Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اغوا کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران 26 سے زائد افراد صوبے کے مختلف علاقوں سے اغوا کیے گئے ہیں، جن میں بعض افراد کی رہائی ابھی تک نہیں ہو سکی۔

    ان میں سے ایک اہم واقعہ 10 سالہ طالب علم مصور کاکڑ کا اغوا ہے، جس نے کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ مصور کاکڑ کا اغوا ایک سنگین نوعیت کا واقعہ بن چکا ہے جس کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور حقوق کے اداروں نے صوبائی حکومت اور پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ، بلوچستان حکومت اور پولیس اب تک شعبان سے اغوا کیے گئے ایک ہی خاندان کے 7 افراد سمیت متعدد مغویوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال نے بلوچستان کی عوام میں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بلوچستان میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور اس سلسلے میں موثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دے اور اغوا کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔دوسری جانب، بلوچستان میں اغوا کی وارداتوں میں اضافے کے باعث عوامی تحفظ کا سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے، جس کے لیے فورسز کی جانب سے مزید کارروائیاں کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

  • کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ:کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: کوئٹہ کے ضلع قلات کےجنوبی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکےمحسوس کیے گئے ، جس کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے،زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کی گہرائی 33 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز قلات سے 27 کلو میٹر دور جنوب میں تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے شہر سبی اور گردونوح میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے، جس کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی تھے،زلزلہ پیما مرکز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر اور مرکز سبی سے 22 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔

    آسٹریلیا سے شکست:بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا عرس ،بھارت نے 400 پاکستانی زائرین کے ویزے روک لیے

    سائبر ٹرک دھماکے سے پھٹنے کے بعد ٹیسلا کا بڑا قدم

  • دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے-

    باغی ٹی وی : سرفراز بگٹی نے اے ٹی ایف اسکول سے پاس آؤٹ ہونے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کرنی ہے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کو سہولیات فراہم کی جائیں گی، دہشت گردوں نے اسکولوں، کالجوں اور وکلاء کو نشانہ بنایا ہے، لیکن دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے غازیوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلنج کریں۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے، کیونکہ شہداء ہمارے دلوں میں بستے ہیں اے ٹی ایف پر تنقید آج تک نہیں سنی، اور میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں غیرت مند غازیوں سے خطاب کر رہا ہوں۔

    سال 2025 کا نیوزی لینڈ سے آغاز، شاندار آتش بازی

    وزیراعلی بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف خون بہانے والوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ بزدل دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، انہوں نے اسکولوں، جامعات، پارکوں اور ہسپتالوں پر حملوں کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ دشمنوں کی لا حاصل جنگ کو ختم کرنا ہے فورس کا حصہ بننے والے ایمان داری سے شہریوں اور اثاثوں کی حفاظت کریں پولیس کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائے گا، اور اے ٹی ایف اسکول کو تھرمل کیمروں اور عمارت کی مرمت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    کوٹ چھٹہ: سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

  • سرکاری   افسران اور ملازمین کا  ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف

    سرکاری افسران اور ملازمین کا ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف

    کوئٹہ :بلوچستان کے مختلف اضلاع میں محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین کا بیک وقت ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف ہوا ہے،جبکہ ڈائریکٹر ایجوکیشن نے متعلقہ ملازمین کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 42 افسران اور ملازمین محکمہ تعلیم کے ساتھ دیگر محکموں میں ملازمت کررہے ہیں، بیک وقت دہری ملازمت کرنے والوں میں کوئٹہ، تربت، بارکھان، ژوب، ڈیرہ بگٹی، شیرانی ، کچھی، لسبیلہ، مستونگ، پنجگور، واشک، لورالائی ، قلعہ عبداللہ، چمن اور پشین کے محکمہ تعلیم کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں مجاز اتھارٹی نے سیکرٹری خزانہ کو متعلقہ افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ تمام افسران اور ملازمین کی تنخواہیں روکی جائیں، جن کے نام فہرست میں شامل ہیں تمام افسران اور ملازمین کے خلاف بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    یوکرین کے روس پر ڈرونز حملے، تیل کے ڈپو کو آگ لگ گئی

    دہری ملازمت کرنے والوں سے متعلق ہدایت کی گئی ہے کہ دو ہفتے کے اندر افسران اور ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائےعلاوہ ازیں ڈائریکٹر ایجوکیشن نے تمام متعلقہ اضلاع کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے،سب سے زیادہ ضلع کوئٹہ کے افسران اور ملازمین دہری ملازمت کررہے ہیں-

