Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ

    پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ

    کوئٹہ: پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں رپورٹ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: گنج بائی پاس میں سامنے آئے اس کیس میں دو سال کی عمر کے متاثرہ بچے میں معذوری کی علامات 29 اپریل کو ٹانگوں میں ظاہر ہوئیں، بچہ مزید بیمار ہوتا گیا، معذوری بازو تک پھیل گئی اور بدقسمتی سے کچھ ہفتوں بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں فوت ہوگیا۔

    قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق بچے، اس کے بھائی اور گھر میں ساتھ رہنے والے کزن سے لیے گئے نمو نوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، نمونوں میں پائے گئے پولیو وائرس کا تعلق سرحد پار سے آئے وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

    حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پولیو سے 4 اور سندھ میں ایک بچہ متاثر ہوچکا ہے۔ ماہرین نے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر ملک بھر سے نئے کیسز سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہےدوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 14 اضلاع میں انسداد پولیو مہم چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    عمران خان نے کہا ملک کےساتھ زیادتی برداشت نہیں کریں گے،بیرسٹرگوہر

  • بلوچستان:واشک میں مسافر کوچ  کھائی میں جا گری،خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد ہلاک

    بلوچستان:واشک میں مسافر کوچ کھائی میں جا گری،خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد ہلاک

    کلغلی: واشک کے علاقے بیسمہ میں گوادر سے کوئٹہ جانے والی مسافرکوچ کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے کلغلی میں مسافر کوچ کو حادثہ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا، بس گوادر سے کوئٹہ جارہی تھی کہ ٹائر پھٹنے سے کوچ بے قابو ہوگئی اور کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 6 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    لیویز حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور زخمیوں کو بسیمہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مزید 22 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، حادثے میں 22 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    ایم کیو ایم کو نیب ترامیم پر اعتراضات

    محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے عمل کو انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا …

    ٹویٹ ہمارا ہی ہے، لیکن ’خان صاحب ہر ٹوئٹ کے ہر لفظ کو نہیں دیکھ …

  • بلوچستان میں مسلم طلبہ کیلئے قرآن کی تعلیم لازمی قرار

    بلوچستان میں مسلم طلبہ کیلئے قرآن کی تعلیم لازمی قرار

    کوئٹہ( آغا نیاز مگسی) : وزیر اعلی سرفراز بگٹی کے زیر صدارت صوبائی کابینہ میں کئی اہم فیصلے کیے گئے

    وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے زیر صدارت منعقد ہونے والی صوبائی کابینہ کے دو روزہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جس کے تحت بلوچستان کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لئے قرآن کی تعلیم لازمی قرار دیا گیا کم عمری کی شادی کے بل 2024 اور گھریلو تشدد کے خاتمے کے ترمیمی بل 2023 کی مںظوری دی گئی صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات لانے اور سبی میں خواتین پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری دی گئی –

    صوبائی زکوات کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کے لیے ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا وفاقی لیویز کو صوبائی فورس میں لانے اور اس کے مستقبل کے فیصلے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سردار سرفراز بگٹی سردار عبدالرحمان کھیتران اور نور محمد دمڑ کو شامل کیا گیا ہےاور بلوچستان میں نجی سیکورٹی کمپنیوں کی تجدیدی و اجراء فیس میں اضافے کی منظور ی دی گئی ہے-

    پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات …

    ڈاکٹر یاسمین راشد طبیعت خراب ہونے پر جیل سے اسپتال منتقل

    سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا،طلال چودھری

  • حب میونسپل کارپوریشن بھوتانی گروپ کو بڑا دھچکہ،11 کونسلران  پیپلز پارٹی میں شامل

    حب میونسپل کارپوریشن بھوتانی گروپ کو بڑا دھچکہ،11 کونسلران پیپلز پارٹی میں شامل

    کوئٹہ ( آغا نیاز مگسی ) بھوتانی گروپ سے تعلق رکھنے والے حب میونسپل کارپوریشن کے گل حسن محمد حسنی سمیت 11 کونسلرز نے بھوتانی گروپ کا ساتھ چھوڑ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ، صدر آصف علی زرداری کے ترجمان اور صوبائی مشیر میر علی حسن زہری کے ساتھ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ موجودہ میئر نے حب کی ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے میر علی حسن زہری نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے کونسلرز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم جام کمال خان اور رجب علی رند کے ساتھ مشورہ کر کے جلد ہی نیا میئر لائیں گے اور حب میں اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کریں گے انہوں نے کہا کہ بھوتانی گروپ کے 11 کونسلرز کا ساتھ چھوڑنے کے بعد حب میونسپل کارپوریشن کے موجودہ میئر کو اخلاقی طور پر خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہئے

    محکمہ مواصلات و تعمیرات نصیر آباد ، آباد نہیں ہو سکا
    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی) بلوچستان کی نئی صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد نصیر آباد میں اب تک دیگر کئی محکموں کی طرح مواصلات و تعمیرات بھی جو کہ بی اینڈ آر اور سی اینڈ ڈبلیو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ان کے دفاتر کے در و دیوار اور اسٹاف بھی اپنے افسران ، سپرنٹنڈنگ انجنیئر اور ایگزیکٹو انجنیئرز کی بڑی بیتابی کے ساتھ راہ تکتے رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ کئی سینیئر صحافی بھی نصیر آباد میں تعینات ہونے والے افسران سے تعارفی ملاقات اور ان سے محکمانہ کارکردگی کے بارے میں معلومات کی غرض سے ان کے دفاتر کے پھیرے لگاتے رہتے ہیں مگر وہ بھی ان افسران کی ملاقات کا ”شرف“حاصل کرنے سے محروم ہیں بھلا ہو جدید دور کی ٹیکنالوجی کا کہ اس کی بدولت سرکاری افسران ملک یا ملک سے باہر رہ کر بھی اپنی کاغذی کارروائیاں مکمل کر لیتے ہیں جو کہ ” رند کے رند رہتے ہیں اور ہاتھ سے جنت بھی جانے نہیں دیتے“۔

    محکمہ ریونیو نصیر آباد کے ”خوش قسمت “ تحصیلدار اور پٹواری صاحبان،ڈیرہ مرادجمالی اور منجھو شوری کے پٹوار خانے ”کروڑوں کے خزانے “ بنے ہوئے ہیں
    ڈیرہ مراد (آغا نیاز مگسی) بلوچستان کے زرعی علاقہ نصیر آباد کے محکمہ روینیو میں تعینات ہونے والے تحصیلدار اور پٹواری حضرات انتہائی ”خوشقسمت “ سمجھے جاتے ہیں یہاں کے لیے مشہور ہے کہ باہر سے آنے والے تحصیلدار اور پٹواریوں کی اکثریت نئی تعیناتی کے وقت کنگال ہوتی ہے لیکن جب یہاں سے جاتے ہیں تو کروڑ پتی بن کر جاتے ہیں ڈیرہ مراد جمالی اور منجھو شوری کے پٹوارخانے کروڑوں روپے کے خزانےبنے ہوئے ہیں جہاں اراضیات کی فردات حاصل کرنے کے لیے اکثر زمیندار خوشی خوشی سے پٹوارہوں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے شام کو اپنے گھروں کو لوٹ کر جانے والے متعلقہ افسران اور اور پٹواری صاحبان اپنے وقت کے ” امیر ترین “ شخص نظر آتے ہیں جن کو اپنی تنخواہ وصول کرنے کی ضررت ہی نہیں رہتی اور یہ صورتحال صرف نصیر آباد کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے زرعی علاقوں میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہونے کا قوی امکان ہے

  • وزیر اعلٰی بلوچستان زمینداروں سے کئے گئے وعدے کے مطابق اسلام آباد پہنچ گئے

    وزیر اعلٰی بلوچستان زمینداروں سے کئے گئے وعدے کے مطابق اسلام آباد پہنچ گئے

    کوئٹہ،باغی ٹی وی (زبیرخان کی رپورٹ)وزیر اعلٰی بلوچستان زمینداروں سے کئے گئے وعدے کے مطابق اسلام آباد پہنچ گئے

    وزیر اعلٰی سیکرٹریٹ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں اراکین صوبائی اسمبلی کا وفد آج وزیر اعظم سے ملاقات کرے گا ، بلوچستان کا پارلیمانی وفد وزیر اعظم کو زمینداروں کے مسائل سے آگاہ کرے گا،

    حکومت بلوچستان کا موقف ہے کہ بلوچستان کے زمینداروں کو معاہدے کے مطابق بجلی فراہمی پر بات چیت ہوگی ، نگران حکومت میں 8 گھنٹے بجلی فراہمی کا معاہدہ طے پایا تھا، برقی بندش کے باعث بلوچستان کے زمینداروں کو نقصان کا سامنا ہے ،

    حکومت بلوچستان کے علامیہ کے مطابق پارلیمانی وفد جنوبی بلوچستان ترقیاتی منصوبوں پر بھی وزیر اعظم سے گفتگو کرے گا،

  • قومی فیصلوں پر عمل درآمد آئینی ذمہ داری ہے۔ سرفراز بگٹی

    قومی فیصلوں پر عمل درآمد آئینی ذمہ داری ہے۔ سرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پاک افغان بارڈ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پاک افغان بارڈر ایریا چمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دے دیا۔سرفراز بگٹی نے بات چیت کے ذریعے تصفیہ طلب امور حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پاک افغان بارڈر ایریا چمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دے دیا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک بلوچستان سے دو لاکھ 20ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوایا گیا ہے،
    وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ون ڈاکیومنٹ ریجیم وفاقی حکومت کا فیصلہ ہے اور صوبے عمل درآمد کے پابند ہیں جبکہ بارڈر ٹریڈ سے وابستہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بارڈر ٹریڈ سے وابستہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی اور وزیر داخلہ بلوچستان کی قیادت میں اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطحی وفد آج ہی چمن جائے گا اور منتخب نمائندے اور اعلیٰ حکام چیمبرز آف کامرس، انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چمن ماسٹر پلان کی فعالیت سے مقامی طور پر معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی، ون ڈاکیومنٹ رجیم آئینی تقاضہ ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز تعاون کریں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ آئین سے منافی کوئی اقدام اٹھایا نہ اٹھائیں گے اور آئین و قوانین کا احترام سب پر واجب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دھرنا مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت باتیں کیں جنہیں ہم نے برداشت کیا، ہم بات چیت سے معاملات کا حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں لیکن ریاست کی رٹ قائم رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔سرفراز کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے خود چمن کا دورہ کروں گا، صوبائی حکومت جو ریلیف فراہم کرسکتی ہے، جبکہ قومی فیصلوں پر عمل درآمد آئینی ذمہ داری ہے۔

  • ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    کوئٹہ (آغا نیاز مگسی) ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جس کی تعمیل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سید یاسین اختر نے ڈپٹی کنزرویٹر محکمہ جنگلات لسبیلہ خلیل الرحمان کھوسہ کے ہمراہ تحصیل لاکھڑا اور تحصیل لیاری میں ٹمبر مافیا کے بڑے بٍڑے ٹالز پر چھاپہ مار کارروائی کرکے متعدد ٹالز کو سیل کردیا.

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے ڈپٹی کنزرویٹر کو ہدایت دی کہ ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرکے بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ٹال مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سید یاسین اختر نے کہا کہ حکام بالا کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع لسبیلہ میں غیر قانونی طور پر قیمتی درختوں کی کٹائی کو روکا جائے جس پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے حکم پر تحصیل لاکھڑا اور تحصیل لیاری میں غیر قانونی طور پر جنگلات اور قیمتی درختوں کی کٹائی کے خلاف کاروائی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر درختوں اور جنگلات کی کٹائی میں ملوث ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرکے پابند سلاسل کیا جائے گا اگر کوئی زمیندار کاشتکاری کے لئے اپنی زمین صاف کرنا چاہتا ہے تو ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینا ضروری ہوگا اگر کوئی زمیندار اپنی زمین ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر درخت کاٹے گا اس زمیندار کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر ایس ایچ او لیاری قادر بخش اور اہس ایچ او لاکھڑا غلام اکبر شیخ، نائب رسالدار عبدالستار صائم لیویز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

  • کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟  انوار الحق کاکڑ

    کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ انوار الحق کاکڑ

    کوئٹہ: سابق نگراں وزیراعظم وسینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ میں نے گندم کا معاملہ کبھی صوبوں یا کسی پر نہیں ڈالا،میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، اٹھارہو یں ترمیم کے بعد گندم خریداری کا ڈیٹا صوبے اکٹھا کرتے ہیں۔

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم کی خریداری کے دو طریقے ہیں پہلا یہ کہ حکومت عالمی مارکیٹ سے خریداری کرے اور سبسیڈ ائز ریٹ پر لوگوں کو دے تاکہ مارکیٹ مستحکم رہے، دوسرا طریقہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم امپورٹ کی اجازت دینا ہےبدقسمتی سے تیسرے اور اہم نقطے پر اس بحران کے باوجود بھی کوئی بات نہیں کررہا اور وہ یہ ہے کہ اگر آر این ڈی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) تھوڑی تحقیق کرے اور سرمایہ لگایا جائے تو چار ملین ٹن سے زائد کی پیداوار کی جاسکتی ہے۔

    سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے کا اصولی فیصلہ کیا ہے،وزیر …

    اُن کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں جب گندم درآمد کی گئی تو اُس وقت میں فوڈ اینڈ سیکیورٹی کا وزیر تھا اور دوسرے صاحب تو کابینہ میں بعد میں شامل ہوئے گندم درآمد کے حوالے سے صوبوں نے پی ڈی ایم حکومت کو سمری ارسال کی گئی جس کے بعد ہماری نگراں حکومت کے پاس یہ ڈیٹا آیا اور اُسی بنیاد پر قانون کے مطابق گندم درآمد کی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور کو 22 کروڑ روپے مالیت کی 17 گاڑیوں کا تحفہ

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے تحریک انصاف دور میں جاری ہونے والے ایس آر او کے تحت گندم درآمد کی اور اب بھی وہی قانون موجود ہے، اس کے علاوہ پرائیوٹ سیکٹر کیلئے کوئی اضافی قانون بنایا گیا اور نہ ہی اجازت لی گئی دعویٰ کیا جا ر ہا ہے کہ گندم درآمد پر 85 ارب کا نفع ہوا، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ ایک طرف ہم پر داغ لگا یا جارہا ہے تو دوسری طرف خالص قانونی چیز (ایس آر او) کو غیر قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ گندم امپورٹ کے معاملے پر کاکڑ صاحب اور مجھ سے انکوائری کی جائے۔

    ٹھٹھہ: زمین کے تنازعہ پر 2 گروپوں میں تصادم،بچوں سمیت 8 افراد زخمی

  • وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی  کی کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات

    کوئٹہ۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا اور وزیراعلی ہاوس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کی ۔ وزیر اعلی ہاوس آمد پر وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی سے ملاقات کی ۔ جس میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبے میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں امن عامہ کی صورتحال کی بہتری کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبہ بلوچستان کے لئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں۔ ترقی کے سفر میں بلوچستان کا بہت اہم کردار ہے۔ بلوچ بھائیوں کی ہر طرح سے خدمت کےلیے حاضر ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی نے صوبے میں امن عامہ کے لئے تعاون پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچے تو ائیر پورٹ پر بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے وفاقی وزیرداخلہ محسنن نقوی کا خیر مقدم کیا۔سی سی پی او کوئٹہ اور اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی ہمراہ تھے۔

    21سال سے کم عمر افراد کو ای سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی

    ای سگریٹ سے نوجوان نسل کو روکنا ہو گا، کرومیٹک

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گند م درآمد اسکینڈل میں موجودہ حکمران بھی ملوث نکلے، موجودہ حکمرانوں‌کا نام بھی آنے لگا، وزیراعظم شہبا زشریف کے وزارت فوڈ کے وزیر ہوتے ہوئے گندم کی درآمد کا انکشاف ہوا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویز کے مطابق موجودہ دور حکومت میں گندم درآمد کے وقت فوڈ سیکیورٹی کی وزارت بھی وزیراعظم شہبازشریف ہی کے پاس تھی، رواں مالی سال مارچ تک 283 ارب روپے کی گندم درآمد کی گئی، اس وقت وزیراعظم شہباز شریف ہی وزارت فوڈ کے انچارج وزیر تھے،بعد میں 3 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے رانا تنویر کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اضافی قلمدان دیا تھا ، ایک ماہ شہباز شریف اس کے وزیر رہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گندم درآمد معاملے پر سیکرٹری فوڈ محمد آصف کو او ایس ڈی کردیا تھا،دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے ماہ 6 لاکھ 91 ہزار 136 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی جبکہ نگران دور میں 27 لاکھ 58 ہزار 226 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی تھی، مارچ 2024 میں 57 ارب 19 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی گندم درآمد کی گئی جبکہ فروری تک 225 ارب 78 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گندم امپورٹ ہوئی، رواں مالی سال مارچ تک کل 34 لاکھ 49 ہزار 436 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، یوں مارچ تک 282 ارب 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی گندم درآمد کی گئی،

    انوارالحق کاکڑ نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف حکومت پر ڈال دی
    سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر انہیں گندم تحقیقات کمیٹی نے بلایا تو ضرور جائیں گے، انکی حکومت نے گندم درآمد کرنے کا کوئی نیا قانون منظور نہیں کیا،انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف کی حکومت پر ڈال دی اور کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم کی درآمد کی اجازت دینے کا ایس آر او پی ٹی آئی حکومت نے جاری کیا تھا، ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہی ایس آر او 2 سال تک پی ٹی آئی حکومت میں اور 16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت اور آج کی حکومت میں بھی لاگو ہے، ای سی سی نے 30 سے 40 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت کی بات کی، فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری خزانے کی بجائے یہ گندم پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے منگوائی جائے، 60 کمپنیوں نے یہ گندم درآمد کی، 400 ارب گندم کی بات انسپکٹر جمشید کی کہانی کی طرح ہے، تحقیقاتی کمیٹی بلائے گی تو وہ پیش ہوں گے، پرائیوٹ سیکٹر کی بڈنگ حکومت کا کام نہیں، گندم سرکاری خزانے سے درآمد کرنے کو منع کردیا تھا، گندم آرڈر چند دن کے اندر پہنچنا معمول ہے، فرانس کی کمپنی کے پاس فلوٹنگ ویسل ہیں، جو دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جہاں ڈیمانڈ ہوتی ہے، وہاں فرانس کی کمپنی اشیا فوراً بھیج دیتی ہے،

    جماعت اسلامی کا کسانوں کے مطالبات کی عدم منظوری پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان
    جماعت اسلامی نے کسانوں کے مطالبات نہ ماننے پر لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کردیا ہے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کسانوں کے حق کےلیے احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ہے،جماعت اسلامی کے زیراہتمام منگل تک احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے، آئندہ 2 دن میں ملک میں احتجاجی کیمپ اور مظاہروں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو منگل تک کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ گندم خریدیں،6 مئی تک حکومت نے مطالبات نہیں مانے تو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان ہوگا

    خیبر پختونخوا حکومت نے گندم خریدنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں،وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورو کا کہنا ہے کہ گندم کا معیار جانچنے کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، گندم خریداری مہم 7 مئی سے شروع کی جائے گی، خریداری مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی،گندم خریداری ایپ متعارف کروائی گئی ہے، شکایات کےلیے مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، گندم خریداری مہم میں شفافیت یقینی بنائیں گے، 24 گھنٹے کے اندر بینک کے ذریعے کاشتکاروں کو ادائیگی ہوگی، محکمہ خوراک نے ایس او پی سے متعلق تمام متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری کر دیا

    گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے’ ہمایوں اختر خان
    سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے ،ایسے حالات میں جب ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے گو مگو کی صورتحال کی وجہ سے کسان شدید تشویش میں مبتلا ہے ،حکومت مستقبل میں اس طرح کے حالات سے بچنے کیلئے کسانوں کیلئے وئیر ہائوسز کی سکیم کو فعال کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ این اے 97کے دورہ کے موقع پر کسانوں ، سماجی شخصیات اور علاقہ عمائدین سے ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہمایوں اختر خان نے عطا المصطفیٰ، رانا تنویر، ملک شہباز،اسد اقبال،حافظ نعیم،میاں عبد الرحمان،رانا مشتاق، غلام رسول آرائیں،ملک وریام،ملک نصیر ، ملک عمران نمبردار ،رانا محمد شہزاد،وقار حسین اور دیگر سے ملاقاتیں کر کے حلقے کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہمایوں اختر خان نے مختلف شخصیات سے انتقال کر جانے والے ان کے عزیز و اقارب کے انتقال پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی ۔سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا کہ ہم کسان کے ساتھ ہیں اور اس کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، آج کسان کے پاس آئندہ فصل کاشت کرنے کیلئے سرمایہ نہیں ہے ، حکومت فی الفور اعلان کردہ نرخوں پر گندم کی خریداری شروع کرے ، حکومت نے مشکل حالات میں ہاتھ نہ تھاما تو کسان متنفر ہو جائے گا جس کے انتہائی منفی اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ وئیر ہائوسز کی سکیم فعال ہو تاکہ کسان اپنی فصل رکھوا کر اس کے عوض مالی معاونت حاصل کر کے آئندہ فصل کی تیاری کر سکے ، ہم اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچائیں گے

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی