Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان دہشت گردوں کی ملوثیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی میں شدت آئی ہے۔ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کی مکمل حمایت، سہولت کاری اور سرپرستی حاصل کر رہی ہیں۔

    5 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے ٹوبہ کاکڑی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران 4 اہم دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوفیں، دستی بم اور دیگر آتشیں اسلحہ برآمد ہوا۔ گرفتار دہشت گردوں نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔ ایک دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ "میرا نام اسام الدین ہے، والد کا نام گلشاد ہے، اور میں افغانستان سے آیا ہوں۔ ہمارا نظریہ ہماری ٹریننگ ہے۔ میرے پاس دو بندوقیں، دو کلاشنکوف، ایک گرنیڈ، اور دیگر اسلحہ تھا۔ ہم افغانستان سے 3 دن پہلے پاکستان میں داخل ہوئے اور سرحدی باڑ کے ذریعے رات میں پاکستان میں گھسے تھے۔ ہمارا مقصد پشین جانا تھا۔”

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی میں مقامی لوگوں کا اہم کردار تھا، جنہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔ گرفتار دہشت گردوں کو مزید تفتیش کے لیے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی افغان دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک یا گرفتار ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں میں افغان صوبے باغدیس کے گورنر کا بیٹا خارجی بدرالدین بھی شامل تھا، جو 28 فروری 2025 کو ہلاک ہوا۔ اسی طرح، 28 فروری 2025 کو ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد مجیب الرحمان، جو افغانستان کی حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی میں کمانڈر تھا، بھی اس کارروائی کا شکار ہوا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنا ایک خوش آئند امر ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کی بنیادی وجہ افغانستان کی سرزمین پر پنپنے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ افغانستان دہشت گردوں کا آماجگاہ بن چکا ہے، اور اس پر بین الاقوامی سطح پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونے والے زیادہ تر افغان شہری یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ پاکستان کے بار بار شواہد دینے کے باوجود افغان عبوری حکومت کی خاموشی دراصل دہشت گردوں کی حمایت ہے۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن اور مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس آپریشن نے نہ صرف دہشت گردوں کی دراندازی کو روکنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،پشین میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،پشین میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام

    پشین: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے توبہ کاکڑی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا۔ کارروائی کے دوران چار خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    لیویز حکام کے مطابق، گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ برآمد شدہ اسلحے میں راکٹ لانچر، اینٹی ٹینک مائنز، خودکش جیکٹس میں استعمال ہونے والے آلات، مختلف اقسام کا بارود اور دیگر بارودی مواد شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو مزید تفتیش کے لیے ایک خفیہ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، گرفتار دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث رہے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایک ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا بلکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کی کوششوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن پر عوامی حلقوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی بھرپور تعریف کی جارہی ہے۔

    دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی شروع کردیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جاسکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے عزائم کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

  • خضدار میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک، سات زخمی

    خضدار میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک، سات زخمی

    خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال کے بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔ دھماکا نال بازار میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک گاڑی اور متعدد موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔

    ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کا ہدف صمد سمالانی نامی شخص تھا، تاہم وہ دھماکے میں محفوظ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے کی نوعیت اور اس کے پیچھے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ سات افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے خضدار کے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال بھیج دیا گیا۔واقعے کے فوراً بعد لیویز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ بم دھماکے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور مقامی دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فورسز کو دینے پر زور دیا ہے۔

  • قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    بلوچستان کے ضلع قلات میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث لڑکی کی شناخت گنجاتون عرف بارمش کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ گوادر کے رہائشی میران بخش کی بیٹی تھی اور چھ بھائیوں اور تین بہنوں کے ساتھ ایک بڑے اور معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا والد مزدور تھا، لیکن نشے کا عادی ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دینا چھوڑ دی، جس کی وجہ سے خاندان شدید غربت کا شکار ہو گیا۔

    گنجاتون کی کہانی شہری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ سے مختلف نہیں ہے۔مشکل حالات کے باوجود، گنجاتون نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد اس نے گوادر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ملاقات کامران ولد حسن سے ہوئی، جو کہ تعلیم کے شعبے کا طالب علم تھا اور مبینہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے بھی وابستہ تھا۔یونیورسٹی میں دونوں کے درمیان دوستی بڑھی، اور وہ اکثر کلاسز سے غیر حاضر رہنے لگے۔ نتیجتاً، گنجاتون نے پہلے ہی سمسٹر میں تعلیمی مسائل کا سامنا کیا اور آخرکار یونیورسٹی چھوڑ دی، جبکہ کامران نے بھی تیسرے سمسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

    کامران نے گنجاتون کی کئی ذاتی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور بعد میں اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں، گنجاتون کو مجبور کیا گیا کہ وہ بلوچ یکجہتی کونسل (BYC) کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو۔ وہ جلد ہی بلوچ یکجہتی تحریک کا حصہ بن گئی اور مبینہ طور پر اس کے نظریاتی اثر میں آ گئی۔ذرائع کے مطابق، کامران کی بلیک میلنگ کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بعد میں اس نے گنجاتون کو BLA کے ایک کمانڈر کے حوالے کر دیا، جس نے مبینہ طور پر اس کا جنسی استحصال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کامران کو اس "سہولت کاری” کے عوض 1 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔بار بار بلیک میلنگ اور استحصال کے باعث گنجاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اس ذہنی کیفیت میں، اسے شدت پسند تنظیم کی طرف سے خودکش حملہ آور بننے کی ترغیب دی گئی۔ مبینہ طور پر، اسے یقین دلایا گیا کہ یہ راستہ اس کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک "قومی مقصد” کے لیے قربان کر کے عزت حاصل کر سکتی ہے۔

    آخرکار، گنجاتون نے شدت پسند تنظیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے قلات میں خودکش حملہ کیا، جس میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، شدت پسندی اور نوجوانوں کے استحصال کے ایک اور تاریک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

    قلات خود کُش بمبار کا نام گنجاتون ولد میراں بخش ہے۔ گوادر کی رہنے والی ہے۔ باپ نشے کا عادی، فیملی بڑی اور ایک قومیت پسند لڑکے سے "دوستی”۔ پھر وہی سٹوری: نا زیبا ویڈیوز، جنسی بلیک میل، بلوچ یکجہتی کے راجی مچی میں ذہن سازی اور پھر کمانڈر کے ہاتھوں جنسی استحصال۔ آخر میں وطن پر قربانی میں نجات کی بہانہ!

    balochistan

  • عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی،سرفراز بگٹی

    عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں،عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائیگی-

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت منگل کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمانڈر بلوچستان کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،اجلاس میں قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والے گذشتہ اپیکس کمیٹی اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    بیٹا خود مغوی بن کر والد سے تاوان مانگنے لگا،پولیس کی کاروائی،گرفتار

    صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیااس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

    سربیا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج ، ایوان میدان جنگ بن گیا

    اجلاس میں بارڈر مینجمنٹ، اسمگلنگ کی روک تھام، اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،ایپکس کمیٹی میں اعلیٰ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔

    عمران خان کو ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کی بات پسند نہیں آئی،علیمہ خان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

    دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان میں جاری دہشت گردی میں خواتین خود کش حملہ آوروں کا استعمال دہشت گردوں کی ذہنیت کا واضح عکاس ہے خواتین کےخود کش حملوں میں اب تک معصوم شہریوں سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوچکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو ڈھال بنا کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو سرانجام دیتی ہیں۔ خواتین خودکش بمباروں کے استعمال کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سکیورٹی جانچ پڑتال سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیوں کہ خواتین کو کم مشکوک سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دہشتگردوں میں شمولیت کے لیے موزوں ہدف بن جاتی ہیں۔

    گوجرانوالہ:ڈسکہ میں 62 کروڑ 92 لاکھ کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    دہشتگرد تنظیمیں منظم طریقہ کار کے تحت خواتین کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے ہدف بناتی ہیں دہشت گرد گروہ نوجوان خواتین کو خودمختاری کے جھوٹے وعدوں سے ورغلاتے ہیں اور جال میں پھنسا لیتے ہیں دہشت گرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کمزور نوجوان خواتین کی بھرتی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس اور آن لائن حربے دہشتگردی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے نفسیاتی حربے اور بلیک میلنگ خواتین کو مجبور کرنے کے عام ہتھکنڈے ہیں دہشتگردوں کی جانب سے خواتین کی جذباتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں دھکیلا جاتا ہے اسی طرح معاشی مسائل اور سماجی تنہائی نوجوان خواتین کو دہشتگردوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہیں۔

    پنجاب کابینہ میں توسیع کا فیصلہ

    دہشت گرد گروہ نوجوان خواتین کو خودمختاری کے جھوٹے وعدوں سے ورغلاتے ہیں اور انہیں استحصال کے جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا دہشت گردوں کے لیے ایک خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جو کمزور خواتین کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔خواتین کو جذباتی بلیک میلنگ اور دھوکا دہی پر مبنی تعلقات کے ذریعے انتہا پسندی میں دھکیلا جاتا ہے۔

    بلوچستان میں خودکش بمبار خواتین میں شاری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ جیسی خواتین دہشتگردوں کی آلہ کار بن چکی ہیں۔ بی ایل اے کے کارندے تعلیم یافتہ خواتین کو خودکش مشنز کے لیے منظم طریقے سے ہدف بناتے ہیں۔عدیلہ بلوچ بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں جودہشتگردوں کے ایجنڈے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی تھیں۔

    بھارت کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کیلیے انکت سریواستو کا جال بےنقاب

  • قلات میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ، ایف سی اہلکار شہید،4 زخمی

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ، ایف سی اہلکار شہید،4 زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے قلات میں قومی شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا جس میں ایک اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: قلات میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے میں حملے کے نتیجے میں ایف سی کے چاراہلکار بھی زخمی ہیں، خود کش حملے میں نائیک عطااللہ شہید ہوگئے،زخمیوں میں سپاہی وکیل، زاہد، عباس اور مشتاق شامل ہیں،

    ڈپٹی کمشنر قلات کے مطابق دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہےجبکہ علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ،دھماکا خاتون خود کش حملہ آور نے کیا۔

    پاک افغان بارڈر تنازعہ شدت اختیار کرگیا، فائرنگ میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال

    عینی شاہدین کے مطابق قومی شاہراہ سے گزرنے والی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے جبکہ آسمان پر کالے بادل چھا گئے تھے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے قلات میں ایف سی کے قافلے پر خودکش حملہ کی مذمت کی اور ایف سی کے شہید اہلکار عطا اللہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور بیان میں کہا کہ شہید عطا اللہ کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    وزیرداخلہ نے زخمی جوانوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایف سی کی لازوال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایف سی کی انمٹ قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی قلات میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے کی مذمت
    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے قلات میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس حملے میں شہید ہونے والے نائیک عطاء اللہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ خالد مسعود سندھو نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق سخت ترین آپریشن کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو چاہیے کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ خالد مسعود سندھو نے زخمی ہونے والے چار ایف سی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ملک میں قیام امن کے لیے سب کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن عناصر امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہماری بہادر سیکورٹی فورسز ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گی۔مرکزی مسلم لیگ کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی فوج اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک میں امن کے قیام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کا شاہراہیں بند کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا شاہراہیں بند کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

    کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے جو قومی شاہراہوں کو بلا جواز طور پر بند کرتے ہیں اور سڑکوں کو کھلوانے میں نااہلی کا مظاہرہ کرنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں مستحقین میں رمضان فوڈ پیکج کی تقسیم کے آغاز کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مستحقین میں راشن منصفانہ طور پر تقسیم کرے، اور ڈپٹی کمشنرز نے مستحق افراد کی شارٹ لسٹنگ بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راشن کی تقسیم کا مقصد مستحقین کی خوشیوں میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ رمضان کے مہینے میں ان کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

    وزیراعلیٰ بگٹی نے مزید کہا کہ قومی شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے راشن کی تقسیم میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ارکان اسمبلی کو راشن نہیں دیا گیا، وہ صرف اس تقسیم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات بھی ضروری ہیں تاکہ کیش پیمنٹ فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، رمضان فوڈ پیکج کے تحت صوبے بھر میں ڈھائی لاکھ مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے دیگر صوبوں سے مختلف حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود قومی شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر حکومت طاقت کا استعمال کرتی ہے تو اس پر رد عمل آنا لازمی ہے، لیکن حکومتی حکمت عملی صبر اور تحمل کے ساتھ عمل کرے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو قومی شاہراہوں کی بحالی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی تاکید کی ہے اور جو ڈپٹی کمشنرز سڑکیں کھلوانے میں ناکام ہوں گے، انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دفعہ 144 کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرے، اور سڑکیں بند کرنا کسی بھی صورت میں منصفانہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات احتجاج کرنے والے افراد اپنے ساتھ خواتین اور شیر خوار بچوں کو بھی لاتے ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے، لیکن حکومت اس معاملے میں صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالات پیچیدہ ہیں، اور حکومت کسی صورت میں قومی شاہراہوں کی بندش کو برداشت نہیں کرے گی۔

