Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • دہشت گرد حملے سے متاثرہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں سے 3 دستی بم برآمد

    دہشت گرد حملے سے متاثرہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں سے 3 دستی بم برآمد

    کوئٹہ: ریلوے پولیس نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں سے تین دستی بم برآمد کیے گئے ہیں۔ یہ بم کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن کے قریب لوکوشیڈ پر کھڑی ٹرین کی بوگیوں سے برآمد ہوئے۔ دھماکا خیز مواد کو فوراً ناکارہ بنا دیا گیا تاکہ کسی قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    جعفر ایکسپریس، جو دہشت گردوں کے حملے کا شکار ہوئی تھی، کی پانچ بوگیاں متاثر ہو گئی تھیں۔ حکام کے مطابق، ٹرین کی تمام متاثرہ بوگیاں گزشتہ رات کوئٹہ ریلوے اسٹیشن لائی گئی تھیں، جنہیں کچھی کے علاقے مشکاف سے منتقل کیا گیا تھا۔ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں کی مرمت کا کام جاری ہے، اور جلد ہی ان کو دوبارہ آپریشنل بنا دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے کے دوران ریلوے اسٹیشن یا اس کے ارد گرد کسی قسم کے بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس نوعیت کے حملے نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    دہشت گردوں کا یہ حملہ ایک اہم واقعہ ہے جس پر حکام نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور ریلوے انتظامیہ کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے حملوں سے بچا جا سکے۔

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان کا نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کااعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کا نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کااعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے بیرون ملک نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے وہ بیروزگار نوجوان جو مایوسی اور بے یقینی کا شکار تھے صوبائی حکومت نے ان کے لیے باعزت روزگار کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوانوں کو ریاست کے قریب لائیں گے اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان سے نوجوانوں کا پہلا گروپ بیرون ملک روزگار کے لیے روانہ ہو رہا ہے جو نہ صرف اپنے مستقبل کو سنواریں گے بلکہ پاکستان اور بلوچستان کے سفیر کے طور پر کام کریں گے اور اپنے گھرانوں کی کفالت اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ زر مبادلہ بھیجوانے کا ذریعہ بنیں گے۔

    انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ بیرون ملک جا کر محنت دیانت اور لگن سے کام کریں اور کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے پاکستان کی بدنامی ہو، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ہمارا صوبہ دیگر علاقوں سے مختلف معروضی حالات رکھتا ہے، یہاں اگر کوئی نوجوان بیروزگار ہوتا ہے تو وہ ریاست مخالف عناصر کے ہتھے چڑھ سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ میرٹ اور گڈ گورننس کے ذریعے نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جائے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر محکمہ لیبر اینڈ مین پاور اور بی ٹیوٹا کے حکام کو ہدایت کی کہ رواں سال جون تک تمام باقی ماندہ ٹرینڈ نوجوانوں کو بھی اس پروگرام کے تحت بیرون ملک بھجوانے کے عمل کو مکمل کیا جائے۔

    میر سرفراز بگٹی نے اس پروگرام کی کامیابی پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اظہارِ مسرت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک روشن مستقبل فراہم کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے اپنی جگہ بنائیں اور بلوچستان و پاکستان کا نام روشن کریں اور جس مقصد کے لئے انہیں بھجوایا جارہا ہے پوری تندہی سے روزگار پر توجہ دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کے ٹیکسز کے وسائل سے ان کو تربیت دی ہے اور بیرون ملک روزگار کا موقع فراہم کیا ہے اس لئے اگر کوئی بھی نوجوان محنت و لگن کے بجائے مقررہ مدت سے پہلے واپس آئے گا تو اس سے وہ اخراجات وصول کئے جائیں گے جو اس پر خرچ ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام پر عمل درآمد کے لئے مشیر برائے محنت و افرادی قوت سردار غلام رسول عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری لیبر اور ڈائریکٹر جنرل بی ٹویٹا طارق جاوید مینگل اور دیگر حکام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نے 5 سالوں کے دوران 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بناکر بیرون ملک روزگار کے لئے کا جو ہدف مقرر کیا ہے اس کو مکمل کرنے کے لیے محنت سے کام کرنا ہوگا۔

    وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے آسان طریقے

    سونا مہنگا ،قیمتیں پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • نوشکی میں فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ،3 دہشتگرد ہلاک، 5 افراد شہید

    نوشکی میں فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ،3 دہشتگرد ہلاک، 5 افراد شہید

    نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ 5 افراد شہید ہوئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا جس میں 5 افراد شہید ہوگئے ،شہداء میں 3 سیکیورٹی اہلکار اور 2 معصوم شہری شامل ہیں ۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے جوانوں میں حوالدار منظور علی، حوالدار علی بلاول، اور نائیک عبدالرحیم شامل ہیں جبکہ شہید شہریوں میں ڈرائیور جلال الدین اور محمد نعیم شامل ہیں ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے جوابی آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے امن کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیں گے، پاکستانی قوم اور فورسز مل کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو خراج عقیدت
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہوئے خود کش بم دھماکے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے حملے میں شہید ہونے والے حوالدر منظور علی، حوالدار علی بلاول، نائیک عبد الرحیم ، ڈرائیور جلال الدین اور ڈرائیور محمد نعیم کی بلندی ء درجات کی دعاء کی اور شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔

    وزیر اعظم نے حملہ آوروں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کامیاب کاروائی میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔

    پشاور میں کھلونا بندوق اور فائر کریکر پر دفعہ 144 نافذ

    مصطفی کمال کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کراچی کا دورہ

    مولانا عبدالحق جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی امیر مقرر

  • کوئٹہ میں تین دھماکے، ایک اہلکار شہید اور 6 زخمی

    کوئٹہ میں تین دھماکے، ایک اہلکار شہید اور 6 زخمی

    کوئٹہ میں مختلف مقامات پر یکے بعد دیگرے 3 دھماکے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک دھماکا شالکوٹ تھانے کے علاقے کرانی روڈ پر اے ٹی ایف کی گاڑی کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں 7 اہلکار زخمی ہوئے، تاہم بعد میں ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، زخمی ہونے والے دیگر اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔دوسرا دھماکا کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے ایک موبائل کی دکان پر دستی بم سے حملہ کیا، تاہم اس میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    اس کے بعد تیسرا دھماکا ایئرپورٹ روڈ کے علاقے کلی شابو میں ہوا ہے، پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور نقصان کا تعین کیا جارہا ہے۔پولیس کے مطابق امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور تحقیقات میں مصروف ہیں۔واضح رہے کہ آج پشاور کی مسجد میں دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں معروف عالم دین مولانا منیر شاکر جاں بحق ہوگئے ہیں۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کرانی روڈ دھماکے کی شدید مذمت کی، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس اے ٹی ایف شہید اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور سوگوار خاندان سے افسوس و یکجہتی کا اظہار کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، شہید اہلکار کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، کوئٹہ،امن و امان کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں، بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، دشمن کے عزائم ناکام بنائیں گے۔

    ملتان میں 11 سالہ بچے سے بدفعلی کے ملزم کو عمر قید کی سزا

    نیشنل ٹی 20 کپ : پشاور نے لاہور وائٹس کو8 وکٹوں سے ہرادیا

  • جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    کوئٹہ:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو رمضان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا ذرا بھی خیال نہیں آیا، ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آیا –

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین دن پہلے بولان میں دہشتگردوں نے ایک ٹرین جس میں 400 سے زائد پاکستانی سفر کر رہے تھے انہیں یرغمال بنایا اور متعدد کو شہید کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو رمضان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا ذرا بھی خیال نہیں آیا، ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تار یخ میں کبھی پیش نہیں آیا اور اس ویرانے میں بے یار و مددگار مسافر بیٹھے ہوئے تھے جو عید منانے کے لیے پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کی طرف جا رہے تھے، ان میں فوجی جوان بھی شامل تھےسیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو رہا کردیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔

    امدای سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    وزیراعظم نے کہا کہ آج تو ہم نے ان بے رحم درندوں سے معصوم پاکستانیوں کی جان چھڑالی مگر خدا نخواستہ پاکستان ہم سب کسی ایسے دوسرے حادثے کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس کے لیے ہمیں سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہے، بلوچستان کی حکومت، اکابرین، عوام، وفاقی حکومت اور سب کو مل کر اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی جب تک دیگر صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہوگی تب تک پاکستان کی ترقی اور خوش حالی نہیں ہوگی، اسی طرح جب تک صوبہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی، پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    انہوں نےکہا کہ 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا، 80 ہزار پاکستانیوں کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنا پڑا اور 30 ارب ڈالر کی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا، اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے، فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں سے یہ امن قائم ہوا تھا۔

    دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دوبارہ اس دہشت گردی کے ناسور نے سر کیوں اٹھایا، اس کا سر جو کچلا جاسکتا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جو طالبان سے اپنے دل کا رشتہ جوڑ نے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انہوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا یہاں تک کہ ایسے گھناؤنے کردار جو بالکل کالا چہرہ ہے ان کو بھی چھوڑا گیا، اس وقت فوج کے جوان اور افسر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دن رات قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ افسر اور جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں۔

    مریم نواز کا گردےعطیہ کرنیوالے تمام افراد کو خراج تحسین

  • وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس

    کوئٹہ(باغی ٹی وی) وزیراعظم میاں شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں وہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    وزیراعظم کی کوئٹہ آمد پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، عطاء تارڑ اور خالد مگسی بھی موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، جعفر ایکسپریس حملے، اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ پہنچیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سیاسی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کے علاوہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کریں گے۔

    واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ اس افسوسناک واقعے میں 21 مسافر اور 4 جوان شہید ہوئے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق دہشت گردوں نے ٹرین کو بولان کے علاقے اوسی پور میں دھماکے سے نشانہ بنایا اور یرغمال بنائے گئے مسافروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

    بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر وزیراعظم کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سیکیورٹی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس پر دہشتگردانہ حملے میں بازیاب ہونے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایف سی کے جوانوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بازیاب مسافر نے کہا کہ پنیر ریلوے سٹیشن سے ہم مال گاڑی کے ذریعے مشک آئیں ہیں، ایف سی کے جوانوں نے ہماری بہت خدمت کی ہے ہمارا روزہ بھی کھلوایا ہے، مشک میں ہمیں کھانا بھی دیا گیا اور یہاں بھی ہماری بڑی خدمت کی گئی ہے۔ایک بازیاب مسافر نے کہا کہ ” جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد ہمیں پاک آرمی اور ایف سی نے یہاں سبی پہنچایا گیا ہے جہاں سے ہمیں پنجاب روانہ کیا جائے گا“۔

    بازیاب مسافر نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں اچانک دھماکا ہوا اور اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں، ایف سی نے ہمیں فوری ریسکیو کیا، آٹھ نمبر ٹنل کے قریب کچھ دہشتگردوں نے حملہ کیا، بم دھماکا بھی کیا جس سے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا، ایف سی کے جوانوں نے بہت اچھا ردعمل دیا اور دہشتگردوں کی قید سے ڈیڑھ دو سو مسافروں کو رہا کرا لیا ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    وزیراعظم کا کل کوئٹہ کے دورے کا امکان

    سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کےٹیم ڈائریکٹر مقرر

    شرجیل میمن سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے اور 500 مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 16 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فورسز نے 104 مسافروں کو رہا کروالیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کردی، جس نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، ساتھ ہی متعدد مسافر بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔عینی شاہدین اور لیویز ذرائع کے مطابق مچھ کی پہاڑیوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا ہے، جہاں جعفر ایکسپریس کو روک دیا گیا بعدازاں فائرنگ کی آوازیں کافی دیر تک آتی رہیں۔

    80 مسافر بازیاب

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران 80 یرغمال مسافروں کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے رہا کروا لیا، جن میں 43 مرد، 26 عورتیں اور 11 بچے شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی مسافروں کی با حفاظت رہائی کے لئے سیکیورٹی فورسز کوشاں ہیں، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

    13 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس حملہ می ملوث 13 دہشت گردوں کو کلیئرنس آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے باعث دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زخمی مسافروں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریل وہیں روک دی گئی ہے، ٹرین میں کم از کم 500 مسافر سوار ہیں، کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    ڈی ایس ریلوے کے پی آر او کے مطابق تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، سبی سے ایمبولینسز جائے وقوع روانہ کردی ہیں۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق یہ مچھ کی پہاڑیوں کا درمیانی علاقہ ہے جس کا سیکیورٹی فورسز نے محاصرہ کرلیا ہے، مزید کانوائے روانہ کردیے گیے ہیں۔ملزمان کے فرار ہونے کی فی الحال کوئی اطلاعات نہیں ہیں بلکہ اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ ملزمان نے مسافروں کو یرغمال بنالیا ہے اور قابض ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    دھماکے سے پٹڑی تباہ کرکے ٹرین روکی گئی

    ذرائع کے مطابق ریلوے لائن کو پہلے دھماکا خیز مواد سے تباہ کرکے ٹرین کو روکا گیا پھر فائرنگ کی گئی جس میں ڈرائیور سمیت کئی مسافر جاں بحق ہوئے۔ریلوے حکام کا کہنا ہےکہ ٹرین جہاں پر موجود ہے وہاں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اس لیے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے، جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل ہے جس میں 500 کے قریب مسافر سوار ہیں، مسافروں اور عملے سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنایا

    دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آج بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں، دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔دہشت گردوں کا معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کے ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کا 90 فیصد سے زائد علاقہ ہے، جہاں لیویز فورس تعینات ہے۔ فورس کی صرف 40 فیصد نفری حاضر رہتی ہے، جبکہ باقی سرداروں کی ذاتی ملازمت میں ہے۔ پولیس فورس کا دائرہ کار بھی صرف 10 فیصد علاقوں تک محدود ہے۔لیویز فورس کے 83,000 اہلکاروں کو 92 ارب روپے کا خطیر بجٹ دیا جاتا ہے لیکن ان کی کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش رہی ہے۔ فورس کی تربیت اور استعداد میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جو سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کی بڑی وجہ ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بولان ایک انتہائی دشوار گزار اور دور دراز علاقہ ہے، جہاں سڑکوں کا مناسب نظام موجود نہیں، اس وقت سیکیورٹی فورسز علاقے میں کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

