخواست مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین، قانون اور حقائق کے منافی ہے۔

    ایف بی آر پاکستان کے مالیاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،محمد اورنگزیب

    درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ماہرنگ بلوچ کو بار بار غیر قانونی طور پر حراست میں لینا اور انہیں شدت پسندوں کی ہمدرد قرار دینا ریاستی اداروں کی ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند نہ کر سکیں۔

    اسی ماہ، کیچ کے علاقے میں بی وائی سی کے کارکنوں نے تنظیمی عہدیداران کی گرفتاریوں کے خلاف تربت پریس کلب کے سامنے 3 روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا، تاہم ان کارکنوں کی رہائی کے لیے دائر آئینی درخواستیں مئی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں۔

    اگرچہ بی وائی سی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے، مگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نیکٹا کی ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    لیاری سانحہ: چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلا جا سکتا،گورنر سندھ

  • بلوچستان میں بارش، آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق

    بلوچستان میں بارش، آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارش اور آسمانی بجلی کے قہر نے تباہی مچا دی، واشک، لورالائی اور موسیٰ خیل میں 2 نوجوانوں اور ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔

    ضلع موسیٰ خیل میں آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان عبدالحلیم اور جمال دین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ ضلع لورالائی میں تیز بارش کے باعث دیوار گرنے سے ننھی علیزہ جاں بحق ہو گئی۔ضلع واشک میں فلیش فلڈ کے باعث رہائشی مکانات، چار دیواریوں اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا سروے جاری ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔

    ضلع سوراب اور دیگر علاقوں میں طوفانی ہواؤں اور بارش سے گھروں اور سولر پینلز کو بھی شدید نقصان پہنچا، شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد اور صحبت پور میں طوفانی بارش کا خدشہ ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اور عوام کو بھی محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر راکٹ حملہ، کشیدگی میں اضافہ، تحقیقات جاری

    نیتن یاہو واشنگٹن روانہ، کل صدر ٹرمپ سے ملاقات

    یوم عاشور سیکیورٹی انتظامات، وزیراعظم کا وزیرداخلہ اور وزرائے اعلیٰ کو خراج تحسین

    یوم عاشورعقیدت و احترام سے منایا گیا، جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

    روہڑی جنکشن پر مشتعل افراد کی توڑ پھوڑ، ویڈیو وائرل، ریلوے حکام خاموش

  • سرفراز بگٹی کا سینٹرل پولیس آفس کا دورہ، معمولی کوتاہی پر سخت کارروائی کا اعلان

    سرفراز بگٹی کا سینٹرل پولیس آفس کا دورہ، معمولی کوتاہی پر سخت کارروائی کا اعلان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یوم عاشور کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کوئٹہ کے سینٹرل پولیس آفس کا اہم دورہ کیا، جہاں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان اور اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    دورے کے دوران وزیراعلیٰ اور دیگر حکام نے مانیٹرنگ روم کا معائنہ کیا اور جلوسوں کے روٹس، حساس مقامات اور داخلی راستوں کی سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔سرفراز بگٹی نے واضح ہدایت جاری کی کہ شرپسند عناصر کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے، سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ رہیں، اور معمولی سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تمام سیکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فرائض سرانجام دے رہے ہیں، حکومت، فورسز اور عوام ایک پیج پر ہیں، اور کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے حکم دیا کہ مجالس، جلوسوں اور عوامی مقامات پر فول پروف سیکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ یوم عاشور پُرامن ماحول میں مکمل ہو۔

    خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،مزید 5 افراد جاں بحق

    پنجاب کےسرکاری اسپتالوں میں موبائل فونز پر پابندی، خلاف ورزی پر برخاستگی کا حکم

    لیاری بلڈنگ حادثہ، 27 جاں بحق افراد میں 20 ہندو کمیونٹی سے تھے

    یمنی میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے بین گوریون ایئرپورٹ بند کر دیا

    آسٹریا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک

  • مستونگ میں دہشت گردوں کا لیویز لائن پر حملہ،جوابی کاروائی میں دہشتگرد ہلاک

    مستونگ میں دہشت گردوں کا لیویز لائن پر حملہ،جوابی کاروائی میں دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردوں نے لیویز لائنز پر ایک مسلح حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق اور سات افراد زخمی ہوگئے۔ حملے کے دوران مسلح افراد نے تحصیل آفس کے ریکارڈ اور متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔

    سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے فورسز پر فائرنگ کی اور زخمیوں کو لے کر موقع سے فرار ہوگئے، تاہم سیکورٹی فورسز نے آماچ پہاڑی سلسلے میں ان کا پیچھا کیا۔ وہاں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر منظم کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔ سکیورٹی ادارے نہ صرف حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے بینک، تحصیل آفس اور دیگر سرکاری دفاتر پر بھی حملے کیے، جنہیں فورسز نے بروقت ردعمل دے کر پسپا کیا۔شاہد رند نے کہا کہ ایف سی، سی ٹی ڈی اور لیویز فورسز نے علاقے میں محاصرہ کر کے دہشت گردوں کو ناکام بنا دیا اور سیکورٹی صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا ہے۔بلوچستان حکومت اور سکیورٹی ادارے اس واقعے کے پس پردہ عوامل کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئندہ بھی ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان میں گزشتہ 2 روز کے دوران مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور ڈیم میں ڈوبنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    بلوچستان میں مون سون کا آغاز 26 جون سے ہوا، صوبے کے متعدد اضلاع لسبیلہ، حب، بارکھان، ژوب، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں، ژوب میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ایک ہی خاندان کی 3 خواتین اور ایک لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے،ادھر زیارت کے علاقے زڑگئی میں ڈیم میں ڈوبنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی اور 2 خواتین کو بروقت ریسکیو کرلیا گیا، اسی طرح ہرنائی کے علاقے کھوسٹ میں سیلابی ریلے میں پھنسے 3 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا،پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے زرعی اراضی اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، خضدار میں 10 مکانات جب کہ زیارت میں ایک اسکول سمیت 2 عمارتیں گرگئیں، بارشوں سے کوئٹہ اور لسبیلہ میں 2 پلوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا،محکمہ موسمیات نے 4 جولائی سے مون سون کے ایک اور اسپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

  • کوئٹہ: سریاب روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    کوئٹہ: سریاب روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سریاب روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ کا خونخوار واقعہ پیش آیا ہے۔

    کوئٹہ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ مقتولین کی لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی وجوہات اور مقتولین کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    7 مئی کو پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی جہاز مار گرائے،بھارتی دفاعی اتاشی کا اعتراف

    کراچی، مختلف واقعات میں 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی

    فیلڈ مارشل سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کے عوام کا شکریہ

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ ایپ،کے الیکٹرک کو تاحال نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا

  • ژوب ،  پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    ژوب ، پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    سوات کے بعد بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پکنک منانے کے لیے آنے والی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئیں، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار خواتین جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے بتایا جا رہا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ ژوب کے تفریحی مقام سلیازہ ندی کے قریب پیش آیا، جہاں پکنک کی غرض سے آنے والی فیملی دو گاڑیوں، فیلڈر اور آلٹو میں سوار تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیاں برساتی نالے میں طغیانی کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلے میں پھنس گئیں۔ضلعی حکام نے بتایا کہ حادثہ کلی تکئی کے مقام پر پیش آیا، فیلڈر گاڑی میں سوار دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ آلٹو گاڑی میں سوار تین افراد میں سے صرف ایک خاتون کو مقامی افراد نے بروقت نکال کر سول ہسپتال ژوب منتقل کیا۔ تاہم، گاڑی میں موجود دو بچے سیلابی پانی میں بہہ گئے۔چار خواتین بھی جاں بحق ہو گئیں (دو کی شناخت ہو چکی، دو کی لاشوں کی تلاش جاری ہے،دو بچے (بہہ گئے، تلاش جاری ہے)

    ژوب کے نواحی علاقے سلیازہ اور کپیپ میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی افراد کو ریلے سے نکالا۔ایک خاتون کی لاش کو شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارشوں اور طغیانی کے دوران ندی نالوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔ خطرناک علاقوں میں سفر یا تفریح سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