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

  • تربت میں بم دھماکا، 2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

    تربت میں بم دھماکا، 2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

    بلوچستان کے علاقے ضلع تربت میں سڑک کنارے ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کارپس (ایف سی) کے 2 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابقاسسٹنٹ کمشنر دشت حمید کورائی نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ گوادر اور تربت کے درمیانی علاقہ دشت کھڈان زریں بک میں پیش آیا، جہاں عرب شیوخ شکار کھیلنے کے بعد واپس اپنے کیمپ جا رہے تھے۔اسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ حملے میں تمام عرب شیوخ محفوظ رہے، تاہم سیکیورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 4 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر تربت منتقل کردیا گیا۔مقامی انتظامیہ کے ایک اور حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان عربوں کا تعلق قطری شاہی خاندان سے ہے، مزید کہا کہ دھماکے کے بعد انہیں ’اضافی سیکیورٹی‘ فراہم کی گئی۔کسی بھی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ قطری شاہی خاندان کے کون لوگ شکار کھیل رہے، قطر میں شاہی خاندان کے ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ کیا قطریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔اس حملے کی کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔یاد رہے کہ خلیجی اشرافیہ میں سے شکار کے شوقین لوگ ہر موسم سرما میں بلوچستان کا سفر کرتے ہیں تاکہ نایاب تلور کا شکار کر سکیں۔جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس طویل عرصے سے پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ عرب ممالک کے امیر شہریوں کو تلور کے شکار کی اجازت دیتا ہے، جو ہر موسم سرما میں وسطی ایشیا سے ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں۔

    کندھ کوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید

    چیمپئنز ٹی20 کپ کا ٹائٹل اے بی ایل اسٹالینز کے نام

  • کوئٹہ: دھماکے سے گیس پائپ لائن تباہ، سپلائی معطل

    کوئٹہ: دھماکے سے گیس پائپ لائن تباہ، سپلائی معطل

    کوئٹہ(باغی ٹی وی رپورٹ) گیس پائپ لائن دھماکے سے متاثر، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس سپلائی معطل

    کوئٹہ کے نواحی علاقے مغربی بائی پاس پر دھماکا خیز مواد کے ذریعے گیس پائپ لائن کو اڑانے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ بروری تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں پل کے نیچے سے گزرنے والی 18 انچ قطر کی مین گیس پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے بعد آگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔

    ایس ایچ او بروری محمود خروٹی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعہ تخریب کاری کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بالائی بلوچستان کے مختلف علاقے بشمول کچلاک، زیارت، بوستان اور پشین جبکہ کوئٹہ شہر کے علاقوں جناح ٹاؤن، نواکلی اور ہزار گنجی گیس کی فراہمی سے محروم ہوگئے ہیں۔

    گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور صارفین کو پیش آنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔

  • شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت میں دوسرے بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ 23 دسمبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فارغ التحصیل ہونے والی 64 لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت اور محنت کا شاندار مظاہرہ کیا۔

    پریڈ کی تقریب کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر 12 کور، لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان تھے، جنہوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور فلاح میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایسی تربیتی ادارے ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر مالک بلوچ، ممبر بلوچستان اسمبلی، آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور علاقے کے معززین کے علاوہ کیڈٹس کے والدین کی بڑی تعداد بھی اس تقریب میں شریک ہوئی۔

    پاسنگ آؤٹ پریڈ میں لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ کیڈٹس نے مارچ پاسٹ اور مارشل آرٹس کے مختلف فنون کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی محنت، عزم اور انضباط نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔پاس آؤٹ ہونے والی کیڈٹس میں سے 90 فیصد کا تعلق بلوچستان کے مختلف ڈویژنز جیسے مکران، قلات، رخشان، سبی، ژوب، لورالائی اور نصیرآباد سے ہے۔ یہ بات اس بات کا غماز ہے کہ شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج نہ صرف تربت بلکہ پورے بلوچستان کی بچیوں کی تربیت اور فلاح کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والی کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اوور آل بیسٹ کیڈٹ کا اعزاز آمنہ عثمان کو دیا گیا، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے کالج کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انعامات کی تقسیم کے دوران تمام کیڈٹس کی محنت کو سراہا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت، بلوچستان کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج ہے جس کا قیام 2021 میں عمل میں آیا۔ کالج میں 400 لیڈی کیڈٹس کی تربیت کی گنجائش ہے اور اب تک دو بیچز میں 131 لیڈی کیڈٹس کامیابی کے ساتھ فارغ التحصیل ہو چکی ہیں۔ یہ کالج نہ صرف بچیوں کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کر رہا ہے بلکہ بلوچستان میں خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت خواتین کی تعلیم اور تربیت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف لڑکیوں کو تعلیمی لحاظ سے مضبوط کرتا ہے بلکہ ان میں قائدانہ صلاحیتوں اور جسمانی قوت کو بھی بڑھاتا ہے، تاکہ وہ معاشرتی سطح پر مضبوط اور خودمختار خواتین کے طور پر اُبھر سکیں۔شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج کی کامیاب پاسنگ آؤٹ پریڈ ایک اور کامیاب قدم ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیم اور ان کی ترقی کے لئے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

  • گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی.گوادر سے تعلق رکھنے والی زینب سید بخش نے عالمی سطح پر تاریخ رقم کی.

    ریکوڈک مائننگ کمپنی کے انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) 2024 میں زینب کی شمولیت قابل فخر ہے.زینب سعید بخش سول انجینئر ہیں اور اپنے خاندان کی پہلی خاتون ہیں جو اس عالمی معیار کے پروگرام کا حصہ بنی.زینب سید بخش کی کامیابی نے گوادر کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا اور اپنے علاقے اور خاندان کے لیے قابل فخر مثال قائم کی.”انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) ایک غیر معمولی موقع ہے جو علم اور مہارت میں اضافہ کرے گا.

    زینب سعید بخش کا کہنا ہے کہ ریکوڈک پروگرام میں شمولیت سے نہ صرف اپنا خواب پورا کیا بلکہ نئی تاریخ رقم کی.ایسے عالمی مواقع مقامی خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا بہترین ذریعہ ہیں.یہ پروگرام میرے کریئر اور مقامی خواتین کے خواب پورے کرنے کا ذریعہ بنے گا.محنت اور لگن سے دنیا کے کسی بھی کونے میں کامیابی ممکن ہے،

    زینب نے اپنی کامیابی کو خواتین کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا،زینب سید بخش کی کامیابی خواتین کی ترقی کے لیے مشعل راہ بن گئی،زینب سید بخش کی محنت اور عزم نے ان کی کامیابی کو پورے پاکستان کے لیے تاریخی بنا دیا

  • نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باقاعدہ طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس کا افتتاحی کمرشل پرواز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی طرف سے چلائی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے پی آئی اے کی انتظامیہ اور ائیرپورٹس اتھارٹی کے درمیان ایک پانچ گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ائیرپورٹ کی آپریشنلائزیشن سے متعلق تمام تکنیکی اور انتظامی معاملات کو طے کر لیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی آئی اے آئندہ چند دنوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اپنے عملے کو تعینات کرے گا اور ائیرپورٹ پر چیک ان کے لیے کمپیوٹرز سمیت دیگر اہم سامان بھی نصب کرے گا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک سال تک قومی ائیرلائن پی آئی اے سے کوئی ائیرپورٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ائیرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ائیرلائن کو ائیرپورٹ چارجز کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور انہیں اس حوالے سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

    گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کے قریب چین کی 246 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر کا یہ جدید ائیرپورٹ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک (CPEC) کے تحت چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی فعالیت سے نہ صرف بلوچستان میں سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے بھی یہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی جانب سے اس ائیرپورٹ کو فعال کرنے کا فیصلہ، اور پی آئی اے کی طرف سے اس میں اہم کردار، پاکستان کے اسٹریٹجک تجارتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں کئی افراد زخمی ہوگئے، جبکہ نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔

    پنجگور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبدالغفور بلوچ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑادی ہے اور پولیس حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عبدالغفور بلوچ کی موت کے بعد نیشنل پارٹی اور ان کے حامیوں نے مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جائے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی۔ اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    خاران کے علاقے میں بھی ایک اور حملہ ہوا، جہاں ملزمان نے زیر تعمیر عمارت کے قریب دو دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے بموں کے پھٹنے سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام کا محاصرہ کر لیا اور مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں پیش آنے والے ان واقعات نے بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کو مزید اجاگر کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان حملوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرے تاکہ علاقے میں امن و سکون بحال ہو سکے۔ مقامی عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور عوام کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کرے۔