    انفارمیشن ڈیسک قائم

    جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد مسافروں کی معلومات کیلیے ہیلپ ڈیسک قائم کردیا ہے جبکہ پشاور اور کوئٹہ سے جانے والی ٹرینوں کو سبی کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔حملے کے ماسٹر مائنڈ افغانستان سے رابطے میں ہیں.سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں جنہوں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائے جانے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ آپریشن انتہائی اختیاط سے کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں گی۔

    ’حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے‘

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت اس واقعے پر کھل کر جشن منارہے ہیں اور بھارتی میڈیا بھرپور انداز میں اس حملے کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔بھارتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بی ایل اے کے پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ اس بزدلانہ حملے کے پیچھے بھارت کی مکمل پشت پناہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گرد اس وقت بھی اپنے بھارتی اور دیگر غیر ملکی آقاؤں سے رابطے میں ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے بعد انڈین اور ملک دشمن سوشل میڈیا غیر معمولی طور پر متحرک ہے اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلاجارہا ہے۔پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلانے میں پرانی ویڈیوز، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک واٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق مذموم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے لوگوں میں ہیجان پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردوں سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی پاکستان مخالف زہر اگلنے میں ہندوستانی میڈیا کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی میڈیا پاکستان سے باہر بیٹھے خود ساختہ بھگوڑے بلوچ رہنماؤں کے تجزیے دیکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، عوام سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا کی بجائے مستند ذرائع سے دی جانے والی معلومات پر اکتفا کریں۔

    صدر مملکت اوروزیراعظم کی حملے کی شدید مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملے غیر انسانی اور مذموم عمل ہے، بلوچ قوم ایسے عناصر اور حملوں کو مسترد کرتی ہے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ڈھاڈر، بولان پاس میں جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کاروائی میں سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہادری و پیشہ ورانہ مہارت سے انکا سدباب کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دشوار گزار راستوں کے باوجود آپریشن میں شامل سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں، سیکورٹی فورسز بروقت کاروائی اور بہادری سے بزدل دہشت گردوں کو پسپائی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہت جلد اس آپریشن میں کامیاب ہونگے اور بزدل دھشتگردوں کو انکے انجام تک پہنچائیں گے، بزدلانہ حملہ کرنے والے حیوان صفت دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور یہ بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا رمضان المبارک کے پر امن اور بابرکت مہینے میں معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی واضح عکاسی ہے کہ ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، پاکستان میں بد امنی و انتشار پھیلانے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردی کی اس جنگ میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    پنجاب: اسکول ایجوکیشن کیلئے“سی ایم ایجوکیشن کارڈ“ متعارف کرانے کا فیصلہ

    میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد ایک اور بڑا اسکینڈل

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں محکمہ زکوٰۃ کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ زکوٰۃ سالانہ 30 کروڑ روپے مستحقین میں تقسیم کرتا ہے، لیکن اس پر خرچ ہونے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ سرفراز بگٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ زکوٰۃ پر 1 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں تاکہ صرف 30 کروڑ روپے مستحقین تک پہنچ سکیں۔

    وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ محکمہ زکوٰۃ کے پاس اس رقم کی تقسیم کے لیے 80 گاڑیاں موجود ہیں، مگر پچھلے 2 سالوں سے مستحقین میں زکوٰۃ کی رقم تقسیم نہیں کی گئی۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مؤثر نہیں ہے اور عوامی پیسے کا ضیاع ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ 30 کروڑ روپے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کرائے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ غریبوں تک زکوٰۃ کی رقم براہ راست پہنچ سکے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اس فیصلے کے بعد صوبے میں محکمہ زکوٰۃ کے کردار اور مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی فلاح کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔

  • کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ: ہزار گنجی کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گیس لیکج کے باعث دھماکے میں ماں اور بیٹی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ایک بچہ زخمی ہوگیا۔

    ہزار گنجی کے علاقے کلی خزاں میں رہائشی ہمایوں خان کے گھر میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکا ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی گھروں میں بھی اس کی آواز سنائی دی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہمایوں خان کی اہلیہ اور 10 سالہ بیٹی بی بی زویا موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ ان کا بیٹا رئیس خان زخمی ہوگیا۔ زخمی بچے کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر میں رات کے وقت گیس لیک ہونے کے باعث کمرے میں گیس بھر گئی، اور جیسے ہی صبح چولہا جلایا گیا تو دھماکا ہوگیا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں گھر کا کچھ حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سردیوں میں گیس لیکج کے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور رات کے وقت گیس ہیٹر یا چولہے بند کرنا نہ بھولیں۔