  • بلوچستان کے علاقے زہری میں جے یو آئی رہنما غلام سرور قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے زہری میں جے یو آئی رہنما غلام سرور قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی رہنما وڈیرہ غلام سرور موسیانی اور ان کے ساتھی مولانا امان اللہ شہید ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ تراسانی کے مقام پر ہوا جہاں نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق وڈیرہ غلام سرور موسیانی سوراب میں جاری دھرنے سے واپس زہری آ رہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ کر دیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ اور ان کے ساتھی مولانا امان اللہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ دونوں شہداء کی لاشیں قریبی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔حملے میں وڈیرہ غلام سرور کے دو ساتھی، مولوی صبغت اللہ اور محمد رمضان زخمی ہوئے، جنہیں زہری اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وڈیرہ غلام سرور اور مولانا امان اللہ کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی اور مذہبی شخصیات کے خلاف منظم ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور یہ واقعہ بلوچستان حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حکمران محض دعوے کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز بے گناہ افراد کو قتل کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کا اظہار افسوس
    مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر سردار حافظ محمد امجد اسلام نے بھی اس المناک واقعے کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے غلام سرور کے اہل خانہ اور جے یو آئی رہنماؤں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی رہنما غلام سرور کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

    گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

    وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ کو مکمل آپریشنل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل میری ٹائم پالیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بحری امور کا شعبہ معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بحری تجارت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور دیگر بندرگاہوں پر انتہائی مہارت رکھنے والی ٹیم موجود ہے جو بحری معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میری ٹائم سیکٹر مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    وزیر بحری امور نے بتایا کہ گزشتہ سال بحری شعبے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا، لیکن اس سال 100 ارب روپے منافع کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کی قوی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 32 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف چار سال میں 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستانی بندرگاہیں اپنی گنجائش سے 50 فیصد کم کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر درآمدات اور برآمدات کا حجم 90 ارب ڈالر ہے تو توقع ہے کہ اگلے چار سالوں میں یہ دگنا ہو جائے گا۔

    قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سنٹرل ایشیائی ممالک میں تجارتی مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی بندرگاہیں نہیں ہیں، اس لیے وہ پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سنٹرل ایشیائی ممالک کے دورے کر رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستانی بندرگاہوں پر بڑے بحری جہازوں کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جا رہی ہے، اور آئندہ چار کنٹینرز کے بجائے 20 ہزار کنٹینرز کے حامل بحری جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی بحری کمپنیاں اور سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کئی ممالک اپنی جی ڈی پی کا 40 فیصد میری ٹائم سیکٹر سے حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جی ڈی پی کا 7 فیصد میری ٹائم صنعت سے وابستہ ہے۔ پاکستان بھی اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد اس شعبے سے حاصل کر سکتا ہے۔قیصراحمد شیخ نے کہا کہ پاکستان میں ماہی گیری کی برآمدات 400 ملین ڈالر ہیں، جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک اس شعبے میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر کی کمپنیاں پاکستان میں ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورنگی فش ہاربر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور نئے ایکشن ہالز کی تعمیر پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کے مطابق سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ اسے ایک جدید اور مکمل بندرگاہ میں تبدیل کیا جا سکے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ ورکشاپ میری ٹائم سیکٹر کی ترقی اور کاروباری فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس شعبے کے فروغ کے لیے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز میری ٹائم پالیسی پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی بحری صنعت مستقبل میں ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    سعودی عرب میں رمضان المبارک کاچاند نظر آگیا

    آسٹریلیا افغانستان میچ بارش کے باعث منسوخ

    بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    سندھ حکومت 10 مارچ کو گرین لائن، بی آرٹی کا کنٹرول سنبھالے گی

    پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن جھوٹ پھیلانیکی سزا ہونی چاہیے،شرجیل میمن

    چیمپئنز ٹرافی میں خراب کارکردگی ،جوز بٹلر کا انگلینڈ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان