Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے محکمانہ امور پر بریفنگ دی گئی،اجلاس کو محکمہ داخلہ بلوچستان کے دائرہ کار ، تفویض اختیارات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی، محکمہ داخلہ نے دیگر اداروں سے کوارڈینیشن اور ممحکمہ کے ماتحت اداروں کے افعال پر بھی بریفنگ دی، اجلاس کو پولیس فورس اور پولیس کے زیر انتظام سپیشل یونٹس کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی لیویز فورس اور سول ڈیفنس سمیت محکمہ داخلہ کے زیر انتظام کل افرادی قوت ، استعداد کار اورکیے جانے والے اقدامات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

    ہم دہشتگردی کیخلاف لڑائی کسی خیرات پر نہیں لڑ رہے،نگران وزیراعظم

    اجلاس میں نگران صوبائی وزیر داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ صالح محمد ناصر، آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ، ڈائریکٹر جنرل لیویز نصیب اللہ کاکڑ ، آئی جی خانہ جات شجاع الدین کاسی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کا کام صاف و شفاف انتخابات کے لئے پر امن ماحول فراہم کرنا ہے ۔ضروری ہے کہ محکمہ داخلہ بہتر انداز سے اپنے امور کی انجام دہی یقینی بنائے ۔ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جو امن و امان اور شفاف ماحول میں انتخابات کے انعقادکی بنیاد فراہم کریں ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے ۔میسر افرادی قوت کو بہترین اور منظم انداز میں استعمال میں لاکر پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا

  • بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان کی آٹھ رکنی نگران صوبائی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے جس کے بعد پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے جبکہ تین مشیروں کو بھی قلمدان تفویض کردیئے گئے ہیں علاوہ ازیں بلوچستان کی نگران کابینہ میں شامل پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے اور حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ہوئی جس میں گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگران صوبائی وزراء سے حلف لیا۔

    واضح رہے کہ تقریب میں نگران وزیراعلیٰ میرعلی مردان ڈومکی ، قبائلی و سیاسی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی اور نگران کابینہ میں شامل کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی کووزارت داخلہ، امجد رشید کو خزانہ، پرنس احمد علی کو صنعت و حرفت ،ایکسائز ، جان اچکزئی کو اطلاعات، ڈاکٹر قادر بخش کو وزارت تعلیم اور سیاحت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ شانیہ خان ، میر دانش لانگو اور میر عمیر محمد حسنی کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں شانیہ خان کو سوشل ویلفیئر اوروویمن ڈویلپمنٹ ، میر دانش لانگو محکمہ ایری گیشن اور میر عمیر محمد حسنی مائنز اینڈ منرلز کے قلمدان تفویض کردیے گئے جبکہ گورنر ہاوس کوئٹہ میں نگران صوبائی وزراء کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےنگران وزیراعلیٰ بلوچستان میرعلی مردان ڈومکی کا کہنا ہے کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں ۔ اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہے ۔ دوسرے مرحلے میں مزید وزراء اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان پہلی ترجیح ہے ، جو ناراض بلوچ بات کرنا چاہتا ہے ان سے بات کریں گے ۔ لیکن زبردستی کسی سے بات چیت نہیں کریں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کی جائے گی جبکہ نگران وزیراعلی علی مردان ڈومکی نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے محنت کریں گے اور صاف شفاف الیکشن یقینی بنائیں گے ، ہمارا کام صرف صاف شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے ۔امن وامان اور ترقیاتی منصوبے ترجیحات میں شامل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہیں۔ صوبائی کابینہ کی تشکیل دینے کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔۔ جلد ہی دیگر وزراء بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

  • نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان  نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں علی مردان ڈومکی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگراں وزیراعلیٰ علی مردان ڈمکی سے حلف لیا۔

    تقریب حلف برداری میں نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، سابق صوبائی وزیر اور اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی جبکہ اس کے علاوہ آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت اعلیٰ سرکاری افسران بھی تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    خیال رہے کہ علی مردان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کے علاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں جبکہ علی مردان خان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور علی مردان ڈومکی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں علی مردان ڈومکی تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ علی مردان ڈومکی کے بھائی دوستن ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے علی مردان ڈومکی کے نام پر اتفاق

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے علی مردان ڈومکی کے نام پر اتفاق

    نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کی نامزدگی ، پارلیمانی کمیٹی نےعلی مردان ڈومکی کو نگران وزیراعلی بلوچستان بنانے کے نام پر اتفاق کرلیا عبدالقدوس بزنجو نے علی مردان ڈومکی کو نگران وزیراعلی بلوچستان بنانے کی توثیق کردی ،گورنر بلوچستان آج علی مردان ڈومکی کی بطور نگران وزیراعلی نامزدگی کی سمری پر باضابطہ دستخط کرینگے۔ نامزد نگران وزیراعلٰی بلوچستان آج شام عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    12 اگست کو بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کیا گیا تھا بلوچستان اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ کابینہ بھی ختم ہو گئی تھی نگران وزیراعلٰی بلوچستان کے تقرر کیلئے وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے نگران وزیر اعلیٰ کے نام پر مشاورت کے حوالے سے پیر کو اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔ وزیراعلٰی اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد نگران وزیراعلٰی کی نامزدگی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا تھا. آج کمیٹی میں اتفاق ہو گیا ہے

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے بلوچستان کے نامزد نگران وزیرِاعلیٰ علی مردان ڈومکی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں وزیرِ اعظم نے علی مردان ڈومکی کو نگران وزیرِاعلیٰ بلوچستان نامزد ہونے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    مسافر طیارے کا پچھلا حصہ زمین سے ٹکرا گیا جس کے بعد کیپٹن کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے

  • میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان خان ڈومکی کو نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ ہو گیا ہے اور میرعلی مردان خان ڈومکی کا نام نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے فائنل کرلیا گیا ہے، تاہم خیال رہے کہ آج سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور بلوچستان کے سیاستدان علی مردان ڈومکی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کی تھی ، اور ان کو نگران وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔

    بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے مشاورت کا آج آخری روز تھا اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کے درمیان گزشتہ روز بھی ملاقات ہوئی تھی۔ جبکہ آج آخری مرحلے میں ڈومکی کا نام طے کرلیا گیا ہے اور اب بتایا جارہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ ڈومکی ہی ہوں گے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تایم واضح رہے کہ میر علی مردان خان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کےعلاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں۔ جبکہ علی مردان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد حضور بخش ڈومکی 1975 سے 1977 تک سینیٹر رہے علاوہ ازیںڈومکی نے علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا اور وہ تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ علی مردان کے بھائی دوستین ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • نصیر آباد میں بھی پاکستان کی جشن آزادی تقریبات کا انعقاد

    نصیر آباد میں بھی پاکستان کی جشن آزادی تقریبات کا انعقاد

    ڈیرہ مراد جمالی (منصور مگسی) ملک بھر کی طرح نصیر آباد میں بھی پاکستان کی جشن آزادی تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں سب سے بڑی تقریب کمشنر نصیر آباد کے دفتر ڈیرہ مراد جمالی میں ڈپٹی کمشنر نصیر آباد محترمہ عائشہ زہری کے زیر صدارت منعقد ہوئی اس سے قبل ڈی آئی جی نصیر آباد منیر احمد شیخ نے قومی پرچم کشائی کی رسم ادا کی، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور قومی ترانہ بجایا گیا اس موقع پر ایس ایس پی نصیر آباد میر حسین احمد لہڑی ، ایڈیشنل کمشنر علی محمد ہانبھی، اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی اسد اللہ خان سمالانی اور اسسٹنٹ کمشنر چھتر خادم حسین کھوسہ بھی موجود تھے ۔

    تقریب کا باقائدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد نعتیہ کلام اور ملی نغمے پیش کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد محترمہ عائشہ زہری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرت کی طرف سے انسانوں کیلئے سب سے بڑی نعمت غلامی سے آزادی ہے پاکستان کی آزادی کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تاریخی جدوجہد کی مرد و خواتین ، جوان، بچوں اور بزرگوں نے لازوال قربانیاں دیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم پر الله تعالیٰ کے بےشمار احسانات ہیں جس نے ہمیں ایک بہت بڑا ملک عطا کیا جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے دنیا میں پاکستان کی بہت بڑی اہمیت ہے اور اس کا الگ قومی پرچم اور الگ پہچان ہے

    اپنے خطاب میں انہوں نے 2022 میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری افسران اور اہلکاروں کو ضلع نصیر آباد کا ہیرو قرار دیا جن میں ڈی ایچ او نصیر آباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی کو سرفہرست قرار دیا تقریب کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نصیر آباد ، ایس ایس پی نصیر آباد ، ایڈیشنل کمشنر نصیر آباد اور اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی اسد اللہ خان سمالانی نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد میں انعامات انعامات تقسیم کئے جن میں ڈی ایچ او نصیر آباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی ، لیڈی اے ایس آئی عائشہ، میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی کے سینیئر اہلکار اصغر علی رند، انفار میشن ڈپارٹمنٹ نصیر آباد کے اختر منگی ، حافظ سعید احمد بنگلزئی و دیگر شخصیات اور طلبہ و طالبات شامل ہیں ۔ تقریب میں ممتاز قبائلی شخصیت سخی میر عبدالرئوف لہڑی ، ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اکبر علی کھوسہ ، محمد یعقوب مینگل ، آئی سرجن ڈاکٹر حماد الله زہری ، ڈی ایس پی گلاب خان شیخ ، شمن علی سولنگی ایس ایچ او سٹی و صدر ڈیرہ مراد جمالی سکندر سعید عمرانی، جاوید احمد کھوسہ ، نائب تحصیلدار قائم دین بنگلزئی ،_صدورا خان ابڑو، مولانا نواب الدین ڈومکی، نذیر احمد ڈومکی، محمد صادق عمرانی، سیٹھ تارا چند، کیئر نصیر آباد کے صدر و سابق صدر پریس کلب آغا نیاز مگسی و دیگر موجود تھے ۔

  • تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا ہے اور نگران حکومت کے قیام پر بات چیت کی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی اور میر خالد خان مگسی بھی سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی سینئر سیاسی قیادت سے بھی رابطے کیے ہیں ، بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کے لیئے جمیعت علماء اسلام ف کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی کا نام دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے گودار سے رکن اسمبلی حمل کلمتی کو نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میرعلی حسن زہری، سینیٹر کہدہ بابر اورسابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی اور وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے رشتے دار نصیر بزنجو بھی بھی نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں شامل ہیں۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائز پر دستخط کر دیئے ہیں، وزیراعلی کی ایڈوائز آج منظوری کے لیۓ گورنر بلوچستان کو بھجوا دی جائےگی

    وزیراعلئ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ تمام ایم پی اے، اتحادی پارٹنرز، اپوزیشن اراکین بیوروکریسی کا ان کی غیر متزلزل لگن پر تہہ دل سے شکریہ ۔ہم نے ایک ساتھ مل کر حقیقی جمہوری جذبے کی مثال دیتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کیا۔ سیلاب اور حکمرانی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے باوجود ہم مضبوط کھڑے رہے۔ معاشی چیلنجز کے باوجود ہم نے بلوچستان کے کونے کونے میں ترقی کو یقینی بنایا۔ پی ایس ڈی پی میں ہر حلقے کو مساوی نمائندگی ملی،یہ اقدام اتحاد اور ترقی کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دو سال سے بھی کم عرصے میں ہم نے صنفی مساوات کے فروغ کو یقینی بنایا ۔صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا،صحت کی دیکھ بھال، تعلیم کی سہولیات کو یقینی بنانے اور صوبے میں گڈ گورننس لانے کی ہر ممکن کوشش کی ،ہم نے صوبے کی معدنی دولت کو بروئے کار لا کر صوبے کی معیشت کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کی عوام کی عزت نفس اور انکے روزگار کے تحفظ کے لیۓ غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا۔کاشتکاروں کو صوبے کے زرعی شعبے میں حصہ ڈالنے کے لیے عملی مدد فراہم کی۔ تاریخی ریکوڈک سیٹلمنٹ سے بین الاقوامی سرمایہ کیلئے راہ ہموار کی ۔صاف و شفاف اور پر امن بلدیاتی انتخابات کا کریڈٹ بھی ہماری حکومت کا ہے۔ہیلتھ کارڈ، پہلی پبلک ٹرانسپورٹ سروس، صوبے میں کھیلوں کی بحالی کی ۔نئی یونیورسٹیوں کا قیام، یونیورسٹیوں کے لیے گرانٹس میں اضافہ کیا گرلز کیڈٹ کالجز کا قیام، ملازمین کو مستقل کرنے کے ساتھ مزید ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی ۔طبی عملے کی کنٹریکٹ تقرری، ترقیاتی سکیموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا نظام بنایا ۔ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے لیۓ ای ٹینڈرنگ کا آغاز کیا ۔گرین ٹریکٹر سکیم اور سب سے بڑھ کر وفاق میں صوبے کی انتھک وکالت چند کامیابیاں ہیں۔ ہمارا سفر مشکل تھا، لیکن ہمارا عزم مضبوط تھا۔ جب ہم اس باب کو الوداع کررہے ہیں تو آئیے امید کے ساتھ آگے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ہماری اجتماعی کوششوں نے ایک روشن بلوچستان کی راہ ہموار کی ہے۔ہم نے مل کر تاریخ لکھی ہے، اور مل کر ہم ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر جاری رکھیں گے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ آج شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔

  • بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کا معاملہ التوا کا شکار ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ کل شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔ جبکہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو اسمبلی تحلیل کی سمری کل ( ہفتے کو) رات تک گورنر کو بھیج دیں گے۔ جس کے بعد گورنر کے سائن/دستخط ہوتے یہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔

  • یونیورسٹیوں میں طالبات سے زیادتی،بلیک میلنگ کرنیوالوں کو سزا دی جائے، بلوچ وومن فورم

    یونیورسٹیوں میں طالبات سے زیادتی،بلیک میلنگ کرنیوالوں کو سزا دی جائے، بلوچ وومن فورم

    کوئٹہ ، غازی یونیورسٹی میں ثناءارشاد بلوچ کیساتھ جنسی زیادتی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ بلوچ وومن فورم کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں غازی یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کی طلبہ ثناءارشاد مغلانی کی حراسمنٹ، بلیک میلنگ اور اسکے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس سنگین مسئلے کو ہم ریاستی غیر سنجیدگی اور غفلت سمجھتے ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ماضی میں ایسے کئی واقعات بلوچستان اور ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں پیش آئے جن میں بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل اہم سرخیوں میں رہا، جہاں طالبات کو وڈیوز اور مختلف حربوں کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔ حال ہی میں اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں بھی اسی نوعیت کا ایک اور حادثہ پیش آیا، جہاں طالبات کو اساتذہ نے اپنے وحشی پن کا مظاہرہ کرکے انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنایا لیکن کئی مظاہروں کے بعد بھی اس واقعے میں ملوث افراد کو کسی بھی قسم کی سزا نہیں ہوئی اور نہ متاثرہ بچیوں کی شنوائی ہوئی۔

    ترجمان نے کہا کہ غازی یونیورسٹی میں ثناءارشاد مغلانی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی فی الفور تحقیقات کی جائے، واقعے میں ملوث ڈیپارٹمنٹ اساتذہ اور کسی بھی شریک جرم شخص کو کیفرِکرادر تک پہنچایا جائے بصورت دیگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا